ایران کی باب المندب بند کرنے کی دھمکی، عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ

ایران نے باب المندب بند کرنے کی دھمکی دی، جو عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران، باب المندب بند کرنے کی دھمکی سے عالمی تجارت متاثر

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے باب المندب کے سمندری راستے کی ممکنہ بندش کی دھمکی دی ہے۔ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، جس طرح ایران نے خلیج ہرمز پر اثر انداز ہو کر بندش کی ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحر ہند سے ملاتا ہے، اور یہ اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 29 کلومیٹر چوڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کے اہم ترین بحری چوک پوائنٹس میں شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید کشیدگی کی زد میں ہے۔ 

رپورٹس کے مطابق 2024 میں تقریباً 4.1 ارب بیرل خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات اسی راستے سے گزریں، جو عالمی مجموعی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہیں۔ اسی طرح عالمی تجارت کا قریب 10 فیصد حصہ بھی باب المندب سے وابستہ ہے، اس لیے اگر یہاں بڑی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ 

اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں بیک وقت متاثر ہوتے ہیں تو دنیا کے تیل اور گیس کی تقریباً ایک چوتھائی فراہمی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ اس صورت میں یورپ جانے والی توانائی، ایشیا سے یورپ جانے والی سمندری تجارت، شپنگ لاگت، انشورنس ریٹس اور عالمی مہنگائی سب ایک ساتھ اوپر جا سکتے ہیں۔ 

 حوثیوں کے پاس ماضی کے تجربے کی بنیاد پر اس راستے میں خلل ڈالنے کی عملی صلاحیت موجود مانی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی ماضی میں محدود وسائل، میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کے ذریعے جہاز رانی کو متاثر کر چکے ہیں، جبکہ مارچ 2026 میں بڑی شپنگ کمپنیاں بھی باب المندب اور سویز راستے سے ہٹ کر افریقہ کے گرد متبادل راستہ اختیار کرنے لگیں۔ 

تاہم مکمل ناکہ بندی اب بھی ایک بہت بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ سابق امریکی سفارت کار نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں کے حالیہ اقدامات کو “علامتی شرکت” سمجھنا چاہیے، کیونکہ باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی پر براہ راست بڑا حملہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فوری اور سخت فوجی ردعمل کو متحرک کر سکتا ہے۔ 

کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ مشرق وسطیٰ کی ماہر ایلزبتھ کینڈل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر کا یہ راستہ بند ہوا تو یہ عالمی تجارت کے لیے “خوفناک منظر” ہوگا۔ ان کے مطابق حوثی شاید اتنا آگے نہ جانا چاہیں کہ سعودی عرب یا وسیع تر علاقائی اتحاد کا بھرپور ردعمل سامنے آ جائے۔ 

سعودی عرب نے اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے یانبُو بندرگاہ کا استعمال بڑھایا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ 1,200 کلومیٹر طویل پائپ لائن مارچ 2026 کے آخر تک 7 ملین بیرل یومیہ کی گنجائش پر چل رہی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے بڑے کھلاڑی پہلے ہی متبادل راستوں پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ 

موجودہ صورتحال میں اصل خطرہ صرف تیل کی قیمت بڑھنے تک محدود نہیں۔ اگر باب المندب میں بڑی رکاوٹ آتی ہے تو یورپ اور ایشیا کے درمیان سپلائی چین مزید سست ہو سکتی ہے، کارخانوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، سمندری مال برداری مہنگی ہو سکتی ہے اور اس کا اثر عام صارف تک ایندھن، خوراک اور درآمدی اشیا کی قیمتوں کی صورت میں پہنچ سکتا ہے۔ 

واضح رہے کہ ولایتی کا تازہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور ایران۔امریکا کشیدگی ایک دوسرے سے جڑ چکی ہیں۔ اسی لیے باب المندب سے متعلق ہر نئی دھمکی کو اب محض سیاسی بیان نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی اور تجارت کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

دیگر متعلقہ خبریں