پاکستان نے امریکا اور ایران کشیدگی میں ثالثی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ پاکستانی قیادت نے امریکی اور ایرانی رہنماؤں سے گفتگو کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔
اس پیش رفت کے دوران پاکستان کے عمان میں سابق سفیر عمران علی چوہدری نے 92 نیوز کے پروگرام “مقابل” میں سینئر صحافی عامر متین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر 2 سے 2.5 ہفتے قبل ایک خفیہ دورے پر عمان گئے تھے۔ ان کے مطابق وہاں ان کی امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ 4 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی، تاہم اس دورے کی خبر اس وقت منظر عام پر نہیں آئی تھی۔
عمران علی چوہدری نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ خبر درست ہو اور پاکستان واقعی مذاکراتی عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہو۔ ان کے مطابق حالیہ رابطے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے لیے پس پردہ رابطہ کاری میں سرگرم ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے ایرانی صدر سے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اچھی بات چیت کے بعد ایران پر حملے کی دھمکی مؤخر کر دی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دیگر ممالک جیسے ترکی، مصر اور قطر بھی سفارتی رابطوں میں متحرک ہیں، جبکہ ایران کے ذرائع نے امریکا سے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ ملاقات کے مقام کے طور پر پیش کیا ہے، حالانکہ باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔











