بگ بیش لیگ، انڈین کرکٹ اور عالمی ٹی ٹوئنٹی منظرنامہ

کاٹ بی ہائینڈ کے پروگرام میں بگ بیش لیگ کا آغاز، انڈین کرکٹ اور پاکستانی کھلاڑیوں کی عالمی مقبولیت زیر بحث آئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
caugh behind Dr. Noman Niaz Rashid Latif

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کاٹ بی ہائینڈ کے نئے پروگرام میں عالمی کرکٹ کے متعدد اہم موضوعات زیرِ بحث آئے، جن میں بگ بیش لیگ کے 15ویں ایڈیشن کا آغاز، انڈین پریمیئر لیگ کے بزنس ماڈل میں حالیہ جھٹکے، مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کا تقابلی جائزہ، پاکستانی کھلاڑیوں کی عالمی مقبولیت، اور بھارت و جنوبی افریقہ کے درمیان جاری سیریز شامل ہیں۔

بگ بیش لیگ کا 15واں ایڈیشن، آغاز اور اہم نکات

بگ بیش لیگ کا 15واں ایڈیشن 14 دسمبر 2025 کو شروع ہو رہا ہے، جو تقریباً چھ ہفتوں پر محیط ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل 25 جنوری 2026 کو ہوگا۔ گزشتہ سیزن کی چیمپئن ٹیم ہوبارٹ ہیری کینز ہے۔

گفتگو میں بگ بیش لیگ کو دنیا کی دوسری بہترین ٹی ٹوئنٹی لیگ قرار دیا گیا، جبکہ اسکائی اسپورٹس کی جانب سے چار سالہ براڈکاسٹنگ معاہدے میں توسیع کو اس کی تجارتی قدر کا ثبوت بتایا گیا۔ ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق بگ بیش ان چند لیگز میں شامل ہے جو انٹرنیشنل اسٹارز کی دستیابی کے انتظار کے بغیر اپنے شیڈول کے مطابق شروع ہو جاتی ہے۔

بگ بیش کا منفرد ماڈل اور کرکٹ آسٹریلیا کی حکمتِ عملی

راشد  لطیف نے وضاحت کی کہ بگ بیش لیگ دیگر فرنچائز لیگز سے مختلف ہے، کیونکہ اس کی مکمل ملکیت اور کنٹرول کرکٹ آسٹریلیا کے پاس ہے۔ فرنچائزز کو بیرونی مالکان کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ بورڈ خود لیگ چلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بگ بیش نے ابتدائی برسوں میں مالی نقصان برداشت کیا، مگر اس کا مقصد فوری منافع نہیں بلکہ عوامی تفریح اور کرکٹ کی مقبولیت بڑھانا تھا۔ ان کے مطابق دنیا کی بیشتر ٹی ٹوئنٹی لیگز، بشمول دی ہنڈرڈ، مالی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حقیقی منافع بخش ماڈل اب بھی آئی پی ایل اور آئی ایل ٹی 20 کے پاس ہے۔

 

انڈین پریمیئر لیگ اور فینٹسی لیگ کا بحران

گفتگو میں انڈین پریمیئر لیگ کے بزنس ماڈل پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ ڈاکٹر نعمان  نے نشاندہی کی کہ آئی پی ایل کی برانڈ ویلیو میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ فینٹسی لیگ مارکیٹ کا کریش ہے۔

راشد کے مطابق ڈریم الیون جیسے فینٹسی پلیٹ فارمز کو بھاری مالی نقصان ہوا، جس کا اثر اسپانسرشپ اور مجموعی مارکیٹ پر پڑا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئی پی ایل کی مارکیٹ اتنی وسیع ہے کہ یہ نقصان طویل مدت میں پورا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جیو اسٹار جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بدولت، جنہوں نے سبسکرپشن بیس کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔

 

پاکستانی کھلاڑی اور بگ بیش کی مارکیٹنگ

گفتگو کا ایک اہم حصہ پاکستانی کھلاڑیوں کی بگ بیش لیگ میں شمولیت پر مرکوز رہا۔ میزبان اور مہمان دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بگ بیش کی مارکیٹنگ حکمتِ عملی نے پاکستانی کھلاڑیوں کو غیر معمولی مقبولیت دلائی ہے۔

راشد کے مطابق بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی، حسن علی اور شاداب خان جیسے کھلاڑی مختلف لیگز میں پہلے بھی کھیل چکے ہیں، مگر بگ بیش نے جس انداز سے انہیں پروموٹ کیا، اس نے ان کی برانڈ ویلیو کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ بابر اعظم کے نام سے مخصوص اسٹینڈز اور فین زونز کو اسی حکمتِ عملی کی مثال قرار دیا گیا۔

بگ بیش کے نئے قوانین اور شائقین کی شمولیت

اس سیزن میں بگ بیش لیگ نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اگر کوئی چھکا تماشائیوں کے اسٹینڈ میں جاتا ہے تو شائقین وہ گیند اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ اس اقدام کو کراؤڈ انگیجمنٹ بڑھانے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ، کھیل کے دوران قوانین میں جزوی تبدیلیوں، بیٹنگ آرڈر میں لچک اور اوورز کی ترتیب میں تجربات کا بھی ذکر کیا گیا، جن کا مقصد میچز کو مزید دلچسپ بنانا ہے۔

بھارت بمقابلہ جنوبی افریقہ: دھرم شالہ کا چیلنج

پروگرام میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز پر بھی گفتگو ہوئی۔ تیسرا میچ دھرم شالہ میں کھیلا جانا ہے، جہاں سرد موسم اور کنڈیشنز کو اہم فیکٹر قرار دیا گیا۔

راشد کے مطابق دھرم شالہ میں زیادہ تر میچز چیزنگ کرنے والی ٹیمیں جیتتی آئی ہیں، جس کی وجہ نمی اور گیلی آؤٹ فیلڈ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بھارتی بیٹنگ آرڈر میں مسلسل تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے، خاص طور پر سنجو سیمسن اور شبمن گل کے استعمال پر۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم پالیسی اور پلیئر ڈویلپمنٹ

جنوبی افریقہ کی ٹیم کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ محض جیت کے بجائے کھلاڑیوں کی ڈیویلپمنٹ پر توجہ دیتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اکثر تجربات کرتی ہے اور پلیئنگ الیون میں رد و بدل نظر آتا ہے۔ کگیسو ربادا، لونگی اینگیڈی اور تبریز شمسی کے حوالے سے اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا گیا۔

بحرین کرکٹ اور علی داؤد کی کارکردگی

پروگرام کے اختتام پر بحرین کرکٹ کا حوالہ آیا، جہاں علی داؤد نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کیں۔ اس کارنامے کو عالمی ایسوسی ایٹ کرکٹ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غیر روایتی کرکٹ ممالک عالمی منظرنامے پر اپنی موجودگی مضبوط کر رہے ہیں۔

پروگرام نے یہ واضح کیا کہ جدید کرکٹ محض کھیل نہیں رہی بلکہ ایک طویل المدتی اسپورٹس انڈسٹری بن چکی ہے، جہاں مارکیٹنگ، براڈکاسٹنگ اور فین انگیجمنٹ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

بشکریہ کاٹ بی ہائینڈ

 

دیگر متعلقہ خبریں