تحقیق میں انکشاف ہوا کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ماڈلز اکثر غیر حقیقی معلومات فراہم کرتے ہیں، کیونکہ انہیں قیاس آرائیوں پر مبنی بنایا گیا ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جنریٹو اے آئی ماڈلز، جیسے چیٹ جی پی ٹی، اب بھی اکثر ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق کے مطابق اے آئی سسٹمز بعض اوقات قیاس آرائی کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر جواب معلوم نہ ہو تو بھی کچھ جواب دینے کی کوشش کریں۔
اوپن اے آئی کے محققین کے مطابق، اے آئی ماڈلز کی تربیت میں بنیادی خامیاں ہیں۔ زیادہ تر ماڈلز کو صحیح جوابات دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو کہ اکثر قیاس آرائیوں کا موجب بنتا ہے۔
اے آئی ماڈلز بہت زیادہ متن پڑھ کر سیکھتے ہیں، لیکن جب انہیں مشکل سوالات ملتے ہیں تو یہ خود سے جواب بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر غلط معلومات سامنے آتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ ایویلیوایشن سسٹمز صرف درستگی پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اے آئی کو جواب دینے کی ترغیب ملتی ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔
محققین نے تجاویز پیش کی ہیں کہ اے آئی ماڈلز کو پراعتماد غلطیوں پر سزا دی جائے اور شک ظاہر کرنے پر انعام دیا جائے تاکہ ماڈلز زیادہ مستند اور قابل اعتماد بن سکیں۔











