کاغذ سے کلاؤڈ تک: پاکستانی سیاست کا نیا دور

کاغذ سے کلاؤڈ تک: پاکستانی سیاست کا نیا دور

پاکستان کی سیاست برسوں تک فائلوں، مہروں، دستخطوں اور کاغذی وعدوں کے گرد گھومتی رہی۔ اسمبلیوں میں ڈیسک بجتے تھے، فائلیں دبتی تھیں، اور فیصلے اکثر بند کمروں میں گم ہو جاتے تھے۔ مگر اب خبر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کو مصنوعی ذہانت یعنی AI سے لیس کیا جا رہا ہے۔

آج پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نئی پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب قومی اسمبلی باضابطہ طور پر ملک کی پہلی AI-enabled اسمبلی بن گئی۔ اس منصوبے کے تحت AI پارلیمنٹ ماڈیول، AI اسپیکر آفس، ای آفس سسٹم اور پیپر لیس گورننس جیسے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کروائے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد اسمبلی کے امور میں شفافیت، رفتار اور مؤثر قانون سازی کو فروغ دینا ہے، جبکہ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اسے پاکستانی پارلیمنٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک “تاریخی قدم” قرار دیا۔

بظاہر یہ ایک ترقی یافتہ قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف سسٹم بدلنے سے سیاست بھی بدل جائے گی؟

کاغذ سے کلاؤڈ تک: پاکستانی سیاست کا نیا دور

دنیا اس وقت AI کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ عدالتیں، بینک، اسپتال، میڈیا، حتیٰ کہ کلاس رومز بھی مصنوعی ذہانت کی مدد لے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستانی پارلیمنٹ بھی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر “جدید منصوبے” تصویروں اور پریس ریلیز تک محدود رہ جاتے ہیں، جبکہ عام آدمی کی زندگی ویسی ہی رہتی ہے۔

کاغذ سے کلاؤڈ تک کا سفر صرف کمپیوٹر لگانے یا اسکرینیں نصب کرنے کا نام نہیں۔ اصل تبدیلی تب آئے گی جب فیصلے بھی جدید سوچ کے ساتھ ہوں گے۔ اگر اسمبلی nمیں AI آ جائے مگر عوامی مسائل اب بھی پرانے طریقوں سے نظر انداز ہوں، تو پھر یہ تبدیلی صرف دیواروں پر لگی LED اسکرینوں تک محدود رہ جائے گی۔

یہ بھی ایک دلچسپ سوال ہے کہ کیا مستقبل میں سیاسی تقریریں بھی AI لکھے گا؟ کیونکہ ہماری سیاست میں کچھ تقاریر ایسی ہوتی ہیں جو سن کر لگتا ہے جیسے انہیں پہلے ہی کسی مشین نے “Copy-Paste” کیا ہو۔ شاید AI اب یہ بھی سیکھ لے کہ واک آؤٹ کب کرنا ہے، میز کب بجانی ہے، اور الزام تراشی کے لیے کون سا جملہ سب سے زیادہ وائرل ہو سکتا ہے۔

لیکن طنز سے ہٹ کر اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ قدم پاکستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں نوجوان IT، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہاں پارلیمنٹ کا ٹیکنالوجی اپنانا ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس سے شاید یہ پیغام جائے کہ آنے والا وقت صرف روایتی سیاست کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل ذہانت کا بھی ہے۔

مگر یہاں ایک خطرہ بھی موجود ہے۔ ہم کہیں ایسا معاشرہ نہ بن جائیں جہاں مشینیں تو “اسمارٹ” ہوں مگر نظام اب بھی کمزور رہے۔ کیونکہ AI شفافیت لا سکتا ہے، رفتار بڑھا سکتا ہے، ریکارڈ محفوظ رکھ سکتا ہے، مگر دیانت داری، وژن اور عوامی احساس اب بھی انسانوں نے ہی دینا ہے.

پاکستان میں اصل مسئلہ ہمیشہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں رہا، بلکہ نیت، ترجیحات اور عملدرآمد کی کمزوری رہا ہے۔ یہاں کئی ادارے کمپیوٹرائزڈ تو ہو گئے، مگر عوام آج بھی لائنوں میں کھڑے ہیں۔ کئی نظام “آن لائن” تو ہوئے، مگر انصاف اور سہولت اب بھی “آف لائن” محسوس ہوتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ عوام اب صرف “ڈیجیٹل” لفظ سن کر متاثر نہیں ہوتے۔ لوگ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا AI سے اسمبلی کے اجلاس زیادہ مؤثر ہوں گے؟ کیا قانون سازی بہتر ہوگی؟ کیا عوامی مسائل جلد حل ہوں گے؟ یا پھر یہ بھی صرف ایک جدید پیکنگ میں لپٹا ہوا پرانا نظام ہوگا؟

ٹیکنالوجی چاہے کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، کلاؤڈ، AI اور ڈیجیٹل نظام جتنے بھی ترقی یافتہ ہو جائیں، اصل سوال پھر بھی وہی رہے گا: کیا ہم نے صرف نظام کو بدلا ہے یا سوچ کو بھی بدلنے کی ہمت کی ہے؟ پاکستان کی پارلیمنٹ کا AI کی طرف جانا ایک اہم سنگ میل ضرور ہے، مگر تاریخ ہمیشہ سسٹمز نہیں بلکہ نتائج یاد رکھتی ہے۔ اگر یہ تبدیلی شفافیت، انصاف اور عوامی بہتری میں ڈھلتی ہے تو یہ واقعی نیا دور ہوگا، ورنہ کاغذ سے کلاؤڈ تک کا یہ سفر صرف ایک خوبصورت نعرہ بن کر رہ جائے گا۔

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔