ایران کے وسط میں اصفہان کے قریب ایک امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل تباہ ہوا تو سامنے آنے والی پہلی کہانی سادہ تھی۔ ابتدائی خبروں سے اندازہ ہوا کہ ایرانی حملے میں ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارہ نشانہ بنا، 2 رکنی عملے میں سے ایک اہلکار کو فوری طور پر نکال لیا گیا، جبکہ دوسرے کو بچانے کے لیے امریکی فوج نے ہنگامی بنیاد پر بڑا ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ بظاہر یہ ایک معمول کا ریسکیو آپریشن تھا، مگر یہ تاثر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
گزشتہ رات امریکی صدر کی پریس کانفرنس میں اس آپریشن سے متعلق جو تکنیکی تفصیل سامنے آئی، اس کے باریک جائزے نے پورا منظرنامہ ہی تبدیل کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق زخمی امریکی کرنل کو بچانے اور محفوظ واپس لانے کے لئے 2 ایم سی-130 طیارے اصفہان کے قریب ایک عارضی رن وے پر پہنچے، ان میں سے اے ایچ-6 اور ایم ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر اتارے گئے، فضا میں بی-1 بمبار، اے-10 طیارے، ایف-35 جنگی جہاز اور ایم کیو-9 ریپر ڈرون بھی موجود تھے، جبکہ زمین پر نیوی سیلز، ڈیلٹا فورس اور خصوصی ای او ڈی ماہرین بھی مکمل تیاری کے ساتھ اس آپریشن کا حصہ تھے۔ ایک افسر کو ریسکیو کرنے کے لیے یہ تیاری معمول سے کہیں بڑی تھی۔
ایرانی فوج کے مرکزی کمان”خاتم الانبیا “کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے بھی اس حوالے سے وضاحت دی ہے کہ امریکی بازیابی مشن جنوبی اصفہان کے ایک متروک ہوائی اڈے پر کیا گیا اور ان کے بقول یہ کارروائی ناکام رہی۔ ایرانی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آپریشن کے دوران 2 سی-130 طیارے اور 2 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔
اس ساری صورت حال میں اصل سوال یہ ہے کہ وہ بڑا مشن کیا تھا، اور کون سے زمینی حقائق اور غلط اندازوں نے اس خفیہ آپریشن کا راز فاش کر دیا؟
اصفہان کے صحرا میں اتنا بڑا ریسکیو آپریشن کیوں کیا گیا؟
اس سوال کا جواب اصفہان کی اہمیت اور ایف-15 میں موجود کرنل کے کردار کو ایک ساتھ دیکھنے سے ملتا ہے۔ اصفہان کوئی عام ایرانی شہر نہیں۔ یہ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم پراسیسنگ، اور پہاڑوں کے اندر محفوظ تنصیبات کی وجہ سے ایک نہایت حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں امریکی ایف-15 کی موجودگی خود غیر معمولی تھی۔ اگر یہی واقعہ کسی کم حساس مقام پر پیش آتا تو شاید اسے صرف جنگی نقصان سمجھا جاتا، مگر اصفہان کے قریب طیارے کی تباہی نے فوراً یہ شبہ پیدا کر دیا کہ وہاں پہلے سے کوئی خاص مقصد طے تھا۔
ایف-15 کی پچھلی نشست پر موجود کرنل نے اس معاملے کو اور اہم بنا دیا۔ وہ محض عملے کا اضافی رکن نہیں تھا، بلکہ فضائی آپریشن کا آن سین کمانڈر تھا۔ بی-1 بمبار کہاں تعینات ہیں، اے-10 کس حصے کو کور کر رہے ہیں، ایف-35 کس درجے کا فضائی تحفظ دے رہے ہیں، اور ایم کیو-9 ریپر ڈرون کس علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ سب اسی افسر کو معلوم تھا۔ اسی لیے اس کے ایرانی صحرا بے یارو مددگار پھنس جانے سے معاملہ سنگین ہو گیا۔ ایک عام پائلٹ کے پھنس جانے سے فوجی پریشانی پیدا ہوتی، مگر ایسے افسر کے ایرانی فوج کے ہتھے چڑھ جانے سے اصل مشن کے کھل جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
زخمی کرنل کو بچانے کے لئے صحرا میں آپریشن کیسے کیا گیا؟
2 ایم سی-130 طیاروں کا زرعی اراضی پر اترنا، جسے عارضی رن وے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، اس ہنگامی ریسکیو کارروائی کا سب سے فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ یہ طیارے صرف نقل و حمل کے لیے نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اے ایچ-6 اور ایم ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر اتارے تاکہ یہ چھوٹے مگر تیز رفتار ہیلی کاپٹر ایران کے اندر جا کر پیچھے رہ جانے والے افسر تک پہنچ سکیں۔ لٹل برڈ ہیلی کاپٹر ایسی کارروائیوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں جہاں کم جگہ میں اترنا ہو، ٹیم کو تیزی سے آگے بڑھانا ہو، اور محدود فاصلے پر فوری آپریشن کرنا ہو۔
مگر ایم سی-130 کے اندر صرف ہیلی کاپٹر نہیں تھے۔ ان میں وہ دستے بھی موجود تھے جو اس پوری کارروائی کو معمول کے ریسکیو مشن سے بڑا بنا رہے تھے۔ نیوی سیلز کو ہدف تک پہنچنے اور فوری حملہ آور کارروائی کے لیے رکھا گیا تھا۔ ڈیلٹا فورس کو زمین پر بیرونی حفاظتی دائرہ قائم کرنا تھا تاکہ اگر ایرانی فورسز قریب آئیں تو انہیں روکا جا سکے۔ خصوصی ای او ڈی ماہرین کو ایسے راستوں اور رکاوٹوں کے لیے لایا گیا تھا جہاں بنکروں، سرنگوں یا زیر زمین تنصیبات تک رسائی درکار ہو۔ یہی تفصیل بتاتی ہے کہ یہ فورس پہلے سے کسی خطرناک اور محفوظ ہدف کے لیے تیار کی گئی تھی۔

ہنگامی آپریشن میں اتنی بڑی فضائی قوت کیوں استعمال کی گئی؟
کسی ایک امریکی اہلکار کی بازیابی کے لیے فضائی مدد فراہم کرنا معمول کی بات ہے ، مگر اصفہان کے صحرا میں موجود فضائی طیاروں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ بی-1 بمبار اس لیے رکھے گئے تھے کہ ضرورت پڑنے پر سڑکیں، رسائی کے راستے اور ممکنہ کمک کے روٹ کاٹے جا سکیں۔ اے-10 طیاروں کا کام قریب سے جنگی مدد دینا تھا، خاص طور پر اس صورت میں جب زمین سے مزاحمت سامنے آتی۔ ایف-35 لڑاکا جہاز فضائی تحفظ اور حساس نگرانی کے لیے موجود تھے، جبکہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون مسلسل نگرانی، ہدف کی نشاندہی اور وڈیو فیڈ دے رہے تھے۔
یہ فضائی بندوبست ایک محدود ریسکیو سے زیادہ ایک بڑے فوجی آپریشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک افسر کو نکالنا نہیں لگتا، بلکہ زمین پر ایسی کارروائی کو مدد فراہم کرنا تھا جس کے لیے راستے بند کرنا، فضائی برتری قائم رکھنا، زمینی مزاحمت دبانا، اور ہر مرحلے کی مسلسل نگرانی ضروری ہو۔
ہنگامی آپریشن میں کون سی غلطی نے پورا مشن خطرے میں ڈال دیا؟
اصل بحران واپسی کے وقت پیدا ہوا۔ ایم سی-130 طیارے عارضی رن وے کے طور پر استعمال کی گئی زرعی اراضی پر اتر چکے تھے، لٹل برڈ ہیلی کاپٹر شدید زخمی کرنل کو واپس لا چکے تھے، اور اب طیارے اڑان کی تیاری کر رہے تھے۔ اسی مرحلے پر ایک ایم سی-130 کا اگلا پہیہ نرم اور گیلی زمین میں دھنس گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پورا ریسکیو آپریشن خطرے میں پڑ گیا۔
بھاری سازو سامان سے لیس اس طیارےکا وہاں پھنس جانا صرف تکنیکی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب تھا وقت کا ضیاع، دن چڑھنے کے ساتھ ایرانی افواج کے قریب آنے کا خطرہ، اور طیارے پر موجود حساس سامان کے ہاتھ سے نکل جانے کا امکان۔ اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ طیارہ اور اس پر لدا خفیہ سازوسامان وہیں تباہ کر دیا جائے۔ یہی فیصلہ بتاتا ہے کہ مشن پر لایا گیا سامان معمول کے ریسکیو سے کہیں زیادہ حساس تھا۔
اصل غلطی نرم زمین کی نہیں، بلکہ اس کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔ تازہ زمینی سروے کے بجائے اسرائیلی فضائی کمانڈو یونٹ شلداغ کی اس پرانی معلومات پر بھروسا کیا گیا جو جون میں اکٹھی کی گئی تھی، جون میں موسم خشک اور زمین سخت تھی۔ مگر آپریشن اپریل میں ہوا، جب وہی زرعی پٹی زیادہ نم اور نرم ہو چکی تھی۔ پرانی معلومات، ہنگامی جلدی، اور بھاری فورس کے استعمال نے اس مشن کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔
زخمی کرنل کے ایران میں پھنس جانے کی خبر نے امریکی صدر کی پریشانی کیوں بڑھا دی؟
جیسے ہی امریکی میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی کہ ایک پائلٹ کو تو ریسکیو کر لیا گیا ہے مگر دوسرا افسر اب بھی ایران کے اندر موجود ہے، واشنگٹن کے لیے معاملہ سنگین ہو گیا۔ اب خاموشی سے نیا ریسکیو پلان بنانے کا وقت نہیں رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس کو خطرہ تھا کہ اگر تاخیر ہوئی تو ایرانی فورسز پہلے کرنل تک پہنچ جائیں گی۔ اسی دباؤ میں وہی بھاری فورس استعمال کی گئی جو پہلے سے ایک بڑے مشن کے لیے تیار تھی۔
اسی لیے اس اطلاع کے باہر آنے کو صرف میڈیا لیک نہیں سمجھا گیا۔ واشنگٹن کے نزدیک اس نے پوری کارروائی کا وقت، رفتار اور نوعیت بدل دی۔ اگر مزید مہلت ملتی تو شاید ایم سی-130 طیاروں سے غیر ضروری سامان اتارا جاتا، انہیں ہلکا کیا جاتا، اور بازیابی کے لیے زیادہ موزوں بندوبست کیا جاتا۔ مگر ہنگامی دباؤ نے پورا آپریشن عجلت میں اسی شکل میں آگے بڑھایا۔
امریکی فوج کو اس آپریشنل ناکامی کا سب سے بڑا نقصان کیا ہوا؟
اس آپریشن میں طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور خفیہ سامان کا نقصان اپنی جگہ اہم تھا، مگر اصل نقصان اس سے کہیں بڑا تھا۔ اس آپریشن کے بعد امریکا وہ اچانک حملہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا جس پر ایسے خفیہ مشن کا دارومدار ہوتا ہے۔ اصفہان کے قریب اتنی بڑی فضائی اور زمینی نقل و حرکت، خصوصی دستوں کی موجودگی، اور عارضی رن وے کے استعمال کی تفصیل سامنے آنے کے بعد ایران کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ وہاں کوئی معمول کا ریسکیو نہیں ہو رہا تھا۔
اصل ناکامی صرف ایک ریسکیو آپریشن کی نہیں تھی، جو اصفہان کے قریب ایف-15 کی تباہی کے بعد وقت سے پہلے سامنے آ گیا۔ تمام قرائن یہی بتاتے ہیں کہ امریکی فورس پہلے سے حساس ہدف یعنی ایرانی جوہری مواد یا اس سے جڑی تنصیب، تک پہنچنے کی تیاری مکمل کر چکی تھی ،مگر اہم امریکی کرنل کے ایرانی صحرا میں پیچھے پھنس جانے کی وجہ سے واشنگٹن کو اسی تیار فورس کو فوری طور پر بازیابی مشن میں جھونکنا پڑا۔
جو فورس خاموشی، درست وقت، تازہ زمینی معلومات اور محدود انکشاف کے ساتھ استعمال ہونی تھی، وہ ہنگامی دباؤ میں قبل از وقت میدان میں آ گئی۔ پھر گیلی زمین، بھاری بوجھ، پرانی معلومات اور وقت کی کمی نے نہ صرف اس مشن کو ناکام بنایا بلکہ اس کا اصل مقصد بھی کھول دیا۔
غالب امکان یہی ہے کہ اگر امریکا ایرانی جوہری مواد تک پہنچنے یا اسے قبضے میں لینے میں کامیاب ہو جاتا، تو صدر ٹرمپ اسی کارروائی کو اصل کامیابی قرار دے کر جنگ میں بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے۔ وہ اسے اس ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے تھے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے اہم حصے کو براہ راست نشانہ بنا دیا گیا ہے، اور اسی بنیاد پر جنگ ختم کرنے یا اپنی شرائط پر اسے سمیٹنے کی کوشش کرتے۔
مگر ریسکیو کی ہنگامی ضرورت نے وہ پورا منصوبہ بے نقاب کردیا،اس آپریشن کے نتیجے میں ایک زخمی کرنل کو تو امریکی فوج نے بچا لیا مگر ان کے ہاتھ سے وہ سیاسی اور عسکری”فتح“ نکل گئی جسے واشنگٹن شاید اس جنگ کا فیصلہ کن موڑ بنانا چاہتا تھا۔






