کوئی مانے یا نہ مانے ہمارا سسٹم تباہ ہو چکا ہے

نذیر ویلڈر کو سیاست سے زیادہ لوہے کی سمجھ تھی۔ لوہا گرم کرنا، اسے موڑنا، ٹوٹے ہوئے حصوں کو ٹچ لگا کر جوڑنا اور گاہک کو یہ یقین دلانا کہ چیز اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، اس کا پیشہ تھا۔

وہ اکثر کہا کرتا تھا: ’’لوہا خراب نہیں ہوتا، صاحب! جوڑ خراب ہوتا ہے۔‘‘

یہ جملہ اس نے پہلی مرتبہ ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ٹھیک کرتے ہوئے کہا تھا، مگر محلے والوں نے اسے ملکی سیاسی و معاشی حالات کا خلاصہ سمجھ لیا۔

نذیر کی دکان کے ایک طرف تھانہ، دوسری جانب تحصیل، سامنے سرکاری ہسپتال اور کچھ فاصلے پر سرکاری اسکول تھا۔ وہ روز ان عمارتوں کو دیکھتا، پھر اپنے اوزاروں پر ہاتھ پھیر کر کہتا:

’’خرابی کہیں ایک جگہ ہے۔ بس اصل جگہ پر ٹچ یعنی جوڑ لگانے والا چاہیے۔‘‘

اسے یقین تھا کہ حکومت چاہے تو پورا نظام چند دن میں درست ہو سکتا ہے۔ آخر حکومت کے پاس دفاتر، افسر، فائلیں، اجلاس، کمیٹیاں، گاڑیاں اور لیڈروں کی  رٹی رٹائی تقریروں  سمیت سب کچھ موجود تو ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اتنےوسائل کسی ویلڈر کے پاس ہوتےتو وہ آدھا شہر ٹچ لگا کر درست کر چکا ہوتا ۔

قسمت کی مار پھر ایک روز نذیر نے موبائل فون پر وفاقی وزیر داخلہ کا بیان سن لیا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ

’’کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارا سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔‘‘

نذیر نے ویڈیو دوبارہ چلائی۔ پھر تیسری مرتبہ سنی۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی پھیلی جیسے برسوں سے چھپی خرابی آخرکار پکڑی گئی ہو۔

اس نے برابر والے پنکچر والے بشیر کو آواز دی:

’’سن! حکومت نے بیماری  کی تشخیص کر لی ہے۔ اب علاج شروع ہوگا۔‘‘

بشیر نے پوچھا:

’’سسٹم اگر تباہ ہو چکا ہے تو وزیر صاحب کس چیز کے وزیر ہیں؟‘‘

نذیر نے اسے ناگواری سے دیکھا۔

’’وزیر اسی لیے ہوتے ہیں کہ عوام کو بتائیں خرابی کہاں ہے۔ ٹھیک کرنا الگ مرحلہ ہے۔‘‘

اس دن سے نذیر ہر گاہک کو یہی بیان سناتا۔ کسی کا دروازہ ٹوٹا ہوتا تو کہتا، ’’اسے چھوڑو، پورا سسٹم ٹوٹا ہوا ہے۔‘‘ کسی کی چارپائی کی پٹی نکل جاتی تو سمجھاتا، ’’نئے انتظامی یونٹ بنیں گے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

ایک گاہک نے پوچھا:

’’نئے صوبے بننے سے میری چارپائی کیسے ٹھیک ہوگی؟‘‘

نذیر نے جواب دیا:

’’ملک ٹھیک ہوگا تو چارپائی خود ٹھیک ہو جائے گی۔ تم لوگوں کو قومی سوچ ہی نہیں۔‘‘

نذیر کے تصور میں اصلاحات کے بعد تھانے میں بغیررشوت اور سفارش مقدمہ درج ہونے لگا، ہسپتال میں  مفت دوا ملنے لگی، اسکول میں استاد پڑھانے لگااور بجلی کا بل اتنا ہی آنے لگا  جتنی بجلی استعمال کی ہوتی۔

اسے سب سے زیادہ خوشی اس خیال سے تھی کہ نئے انتظامی یونٹ بننے کے بعد افسر ان بالا تک عوام کی رسائی آسان ہو جائے گی۔

کیوں  کہ سسٹم کی خرابی کی وجہ سے افسران کا رابطہ عوام سے بہت کم ہی ہو پاتا تھا۔ یہی افسران  دفتر میں موجود ہوں  تو ملاقات ممکن نہیں، ملاقات کر لیں تو مسائل کا حل نا ملے ، مسئلہ سمجھ  میں آجائے تو حل نا ممکن ، اور حل کا حکم دے دے تو عمل درآمد یقینی بننا انہونی قرار پاتی تھی۔

کچھ دن بعد نذیر نے اپنی دکان پر کاغذ چسپاں کر دیا:

’’سسٹم کی بحالی جاری ہے۔‘‘

بشیر نے پوچھا:

’’ اس مردہ سسٹم کی بحالی کون کر رہا ہے؟‘‘

نذیر نے جواب دیا:

’’سب اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں گے تو ہی بحالی ہو گی‘‘

سوال ابھرا کہ ’’یہ اسٹیک ہولڈر کب مل بیٹھیں گے؟‘‘

جواب آیا کہ ’’پہلے اتفاقِ رائے ہوگا۔ پھر کمیٹی بنے گی۔ پھر سفارش آئے گی۔ پھر مسودہ بنے گا۔ پھر مشاورت ہوگی۔‘‘

بشیر نے پوچھا:

’’اس میں  سسٹم کی بحالی  کہاں ہے؟‘‘

نذیر نے فخر سے کہا:

’’یہی تو بحالی  کا طریقہ ہے۔‘‘

ادھر ٹیلی ویژن پر بھی سسٹم کی تباہی زیر بحث آنے لگی۔ موجودہ حکمران سابق حکمرانوں کو ذمہ دار قرار دینے لگے، سابق حکمران موجودہ حکومت کو، سیاست دان بیوروکریسی کو، بیوروکریٹ سیاسی مداخلت کو اور ہر ادارہ دوسرے ادارے  کو سسٹم کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہرانے لگا۔

ہر شخص سسٹم کا وہ حصہ خراب بتاتا جس میں دوسرا شخص بیٹھا تھا۔

کسی نے یہ نہیں بتایا کہ سسٹم کہاں ختم ہوتا ہے اور وہ خود کہاں سے شروع ہوتا ہے۔

ایک دن نذیر اپنے بیٹے کا ڈومیسائل بنوانے تحصیل  آفس گیا۔ کلرک نے شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ نقل مانگی۔

نذیر نے اصل کارڈ دکھایا تو جواب ملا:

’’ہمیں  اصل  شناختی کارڈ نہیں  بلکہ تصدیق شدہ کاپی درکار ہے ‘‘

نذیر نے کہا کہ’’پھر آپ اسے کی کاپی بنا لیں ۔‘‘

کلرک نے جواب دیا کہ ’’ہمارا کام کاپی کرنا نہیں ۔‘‘

پوچھا کہ اس کاپی کی ’’تصدیق کون کرے گا؟‘‘

’’مجاز افسر۔‘‘

’’وہ کہاں ہے؟‘‘

’’ وفاقی وزیر  پلاننگ کے دفتر میں انتظامی اصلاحات کے اجلاس میں۔‘‘

نذیر خوش ہو گیا۔ اسے یقین ہوا کہ واقعی سسٹم کی بحالی کا کام  شروع ہو گیا ہے ۔

اگلے دن افسر دورے پر تھا۔ تیسرے دن ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ چوتھے دن معلوم ہوا  کہ درخواست تو نئے سسٹم کی وجہ سے آن لائن جمع ہوگی۔ آن لائن درخواست جمع ہوئی تو کلرک نے کہا اس پر تصدیقی  دستخط بھی ضروری ہیں۔

نذیر نے پوچھا:

’’آن لائن منظور شدہ  درخواست پر  تصدیق کے دستخط؟‘‘

کلرک بولا:

’’جی، سسٹم کا تقاضا ہے۔‘‘

اتنے میں کمپیوٹر بند ہو گیا۔

کلرک نے کرسی سے ٹیک لگا کر کہا:

’’آج سسٹم نہیں چل رہا۔‘‘

نذیر نے بے اختیار پوچھا:

’’وہی سسٹم جو تباہ ہو چکا ہے؟‘‘

کلرک نے کہا:

’’نہیں، یہ آن لائن والا سسٹم ہے۔ بڑا سسٹم تو ٹھیک چل رہا ہے۔‘‘

نذیر بیچارہ سسٹم کے درست ہونے کی آس لگائے واپس لوہے کے پائپوں کو دوبارہ ٹچ لگانے پر جت گیا۔

 

چند ہفتے بعد تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔ نذیر کی دکان کا اگلا شیڈ سرکاری نقشے میں غیر قانونی نکلا۔

نذیر نے افسر سے کہا:

’’صاحب، یہ شیڈ بیس سال سے یہاں ہے۔‘‘

افسر نے جواب دیا:

’’غلطی پرانی ہو تو قانونی نہیں ہو جاتی۔‘‘

نذیر نے تھانے کی فٹ پاتھ پر پھیلی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

’’وہ؟‘‘

’’سکیورٹی ضرورت ہے۔‘‘

تحصیل کے باہر سرکاری ٹھیکے دار کے کھوکھے کی طرف اشارہ کیا۔

’’وہ؟‘‘

’’منظور شدہ ہے۔‘‘

سیاسی دفتر کی طرف انگلی اٹھائی۔

’’وہ؟‘‘

’’معاملہ عدالت میں ہے۔‘‘

’’اور میری دکان؟‘‘

’’ تجاوزات   میں شامل  ہے۔‘‘

سرکاری بلڈوزر چلا اور  شیڈ گرا دیا گیا۔ اس کے ساتھ وہ کاغذ بھی ملبے میں دب گیا جس پر لکھا تھا: ’’سسٹم کی بحالی جاری ہے۔‘‘

نذیر نے احتجاج کیا تو اسے کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں تھانے لے  کر سرکاری مہمان بنا لیا گیا۔

حوالات میں بیٹھا وہ مسلسل دہراتا رہا:

’’سسٹم تباہ ہو چکا ہے، صاحب!‘‘

محرر نے اسے خاموش کراتے ہوئے کہا:

’’سسٹم تباہ ضرور ہے، ختم نہیں ہوا۔‘‘

شاید انہیں لمحات میں نذیر کو  حوالات کی سلاخوں کے پار منٹو کے منگو کوچوان کا ہیولا دکھائی دیا، مگر وہ اسے پہچان نہ سکا؛ اس نے منٹو کا شاہکار افسانہ ’’نیا قانون‘‘ پڑھا ہی نہیں تھا۔

منگو نے بھی یکم اپریل کو یہ سمجھ لیا تھا کہ نئے قانون کے نافذ ہوتے ہی انگریز حاکم کا تکبر ختم ہو جائے گا، عام آدمی کو عزت ملے گی اور طاقت کا پرانا نظام بدل جائے گا۔ اسی زعم میں وہ ایک گورے سے الجھ بیٹھا اور اسے پیٹ ڈالا۔ مگر پولیس نے منگو ہی کو گرفتار کر لیا۔ حوالات پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ قانون کا نام نیا ہو سکتا ہے، مگر اختیار، پولیس اور سلاخیں بدستور پرانی رہتی ہیں۔

آج کا عام آدمی بھی منگو کوچوان ہی ہے۔ وہ ہر نئے نعرے، نئے آئینی پیکج، نئے صوبے، نئے انتظامی نظام اور نئی اصلاح کو واقعی نئی صبح سمجھ لیتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ خرابی کا اعتراف ہوتے ہی بحالی شروع ہو جائے گی؛ افسر کا لہجہ بدل جائے گا، پولیس کا ہاتھ رک جائے گا، عدالت سے انصاف جلد ملنے لگے گا اور سسٹم اپنے ہی بیان سے شرمندہ ہو کر خود کو درست کر لے گا۔

پھر کسی تحصیل، تھانے، سڑک یا بلڈوزر کے سامنے اسے معلوم ہوتا ہے کہ تقریر بدل گئی، تاریخ بدل گئی اور چہرے بھی بدل گئے، مگر قانون کی تشریح، طاقت کی سمت اور حوالات کا دروازہ وہی ہے۔

منگو کوچوان کو ایک روز معلوم ہوا تھا کہ نیا قانون بھی اس کے لیے پرانا ہی ہے۔

نذیر ویلڈر کو بھی آخرکار سمجھ آ گئی کہ سسٹم کے تباہ ہونے کا اعتراف، اسے بدلنے کا اعلان نہیں ہوتا۔

بعض اوقات یہ صرف سسٹم کی جانب سے اپنے بارے میں جاری کیا گیا ایک درست سرکاری بیان ہوتا ہے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔