اسلام آباد میں ڈیڑھ سو ملی میٹر بارش ہوئی تو پانی نے شہر کے نقشے پر بنی سڑکوں، سیکٹروں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی حدود ماننے کے بجائے اپنے پرانے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ یہ پانی کہیں E-11 میں گھروں اور عمارتوں کے درمیان سے گزرا، کہیں پارک روڈ پر گمراہ کس نالے کے کناروں سے باہر چھلکا اور کہیں غوری ٹاؤن کی گلیوں کو وینس میں تبدیل کر گیا۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ کی طرح اس انتظامی یا انتقامی خود پیدا کردہ مسئلے کو رب کائنات پر ڈالتے ہوئے اسے فلیش فلڈ قرار دے دیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اتنا پانی آخر جاتا کہاں؟
شدید بارش یقیناً قدرتی عمل ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی بدولت پیش آنے والے موسمی واقعات کی شدت میں اضافے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مگر نالوں کو تنگ کرنا، ان کے قدرتی راستے تبدیل کرنا، آبی گزرگاہوں کے رائٹ آف وے میں جائز و ناجائز تعمیرات ہونے دینا اور نشیبی علاقوں کو ہاؤسنگ سکیموں کے حوالے کرنا قدرتی عوامل نہیں بلکہ انسانی اور انتظامی فیصلے ہیں۔ اسلام آباد میں حالیہ سیلاب نے اسی فرق کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا ہے۔
اسلام آباد پاکستان کے ان چند شہروں میں شامل ہے جو باقاعدہ ماسٹر پلان کے تحت آباد ہوئے۔ یونانی ماہرِ شہری منصوبہ بندی کانسٹن ٹینوس ڈوکسیادیس کی فرم Doxiadis Associates نے اس شہر کا منصوبہ تیار کیا جسے وفاقی کابینہ نے 1960 میں منظور کیا۔ اس منصوبے میں صرف سیکٹر، شاہراہیں اور تجارتی مراکز نہیں تھے بلکہ شہر کے جغرافیے، زمین کی ڈھلوان، قدرتی آبی گزرگاہوں اور مستقبل کی توسیع کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔ چھ دہائیاں بعد مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آباد کے پاس منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل کتنا ہوا۔
E-11 اس کی نمایاں مثال ہے۔ 2021 میں اسی علاقے میں فلیش فلڈ کے دوران ایک ماں اور اس کا بچہ جان سے گئے تھے۔ حالیہ بارش میں پانی دوبارہ اسی علاقے میں گھروں تک پہنچا، تاہم خطرے سے دوچار بعض گھروں اور تہہ خانوں کو انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی سیل کیے جانے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔
D-12 کی جانب سے E-11 میں داخل ہونے والا نالہ ایک مقام پر تقریباً 40 فٹ چوڑا تھا جسے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نے سرکاری بابوؤں کی مہربانی سے یک جنبش قلم سکیڑ کر تقریباً 18 فٹ کردیا۔ E-11 میں داخل ہونے سے پہلے اس آبی گزرگاہ کا رائٹ آف وے تقریباً 100 فٹ بتایا گیا ہے، لیکن آگے یہی پانی تنگ راستے اور تیز موڑ سے گزرنے پر مجبور ہے۔ E-10 کی طرف سے آنے والا دوسرا نالہ بھی اسی علاقے میں ملتا ہے، جس سے پانی کے بہاؤ میں مزید رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے شہری منصوبہ بندی کا ماہر ہونا ضروری نہیں۔ اگر بارش کے پانی کے قدرتی راستے کو مسلسل تنگ کیا جائے تو غیر معمولی بارش میں پانی عمارتوں اور سڑکوں کی طرف ہی جائے گا۔سیلانی پانی ملکیتی دستاویز، سرکاری اجازت نامہ یا عمارت کی قیمت نہیں دیکھتا، وہ اپنی قدرتی ڈھلوان کے مطابق راستہ تلاش کرتا ہے۔
پارک روڈ پر کامسیٹس یونیورسٹی کے قریب گمراہ کس نالے کی کہانی بھی مختلف نہیں۔ حالیہ بارش میں نالہ باہر نکلا، پانی گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہوا اور ٹریفک متاثر ہوئی۔ 2005 اور 2026 کی سیٹلائٹ تصاویر کے تقابلی موازنے سے اس قدرتی نالے کے راستے میں نمایاں تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پہلے یہ نالہ نجی زمین سے گزرتا تھا، اب اس کا بہاؤ سی ڈی اے کی حاصل کردہ زمین کی طرف منتقل ہوچکا ہے جبکہ سابقہ گزرگاہ کے اطراف تعمیرات موجود ہیں۔ موجودہ سی ڈی اے چیئرمین سہیل اشرف نے اس حوالے سے ایک مفصل جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ضروری ہے کہ جائزہ صرف موجودہ راستے تک محدود نہ رہے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ تبدیلی کب، کیوں اور کس منظوری سے ہوئی۔
غوری ٹاؤن میں بھی دو قدرتی نالے گزرتے ہیں جن کے راستوں میں تعمیرات اور رکاوٹوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اچانک وجود میں نہیں آتیں۔ زمین تقسیم ہوتی ہے، پلاٹ فروخت ہوتے ہیں، سڑکیں بنتی ہیں، مکان اور تجارتی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں اور برسوں بعد انتظامیہ تجاوزات ہٹانے پہنچتی ہے۔ مگر ہمارے سرکاری بابووں کو کوئی کیسے سمجھائے کہ اصل شہری انتظام تجاوزات بننے کے بعد بلڈوزر چلانا نہیں بلکہ انہیں بننے سے روکنا ہے۔
اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو لوہی بھیر کا علاقہ ہے۔ اسلام آباد کے اصل ماسٹر پلان میں Doxiadis Associates نے غوری ٹاؤن سے آگے نشیبی علاقے میں لوئی بھیر ڈیم یا جھیل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ سی ڈی اے نے اس مقصد کے لیے اس علاقے میں زمین حاصل نہیں کی اور وقت کے ساتھ مجوزہ مقام کے حصے نجی ہاؤسنگ سکیموں میں شامل ہوگئے۔ یوں جہاں بارش کا پانی جمع ہونا تھا وہاں انسانی آبادی جمع ہوگئی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تضاد اس شہر میں زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے جو خود پانی کی قلت کا شکار ہے۔ سی ڈی اے کے موجودہ چیئرمین نے اب مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں چار نئے چیک ڈیم بنانے، E-11 میں نیا نالہ تعمیر کرنے، نالوں کے رائٹ آف وے سے تعمیرات ہٹانے اور لوہی بھیر جھیل کی تجویز کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات ضروری ہیں، لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جو بات 1960 کے ماسٹر پلان میں سمجھی گئی تھی، اسے عملی شکل دینے کے لیے 2026 کی بارش کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟
اسلام آباد کو اب صرف نالوں کی صفائی یا چند نئے منصوبوں کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے پورے قدرتی نکاسی آب کے نظام اور اس کے آڈٹ کی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور GIS کے ذریعے تمام نالوں، برساتی گزرگاہوں اور ان کے اصل رائٹ آف وے کی نشاندہی کی جائے، تبدیل کیے گئے راستوں کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ تعمیرات کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی، کس نے دی اور کیوں دی ؟
موسمیاتی تبدیلی بارش کی شدت بڑھا سکتی ہے، مگر نالے کو 40 فٹ سے 18 فٹ چوڑا موسمیاتی تبدیلی نے نہیں کیا۔ قدرتی آبی گزرگاہوں میں عمارتیں بادلوں نے تعمیر نہیں کیں اور مجوزہ جھیل کی زمین کو ہاؤسنگ سکیموں میں موسم نے تبدیل نہیں کیا۔
اگلی شدید بارش کب ہوگی، یہ شاید ابھی معلوم نہ ہو، مگر اتنا طے ہے کہ پانی پھر آئے گا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس وقت تک اسلام آباد نے پانی کے لیے راستہ بنایا ہوگا یا اگلی تباہی کے بعد ایک اور انکوائری کمیٹی بنانے کی تیاری کر رکھی ہوگی۔
قدرت کا کرشمہ ہے کہ پانی اپنے راستے نہیں بھولتا، سوال صرف یہ ہے کہ سی ڈی اے کو اپنا ماسٹر پلان کب یاد آتا ہے۔





