جھوٹےوعدوں سے کھلی جنگ تک، ٹرمپ کی ایران پالیسی کے تضادات

دھمکی، دباؤ اور پھر پسپائی، ٹرمپ کی ایران حکمتِ عملی کا پرانا انداز

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی میں ایک واضح انداز مسلسل دکھائی دیتاہے۔

پہلے سخت وارننگ ، جس کے نتیجے میں  عالمی منڈیاں ردعمل دیتی ہیں۔ جنگی بیڑے خطے میں متحرک کیے جاتے ہیں۔ سفارت کار مذاکرات کی گنجائش تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جب تصادم ناگزیر دکھائی دینے لگتا ہے تو واشنگٹن پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

ٹرمپ کی پہلی صدارت میں بھی یہی طرزِ عمل واضح رہا ہے۔ 2019 میں آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے امریکی نگرانی کرنے والا ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکا نے جوابی کارروائی کی تیاری کی مگر آخری لمحے میں حملے کو روک دیا گیا ۔ 2020 میں عین الاسد ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے بعد بھی واشنگٹن نے مزید کشیدگی سے گریز کیا تھا۔

یوں ٹرمپ کی بیان بازی جنگ کے قریب پہنچنے کا تاثر دیتی رہی لیکن ان کے فیصلے عموماً براہِ راست جنگ سے پہلے رک جاتے تھے۔

وائٹ ہاؤس میں حالیہ واپسی کے بعد یہ انداز  بدل گیا۔سفارتی ڈیڈ لائنز فوجی کارروائیوں پر ختم ہونے لگیں۔ معاشی دباؤ کے بعد ایرانی سرزمین پر براہِ راست امریکی حملے ہوئے۔ مذاکرات کی جگہ ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر تنازع کے حل کے بغیر سفارت کاری دوبارہ شروع ہو گئی۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ٹرمپ کی تقاریر اور سرکاری بیانات کا جائزہ لیا جائے تو امریکی دباؤ کے مقصد میں بھی واضح تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ ابتدا میں دباؤ کا مقصد مذاکرات میں برتری حاصل کرنا تھا۔ پھر یہی دباؤ ایران کو پیچھے رکھنے کی حکمتِ عملی بنا۔ اس کے بعد یہ فوجی جبر میں تبدیل ہوا اور بالآخر براہِ راست جنگ تک جا پہنچا۔

اس سے بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واشنگٹن کے مطالبات مسلسل بڑھتے جائیں اور دباؤ کم نہ ہو تو سفارت کاری  سے کیا حاصل ہو گا؟

معاہدے سے دستبرداری

ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے ہی ایران ان کی خارجہ پالیسی کا اہم موضوع بن چکا تھا۔

مارچ 2016 میں اے آئی پی اے سی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے یعنی مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا اور اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کی پوزیشن مضبوط کیا اور اس کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے میں ناکام رہی۔

ستمبر تک ان کی زبان مزید سخت ہو چکی تھی۔ فلوریڈا کے شہر پینساکولا میں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے والے ایرانی بحری جہازوں کو ’’پانی سے باہر گرا دیا جائے گا‘‘۔

اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے عملی قدم اٹھایا۔

8 مئی 2018 کو ٹرمپ نے امریکا کو JCPOA اس کے بعد ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی مہم کے تحت ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ شدید معاشی دباؤ تہران کو امریکی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔

تہران نے اس کے برعکس نتیجہ اخذ کیا۔ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے کئی برس کی محنت سے طے پانے والے معاہدے کو ترک کر دیا۔ اس معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے توثیق کر دی جبکہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے متعدد بار ایران کی پاسداری کی تصدیق کی تھی۔

تہران کا سوال واضح تھا۔ اگر ایک امریکی حکومت دستخط شدہ معاہدے سے دستبردار ہو سکتی ہے تو اگلی حکومت کے کسی نئے معاہدے پر اعتماد کیوں کیا جائے؟

اوریہی  سوال بعد کے ہر مذاکرات پر اثرانداز  بھی ہوا۔

جنگ کے بغیر دباؤ

2019 تک ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ زمینی حالات سے متصادم ہو گیا ۔

تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب راکٹ حملے کے بعد واشنگٹن نے بی-52 بمبار طیارے، اضافی جنگی طیارے اور طیارہ بردار بحری بیڑے کا ایک جنگی گروپ خطے میں تعینات کیا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ’’لڑنے‘‘ کا فیصلہ کیا تو یہ ’’ایران کا باضابطہ خاتمہ‘‘ ہوگا۔

چند ہفتوں بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی گلوبل ہاک نگرانی ڈرون مار گرایا۔

ٹرمپ نے جوابی حملے کی منظوری دی۔ تاہم کارروائی شروع ہونے سے چند منٹ پہلے اسے منسوخ کر دیا گیا۔

بعد میں انہوں نے کہا کہ مشیروں نے تقریباً 150 ایرانی ہلاکتوں کا اندازہ لگایا تھا۔ ان کے مطابق بغیر پائلٹ طیارے کے نقصان کے جواب میں اتنی بڑی کارروائی غیر متناسب ہوتی ہے۔

تہران میں اس واقعے کو امریکی پالیسی کے ایک اور تضاد کے طور پر دیکھا گیا۔ واشنگٹن فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہا تھا لیکن ساتھ ہی سفارت کاری کو ترجیح دینے کا دعویٰ بھی کر رہا تھا۔

ایرانی حکام کا مؤقف تھا کہ مسلسل فوجی دباؤ میں ہونے والے مذاکرات برابر فریقوں کے درمیان مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

یہی صورتحال سعودی عرب کی ابقیق اور خریص تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی سامنے آئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ’’مکمل طور پر تیار‘‘ ہے۔ تاہم انہوں نے براہِ راست جوابی کارروائی کے بجائے خطے میں مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بڑا استثنیٰ جنوری 2020 میں سامنے آیا۔

جب ٹرمپ نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ڈرون حملے کی منظوری دی۔ جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس شہید ہو گئے۔

واشنگٹن نے اسے دفاعیکارروائی قرار دیا جبکہ تہران نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔

پانچ روز بعد ایران نے عین الاسد ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغ دیے تو ٹرمپ ایک بار پھر پیچھے ہٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ’’پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ’’امن کے خواہش مند تمام لوگوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے تیار ہے‘‘۔

صدارت کے آخری مہینوں میں بھی یہی احتیاط دیکھنے میں آئی۔ بعد ازاں رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی نطنز جوہری تنصیب کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔ تاہم اعلیٰ مشیروں نے انہیں کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔

جنوری 2021 تک واشنگٹن جوہری معاہدے سے نکل چکا تھا۔ ایران پر غیر معمولی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں۔ ایران کے ایک اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر کو ہلاک کیا جا چکا تھا اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں بار بار دی جا چکی تھیں۔

اس کے باوجود امریکا براہِ راست جنگ میں داخل نہیں ہوا تھا۔

تحمل سے ’’پہلے جوہری تنصیبات کو نشانہ بناؤ‘‘ تک

صدارت چھوڑنے کے بعد بھی ٹرمپ نے اپنی ایران پالیسی کا دفاع کیا۔

ان کے مطابق ان کی پالیسی نے ایران کو کمزور کیا اور امریکا کو ایک اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں جانے سے بچا لیا۔ بعد میں منظر عام پر آنے والی بیڈ منسٹر ریکارڈنگ میں انہوں نے خود کو ایسے صدر کے طور پر پیش کیا جو فوجی مشیروں کے دباؤ کے باوجود کشیدگی بڑھانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

تین برس بعد دوسری صدارتی مدت کے لیے انتخابی مہم میں ان کا مؤقف مختلف تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا چاہیے تو انہوں نے جواب دیا:

’’پہلے جوہری تنصیبات کو نشانہ بناؤ۔ باقی کی فکر بعد میں کرنا۔‘‘

تہران میں اس بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ واشنگٹن کے مقاصد اب ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے تک نہیں رہے بلکہ دباؤ خود پالیسی بن چکا تھا۔

جلد ہی یہ سوال انتخابی بیان بازی سے نکل کر صدارتی فیصلوں تک پہنچ گیا۔

جنگی حدود سے تجاوز

ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کا آغاز سفارت کاری سے ہوا۔مارچ 2025 میں انہوں نے رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خط لکھ کر مذاکرات کی تجویز دی اور تہران کو جواب کے لیے 60 دن کی مہلت دی۔

عمان میں بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے۔ تاہم واشنگٹن نے خبردار کیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو ’’ہر طرف تباہی مچ جائے گی‘‘۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایسی ضمانتیں ضروری ہیں جو JCPOA سے امریکی دستبرداری کے بعد واشنگٹن قابلِ اعتماد طور پر فراہم نہیں کر سکتا تھا۔ جس کی نتیجے میں مذاکرات ناکام ہو گئے۔

تین روز بعد اسرائیل نے ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے۔ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’شاندار‘‘ قرار دیا۔

اس کے فوراً بعد ایک اور مطالبہ سامنے آیا:

’’غیر مشروط ہتھیار ڈال دو۔‘‘

تہران میں ان الفاظ نے اس خدشے کو تقویت دی کہ واشنگٹن کے مقاصد اب صرف جوہری معاملے تک محدود نہیں رہے۔

نو روز بعد امریکی طیارے بھی جنگ میں شامل ہو گئے۔

’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت بی-2 بمبار طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کر دیا گیا ہے۔

تہران کے لیے حملوں سے زیادہ اہم ان واقعات کی ترتیب تھی۔

واشنگٹن پہلے ایک معاہدے سے دستبردار ہوا۔ پھر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کیں۔ اس کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع کیے اور سفارت کاری کو فوجی دباؤ کے ساتھ جوڑ دیا۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا براہِ راست حملوں میں شامل ہو گیا۔

اب یہاں 2019 کے واقعات سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی ہلاکتوں کو غیر متناسب قرار دے کر حملہ منسوخ کر دیا تھا۔

چھ برس بعد انہوں نے ایران کے جوہری انفراسٹرکچر کے خلاف سب سے بڑی براہِ راست امریکی کارروائی کی منظوری دے دی۔

ایران نے قطر میں العدید ایئر بیس پر میزائل حملوں کے ذریعے جواب دیا۔ اس کے بعد جنگ بندی نے بارہ روزہ جنگ کا خاتمہ کر دیا۔لڑائی رک گئی۔لیکن پالیسی نہیں بدلی۔

امریکی حکومت کے مشرق وسطی میں نئے مقاصد

جنگ بندی نے مفاہمت کے بجائے ایک عارضی وقفہ فراہم کیا۔

خطے کی حکومتوں نے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کر دیں۔ تاہم واشنگٹن کی زبان مسلسل تبدیل ہوتی رہی۔

ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران امریکا بارہا کہتا رہا کہ وہ ’’ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا‘‘۔ 2025 کے آخر تک یہ فرق دھندلا چکا تھا۔ امریکی بحث ایران کے جوہری پروگرام سے آگے بڑھ کر اسلامی جمہوریہ کے مستقبل تک پہنچنے لگی۔

ایران کے اندر بھی بحث تبدیل ہو گئی۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے مقاصد اب جوہری صلاحیت محدود کرنے تک نہیں رہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کی طرف بڑھ رہا تھا۔

جب 2026 کے آغاز میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو امریکا اور اسرائیل نے ایک وسیع تر فوجی مہم شروع کر دی۔

ٹرمپ نے تنازع کو سیاسی رنگ دینا شروع کیا اور ایران کی قیادت کے مستقبل پر کھلے عام سوال اٹھائے۔

چند ہی دنوں میں رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ تنازع پورے خطے میں پھیل گیا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی متاثر ہوگئی۔

اس کے باوجود سفارت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو

علاقائی ثالثوں  جن میں پاکستان، قطر، ترکیہ شامل تھے ان کے ذریعے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد لڑائی پھر شروع ہو گئی۔

تہران کا مؤقف برقرار رہا ہے کہ فوجی جبر کے سائے میں ہونے والے مذاکرات پائیدار تصفیہ نہیں دے سکتے۔

ایرانی پالیسی سازوں کے لیے صورتحال اب واضح ہو چکی تھی۔ ہر نئی سفارتی کوشش گزشتہ کوشش کے مقابلے میں زیادہ سخت پابندیوں، زیادہ فوجی دباؤ اور وسیع تر سیاسی مطالبات کے ماحول میں شروع ہوتی تھی۔

ایک دہائی میں پالیسی کیسے بدلی؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاست میں قدم ایک جوہری معاہدہ ختم کرنے کے وعدے کے ساتھ رکھا تھا۔

ایک دہائی بعد ان کی صدارت میں ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے خلاف پہلی براہِ راست امریکی کارروائی ہو چکی تھی۔

ان کے اپنے الفاظ اس تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

2016 میں JCPOA ’’تباہ کن‘‘ تھا۔

2019 میں انہوں نے ایران کے ’’باضابطہ خاتمے‘‘ کی دھمکی دی۔ تاہم بعد میں منصوبہ بند حملے منسوخ کر دیے۔

2020 میں انہوں نے کہا کہ امریکا ’’امن کو گلے لگانے کے لیے تیار‘‘ ہے۔

2024 تک وہ کہہ رہے تھے کہ اسرائیل کو ’’پہلے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہیے تھا‘‘۔

وائٹ ہاؤس واپسی کے چند ماہ بعد انہوں نے ایران سے ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی میں برسوں تک ایک خاص انداز برقرار رہا۔

دھمکیوں کے بعد مذاکرات ہوتے تھے۔ مذاکرات کے بعد پابندیاں اور فوجی تعیناتیاں کی جاتی تھیں۔ پھر واشنگٹن ایک قدم پیچھے ہٹ جاتا تھا۔

یہ انداز برقرار رہا۔

بدلا صرف وہ مقام جہاں واشنگٹن نے پیچھے ہٹنا چھوڑ دیا۔

تہران کے نقطۂ نظر سے معاملہ صرف یہ نہیں تھا کہ امریکی پالیسی زیادہ سخت ہو گئی۔ اصل تبدیلی یہ تھی کہ سفارت کاری اور جبر کے درمیان فاصلہ مسلسل کم ہوتا گیا۔

ہر مذاکراتی کوشش گزشتہ کوشش کے مقابلے میں زیادہ سخت پابندیوں، زیادہ فوجی دباؤ اور وسیع تر سیاسی مطالبات کے ماحول میں ہوئی۔

کسی ایک تقریر یا فوجی کارروائی سے زیادہ یہی ٹرمپ کی ایران پالیسی کا بنیادی تضاد ہے۔

ٹرمپ کا دباؤ اور ایران کی حکمتِ عملی

امریکی پالیسی کے بنیادی تضادات اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ ایران نے امن کے لیے جامع شرائط پیش کی ہیں۔ جن میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ ماضی میں معاہدے سے امریکی دستبرداری کے تجربے کے باعث ایران اب محض زبانی یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے بجائے مستقبل میں عدم جارحیت کی قابلِ اعتماد ضمانتوں، جنگی نقصانات کے ازالے اور آبنائے ہرمز میں اپنے کردار کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

تہران نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اندھی طاقت سے وقتی تباہی تو مچائی جا سکتی ہے لیکن پائیدار امن اور طویل مدتی کامیابی محض ٹھوس اصولوں اور برابری کی سطح پر مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

Laiba Shahid
لائبہ شاہد راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی میڈیا اور کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، سماجی مسائل اور میڈیا سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔