قومی اسمبلی نے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 اور دیگر اہم بلز منظور کر لیے، جن میں شہریت کے قانونی طریقہ کار کو مزید واضح کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی نے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 سمیت دیگر اہم بلز کثرت رائے سے منظور کر لیے ہیں۔ اجلاس میں پاکستان شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد شہریت کے قانونی طریقہ کار کو مزید واضح کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل میں پیدائش کے اندراج، شہریت کے حصول کا قانونی طریقہ کار، زیر التوا درخواستوں اور مقدمات کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کے الفاظ کی تشریح اور شہریت کے تعین سے متعلق ابہام دور کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ شناختی دستاویزات میں والد کی بجائے والدین کا اندراج کیا جائے گا۔
اسی اجلاس میں بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل اور نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیے گئے۔ ان بلز کے تحت وفاقی کابینہ صرف پالیسی اور مالیاتی فیصلے کرے گی جبکہ انتظامی اختیارات متعلقہ اتھارٹی کو منتقل کیے جائیں گے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔














