کیا عالمی طاقتوں کا نیا نظام بعل پرستی کا جدید روپ ہے؟

تحریر: لائبہ شاہد

ہزاروں سال قدیم سامی (Semitic) تہذیبوں کا وہ دیوتا، جسے بارش اور زرخیزی کا مالک سمجھ کر معصوم بچوں کی قربانی دی جاتی تھی، 2026 میں ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔ تہران کی سڑکوں پر ایرانی انقلاب کی 47 ویں برسی کے موقع پر ‘بعل’ کے ایک دیو قامت مجسمے کو نذرِ آتش کیا جانا محض ایک احتجاجی عمل نہیں، بلکہ ایک گہرا علامتی سوال ہے کہ کیا قدیم ‘بعل’ کا فلسفہ ختم ہو چکا ہے یا عالمی طاقتوں نے اسے ایک جدید اور مہذب "ورلڈ آرڈر” کا روپ دے دیا ہے؟ یہ بحث اب محض دیومالائی داستان نہیں رہی، بلکہ اس مائنڈ سیٹ کی نشان دہی کرتی ہے جہاں بے پناہ اقتدار اور مادی غلبے کے لیے اخلاقیات اور انسانی جان کی قربانی کو ایک "خاموش ضابطے” کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔

تہران کی سڑکیں اور ‘بعل’ کا علامتی قتل


ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کی 47 ویں برسی کے موقع پر تہران اور دیگر بڑے شہروں میں جاری ’22 بہمن’ کی سرکاری تقریبات کے دوران ایک غیر معمولی منظر دیکھا گیا۔ مظاہرین نے ‘بعل’ کے نام سے منسوب ایک مجسمے کو آگ لگا دی جس پر ڈیوڈ کا ستارہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر آویزاں تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، بعل کو یہاں ایک قدیم ظالم دیوتا کے طور پر دکھایا گیا اور اس عمل کو مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے خلاف "مزاحمت” کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ علامتی عمل ظاہر کرتا ہے کہ تہران کے ریاستی بیانیے میں بعل اب محض ایک بت نہیں، بلکہ اس ‘عالمی استکبار’ کا استعارہ ہے جو اپنے مفادات کے لیے ملکوں کا امن، معیشت اور انسانی جانوں کی قربانی دے رہا ہے۔

قدیم نظامِ فکر اور مادی بقا کا لالچ

تاریخی حقائق اور آثارِ قدیمہ کی دریافتیں، بالخصوص قدیم فونیشیا (Phoenicia) اور کنعان (Canaan) سے ملنے والی تحریروں کے مطابق، بعل دراصل ایک سفاک معاشی نظام کا نام تھا۔ اس دور کے لوگ مانتے تھے کہ دنیاوی کامیابی اور زرخیزی کے لیے "سب سے قیمتی شے” یعنی معصوم بچوں کی قربانی ناگزیر ہے۔ قدیم ‘ٹوفٹ’ (Tophet) وہ مقامات تھے جہاں یہ ہولناک رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ یہاں اصل نظام یہ تھا کہ مادی برتری کے لیے انسانی ہمدردی کو قتل کر دیا جائے۔ جب ہم آج کے دور کی مادہ پرستی کا موازنہ اس قدیم فلسفے سے کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ‘کامیابی کی ہوس’ کا وہ قدیم ڈھانچہ آج بھی ویسا ہی ہے، بس اس کی قربان گاہیں اب جدید دفاتر اور عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں منتقل ہو چکی ہیں۔

ایپسٹیان فائلز اور جدید ‘قربان گاہیں’


ایپسٹیان آئی لینڈ (Epstein Island) کا معاملہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ اس ‘بعل نما’ فلسفے کی عملی شکل ہے جہاں دنیا کے بااثر ترین افراد، سیاستدان اور سرمایہ کار معصوم بچوں کے استحصال میں ملوث پائے گئے۔ یہاں تضاد واضح ہے، ایک طرف یہ شخصیات دنیا کے سامنے انسانی حقوق اور عالمی امن کی علمبردار بنتی ہیں، جبکہ دوسری طرف پسِ پردہ وہی قدیم اور سفاکانہ روش اپنائے ہوئے ہیں جہاں معصومیت کا سودا کر کے طاقت کے مراکز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ جب عالمی نظام سے خالق کا خوف نکل جائے، تو انسان ‘بعل’ جیسے شیطانی فلسفوں کا اسیر ہو کر کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔

کارپوریٹ بیانیہ اور علامتی استعمار


عالمی فیشن انڈسٹری، بالخصوص ‘بالنسیاگا’ (Balenciaga) جیسے برانڈز کے گرد اٹھنے والا حالیہ طوفان اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ 2022 میں سامنے آنے والی اشتہاری مہم، جس میں بچوں کو غیر موزوں اشیاء کے ساتھ دکھایا گیا، ناقدین کے نزدیک کوئی ‘تخلیقی غلطی’ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی علامتی زبان ہے۔ یہ ‘برانڈ کلچر’ دراصل ہماری نوجوان نسل (Gen Z) کو لاشعوری طور پر ایک ایسے مادی جال میں پھنسا رہا ہے جہاں برانڈ کی چکا چوند ہی عزت اور مرتبے کا واحد معیار بن جاتی ہے۔

انسانیت کا زوال یا مادی غلامی؟

اس تمام تجزیے کے بعد اصل حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ ‘بعل’ کا وجود کسی مٹی کے بت کے ٹوٹنے سے ختم نہیں ہوا، بلکہ اس نے ایک ‘عالمی نظامِ فکر’ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ آج کا اصل چیلنج مٹی کے بتوں سے نہیں، بلکہ اس ‘مادی غلامی’ سے ہے جو ترقی اور جدت کے نام پر انسانیت کا سودا کر رہی ہے۔

تہران کی سڑکوں پر بعل کا جلایا جانا ہو، ایپسٹیان فائلز کے لرزہ خیز انکشافات ہوں یا بڑے برانڈز کا متنازع بیانیہ، سب ایک ہی مائنڈ سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں ‘طاقت اور منافع’ کو انسانی جان اور وقار پر فوقیت حاصل ہے۔ جب کوئی معاشرہ یا عالمی نظام اخلاقی حدود کو پامال کر کے صرف ‘کامیابی’ کو اپنا واحد مقصد بنا لیتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اسی قدیم اور سفاک فلسفے کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جہاں اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کی معصومیت اور حقوق کی قربانی دینا جائز سمجھا جاتا تھا۔

آج کی نسلِ نو (Gen Z) کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کس نظریے کو مانتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ‘انسانی اقدار’ کی حفاظت کیسے کرتی ہے۔ کیا ہم ایک ایسی دنیا کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں برانڈز کی چکا چوند، سیاسی اقتدار اور ڈیجیٹل شہرت کے بدلے ہماری اخلاقی آزادی اور انسانی ہمدردی کا سودا کر لیا جائے؟ حقیقی بیداری کسی عالمی طاقت کے سامنے سر جھکانے یا مادی دوڑ میں شامل ہونے میں نہیں، بلکہ ان ‘غیر انسانی بتوں’ کو پہچاننے اور ان کے خلاف کھڑے ہونے میں ہے جو ہماری تہذیب اور ضمیر کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

Laiba Shahid
لائبہ شاہد راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی میڈیا اور کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، سماجی مسائل اور میڈیا سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔