حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ

حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کسی ملک میں ایک بہت بڑی دکان ہوا کرتی تھی۔ دکان ایسی ویسی نہیں تھی۔ اس کے کھاتے میں بھاری رقم آتی جاتی، اس دکان کی برانچیں ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تھیں۔  اور ہزاروں لوگ اس سے کاروبار کرتے تھے۔

دکان کے اصل مالک اس ملک کے لوگ تھے، مگر اسے چلانے کا اختیار ایک منتظم کے پاس تھا۔ایک روز منتظم کو خیال آیا کہ دکان بیچ دینی چاہیے۔اصل مالکان سے کسی نے پوچھا یا نہیں، ویسے بھی بڑی دکانوں کے اصل مالکان اکثر صرف کاغذوں میں مالک ہوتے ہیں۔ فیصلے وہی کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں قلم ہو۔

منتظم کا ایک کاروباری دوست بھی تھا۔دوستی پرانی تھی اور کاروباری شخص سمجھ دار بھی تھا۔ کاروبار میں سمجھ داری کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، خصوصاً جب آدمی کو دوسروں سے پہلے معلوم ہو جائے کہ اگلا کاروباری موقع کہاں پیدا ہونے والا ہے۔

ایک دن منتظم نے اپنے دوست کو بلایا۔ باتوں باتوں میں دکان کا ذکر نکلا۔پھر دکان کے سرمائے کا ذکر ہوا۔اس ملاقات میں کاروباری دوست کو ایک اور مفید بات بھی معلوم ہوگئی۔

وہ دکان، جس سے وہ قرض لے رہا تھا، کچھ عرصے بعد نیلام ہونے والی تھی۔ وقت گزرا ۔ایک دن ملک میں اعلان ہوا کہ بڑی دکان نیلام کی جا رہی ہے۔کئی لوگ آئے۔ حساب کتاب ہوا۔ کاغذات بنے۔ بولیاں لگیں۔اور پھر قسمت کی ہونی سے دکان اسی کاروباری دوست کے حصے میں آگئی۔

نئے مالک نے دکان کی قیمت ادا کی۔ اس قیمت میں وہ رقم بھی کام آئی جو اسی دکان کے سرمائے میں شامل تھی۔ یوں دکان کے اپنے پیسے نے دکان کے نئے مالک کو دکان خریدنے میں مدد دی۔

خیر، دکان بک گئی۔کاروباری دوست مالک بن گیا اور منتظم نے اپنا کام مکمل کر دیا۔

پھر ملک کے حالات بدلے۔منتظم کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔لیکن حکومتیں بدلنے سے دکانوں کے مالک تھوڑی بدلتے ہیں۔دکان نئے مالک کے پاس رہی۔

کچھ برس گزرے۔وہی پرانا منتظم ایک مرتبہ پھر ملک کا منتظم بن کر واپس آگیا۔پرانے کاغذات نکلے۔ گرد جھاڑی گئی۔ حساب کتاب دیکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ دکان تو برسوں پہلے فروخت ہو چکی ہے لیکن اس سودے کے کسی کاغذ پر سرکار کی آخری مہر ابھی باقی ہے۔سو مہر لگا دی گئی۔

نیلامی کے تقریباً چھ سال بعد معاملہ باضابطہ طور پر مکمل ہوگیا۔اب دکان واقعی نئے مالک کی تھی۔دکان اچھی تھی۔کمائی بھی خوب تھی۔اس کی برانچیں تھیں، سرمایہ تھا، گاہک تھے، اعتبار تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اب اس کے پیچھے ایک بڑے کاروباری شخص کی ذہانت بھی موجود تھی۔

دکان نے ترقی کی۔مالک نے بھی ترقی کی۔ایک کاروبار سے دوسرا کاروبار نکلا۔ دوسرے سے تیسرا۔ کہیں کارخانے لگے، کہیں نئی دکانیں بنیں، کہیں سرمایہ کاری ہوئی۔دیکھتے ہی دیکھتے کاروباری دوست کا شمار ملک کے بڑے کاروباری لوگوں میں ہونے لگا۔لوگ اس کی کاروباری بصیرت کی مثالیں دینے لگے۔

مثالیں تو دینی بھی چاہئیں۔آخر ہر شخص ایسی دکان نہیں خرید سکتا جسے خریدنے سے پہلے اسی دکان سے قرض لینے کا موقع بھی مل جائے۔

وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا۔منتظم بھی کبھی اقتدار میں آیا، کبھی چلا گیا۔کاروباری شخص البتہ کاروبار کرتا رہا۔پھر کئی برس بعد وہی منتظم تیسری مرتبہ ملک کا سربراہ بن گیا۔

تب تک پرانی نیلامی کو لوگ تقریباً بھول چکے تھے۔لیکن پرانی فائلوں کی ایک بری عادت ہوتی ہے۔وہ مکمل طور پر مرتی نہیں ہیں۔کبھی کسی الماری سے نکل آتی ہیں۔کبھی کوئی پرانا کاغذ بول پڑتا ہے۔اور کبھی کوئی قاضی پوچھ بیٹھتا ہے کہ برسوں پہلے ہوا کیا تھا؟

اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ایک قاضی کے سامنے اس دکان کی فروخت کا قصہ پہنچ گیا۔کاغذات دیکھے گئے۔کچھ پرانے سوال دوبارہ زندہ ہوئے۔نیلامی کیسے ہوئی؟کسے پہلے کیا معلوم تھا؟قرض دی گیا یا نہیں؟دکان کی قیمت کہاں سے آئی؟ سرکاری منظوری چھ سال بعد کیوں ہوئی؟اور کیا سب کچھ ویسے ہی ہوا تھا جیسے ہونا چاہیے تھا؟

قاضی نے کہا، معاملے کی چھان بین ہونی چاہیے۔لوگوں کو لگا کہ شاید اب معلوم ہو جائے گا کہ اس پرانی دکان کی کہانی میں حقیقت کتنی تھی اور حسنِ اتفاق کتنا۔مگر اس ملک کا نظام بھی خاصا دلچسپ تھا۔

وہاں قاضی کے اوپر بھی ایک بڑا دروازہ تھا۔معاملہ اس دروازے تک پہنچا۔وہاں سے حکم آیا اور چھان بین کا حتمی فیصلہ کرنے سے قاضی کو روک دیاگیا۔ مگر قاضی کے سوال اپنی جگہ رہ گئے۔

فائل دوبارہ بند ہوگئی۔دکان چلتی رہی۔کاروبار پھیلتا رہا۔منتظم آتے جاتے رہے۔

مگرآخر ہر کہانی کا کوئی مثبت نتیجہ نکالنا ضروری نہیں۔شاید یہ کہانی محض ایک افسانہ ہےاورملک فرضی ہے۔منتظم بھی فرضی ہے۔کاروباری دوست بھی فرضی ہے۔قرض فرضی ہے۔نیلامی فرضی ہے۔قاضی بھی فرضی ہے۔ مگر دکان کی کہانی حقیقی ہے۔

نوٹ: اس لیے اگر کسی قاری کو اس کہانی میں اپنے ملک، کسی سابق منتظم، کسی بڑے کاروباری شخص یا کسی مشہور کاروباری ادارے کی پرانی کہانی نظر آنے لگے تو مصنف اس غیر معمولی قوتِ مشاہدہ کا ذمہ دار نہیں۔

کسی حقیقی واقعے سے مماثلت؟وہ تو، ظاہر ہے،محض اتفاقیہ ہوگی۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔