ٹرمپ کی تقریر پر بی بی سی کی ترمیم پر تنازع اور استعفے

ٹرمپ کی تقریر پر بی بی سی کی ترمیم کے بعد استعفے، تنازع بڑھ گیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوری 2021 کی تقریر کو غلط انداز میں پیش کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بی بی سی کے پروگرام ‘پینوراما’ کی ایک ڈاکیومنٹری میں ٹرمپ کی تقریر کے دو الگ حصے جوڑ کر ایک جملہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد ادارے کے اعلیٰ حکام کے استعفوں نے برطانوی میڈیا میں ہلچل پیدا کر دی۔

وائٹ ہاؤس نے بھی بی بی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بی بی سی پر دانستہ بگاڑ کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ ادارہ جھوٹی خبروں کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی کے سربراہ ٹِم ڈیوی سمیت بڑے لوگ مستعفی ہو گئے یا فارغ کر دیے گئے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ بی بی سی ایک غیر ملکی ادارہ ہے جو جمہوریت کے لیے نقصان دہ کردار ادا کر رہا ہے۔ پینوراما کی ڈاکیومنٹری میں ٹرمپ کی تقریر کے جملے جوڑ کر پیش کیے گئے تھے، حالانکہ اصل تقریر میں یہ الگ الگ جملے تھے۔

واشنگٹن کے کیپیٹل ہل پر حملہ اسی تقریر کے بعد ہوا تھا۔ ٹرمپ پر اس واقعے سے متعلق چار مجرمانہ دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا، تاہم دوبارہ انتخاب جیتنے کے بعد مقدمہ ختم کر دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بی بی سی کی اس سنگین غلطی نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور عالمی میڈیا کی سیاسی غیر جانبداری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں