آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں، یہ دنیا کی معاشی نبض ہے۔ روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والا ہر جنگی خطرہ صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہتا بلکہ تیل کی قیمت، جہاز رانی، عالمی منڈی اور بڑی طاقتوں کی معاشی حکمت عملی تک پر اثر ڈالتا ہے۔
حالیہ امریکہ ایران جنگ میں آبنائے ہرمز کی بندش نے واشنگٹن کے سامنے ایک سخت سوال کھڑا کر دیا ہےکہ اگر امریکاخطے میں بحری تجارت بحال کرانے کے لیے زمینی حملے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو کیا وہ ایرانی جزیروں پر آسانی سے قبضہ کر سکے گا، اور اسےان جزائر پر قبضے کو برقرار رکھنے کی قیمت کیا ادا کرناہوگی؟
جب کہ دوسری جانب ایران نے کسی بھی زمینی حملے کی صورت میں صرف مزاحمت کی بات نہیں کی بلکہ امریکی زمینی حملے کے امکان پر کھلا چیلنج بھی دیا۔ 5 مارچ 2026 کو وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا، ”ہم ان کے منتظر ہیں ا وراس جنگ کے لیے پوری طرح تیارہیں“۔
آبنائے ہرمز کی اصل کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ عام طور پر جزیرہ خارگ کو ایران کی تیل برآمدات کا دل کہا جاتا ہے، اور یہ حقیقت بھی ہے۔ مگر آبنائے ہرمز کا کنٹرول صرف اس جزیرے میں پوشیدہ نہیں جہاں سے تیل اور گیس برآمد کیا جاتا ہے ۔ بلکہ اس کنٹرول میں مرکزی اہمیت ان جزیروں کی ہے جو سمندر کے بیچ ایسے مقامات پر واقع ہیں جہاں سے جہازوں کی نقل و حرکت دیکھی بھی جا سکتی ہے اور جنگ کی صورت میں اسے خطرناک بھی بنایا جا سکتا ہے۔اسی لیے اگر امریکا واقعی کسی بڑے قدم کا سوچتا ہے تو سوال صرف” کہاں حملہ ہوگا“کا نہیں، بلکہ” کس جزیرے پر قبضہ اہمیت کا حامل “ ہے۔
جزیرہ خارگ اہم ہے، مگر آبنائے ہرمز کی کنجی نہیں؟
خارگ ایران کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ حملے کی صورت میں وہاں لگائی گئی ضرب ایران کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو براہ راست متاثر کرتی ہےمگر آبنائے ہرمز کی اصل کنجی صرف اس جزیرے میں نہیں۔ خارگ برآمدی مرکز ہے، جبکہ ابو موسیٰ، تنب بزرگ، تنب کوچک، قشم، لارک، ہرمز اور ہنگام وہ مقامات ہیں جہاں سے ایران جہاز رانی کے تنگ راستوں پرنہ صر ف نظر رکھ سکتا ہے بلکہ ان راستوں پر بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا اقدام اٹھا سکتا ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں خارگ ایران کی معیشت پر اثر ڈالتا ہے، مگر یہ جزیرے اس کی دفاعی حکمت عملی کے مضبوط ستون ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایران کے 38 چھوٹے جزیرے اور 8 بڑے جزیرے ہیں، ان آٹھ بڑے جزائر میں سے اہمیت کے حامل 7 جزائر پر ایران کا عملی کنٹرول ہے۔ یہی حقیقت ایران کو صرف ایک ساحلی ملک نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت بناتی ہے جو راستے کے اوپر اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہے۔ 2022 کی ایک تحقیقی تحریر میں ایرانی اور چینی محققین نے ان جزیروں کو ایران کے ”کمانی دفاع“ (Arch Defense)کا حصہ کہا۔ مطلب یہ کہ ایران ایک ہی بڑے اڈے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ جزیروں کی اس زنجیر کے ذریعے نگرانی، حملہ، رسد اور روک تھام کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے کون سے جزائراہم ہیں؟
لارک، ہرمز، قشم اور ہنگام آبنائے کے مشرقی دہانے کے قریب ہیں۔ اگر کوئی بحری قوت باہر سے خلیج کے اندر آنا چاہے تو سب سے پہلے یہی حصہ اس کے سامنے آتا ہے۔ لارک خاص طور پر اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہ تنگ گزرگاہ کے قریب ہے۔ قشم بڑا جزیرہ ہے، اس لیے یہ صرف ایک چوکی نہیں بلکہ رسد، نگرانی اور عقبی اڈے کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
ابو موسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک مغربی طرف اس جگہ پر ہیں جہاں سے بڑے جہاز نسبتاً محدود راستوں سے گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تینوں جزائرکو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اوران جزیروں کی مدد سے ایران آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر سخت دباؤ ڈال سکتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر جہاز رانی کو خطرناک بنا سکتا ہے۔یہی وہ منطق ہے جس کی وجہ سے یہ جزیرے محض نقشے پر موجود نقطے نہیں بلکہ سمندری مورچے ہیں۔
ابو موسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک پر ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں کا دعویٰ ہےمتحدہ عرب امارات کا سرکاری مؤقف ہے کہ ایران نے 30 نومبر 1971 کو ان جزیروں پر قبضہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات باضابطہ طور پر2 دسمبر 1971 کو معرض وجود میں آیا تھا، سو ایران کا قبضہ متحدہ عرب امارات کے قیام سے پہلے کا ہے۔
ایران ان جزائر کو اپنا تاریخی اور جغرافیائی حق قرار دیتا ہے اور 1970 کی دہائی سے ان پر فوجی موجودگی رکھے ہوئے ہے۔ قانونی تنازع اپنی جگہ، لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ان جزیروں پر مورچہ ایران کے پاس ہے، اور جنگی منصوبہ بندی میں یہی حقیقت وزن رکھتی ہے۔
ایران نے ان جزیروں کو سمندری مورچوں میں کیوں بدلا؟
اس کا جواب ایران کی جنگی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ امریکا جیسی بحری طاقت کے ساتھ روایتی بحری جنگ میں برابر نہیں آ سکتا۔ اس لیے اس نے ایسی حکمت عملی بنائی جس میں تنگ بحری راستے، ساحلی پوزیشن، چھوٹے جزیرے، ڈرون، میزائل، بارودی سرنگیں اور تیز رفتار کشتیاں ایک ساتھ کام کریں۔اسی لیے ایران کے لیے یہ زیادہ سستا اور مؤثر تھا کہ وہ ان جزیروں کو اگلے سمندری مورچوں میں بدل دے۔
یہ تینوں متنازع جزیرے ایران کی دفاعی بحری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں اورایران کے ساحلی اڈے اس دفاع کو اور مضبوط کرتے ہیں۔ بندر عباس آبنائے ہرمز کے قریب ہے، بوشہر خلیج کے اندر گہرائی دیتا ہے، اور چاہ بہار ایران کو بحیرہ عمان اور کھلے سمندر تک رسائی دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ ایران صرف جزیروں پر نہیں بیٹھا بلکہ جزیروں، ساحلی اڈوں اور کھلے سمندر تک رسائی کے ایک جڑے ہوئے نظام پر کھڑا ہے۔
ایران عراق جنگ میں ان جزیروں کا کیا کردار تھا؟
1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ، خاص طور پر” ٹینکر وار“، اس سوال کا اہم پس منظر دیتی ہے۔ جب عراق نے 1984 میں خارگ کے قریب ایرانی تیل ٹرمینل اور ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو مقصد یہ تھا کہ ایران کو معاشی طور پر کمزور بنا کر شکست دی جاسکے۔ مگر ایران نے صرف خارگ کی حفاظت تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ پاسداران انقلاب نے ابو موسیٰ کو حملوں اور سمندری دباؤ کے لیے استعمال کیا، جبکہ پوری آبنائے میں جہاز رانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت انہی جزائر اور ساحلی پوزیشنوں سے مضبوط ہوئی اور ایرانی فوجی کمانڈر ان جزیروں کو” ڈوب نہ سکنے والے طیارہ بردار اڈے“سمجھتے آئے ہیں۔
یہی جنگ ایران کے لیے ایک اہم جنگی سبق بھی بنی۔ اس نے دیکھا کہ اگر وہ کھلے سمندر میں برابر کی طاقت نہیں رکھتا تب بھی وہ تنگ راستے کو دشمنی قوتوں کے لئے خطرناک بنا کراپنے مخالف کو سخت مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ ایران عراق جنگ کے بعد ایران نے اپنے بحری ڈھانچے، خاص طور پر پاسداران انقلاب کی سمندری صلاحیت، کو اسی منطق کے تحت بڑھایا۔
ممکنہ امریکی زمینی حملےمیں کتنی اور کون سی فورس استعمال ہو گی؟
اب تک کے سامنے آنے والے اعدادوشمار اور تجزیوں کے مطابق امریکہ ایران پر مکمل جنگی یلغار کی طرف نہیں بلکہ محدود مگر خطرناک زمینی آپشنزپر غور کر رہا ہے۔ بعض امریکی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اگر کبھی ایسا آپریشن ہوا تو پہلے فضائی حملوں کے ذریعے ان جزیروں پر موجود ایرانی ڈھانچے، گودام، ریڈار یا عسکری ٹھکانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی، پھر زمینی یا بحری حملے پر غور ہوگا۔
24 مارچ کی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خطے میں مزید ہزاروں امریکی فوجی تعینات کئے جا رہے ہیں۔ 27 مارچ کو ایسوسی ایٹڈ پریس نے 82ویں ایئربورن کے کم از کم 1,000 فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے خبر دی ہے، جب کہ 28 مارچ کو وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مزید 10,000 تک فوجی بھیجے جا سکتے ہیں اور مجموعی تعداد 17,000 سے اوپر جا سکتی ہے۔ گارڈین کے مطابق ان میں میرینز، پیراٹروپرز اور دوسرے دستے شامل ہیں۔
ان اعداد کا موازنہ اگر 2003 کے عراق حملے سے کیا جائے تو یہ تعداد بہت کم ہے ۔ رائٹرز کی ایک پرانی رپورٹ کے مطابق مارچ 2003 میں عراق میں داخل ہونے والی ابتدائی امریکی، برطانوی اور اتحادی قوت تقریباً 125,000 امریکی و برطانوی فوجیوں اور میرینز پر مشتمل تھی اور اپریل کے آخر تک امریکا مزید 100,000 فوجی بڑھانے کی بات کر رہا تھا۔ یعنی عراق پر حملہ ایک مکمل ریاستی یلغار تھا، اس کے برعکس ایران کے موجودہ منظرنامے میں اب تک زیادہ امریکی توجہ محدود حملوں، ساحلی مقامات اور خاص اہداف پر دکھائی دیتی ہے۔
یہ موازنہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک بنیادی بات واضح ہوتی ہے: اگر امریکا ایران میں بڑی زمینی جنگ نہیں چھیڑ رہا، تب بھی وہ اتنی قوت جمع کر رہا ہے جو کسی محدود حملے، ساحلی قبضے، یا خاص ہدف کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اور یہی وہ آپشن ہے جو آبنائے ہرمز کے معاملے میں زیادہ حقیقت پسندانہ لگتا ہے۔
امریکی پیراٹروپرز اور میرینز کو سب سے پہلے کس خطرے کا سامنا کرنا ہوگا؟
امریکی فوج کو ان جزائر کے قریب آنے کے ساتھ ہی پہلے بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر میرینز سمندر سے آئیں گے تو انہیں محدود گزرگاہ، ساحلی فائر، ڈرون اور ممکنہ بارودی سرنگوں کے قریب جانا پڑے گا۔ حالیہ جنگ کے دوران امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کے قریب نہیں آیا بلکہ ابھی تک قریباً 1000 کلو میٹر دور بحیرہ عمان میں موجود ہے۔
حالیہ جنگ میں پاسدارانِ انقلاب یا ایرانی بحریہ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا نے کا دعوی بھی کیا ہے۔ بعض ایرانی دعووں میں یہ بھی کہا گیا کہ اس حملے کے بعد یہ طیارہ بردار جہاز غیر مؤثر ہو گیا، یا اسے ایران سے زیادہ فاصلے پر ہٹنا پڑا، یا اسے علاقے سے پیچھے جانا پڑا۔ جب کہ ایرانی دعووں کے مطابق جیرالڈ فورڈ جہاز پر 17 مختلف زاویوں سے حملہ کیا گیا، اور یہ جہاز بعد میں خطے سے ہٹا کر یونان کی طرف واپس بھجوادیا گیا۔
ایرانی دفاعی کونسل کے 23مارچ کے بیان کے مطابق ”اگر ایران کے جنوبی ساحل یا جزیروں پر حملہ ہوا توخلیج کے تمام راستے مختلف اقسام کی سمندری بارودی سرنگوں سے بھر دیے جائیں گے۔“
اگر 82ویں ایئربورن کے پیراٹروپرز فضا سے اتریں تو وہ تیزی سے ان جزیروں پر پہنچ سکتے ہیں، مگر ان کے پاس شروع میں بھاری سازوسامان کم ہوگا۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ تجزیے میں خبردار کیا کہ آبنائے کو ”محفوظ“بنانا صرف بحری جہاز بھیجنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جزیروں پر اترنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی فورس کو فوراً ایرانی افواج، توپ خانے، ڈرون اور میزائل کی شکل میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرا خطرہ یہ ہے کہ جزیرہ تنہا نہیں ہوتا۔ جزیرہ ایرانی مین لینڈ سے جڑا ہوا مورچہ ہوتا ہے۔ اگر امریکی فوج ابو موسیٰ یا تنبوں پر قابض بھی ہوجائے تو وہ فوراً ایرانی ساحل، قریبی اڈوں اور دوسرے جزیروں سے آنے والے حملوں کی زد میں ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی افواج ان جزائر پر قبضہ برقرار رکھنے کے ایران کے ساحلی اڈوں سے آنے والے ڈرون، میزائل اور توپ خانے کے براہ راست نشانے پر ہوں گے۔
سمندری بارودی سرنگیں اور ڈرون کی موجودگی میں کیا یہ حملے آسان ہوں گے؟
سمندری یلغار کو روکنے کے لیے یہ شاید سب سے بڑا عملی خطرہ ہے۔ رائٹرز نے 4 مارچ کو رپورٹ کیا کہ ایران ڈرون اور دوسری غیر روایتی صلاحیتوں کے ذریعے مہینوں تک آبنائے ہرمز میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اسی رپورٹ میں ایک میری ٹائم رسک فرم کے اندازے کا حوالہ تھا کہ ایران کے پاس 5,000 سے 6,000 تک سمندری بارودی سرنگیں ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو امریکی فوج کو صرف جزیرے پر قبضہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ جہاز رانی کا راستہ صاف بھی رکھنا ہوگا، اور یہ کام چند گھنٹوں یا چند دنوں کا نہیں ہو سکتا۔ ایک بڑا امریکی جہاز مہنگا اور نمایاں ہدف ہے، جبکہ ایک سستی بارودی سرنگ، ایک ڈرون یا ایک چھوٹی حملہ آور کشتی پوری امریکی جنگی حکمت عملی کو برباد کر سکتی ہے۔
جزائر پر امریکی قبضے کی صورت میں کیا ان جزائر کا کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا؟
اس سوال کامختصر جواب یہ ہے کہ ان جزائر پر قبضہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوگا۔ جزیرہ لینا ایک وقتی فوجی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کی قیمت بہت بڑی ہو گی۔ سابق امریکی فوجی افسر کارل شسٹر کے حوالے سے یہ اندازہ سامنے آیا ہے کہ اگر امریکا ابو موسیٰ یا دونوں تنب جیسے جزائر پر قبضہ بھی کر لے تو وہاں مستقل کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اسےتقریباً 1,800 سے 2,000 فوجی درکار ہو سکتے ہیں۔
یعنی ان جزائر پر زمینی حملے کے صورت میں امریکا کو تین سطحوں پر لڑنا پڑے گا۔ جزیرے پر موجود فوری مزاحمت، سمندر میں رسد اور بحری تحفظ، اور مین لینڈ سے آنے والے مسلسل حملے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ امریکی بیانات میں بھی زمینی فوج کے آپشن کو کھلا رکھا گیا ہے، مگر مرکزی پالیسی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
امریکا کو کس قسم کے نقصان کے لیے تیار رہنا ہوگا؟
زمینی حملے کی صورت میں سب سے پہلے امریکی افواج کو ان جزائر پر حملوں کی صورت میں جانی نقصان کے لئے تیار رہنا ہو گا کیوں کہ جزیرے پر اترنے والی فورس سب سے زیادہ نمایاں ہدف ہوگی۔ دوسرا رسدی نقصان۔ زخمی نکالنا، گولہ بارود پہنچانا، بحری راستہ کھلا رکھنا اور مسلسل دفاع کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ تیسرا معاشی نقصان۔ آبنائے ہرمز کے اطراف میں اس طرح کی جنگی صورتحال میں تیل، گیس، جہاز رانی، بیمہ اور عالمی منڈی متاثر ہوگی۔
چوتھا سیاسی نقصان ہوگا۔ عراق کی طرح بڑے حملے کے لیے درکار فوجی حجم اس وقت نظر نہیں آتا، مگر محدود حملوں کے نتیجے میں بھی اگر تابوت واپس جانے لگے، آبنائے ہرمز نا کھل سکے ، اور عالمی منڈی میں معاشی دباوٴموجود رہے تو واشنگٹن کے لیے سیاسی قیمت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کا کنٹرول خارگ میں نہیں، اس کے آس پاس کے ان جزیروں میں ہے جوبحری راستے کا کنٹرول یقینی بناتے ہیں۔ خارگ ایران کی تیل آمدنی کو متاثر کر سکتا ہے، مگر ابو موسیٰ، گریٹر تنب، لیسر تنب، قشم، لارک، ہرمز اور ہنگام وہ جزائر ہیں جہاں سے پوری عالمی معیشت پر دباؤڈالا جاسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں اصل فیصلہ جزیرے پر قبضے کی رفتار نہیں کرے گی۔ اصل فیصلہ یہ کرے گا کہ قبضے کے بعد امریکی افواج کتنے حملے سہہ سکتی ہیں، کتنا جانی نقصان برداشت کر سکتی ہیں، رسد کا دباؤ کتنی دیر سنبھال سکتی ہیں، اور واشنگٹن اس کی سیاسی قیمت کہاں تک چکا سکتا ہے۔







