پاکستان میں بچوں کے خون میں زہر! سیسے کی خطرناک موجودگی کا انکشاف

پاکستان میں بچوں کے خون میں زہر! سیسے کی خطرناک موجودگی کا انکشاف

پاکستان میں بچوں کی صحت سے متعلق ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے والدین، ڈاکٹروں اور ماہرینِ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں ہزاروں بچوں کے خون میں خطرناک حد تک سیسہ (Lead) پایا گیا ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہنی، جسمانی اور معاشی مستقبل کا سوال بنتا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے UNICEF اور پاکستان کی وزارتِ صحت کی مشترکہ تحقیق نے اس خطرے کو باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے رکھا۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

تحقیق کے مطابق پاکستان کے سات شہروں کے صنعتی اور ہائی رسک علاقوں میں رہنے والے 12 سے 36 ماہ کی عمر کے بچوں کا خون ٹیسٹ کیا گیا۔ 2100 سے زائد بچوں کے نمونے لینے کے بعد معلوم ہوا کہ تقریباً ہر 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ تھی۔

تحقیق میں شامل شہر یہ تھے:
کراچی
لاہور
راولپنڈی
اسلام آباد
پشاور
کوئٹہ
ہری پور / ہٹڑ

سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ہری پور کے صنعتی علاقے ہٹڑ میں سامنے آئی جہاں تقریباً 88 فیصد بچوں میں سیسے کی بلند مقدار پائی گئی، جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح نسبتاً کم یعنی تقریباً 1 فیصد رہی۔

سیسہ آخر ہے کیا؟

سیسہ ایک زہریلی دھات ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی مگر خاموشی سے انسانی جسم کو تباہ کرتی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کے جسم میں یہ دھات داخل ہو جائے تو دماغ، اعصاب، خون، گردوں اور جسمانی نشوونما کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
خطرناک بات یہ ہے کہ بچے بڑوں کی نسبت سیسے کو کئی گنا زیادہ جذب کرتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے خون میں زہر! سیسے کی خطرناک موجودگی کا انکشاف

بچوں کے لیے یہ کتنا خطرناک ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق سیسے کی معمولی مقدار بھی بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات فوری بھی ہوتے ہیں اور زندگی بھر باقی بھی رہ سکتے ہیں۔

تحقیق اور مختلف رپورٹس کے مطابق اس کے ممکنہ نقصانات میں شامل ہیں:

ذہنی صلاحیت اور IQ میں کمی
یادداشت کی کمزوری
سیکھنے میں دشواری
توجہ کی کمی
رویوں میں تبدیلی
جسمانی نشوونما رک جانا
خون کی کمی (انیمیا)
قوتِ مدافعت کمزور ہونا
مستقل دماغی نقصان

یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے خبردار کیا کہ:
“بچوں کے لیے سیسے کی کوئی محفوظ مقدار موجود نہیں۔”

یہ زہر بچوں تک پہنچ کیسے رہا ہے؟

تحقیق میں کئی خطرناک ذرائع کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں شامل ہیں:

فیکٹریوں کا دھواں اور صنعتی آلودگی
بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس
لیڈ ملا پینٹ
آلودہ مصالحے اور خوراک
سرمہ اور روایتی کاسمیٹکس
زہریلی دھول اور مٹی

پاکستان میں غیر قانونی یا غیر معیاری بیٹری ری سائیکلنگ کا کاروبار خاص طور پر خطرناک سمجھا جا رہا ہے جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پاکستان میں نگرانی کا نظام کیوں ناکام ہے؟

رپورٹس کے مطابق مسئلہ صرف آلودگی نہیں بلکہ کمزور نگرانی، ناقص قوانین اور عوامی آگاہی کی کمی بھی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسے کی باقاعدہ اسکریننگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ بیشتر والدین کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے بچے آہستہ آہستہ زہریلے اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔

معیشت پر بھی خطرناک اثرات

یہ مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیسے سے متاثرہ بچوں کی ذہنی صلاحیت متاثر ہونے کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان کی GDP کا تقریباً 6 سے 8 فیصد حصہ اس مسئلے کی وجہ سے متاثر ہو سکتا ہے، جس کا تخمینہ 25 سے 35 ارب ڈالر سالانہ بتایا گیا۔

سیاسی اور سماجی ردعمل

اس رپورٹ کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض رہنماؤں نے اسے “قومی شرمندگی” قرار دیا جبکہ سوشل میڈیا پر والدین نے بچوں کی صحت سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کئی ماہرین نے اسے پاکستان کے لیے “خاموش صحت ایمرجنسی” کہا کیونکہ اس کا اثر فوری طور پر نظر نہیں آتا مگر ایک پوری نسل ذہنی اور جسمانی کمزوری کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔

دنیا میں یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے؟

یہ بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں سیسے کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں صنعتی آلودگی اور ناقص حفاظتی قوانین بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

بعض عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جہاں بچوں میں سیسے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

حکومت کو اب کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق فوری طور پر یہ اقدامات ضروری ہیں:

صنعتی علاقوں میں سخت نگرانی
بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس کی ریگولیشن
لیڈ ملا پینٹ پر مکمل پابندی
بچوں کے خون کی اسکریننگ
والدین میں آگاہی مہم
اسکولوں اور ہسپتالوں میں حفاظتی پروگرام
آلودہ علاقوں کی نشاندہی اور صفائی

ایک خاموش زہر، جو نسلوں کو متاثر کر سکتا ہے

پاکستان پہلے ہی غذائی قلت، آلودگی، کمزور صحت کے نظام اور تعلیمی بحران جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں اگر بچوں کے دماغ اور جسم بھی زہریلی دھاتوں سے متاثر ہونا شروع ہو جائیں تو یہ صرف صحت کا نہیں بلکہ قومی مستقبل کا بحران بن جاتا ہے۔
یہ مسئلہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان لاکھوں بچوں کی کہانی ہے جن کے خواب، ذہانت اور مستقبل ایک خاموش زہر کی زد میں آ رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک کمزور، بیمار اور ذہنی طور پر متاثرہ نسل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شواہد اور تحقیق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رواں سال کے آخر میں ایک قومی سطح کا نمائندہ سروے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کے تحت بچوں اور حاملہ خواتین میں سیسے کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ دونوں طبقات سب سے زیادہ حساس اور خطرے سے دوچار سمجھے جاتے ہیں۔ اس سروے کا مقصد ایسی مؤثر حکمتِ عملی اور پالیسی اقدامات تیار کرنا ہے جن کی بنیاد پر حکومت اور متعلقہ ادارے بروقت عملی اقدامات کر سکیں۔

اس تحقیقاتی مہم کا آغاز “پارٹنرشپ فار اے لیڈ فری فیوچر” کے پاکستان مشن کے ساتھ کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں بچوں کو سیسے کے زہریلے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے تکنیکی معاونت، شراکت داری اور ترجیحی اقدامات پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس مشن کے تحت مختلف ادارے اس ہدف پر کام کر رہے ہیں کہ سال 2040 تک بچوں میں سیسے سے ہونے والی زہریلی بیماریوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے.

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔