“رَماسِی” – برٹش انڈیا کے ٹھگوں کی خفیہ زبان ، جو پہلے ان کی کامیابی اور بعد میں تباہی کا سبب بنی

دُوآب، بَنارَس اور اُس کے گِردونواح، اَوَدھ سے مُلحِق علاقوں، بُندیل کھنڈ، راجپوتانہ، مالوہ اور وَسطی ہندوستان میں تعیّنات ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے اہلکار اپنے اَفسرانِ بالا اور کلکتہ میں قائم کمپنی کے مرکزی دفتر کو تفصیلی مُراسلات کے ذریعے مسلسل آگاہ کر رہے تھے کہ شاہراہوں پر ”ٹھگوں“ کی سرگرمیوں نے اَمن و اَمان کی صورتِ حال اِنتہائی مخدوش بنا دی ہے؛ قافلوں میں شریک تاجر پُراَسرار اَنداز میں لاپتا ہو رہے ہیں اور غالب گُمان یہی ہے کہ اُن کا مال لُوٹنے کے بعد اُنہیں مَوت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔
ایسٹ اِنڈیا کمپنی دراصل لندن کے تاجروں کی قائم کردہ ایک مُشترکہ سرمایہ کار تجارتی کمپنی تھی، جسے مَلکۂ اِنگلستان الزبتھ اوّل نے ۳۱ دسمبر ۱۶۰۰ء کو شاہی فرمان کے ذریعے مشرقی ممالک، بشمول ہندوستان، کے ساتھ تجارت کا پندرہ سالہ اِجارہ عطا کیا تھا۔
کمپنی کے اَفسران ویسے تو باہمی خَط و کتابت کے لیے اَنگریزی زبان اِستعمال کر رہے تھے، تاہم اُنہوں نے لفظ ”ٹھگ“، جو ہندی زبان کا لفظ ہے، کا اَنگریزی متبادل وَضع کرنے کے بجائے اُسے ”Thug“ لکھنا ہی مناسب سمجھا تھا۔
بَنارَس اور اُس سے مُلحِق زمینی و دریائی علاقوں کی صورتِ حال زیادہ تشویش ناک تھی۔ اہلِ ہند کا مُقدّس شہر ہونے کے سبب یہاں تاجروں اور زائرین کی آمدورفت دوسرے علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی؛ اِس لیے ٹھگی کی وارداتیں بھی بَنارَس اور اُس کے اَطراف میں کثرت سے ہو رہی تھیں۔
بَنارَس پہلے نوابِ اَوَدھ کی بالادستی میں تھا، لیکن ۱۷۷۵ء کے ”معاہدۂ فیض آباد“ کے تحت یہ علاقہ ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے پاس آگیا تھا۔
جس طرح بَنارَس ہندو بھگوان ”شیو“ کے شہر کی حیثیت سے پورے ہندوستان میں معروف تھا، اُسی طرح ”بَنارَسی ٹھگ“ بھی اپنی نَت نئی چالوں اور وارداتوں کو حتّی الامکان ناقابلِ سُراغ بنانے کی شہرت کے سبب دُور دُور تک مشہور ہوچکے تھے۔
ایسٹ اِنڈیا کمپنی ہندوستان میں تجارت کی غرض سے وارد ہوئی تھی اور ٹھگوں کی کارروائیاں بِراہِ راست اُس کے تجارتی مفادات کو زَک پہنچا رہی تھیں۔ وہ یوں کہ ہندوستان کے طول و عَرض میں سرگرم تجارتی قافلے یا تو بیرونی دُنیا سے ہندوستان میں لائی ہوئی اَنگریزی مصنوعات فروخت کرتے تھے یا پھر کمپنی کو وہ خام مال فراہم کرتے تھے جسے اَنگریز یہاں سے برطانیہ لے جاتے تھے۔ٹھگوں کے ہاتھوں کسی بھی تجارتی قافلے کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایسٹ اِنڈیا کمپنی کو اپنا ہی خَسارہ محسوس ہوتا تھا۔
اور صِرف یہی نہیں، ٹھگی کی اِن وارداتوں کا نشانہ خود ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی فوج میں ملازمت کرنے والے ہندوستانی سپاہی بھی بننے لگے تھے۔ خُصوصاً چھٹّی پر اپنے گھروں کو جانے یا وہاں سے واپس آنے والے سپاہیوں کے لُوٹے اور قتل کیے جانے کی اِطلاعات مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔
چُنانچہ ۲۸ اپریل ۱۸۱۰ء کو برطانوی ہند کی فوج کے ایک اعلیٰ اَفسر، میجر جنرل سینٹ لیجر، نے کانپور کے فوجی صدر دفتر سے ایک عُمومی حکم نامہ جاری کیا۔ اُس میں سپاہیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ سفر کے دوران اجنبی ہَم سفروں سے ہوشیار رہیں، اُن سے کھانے پینے کی اَشیا قبول نہ کریں اور رات کے آخری پَہر کسی نامعلوم شخص کے کہنے پر سرائے یا پڑاؤ سے باہر نہ نکلیں۔
ہندوستان کے عام لوگوں کی نگاہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور ٹھگوں کے مابین معاملہ اب “ایک نیام میں دو تلواروں” کے معاملے کے مترادف ہوچکا تھا۔ ایک طرف انگریز ہندوستان کی سب سے بڑی اور ناقابلِ مزاحمت قوت سمجھے جاتے تھے، جبکہ دوسری طرف ٹھگ ، بالخصوص بنارسی ٹھگ اُنہی کے زیرِ اقتدار علاقوں میں اِس بے خوفی اور تسلسل کے ساتھ وارداتیں کررہے تھے کہ وہ بھی ایک الگ، منظّم اور انگریزی اقتدار کو چیلنج کرنے والی طاقت دکھائی دینے لگے تھے۔
چنانچہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتاؤں کو اب اس قضیے کا حل نکالنا بھی ناگزیر نظر آرہا تھا کہ ہندوستان میں اصل طاقت وَر اور ناقابلِ قابو قوت کون ہے—انگریز یا ٹھگ ، بالخصوص بنارسی ٹھگ؟
دِل چسپ اَمر یہ تھا کہ ٹھگوں کے ہاتھوں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کو پہنچنے والے تجارتی نقصان کی ایک بڑی وجہ خود کمپنی کی اختیار کردہ سیاسی حکمتِ عملی تھی۔ جنگِ پلاسی (۱۷۵۷ء)، جنگِ بکسر (۱۷۶۴ء)، میسور کی جنگوں (۱۷۶۷ء–۱۷۹۹ء) اور مرہٹوں کے خلاف جنگوں (۱۷۷۵ء–۱۸۱۸ء) اور فتوحات کے نتیجے میں ہندوستان میں ایک طرح کی اِنتظامی دو عملی قائم ہوگئی تھی۔ بنگال، بہار، اُڑیسہ، مدراس، بمبئی اور شمالی و وَسطی ہندوستان کے متعدّد علاقوں پر کمپنی بِراہِ راست قابض تھی۔ وہاں اُس کے کلکٹر، مجسٹریٹ، عدالتیں اور پولیس کام کر رہے تھے۔
دوسری جانب حیدرآباد، اَوَدھ، گوالیار، اندور، بھوپال اور راجپوتانہ سمیت ایک وسیع علاقہ شاہی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ اِن ریاستوں کے حکمران کمپنی کی بالادستی تو تسلیم کرچکے تھے، لیکن اُن کی حدود میں ریاستوں کے اپنے قوانین، عدالتیں، پولیس اور اِنتظامی مشینری کام کرتی تھی۔
ٹھگوں نے اِس اِنتظامی تقسیم کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ وہ کسی شاہی ریاست یا کمپنی کے زیرِ اِنتظام علاقے میں کسی مال دار تاجر کو اپنے جال میں پھنساتے، سفر کے بہانے اُسے دوسری اِنتظامی حدود میں لے جاتے اور موقع ملتے ہی اُس کا مال لُوٹ کر اُسے قتل کردیتے۔ پھر لاش کو کسی ویران مقام پر دفن کرکے تیسرے ضلع یا کسی دوسری شاہی ریاست میں جا چھپتے۔ یوں شکار کے لاپتا ہونے کا مقام، واردات کی جگہ اور مجرموں کی پناہ گاہ عُموماً الگ الگ اِنتظامی حدود میں واقع ہوتی تھیں۔
اگر پورے علاقے میں ایک ہی حکومت، ایک ہی قانون اور باہم مربوط پولیس و عدالتی نظام کام کر رہا ہوتا تو ٹھگوں کے لیے اِس آزادی سے سرگرم رہنا نسبتاً مشکل ہوتا۔ مگر کمپنی کے مقبوضہ علاقوں اور شاہی ریاستوں میں رائج متوازی اِنتظامی نظاموں کے درمیان فوری رابطے اور مُشترکہ کارروائی کا کوئی مؤثّر بندوبست موجود نہیں تھا۔
ٹھگ اِسی قانونی و اِنتظامی خلا سے فائدہ اُٹھاتے، اپنی وارداتوں کو اَنجام تک پہنچاتے اور ایک عَمل داری سے نکل کر دوسری عَمل داری میں روپوش ہوجاتے تھے۔
جب معاملہ سنگین سے سنگین تر ہونے لگا تو ایسٹ اِنڈیا کمپنی نے مقامی خبر رَسانوں، پولیس اہلکاروں اور گرفتار ٹھگوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرنا شروع کیا۔ جو چند ٹھگ گرفتار ہوئے، اُن میں سے بعض سزا میں رعایت کے بدلے سرکاری گواہ بن گئے۔ اُنہی کی جانب سے اپنے گروہوں، سفری راستوں اور طریقۂ واردات کے متعلّق فراہم کردہ تفصیلی معلومات کے نتیجے میں ٹھگوں کی مسلسل کامیابی کے چار اہم اَسباب سامنے آئے۔
پہلا سبب ٹھگوں کا بظاہر شریفانہ حُلیہ اور وَضع قَطع تھا۔ دیکھنے میں وہ بھولے بھالے اور سادہ لَوح نظر آتے تھے۔ اُن کا سب سے بڑا شخصی ہتھیار اُن کی فراخ دِلی اور دوست نوازی کی اداکاری تھی۔ وہ قافلے میں سفر کرنے والے اپنے شکار سے نہایت میٹھے اَنداز میں پیش آتے اور اُس کا اِعتماد جیت لیتے تھے۔ چنانچہ جب وہ دَھتُورے یا کسی دوسری نشہ آور چیز کو پان، تمباکو، حُقّے، کھانے یا مشروب میں ملا کر اپنے شکار کو پیش کرتے ، اُن کی کئی دنوں کی رفاقت اور بظاہر مخلصانہ رویّے سے مطمئن مسافر یہ چیز بلا تردّد قبول کرلیتا۔ نشہ اثر کرتا تو وہ نڈھال، نیم بے ہوش یا بالکل بے بس ہوجاتا اور ٹھگوں کے لیے اُسے قابو کرنا آسان ہوجاتا تھا۔
دوسرا سبب ، ٹھگوں کا اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عُموماً شریفُ النّفس اور کاروباری اَفراد کے طور پر معروف ہونا تھا۔ وہ دُور دَراز کے سفر پر نکلتے وقت اپنے اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ کے سامنے خود کو تاجر، سپاہی یا کسی دوسرے جائز پیشے سے وابستہ شخص ظاہر کرتے۔ بعض ٹھگوں کے اہلِ خانہ کو قطعاً معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کئی ماہ بعد مال و دولت کے ساتھ واپس آنے والا شخص مسافروں کو لُوٹنے اور قتل کرنے والے کسی منظّم گروہ کا رُکن ہے۔
تیسرا سبب ٹھگوں کا یہ بے رحمانہ اُصول تھا کہ وہ شکار کو محض لُوٹنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اسے ہر حال میں موت کے گھاٹ اتارتے تھے۔انہیں اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر انہوں نے کسی مسافر کو صرف لُوٹ کر چھوڑ دیا تو وہ ہوش میں آنے کے بعد پولیس کو اُن کے حُلیے، وَضع قَطع، بول چال، تعداد اور طریقۂ واردات سے آگاہ کردیگا۔
دوبارہ سامنا ہونے پر وہ اُنہیں پہچان بھی سکتا ہے ۔چنانچہ اسی اندیشے کے ازالے کیلئے وہ اپنے شکار کو قتل کرنے کے بعد اُس کی لاش کسی ویران مقام پر زمین میں دفن کردیتے تھے۔ یوں نہ کوئی عینی گواہ زندہ بچتا، نہ جُرم کا فوری سُراغ ملتا اور نہ مختلف علاقوں میں پُراَسرار طور پر لاپتا ہونے والے مسافروں کے درمیان کوئی تعلق آسانی سے قائم کیا جاسکتا تھا۔ مرنے والوں کے اہلِ خانہ یہی گُمان کرتے رہتے کہ اُن کا عزیز شاید کسی حادثے، بیماری، دریا یا ندی نالے کی نذر ہوگیا ہوگا۔
چوتھا اور سب سے اہم سبب ٹھگوں کی خفیہ زبان ”رَمَاسِی“ تھی۔ یہ کوئی مکمل طور پر الگ زبان نہیں تھی، بلکہ مخصوص الفاظ، ناموں، فقروں اور اِشاروں پر مشتمل ایک خفیہ نظام تھا۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ٹھگ اِسی زبان کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتے اور عام مسافروں کی موجودگی میں اپنے منصوبوں پر گفتگو کرلیتے تھے۔ ممکنہ شکار، پولیس، خطرے، ملاقات کی جگہ، واردات کے مقام اور کارروائی شروع یا ملتوی کرنے کے لیے الگ الگ خفیہ الفاظ مقرّر تھے۔ عام مسافر اُن کی پوری گفتگو سُنتا رہتا، مگر اُس پر اُس کا اصل مفہوم ظاہر نہ ہوتا۔
تاہم ”ہر عُروج را زوال است“ کے مِصداق کئی دہائیوں تک ٹھگی کے عُروج کے بعد اُس کا زوال بھی سَر پر آن پہنچا۔ اِس ضمن میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے ایک تجربہ کار فوجی و اِنتظامی اَفسر، ولیم ہنری سلی مَن (William Henry Sleeman)، کا کردار نہایت اہم ثابت ہوا۔ اُس نے گرفتار ٹھگوں اور سرکاری گواہ بننے والے اُن کے سابق ساتھیوں سے سینکڑوں خفیہ الفاظ، اِصطلاحات اور اِشاروں کے معانی معلوم کیے۔ پھر اِس ذخیرۂ معلومات کو مکالمات، بیانات، مقدّمات اور مختلف ٹھگ گروہوں کے باہمی روابط کی تفصیلات کے ساتھ ۱۸۳۶ء میں ”رَمَاسِیانہ—ٹھگوں کی مخصوص زبان کی فرہنگ“ کے نام سے شائع کردیا۔
کتاب کی نقول ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے اُن اَفسروں اور اہلکاروں تک پہنچائی گئیں جو مختلف علاقوں میں ٹھگوں کے خلاف کارروائیوں، تفتیش اور مقدّمات سے وابستہ تھے۔ یوں مختلف علاقوں میں تعیّنات اہلکار پہلی مرتبہ ایک مُشترکہ ذخیرۂ معلومات کی مدد سے ٹھگوں کے خفیہ الفاظ، باہمی رشتوں، سفری راستوں اور طریقۂ واردات کو سمجھنے اور اُن کا سُراغ لگانے کے قابل ہوگئے۔
”رَمَاسِی“ سے واقف مخبر عام مسافروں کے بھیس میں تجارتی قافلوں کے ساتھ سفر کرنے لگے۔ کسی مشتبہ شخص کی زبان سے رَمَاسِی کا کوئی مخصوص لفظ نکلتا تو وہ فوراً بھانپ لیتے کہ اُس کا تعلق کسی ٹھگ گروہ سے ہے اور وہ اسے دھر لیتے ۔مخبر خود بھی مشتبہ مسافر کے سامنے رَمَاسِی کا کوئی لفظ یا فقرہ بول کر اُسے ٹٹولتے؛ اگر وہ جواب میں اُسی خفیہ زبان کا کوئی لفظ اِستعمال کرتا تو اپنی شناخت خود ظاہر کردیتا۔اور یوں وہ بھی دھر لیا جاتا۔
اِس نئی صورتِ حال نے ٹھگوں کو ایک عجیب مخمصے میں مبتلا کردیا۔ وہ ”رَمَاسِی“ بولتے تو دھرے جاتے اور نہ بولتے تو باہمی رابطہ کاری کمزور پڑجاتی اور مُشترکہ واردات کی منصوبہ بندی کرنا دُشوار ہوجاتا تھا۔
ٹھگوں نے کئی دہائیوں کی مشق سے ”رَمَاسِی“ کو اپنی طاقت بنایا تھا، مگر سلی مَن نے اُسی زبان کو اُن کے گلے کا پھندا بنا دیا۔ جس خفیہ بولی نے برسوں تک اُن کے جرائم پر پردہ ڈالے رکھا، بالآخر اُسی کی دریافت نے اُن کے پھیلے ہوئے جال کو بے نقاب کرنے اور ٹھگی کے خاتمے میں فیصلہ کُن مدد فراہم کی۔
ولیم ہنری سلی مَن نے “رَمَاسِی” کی جو تفصیلی فرہنگ مرتب کی، وہ بھی بڑی دل چسپ ہے۔ مثال کے طور پر وہ لکھتا ہے کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو باہمی طور پر انجان ٹھگ جب ملتے تو ‘اَولے خاں، سلام’ یا ‘اَولے بھائی، رام رام’ کہہ کر آزماتے تھے۔ سامنے والا شخص اِسی مخصوص انداز میں جواب دیتا تو دونوں سمجھ جاتے کہ اُن کا تعلق ایک ہی ٹھگ برادری سے ہے۔
ایک دوسرے کو پہچاننے کے بعد وہ رَمَاسِی کے مخصوص الفاظ میں ہونے والی باہمی گفتگو کیلئے ‘کٹھیانا’ کا لفظ استعمال کرتے۔ اُن کے “ذرا کھٹیا نہ لیں” کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ذرا اپنی مخصوص بھاشا میں واردات کی جزئیات کا تعین نہ کرلیں ۔ منتشر ہونے کی صورت میں دوبارہ ملنے کے لیے جو مقام طے کیا جاتا، اُس قرارِ ملاقات کو ‘پھول’ یا ‘باغ’ کہتے تھے۔ پچیس سے زیادہ ٹھگوں پر مشتمل بڑے گروہ کو ‘بوس’ کہا جاتا تھا۔
گروہ روانہ ہوجاتا تو پیچھے آنے والے ساتھیوں کی راہ نمائی کے لیے زمین پر پاؤں، پتّھروں یا پتّوں سے مخصوص نشان بنائے جاتے تھے۔ اِن نشانات کو ‘پولا’ اور اُنہیں بنانے کے عمل کو ‘پولا کرنا’ کہتے تھے۔ دریائی ٹھگ اپنے جاسوس یا پیش رَو کو ‘بائیکوریا’ کہتے تھے، جو آگے جاکر راستے اور گردوپیش کے حالات کا جائزہ لیتا تھا۔
کسی مشتبہ مسافر کی وضع قطع، سامان، ساتھیوں اور مالی حیثیت کی چھان بین کو ‘تِگھنی کرنا’ کہتے تھے۔ کوئی نہایت مال دار مسافر دکھائی دیتا تو ٹھگ اُسے ‘چیسا’ کہتے اور قدرت کی طرف سے ملنے والی نعمت سمجھتے تھے۔ کسی ٹھگ یا دوسرے صاحبِ حیثیت شخص کے ملازم کو، بالخصوص دکنی ٹھگوں کی زبان میں، ‘اوگیرا’ کہا جاتا تھا۔
اگر کسی مسافر کے پاس لُوٹنے کے قابل کچھ نہ ہوتا تو اُسے ‘پھانک’، یعنی بے کار یا بے مال شخص، کہہ کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جس مسافر کو باقاعدہ نشانہ بنالیا جاتا، وہ ‘بُنیج’ کہلاتا تھا۔ اِس لفظ کے لغوی معنی ‘مالِ تجارت’ کے تھے، مگر ٹھگوں کی زبان میں یہ اُس انسان کے لیے استعمال ہوتا تھا جسے وہ اپنا ‘سرمایۂ کاروبار’ سمجھتے تھے۔ مسافروں کی تعداد ٹھگوں سے زیادہ ہوتی اور اُن پر قابو پانا دشوار نظر آتا تو اُس بڑے قافلے کو ‘بَٹویل’ کہہ کر اُس سے اُلجھنے سے گریز کیا جاتا تھا۔
بُنیج منتخب ہوجاتا تو اُس سے میل جول بڑھایا جاتا اور اُسی منزل کی طرف جانے کا بہانہ بناکر اُسے اپنے ساتھ ملالیا جاتا تھا۔ واردات کے لیے مناسب جگہ منتخب کرنے والے ٹھگ کو ‘بِیلکا’ کہتے تھے، جبکہ لاش دفن کرنے کے لیے چُنا گیا مقام ‘بِیل’ کہلاتا تھا۔ اگر ممکنہ شکار کے سامنے ‘بِیل’ کہنے سے شک پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا تو ٹھگ ‘کٹوری مانج لاؤ’ کہتے تھے۔ اِس بے ضرر سے فقرے کا ظاہری مطلب ‘پیالہ صاف کرلاؤ’، مگر خفیہ مفہوم ‘واردات کے لیے مناسب جگہ تلاش کرو’ تھا۔
راستے میں پولیس کا سپاہی یا سرکاری محافظ دکھائی دیتا تو اُسے ‘دھونکی’ یا ‘رونکی’ کہہ کر ساتھیوں کو خبردار کردیا جاتا تھا۔ خطرہ قریب آتا تو ‘شیخ جی’، ‘شیخ محمد’، ‘لچھمن سنگھ’، ‘لکھی رام’ یا ‘گنگا رام’ میں سے کوئی نام پکارا جاتا اور کارروائی فوراً روک دی جاتی تھی۔
ساتھیوں کو چھپنے کی ہدایت دینے کے لیے ‘جھاؤر خاں’ پکارا جاتا تھا۔ کپڑا لہراکر خطرے سے خبردار کرنے کے اشارے کو ‘فڑک دینا’ کہتے تھے۔ خطرہ ٹل جاتا اور راستہ صاف ہوتا تو ‘بجید خاں’، ‘سید خاں’، ‘دیو’ یا ‘دیوسین’ پکار کر ساتھیوں کو مطلع کردیا جاتا تھا۔
جب بُنیج منتخب مقام پر پہنچ جاتا اور ہر ٹھگ اپنی مقررہ جگہ سنبھال لیتا تو سردار کارروائی شروع کرنے کا آخری خفیہ اشارہ دیتا تھا۔ اِس اشارے کو ‘جھِرنی’ کہتے تھے۔ ‘تمباکو کھالو’ یا ‘تمباکو پی لو’ جھِرنی کے طور پر استعمال ہونے والے فقروں میں شامل تھے۔ دریائی ٹھگوں کے ایک گروہ میں ‘بھانجے کو پان دو’ بھی کارروائی شروع کرنے کا خفیہ اشارہ تھا۔
دکنی ٹھگ لاشوں کے لیے ‘بھارا’ کا لفظ استعمال کرتے تھے، جبکہ قبر کھودنے پر مامور شخص ‘لُگھا’ کہلاتا تھا۔ واردات کے بعد اُس مقام سے قدموں، خون، کھدائی یا جدوجہد کے قابلِ شناخت آثار مٹانے کے عمل کو ‘پُھر جھاڑنا’ اور پیچھے رہ کر یہ کام کرنے والے ٹھگ کو ‘پُھر جھڑوا’ کہا جاتا تھا۔
لُوٹا ہوا مال تقسیم کرنے کے لیے قرعہ ڈالنے کو ‘کوڑی پھینکنا’ کہتے تھے۔ مال کو عموماً برابر حصّوں میں بانٹ کر ہر حصّے پر نشان زدہ کوڑی ڈالی جاتی اور پھر ہر گروہ اُس کوڑی کے حصّے کا مال لے لیتا تھا۔ اگر مقتول سے حاصل ہونے والی کوئی چیز بعد میں پہچانے جانے کا خطرہ پیدا کرتی تو اُس کے متعلق ‘پُرتا پُرنا’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔
اگر بُنیج ٹھگوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل جاتا تو اُس کے فرار کو ‘بھپنا’ کہا جاتا تھا۔ اپنے ساتھیوں سے الگ ہوکر بچ نکلنے والے ایسے مسافر کو ‘اَدھوریا’ کہتے تھے۔ وہ ٹھگوں کے چہرے، حلیے اور طریقۂ واردات سے واقف ہوچکا ہوتا تھا، اِس لیے پورے گروہ کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
یوں ‘اَولے خاں، سلام’ سے شروع ہونے والی باہمی شناخت، رُگن کے شگون، چیسا کی چھان بین، بُنیج کے انتخاب، بِیل کی تلاش اور جھِرنی کے اشارے سے گزرتی ہوئی ‘پُھر جھاڑنے’ تک پہنچتی تھی۔ رَمَاسِی کے چند بظاہر بے ضرر الفاظ کے اندر ٹھگوں کی ایک پوری واردات کے ابتدائی منصوبے سے لے کر آخری مرحلے تک سب کچھ پوشیدہ تھا۔( بحوالہ: ولیم ہنری سلی مَن، ‘رَمَاسِیانہ: اَے ووکیبیولری آف دی پِکیولیئر لینگویج یوزڈ بائی دَا ٹھگز’، ۱۸۳۶ء)
جس سال ولیم ہنری سلی مَن کی ‘رَمَاسِیانہ’ شائع ہوئی، اُسی سال ایسٹ انڈیا کمپنی نے ٹھگوں کے خلاف ایک غیر معمولی طور پر سخت قانون بھی نافذ کردیا۔ ۱۴ نومبر ۱۸۳۶ء کو منظور ہونے والے ‘ایکٹ نمبر ۳۰ مجریہ ۱۸۳۶ء’ کے تحت کسی شخص پر کوئی مخصوص قتل یا واردات ثابت کرنا ضروری نہیں رہا تھا؛ اگر یہ ثابت ہوجاتا کہ وہ ٹھگوں کے کسی گروہ کا رُکن رہا ہے تو اُسے عُمر قید مع مشقّت کی سزا دی جاسکتی تھی۔ یہ قانون اُن افراد پر بھی لاگو ہوتا تھا جو اُس کی منظوری سے پہلے کسی ٹھگ گروہ سے وابستہ رہ چکے تھے۔
اِس قانون نے ٹھگوں کو حاصل ایک بڑی قانونی پناہ بھی ختم کردی۔ کسی ملزم کا یہ عذر اب کافی نہیں تھا کہ اُس نے متعلقہ ضلعے میں کوئی واردات نہیں کی۔ اُسے کسی ایسی بااختیار فوجداری عدالت میں پیش کیا جاسکتا تھا جو اُسے اُس صورت میں سزا دینے کی مجاز ہوتی، اگر جرم اُسی ضلعے میں سرزد ہوا ہوتا۔ یوں مختلف اضلاع اور ریاستوں کی حدود عبور کرکے قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کا آزمودہ طریقہ بے اثر ہونے لگا۔
۱۸۳۶ء کا یہ قانون آخری قانون نہیں تھا، بلکہ انسدادِ ٹھگی سے متعلق قانون سازی کے ایک پورے سلسلے کا آغاز تھا:
  •  ‘ایکٹ نمبر ۱۸ مجریہ ۱۸۳۷ء’: کمپنی کے زیرِ اقتدار علاقوں کے کسی بھی مجسٹریٹ یا جوائنٹ مجسٹریٹ کو ٹھگی، ٹھگی کے ذریعے قتل یا ٹھگوں کے کسی گروہ سے تعلق رکھنے کے ملزم کو مجاز فوجداری عدالت کے سپرد کرنے کا اختیار دیا گیا۔
  •  ‘ایکٹ نمبر ۱۹ مجریہ ۱۸۳۷ء’: قرار دیا گیا کہ کسی شخص کو محض سابقہ سزا یافتہ ہونے کی بنیاد پر گواہی دینے سے نااہل نہیں سمجھا جائے گا۔ اگرچہ یہ قانون صرف ٹھگی کے مقدّمات تک محدود نہیں تھا، تاہم اِس سے سرکاری گواہ بننے والے سابق ٹھگوں کے بیانات قانونی طور پر استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔
  • ‘ایکٹ نمبر ۱۸ مجریہ ۱۸۳۹ء’: ٹھگی کے ذریعے قتل اور ٹھگی سے حاصل شدہ مال جان بوجھ کر خریدنے یا وصول کرنے والوں کے مقدّمات میں عدالتوں کے دائرۂ اختیار کو مزید وسعت دی گئی۔
  • ‘ایکٹ نمبر ۱۸ مجریہ ۱۸۴۳ء’: شاہی ریاستوں میں ٹھگی یا ڈاکا زنی کے جرم میں سزا پانے والے مجرموں کو کمپنی کے زیرِ انتظام محفوظ جیلوں میں رکھنے کا قانونی انتظام کیا گیا۔ تاہم اِس کے لیے ضروری تھا کہ مقدمہ ایسی عدالت میں چلا ہو جس کے فیصلہ کرنے والے منصفوں میں کمپنی کا باقاعدہ مجاز افسر بھی شامل ہو۔
  • ‘ایکٹ نمبر ۲۴ مجریہ ۱۸۴۳ء’: ٹھگی کے انسداد کے لیے وضع کردہ خصوصی قانونی طریقۂ کار کو پیشہ وَر ڈاکوؤں کے منظّم گروہوں تک بھی پھیلادیا گیا۔ کسی منظّم ڈاکو گروہ سے تعلق ثابت ہونے پر عُمر بھر کے لیے ملک بدری یا کم مدّت کی قیدِ بامشقّت دی جاسکتی تھی۔
  • ‘ایکٹ نمبر ۱۰ مجریہ ۱۸۴۷ء’: ۱۸۳۶ء کے قانون کے تحت عُمر قید پانے والے ٹھگوں کے لیے عُمر بھر کی سمندر پار ملک بدری بھی مقرّر کردی گئی، اِلّا یہ کہ عدالت کسی مجرم کو ملک بدر نہ کرنے کی خصوصی وجوہ تحریری طور پر بیان کردے۔
  • ‘ایکٹ نمبر ۳ مجریہ ۱۸۴۸ء’: قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاحات ‘ٹھگ’، ‘ٹھگی’ اور ‘ٹھگی کے ذریعے قتل’ کی باقاعدہ تعریف متعیّن کردی گئی۔ اِس تعریف میں جان لیوا طریقے سے لُوٹ مار یا بچّے چُرانے والے منظّم گروہوں سے مستقل وابستگی کو بھی شامل کیا گیا۔
کمپنی نے حیدرآباد دکن، گوالیار، اندور، بھوپال، راجپوتانہ اور بندیل کھنڈ کی ریاستوں میں تعینات اپنے سیاسی نمائندوں کے ذریعے مقامی درباروں کو بھی ٹھگوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر آمادہ کیا۔ جے پور، جودھ پور، بھرت پور، اورچھا اور دتیا سمیت مختلف ریاستوں میں ملزمان، سرکاری گواہوں اور معلومات کا باہمی تبادلہ شروع ہوگیا۔
اِن شاہی ریاستوں نے لازماً ‘ایکٹ نمبر ۳۰ مجریہ ۱۸۳۶ء’ کی لفظ بہ لفظ نقول نافذ نہیں کیں، لیکن کمپنی کے زیرِ اثر خصوصی عدالتی انتظام، مشترکہ تفتیش اور سخت سزاؤں کا ملتا جلتا نظام اختیار کرلیا۔ جے پور میں تو مہاراجا رام سنگھ کے حکم سے ‘ٹھگی اور ڈاکا زنی کے انسداد کا قانون’ باقاعدہ الگ کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔
یوں جن مختلف عمل داریوں کی باہمی عدمِ ہم آہنگی کبھی ٹھگوں کو تحفُّظ فراہم کرتی تھی، وہی اب اُن کی گرفتاری، عدالتی کارروائی اور سزا کے لیے باہم مربوط ہونے لگیں۔
اِس طرح انسدادِ ٹھگی کی بنیادی قانون سازی کا سلسلہ ۱۸۳۶ء سے ۱۸۴۸ء تک پھیلا ہوا تھا۔ رَمَاسِی کے انکشاف نے ٹھگوں کی شناخت کا پردہ چاک کیا، جبکہ اِن قوانین نے اُن کے لیے مختلف انتظامی حدود اور شاہی ریاستوں میں موجود قانونی پناہ گاہیں ختم کردیں۔
ٹھگوں کی خفیہ زبان ‘رَمَاسِی’ کے بے نقاب ہونے اور پھر اُسی زبان کے ذریعے اُن کی شناخت اور گرفتاری کا سلسلہ شروع ہونے پر مومن خاں مومن کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے:
اُلجھا ہے پاؤں یار کا زُلفِ دراز میں
لو، آپ اپنے دام میں صیّاد آ گیا۔
‘رَمَاسِی’ کوئی معمولی بولی نہیں، بلکہ ٹھگوں کے پورے منظّم جال کو باہم جوڑنے والا خفیہ نظام تھا۔ وہ اِسی زبان کے ذریعے واردات کے مختلف مراحل طے کرتے تھے۔
جو زبان کئی دہائیوں تک اُن کی ڈھال اور کامیابی کا سب سے بڑا سبب بنی رہی، راز کھلنے کے بعد وہی اُن کی بربادی کا پیش خیمہ بن گئی۔ اُسی نے اُن کی شناخت ظاہر کی، باہمی رابطے توڑے اور اُن کے پھیلے ہوئے جال کو بے نقاب کردیا۔
قدرت کا نظام بھی یہی ہے کہ صیّاد بالآخر اپنے ہی دام میں آتا ہے۔ مجرم کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن قانون کی گرفت میں آجاتا ہے؛ اور جرم کتنی ہی صفائی سے کیوں نہ کیا جائے، اُس کا راز آخرکار طشت از بام ہوکر رہتا ہے۔
سعید احمد شیخ ریڈیو پاکستان وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سینئر افسر اور آجکل ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور تصوف، تاریخ، ثقافت، ادب، ابلاغِ عامہ اور قومی ورثے سے متعلق موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔