11.8 کلو کے ایل پی جی، یعنی مائع پٹرولیم گیس کا وہی گھریلو سلنڈر جو کچھ عرصہ پہلےسرکاری نرخ سے کہیں زیادہ 3,300 روپے کے آس پاس فروخت ہو رہا تھا،اسی سلنڈر کی قیمت اب ملک کے زیادہ تر علاقوں میں 4,800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اوگرا نے مارچ 2026 کے لیے اسی سلنڈر کی زیادہ سے زیادہ سرکاری صارف قیمت 2,664.88 روپے مقرر کی تھی جس میں تمام ٹیکسز اور لیوی چارجز کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلروں کا جائز منافع شامل ہے۔
یہ فرق صرف ایک سلنڈر کی قیمت کا نہیں، بلکہ عوام کی جیب پر پڑنے والے ممکنہ طور پر تقریباً 42 ارب روپے کے ڈاکےکو منظر عام پرلے آتا ہے۔ ایک طرف اوگرا کا سرکاری نرخ 11.8 کلو کے سلنڈر کے لیے 2,664.88 روپے ہے، اور دوسری طرف بازار میں یہی سلنڈر 4,800 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ یعنی ہر سلنڈر پر قریب 2,135 روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق جولائی سے مارچ تک ملک میں ایل پی جی کی سپلائی 2.1 ملین میٹرک ٹن رہی، جو ماہانہ اوسط میں تقریباً 1 کروڑ 98 لاکھ سلنڈر بنتی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر یہی فرق وصول کیا جا رہا ہو، تو ایک ہی مہینے میں صارفین کی جیب سے تقریباً 42 ارب روپے تک اضافی رقم نکال لی گئی۔
اور کمال یہ ہے کہ فروری کے مقابلے میں مارچ میں حکومت نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں صرف 2 روپے 52 پیسے کمی کی۔ ایک طرف بازار میں سلنڈر سرکاری نرخ سے بہت اوپر فروخت ہوتا دکھائی دیتا ہے جب کہ دوسری طرف سرکاری ” ریلیف“ اتنا معمولی ہے کہ عام آدمی اسے محسوس بھی نہ کر سکا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کہ اصل بحران ایل پی جی گیس کی سپلائی کا ہے یا حکومت کی انتظامی کمزوری کا؟
ایل پی جی گیس آخر ہے کیا، اور اتنی اہم کیوں ہے؟
ایل پی جی ، پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک آنے والی قدرتی گیس نہیں۔ یہ عموماً قدرتی گیس کی پروسیسنگ اور تیل صاف کرنے کے دوران پروپین اور بیوٹین جیسے اجزا کی شکل میں الگ ہوتی ہے، پھر سلنڈروں یا بلک سپلائی کے ذریعے بازار تک پہنچتی ہے۔ سادہ لفظوں میں، یہ صرف گھروں کے چولہوں کی گیس نہیں، بلکہ ہوٹلوں، تندوروں، بیکریوں، چائے خانوں اور چھوٹے کاروباروں کا بھی اہم ایندھن ہے۔ جہاں قدرتی گیس یا سوئی گیس نہیں پہنچتی، وہاں یہ بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، اور جہاں گیس پہنچتی بھی ہے مگر دباؤ کم ہو، وہاں یہی گیس متبادل ایندھن بن جاتی ہے۔
اسی لیے اس گیس کی قیمت میں اضافہ صرف ایک سلنڈر کا مسئلہ نہیں رہتا۔ وہ روٹی، چائے، ناشتے اور روزمرہ کھانے کی قیمت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یعنی ایل پی جی کا بحران اکثر باورچی خانے سے پہلے بازار میں نظر آتا ہے، پھر گھر میں داخل ہوتا ہے۔
پاکستان خود کتنی ایل پی جی بناتا ہے، اور کتنی باہر سے درآمد کرتا ہے ہے؟
اوگرا کے ماہانہ اعداد کے مطابق اپریل 2025 میں مقامی پیداوار تقریباً 62 ہزار میٹرک ٹن تھی، مگر درآمدات 1.31 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ تھیں۔ جون 2025 میں بھی مقامی پیداوار 56 ہزار میٹرک ٹن کے قریب رہی اور درآمدات 1.10 لاکھ میٹرک ٹن سے اوپر۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایل پی جی بناتا ضرور ہے، مگر سال کے زیادہ تر مہینوں میں جتنی ایل پی جی کی پیدوار مقامی طور پر حاصل ہوتی ہے ، اس سے تقریباً دوگنی باہر سے منگوائی جاتی ہے۔
یہ گیس سب سے زیادہ کہاں استعمال ہوتی ہے: گھر، بازار یا صنعت؟
عام خیال یہ ہے کہ ایل پی جی زیادہ تر گھروں میں استعمال ہوتی ہے، مگر اوگرا کے دسمبر 2024 کے سیکٹر وار اعداد وشمار کچھ اور ہی منظر کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ایک مہینے میں گھریلو کھپت 32,846 میٹرک ٹن، کمرشل 52,363 میٹرک ٹن، اور صنعتی 36,283 میٹرک ٹن تھی۔ یعنی سب سے بڑا صارف گھر نہیں بلکہ کمرشل شعبہ تھا۔
اس ایک عدد سے پوری کہانی بدل جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایل پی جی مہنگی ہونے کا پہلا جھٹکا صرف گھر کے چولہے کو نہیں لگتا۔ پہلے تندور، ہوٹل، چائے خانہ، بیکری اور کمرشل کچن متاثر ہوتے ہیں، پھر ان کی بڑھی ہوئی لاگت روٹی، چائے اور پکے ہوئے کھانے کی قیمت میں منتقل ہوتی ہے۔ یوں ایک سلنڈر کی قیمت رفتہ رفتہ زندگی کی لاگت بن جاتی ہے۔
سرکاری نرخ اور بازار کے نرخ میں اتنا فرق کیوں؟
اس کا آسان جواب صرف ”مشرق وسطی کی جنگ“نہیں ہے۔ اگر اوگرا نرخ طے کرے مگر صارف سرکاری قیمت سے بہت اوپر سلنڈر خریدنے پر مجبور ہو، تو فرق صرف عالمی حالات سے نہیں پڑتا۔ یہاں ذخیرہ اندوزی، اضافی منافع، سپلائی چین میں بگاڑ اور سب سے بڑھ کر کمزور حکومتی نگرانی شامل ہو جاتی ہے۔ اوگرا نرخ مقرر کر سکتی ہے، مگر ہر گلی اور ہر ضلع میں جا کر سلنڈر نہیں بیچتی۔ وہاں صوبائی انتظامیہ، ضلعی حکومت، پرائس کنٹرول مجسٹریسی اور تحصیل سطح کی کمیٹیاں آتی ہیں۔ اگر یہ نظام غیر مؤثر رہے، تو سرکاری نرخ صرف نوٹیفکیشن بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی اس بحران کا اصل تضاد ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے بازار میں بے چینی بڑھائی، مگر عوام کی جیب پر اصل ڈاکہ حکومتی انتظامیہ نے ڈلوایا۔کم سپلائی کا بہانہ جزوی طورپر درست ہو سکتا ہے مگرغیر قانونی منافع کا عذاب حقیقی ہے۔
indigenous_lpg_prices_notification_for_march_2026مرکزی گیس نظام پر دباؤ ایل پی جی کو کیسے مہنگا کرتا ہے؟
ایل پی جی اور قدرتی گیس ایک چیز نہیں، مگر دونوں کی مارکیٹ الگ تھلگ بھی نہیں۔ جب مرکزی قدرتی گیس کا نظام دباؤ میں آتا ہے، کم پریشر ہوتا ہے یا سپلائی غیر یقینی ہوتی ہے، تو لوگ فوراً متبادل ایندھن ڈھونڈتے ہیں، اور یہ بیک اپ اکثر ایل پی جی سلنڈر ہوتا ہے۔
یعنی گیس نظام کے مرکزی نظام میں ذرا سی لرزش آتے ہی ایل پی جی کی مانگ اوپر چلی جاتی ہے اور چونکہ یہ مارکیٹ پہلے ہی جزوی طور پر درآمدات پر کھڑی ہے، اس لیے مانگ بڑھتے ہی قیمتیں پہلے بڑھتی ہیں اور سرکاری نرخ بے معنی ہو جاتے ہیں۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کیا ایل پی جی کی قلت پاکستانیوں کا چولہا ٹھنڈا کر دے گی۔ زیادہ بہتر سوال یہ ہے کہ کیا ایل پی جی اتنی مہنگی اور اتنی بے قابو ہو جائے گی کہ جلتے چولہے میں مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کا خون بھی شامل ہو جائے گا۔ اگر سلنڈر سرکاری نرخ سے ہزاروں روپے اوپر بکے، اگر تندور کی لاگت بڑھ کر روٹی مہنگی کر دے، اور اگر چھوٹا کاروباری مہنگی توانائی کی قیمت صارف سے وصول کریں، تو پھر بحران صرف باورچی خانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ پورے گھر کے بجٹ، کھانے کی میز اور روزگار کو بھی متاثر کرتا ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہانی صرف مہنگی توانائی کی نہیں بلکہ کمزور طرز حکمرانی کی ہے۔
اگر اوگرا کا سرکاری نرخ 2,664.88 روپے تھا اور بازار میں یہی سلنڈر 4,800 روپے تک فروخت ہو رہا تھا، تو اس فرق کی بنیاد پر ایک مہینے میں قریباً 42 ارب روپے تک کا ناجائز منافع کمایا گیا۔ اب یہ سامنے لانا حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس اضافی رقم میں سے کس نے کتنا حصہ لیا، مارکیٹنگ کمپنیاں، ڈیلر، ذخیرہ اندوز، یا سپلائی چین کے دوسرے کردار؟





