اصل سندھی کون؟ سندھ کی تقسیم کا شور کون اور کیوں مچا رہا ہے؟

اصل سندھی کون؟ سندھ کی تقسیم کا شور کون اور کیوں مچا رہا ہے؟

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کی حالیہ بحث نے اچانک تاریخ کے کئی سو بلکہ کئی ہزار سال پرانے اوراق کھول دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے لے کر پیپلز پارٹی کے دوسرے ارکان تک سندھ کی وحدت، پانچ ہزار سالہ تہذیب اور تاریخی شناخت کے حوالے دیے گئے۔ لہجہ کہیں جذباتی تھا، کہیں سیاسی اور کہیں وہ پرانا نعرہ بھی سنائی دیا: ’’مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں۔‘‘

سندھ کی تاریخ، ثقافت اور شناخت یقیناً قابلِ احترام ہیں، لیکن اس پوری بحث میں ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب جذبات سے نہیں، تاریخ سے مانگنا چاہیے کہ حقیقت میں   اصل سندھی کون ہیں؟

معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی عامر متین نے 92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ میں اسی سوال کو ایک مختلف زاویے سے اٹھایا ہے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آج کے صوبہ سندھ کی سیاسی و انتظامی سرحد اور پانچ ہزار سالہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کو ایک سمجھ لینا تاریخی طور پر درست نہیں۔

آج کا سندھ جس انتظامی شکل میں ہمارے سامنے ہے، وہ پانچ ہزار سال سے اسی نقشے کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ برطانوی دور میں سندھ تقریباً ایک صدی تک بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ رہا اور 1936 میں اسے الگ صوبے کی حیثیت ملی۔ اس کے بعد بھی انتظامی نقشہ تبدیل ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی دارالحکومت بنایا گیا، پھر ون یونٹ آیا اور 1970 میں صوبائی نظام بحال ہوا۔

یعنی سیاسی سرحدیں تاریخ میں بنتی اور بدلتی رہی ہیں، جبکہ تہذیب کی سرحدیں اس سے کہیں وسیع ہوتی ہیں۔

یہ فرق اس وقت اور اہم ہوجاتا ہے جب سندھ کی موجودہ سرحدوں کو پانچ ہزار سالہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا مترادف بنا دیا جائے۔ دریائے سندھ موجودہ صوبہ سندھ سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ تبت سے نکلتا، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے گزرتا ہوا سندھ پہنچتا ہے۔ موہنجوداڑو آج کے سندھ میں ہے تو ہڑپہ پنجاب میں۔ اس تہذیب کے آثار موجودہ پاکستان سے بھارت کے ہریانہ، راجستھان اور گجرات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

خود لفظ ’’سندھ‘‘ کی جڑ بھی دریا سے نکلتی ہے۔ قدیم ’’سندھو‘‘ سے فارسی روایت میں ’’ہند‘‘ اور یونانی روایت میں Indos اور پھر Indus بنا۔ تاریخی اور تہذیبی مفہوم میں دریائے سندھ کے وسیع خطے کے باشندے اس تہذیب کے وارث ہیں۔ اس لحاظ سے موہنجوداڑو اور ہڑپہ کسی ایک موجودہ صوبائی شناخت کی ملکیت نہیں بلکہ پورے خطے کا مشترکہ تہذیبی ورثہ ہیں۔

پھر ایک اور دلچسپ تاریخی حقیقت ہے جس کا موجودہ بحث میں ذکر کم ہوتا ہے۔ سندھ کے کئی بااثر سیاسی اور زمیندار قبائل بلوچ النسل ہیں، جبکہ بالائی سندھ اور دریائے سندھ سے متصل متعدد علاقوں میں سرائیکی بھی ایک اہم مقامی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔

انگریزوں نے 1843 میں سندھ تالپور حکمرانوں سے حاصل کیا تھا اور تالپور بلوچ تھے۔ بلوچ قبائل مختلف ادوار میں سندھ آکر آباد ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ سندھ کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کا حصہ بن گئے۔ تالپور، جتوئی، چانڈیو، جکھرانی، بجارانی اور متعدد دوسرے قبائل کی جڑیں بلوچ قبائلی تاریخ سے وابستہ ہیں۔ اس تاریخی پس منظر میں کسی ایک موجودہ نسلی یا قبائلی گروہ کو ہی ’’اصل سندھی‘‘ اور پانچ ہزار سالہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا واحد وارث قرار دینا مشکل ہوجاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا سید خاندان بھی مختلف ادوار میں سندھ آیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد لاکھوں مسلمان ہندوستان سے ہجرت کرکے کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں میں آباد ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ کسی انسان کو ’’اصل‘‘ سندھی تسلیم کرنے کے لیے تاریخ کی لکیر کہاں کھینچی جائے؟ سو سال، تین سو سال، ایک ہزار سال یا پانچ ہزار سال؟

اگر تین سو سال پہلے آنے والا خاندان آج مکمل سندھی ہے تو ستر یا اسی سال پہلے آنے والے خاندان کی اگلی نسل کو کب تک مہاجر کہا جائے گا؟

یہی سوال نئے صوبوں کی موجودہ بحث کو محض جذباتی نعروں سے آگے لے جاتا ہے۔

سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرکے اپنا سیاسی موقف واضح کردیا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 239(4) بھی کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹ ضروری قرار دیتا ہے۔ اس لیے سندھ کو محض کسی سیاسی خواہش پر نقشے میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں ایک سوال خود پیپلز پارٹی سے بھی بنتا ہے۔ جب آئین سندھ کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کو سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے مشروط کرتا ہے اور سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے تو پھر سندھ کی تقسیم کا فوری خطرہ کہاں سے پیدا ہوگیا؟ کیا کسی نئی آئینی ترمیم میں صوبائی اسمبلی سے یہ اختیار واپس لینے کی بات ہورہی ہے؟ اگر نہیں تو موجودہ آئینی بندوبست میں پیپلز پارٹی کی رضامندی کے بغیر سندھ کی حدود کیسے تبدیل ہوسکتی ہیں؟ اور اگر کبھی آرٹیکل 239(4) ہی تبدیل کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ موجودہ پارلیمانی بندوبست میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ایسی آئینی تبدیلی کیسے ممکن ہوگی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اصولی طور پر ہر نئے صوبے کی مخالف بھی نہیں۔ سندھ اسمبلی کی اسی بحث میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی خود پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی اور یہی اصول خیبر پختونخوا پر بھی لاگو ہوگا۔ گویا اصول یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ کسی صوبے کے منتخب نمائندے اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق نئی صوبائی اکائی کے قیام کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ پھر سندھ میں اسی سوال کو انتظامی اصلاح کی بحث کے طور پر سننے کے بجائے صوبے کی بقا کا مسئلہ کیوں بنا دیا جاتا ہے؟

نئے صوبوں کی بحث صرف سندھ تک محدود بھی نہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں کہا ہے کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی کے پاکستان کو بہتر انتظام کے لیے 15 مزید صوبوں یا تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب کے صوبے کی حمایت بھی مختلف اوقات میں ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔

اصل سوال یہی ہے کہ مسئلے کا حل انتظامی اصلاح ہے یا نئی صوبائی تقسیم؟

اگر نئے صوبے زبان، نسل یا سیاسی انتقام کی بنیاد پر بنیں گے تو اس خطے میں بسنے والوں کے درمیان نفرت کی نئی دیواریں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر مقصد انتظامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر گورننس اور حکومت کو شہری کے قریب لانا ہے تو اس بحث کو غداری یا قوم دشمنی کا نام دے کر روکا نہیں کیا جاسکتا۔

اس سے بھی پہلے بااختیار بلدیاتی حکومتوں کا نسبتاً آسان راستہ موجود ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں سے مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے اختیارات ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور یونین کونسل تک منتقل کرنے میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں محسوس کرتی ہیں؟

شاید قوم پرست سیاست کا اصل امتحان بھی یہیں ہے۔

سندھ سے محبت صرف اس کے نقشے سے محبت نہیں ہونی چاہیے۔ تھر کے بچے کا اسکول، کشمور کے مریض کا اسپتال، لاڑکانہ کے شہری کا صاف پانی، حیدرآباد کا سیوریج اور کراچی کے کروڑوں لوگوں کی بااختیار مقامی حکومت بھی سندھ ہی کے سوالات ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ ہمیشہ سے ہجرتوں، زبانوں، قبائل اور ثقافتوں کا سنگم رہا ہے۔ مختلف ادوار میں بلوچ قبائل آئے اور سندھ کی شناخت کا حصہ بن گئے، سید خاندان آئے اور اسی معاشرے میں رچ بس گئے، پھر تقسیم کے بعد آنے والے لاکھوں لوگ بھی نسل در نسل اسی سرزمین پر آباد ہیں۔ قومیں کسی لیبارٹری میں نہیں بنتیں بلکہ قوموں کی تشکیل مشترکہ زمین، تاریخ، ثقافت، مفادات اور مستقبل  کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ اصل سندھی کون ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سندھ کا اصل خیرخواہ کون ہے؟ وہ جو سندھ کے عوام کو اختیار دینا چاہتا ہے یا وہ جو سندھ کے نام پر اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے؟

واضح آئینی حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی حدود پیپلز پارٹی کی رضامندی کے بغیر تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ سندھ اسمبلی میں بھی فیصلہ کن طاقت اسی کے پاس ہے اور وفاق میں کسی بڑی آئینی تبدیلی کے لیے بھی اس کی سیاسی حمایت اہم ہے۔ ایسے میں سندھ اسمبلی کی جذباتی تقریروں کے بعد سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی سندھ کو کسی فوری تقسیم کا سامنا ہے، یا نئے صوبوں کی بحث نے وسائل اور سیاسی اختیار کی تقسیم کا وہ سوال چھیڑ دیا ہے جس پر صوبائی سیاست  خوف کا شکار ہے؟ یا پھر کسی دوسرے بڑے سیاسی طوفان سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک ایسا خطرہ بڑا کرکے دکھایا جا رہا ہے جو موجودہ آئینی بندوبست میں فی الحال آسانی سے حقیقت نہیں بن سکتا؟

اگر ایسا ہے تو سندھ اسمبلی میں اٹھنے والا یہ طوفان کہیں صرف چائے کی پیالی میں طوفان تو نہیں؟

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔