اسلام آباد ہائیکورٹ نے نظریاتی کونسل کے رائے دینے کے اختیار کے کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے نظریاتی کونسل کے اختیارات پر سوالات اٹھائے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نظریاتی کونسل کے رائے دینے کے اختیار کے کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کونسل کس حد تک رائے دے سکتی ہے اور کیا وہ گورنرز، صدر یا اسمبلیز کے علاوہ بھی رائے دے سکتی ہے؟
درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی نے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ آج ہی سنا دیں گے؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا، 24 گھنٹے رہ گئے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی قانون بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ عدالت کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی۔ این سی سی آئی اے کو نظریاتی کونسل رائے نہیں دے سکتی، قانون کے مطابق رائے لینا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ نظریاتی کونسل بلاسمی کیسز پر بھی رائے دے سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ نظریاتی کونسل کا رائے دینے کا اختیار قانون میں موجود نہیں، انہیں خود اپنے اختیار کا جائزہ لینا چاہیے۔ جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ 28 ویں ترمیم میں یہ بات شامل کر لیں تاکہ ان کا اختیار واضح ہو جائے۔
واضح رہے کہ نظریاتی کونسل کا مقصد اسلامی قوانین کی جانچ پڑتال ہے تاکہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہوں۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے پر مزید قانونی رہنمائی کی توقع کی جا رہی ہے۔











