جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی، سیاسی ملی بھگت پر تحقیقات جاری ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’خبر محمد مالک کے ساتھ‘‘میں سینئر صحافی محمد مالک نے کہا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر دی گئی ہے، جس کا باضابطہ نفاذ 11 دسمبر 2025 سے ہو چکا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ یہ فیصلہ ایک بڑے قانونی مرحلے کا اختتام ہے، تاہم سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور بعض دیگر معاملات پر تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ پریس ریلیز کے آخری حصے میں واضح کیا گیا کہ ملزم کی جانب سے دانستہ طور پر سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں علیحدہ طور پر نمٹایا جا رہا ہے۔
ٹاپ سٹی کیس سے آغاز
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف غیرقانونی کارروائی کی گئی، جائیداد پر قبضہ ہوا اور گھر سے قیمتی اشیا اور بھاری رقوم اٹھائی گئیں۔ سپریم کورٹ نے اس پر انکوائری کا حکم دیا، جس کے بعد 12 اگست 2024 کو آئی ایس پی آر نے کورٹ آف انکوائری کے آغاز کا اعلان کیا۔
انکوائری، تفتیش اور بعد ازاں ٹرائل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ اسی بنیاد پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز کیا گیا اور انہیں فوجی تحویل میں لیا گیا۔
الزامات اور عدالتی کارروائی
10 دسمبر 2024 کو جنرل (ر) فیض حمید پر باضابطہ فردِ جرم عائد کی گئی، جس میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور شہریوں کو غیرقانونی نقصان پہنچانے جیسے الزامات شامل تھے۔ حالیہ فیصلے میں چاروں الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
9 مئی اور آئندہ امکانات
پریس ریلیز اور پروگرام میں ہونے والی گفتگو کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق پہلو ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا آئندہ مرحلے میں مزید مقدمات سامنے آ سکتے ہیں اور اس کے سیاسی اثرات کس حد تک جائیں گے۔
پروگرام میں شریک سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ اس فیصلے کو سیاسی تناظر سے ہٹ کر دیکھنا چاہیے، کیونکہ فوجی نظام میں سزا کا مقصد نظم و ضبط اور ڈیٹرنس ہوتا ہے۔
سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق فیصلے کا سیاسی شمولیت سے متعلق پیراگراف ظاہر کرتا ہے کہ 9 مئی کے معاملات ابھی مکمل طور پر نمٹائے نہیں گئے۔
منیب فاروق نے کہا کہ عدالتی و آئینی ترامیم کے بعد پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے قانونی ریلیف کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔
جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا کو ایک بڑے قانونی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم آئی ایس پی آر کے مؤقف کے مطابق یہ معاملہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ سیاسی ملی بھگت اور عدم استحکام سے متعلق پہلوؤں پر آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے، جس کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ اے آر وائی











