اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی لیز منسوخی سے متعلق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا فیصلہ برقرار رکھا۔ انتظامیہ عمارت خالی کرانے پہنچی تو چند گھنٹوں میں اصل قانونی سوال پس منظر میں چلا گیا۔ عدالتی طور پر غیر قانونی قرار دیے گئے رہائشی اپارٹمنٹس کی بحث پولیس کارروائی، رہائشیوں کی پریشانی، سفارتی تاثر اور وزیراعظم کی کمیٹی کے گرد گھومنے لگی۔
اس فریم کو آگے بڑھانے والوں میں کئی بااثر شخصیات اور صحافی بھی شامل تھے، جن کی آواز کسی بھی معاملے کو قومی بحث بنا سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میڈیا رپورٹس اور عدالت میں جمع کرائی گئی بکنگ تفصیل کے مطابق ان میں سے بعض افراد خود اسی عمارت میں اپارٹمنٹس کے خریدار یا سٹیک ہولڈر بھی تھے۔ یہی مفاد کا سوال اس معاملے کو صرف شہری حقوق کی بحث نہیں رہنے دیتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کسی شہری کو سنے بغیر اچانک انتظامی کارروائی کے ذریعے عمارت خالی کروائی جا سکتی ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس پلاٹ پر فائیو اسٹار ہوٹل بننا تھا، وہاں عدالت کے غیر قانونی قرار دیے گئے 240 رہائشی اپارٹمنٹس کیسے بک ہوئے، انہیں فروخت کیسے کیا گیا، اور سی ڈی اے کئی سال تک اس معاملے پر خاموش کیوں رہی؟
وزیراعظم کا فوری حکم نامہ، جس کے تحت سی ڈی اے کو کارروائی جاری رکھنے سے روک دیا گیا، اس کیس کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی، جسے ایک ہفتے میں رپورٹ دینے کا کہا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت متاثرہ فریقوں کو سننے کا عمومی اصول طے کر رہی ہے، یا شاہراہِ دستور کی لگژری عمارت، غیر قانونی قرار دیے گئے اپارٹمنٹس اور بااثر خریداروں کے لیے خصوصی راستہ نکالا جا رہا ہے؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد روک کر اسے مؤثر طور پر بدلنے کی مجاز بھی ہے یا نہیں؟
شاہراہِ دستور پر غیر قانونی عمارت کی گنجائش کیسے پیدا کی گئی؟
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا تنازع صرف فائیو اسٹار ہوٹل کے پلاٹ پر رہائشی فلیٹس بنانے سے شروع نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے سوال یہ ہے کہ شاہراہِ دستور کے اس حساس مقام پر ایسی بلند اور کمرشل نوعیت کی عمارت کی گنجائش پیدا کیسے ہوئی۔ ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ کے مطابق 1997 میں، نواز شریف کے دورِ حکومت میں، وفاقی کابینہ نے اس مقام پر پہلے سے موجود یادگار اور بینکوئٹ ہال کے تصور کو بدل کر فائیو اسٹار ہوٹل اور شاپنگ مال جیسی سہولتوں کی گنجائش پیدا کرنے کی اجازت دی۔ اسی دستاویز میں ماسٹر پلان اور زون 3 کے زمین کے استعمال کے منصوبے میں تبدیلی کا ذکر بھی موجود ہے۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ منصوبے کی خرابی صرف بعد میں اپارٹمنٹس بیچنے تک محدود نہیں رہی۔ اگر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں اس مقام پر ایسی بلند تجارتی عمارت پہلے سے موجود نہیں تھی، تو پھر بعد میں ہونے والی نیلامی، لیز، ہوٹل کا تصور، سروسڈ اپارٹمنٹس اور فلیٹس کی بکنگ سب اسی ابتدائی تبدیلی کے نتیجے میں آگے بڑھے۔ اس لیے معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ نواز شریف حکومت کے دور میں ماسٹر پلان میں یہ تبدیلی کیوں کی گئی، اس میں سی ڈی اے اور کابینہ کا کردار کیا تھا، اور کیا یہ فیصلہ بعد میں اس منصوبے کے لیے بنیاد بن گیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بعد میں اسی عمارت میں بعض ایسے سیاسی خاندانوں یا ان سے جڑے افراد کے اپارٹمنٹس بھی رپورٹ ہوئے جن کا تعلق اقتدار اور پالیسی سازی کے حلقوں سے رہا۔ جب اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں تبدیلی، سرکاری زمین کی نیلامی، لیز کی نرمی، فلیٹس کی فروخت اور بااثر خریدار ایک ہی کہانی میں آ جائیں تو معاملہ صرف ایک بلڈر کی خلاف ورزی نہیں رہتا، ریاستی فیصلوں کے فائدہ اٹھانے والوں کا سوال بھی بن جاتا ہے۔
فائیو اسٹار ہوٹل کی لیز رہائشی منصوبہ کیسے بن گئی؟
1997 میں ماسٹر پلان اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کے بعد 2005 میں سی ڈی اے نے اسی مقام پر 13.5 ایکڑ زمین فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے لیز پر دے دی۔ ایف آئی اے کی 2017 کی دستاویز کے مطابق یہ زمین ایم/ایس بی این پی گروپ کو 99 سال کے لیے تقریباً 4 ارب 88 کروڑ روپے میں دی گئی۔ اس گروپ میں بسم اللہ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ، بلحسا انٹرنیشنل کمپنی، نیاگرا ملز پرائیویٹ لمیٹڈ اور پیراگون سٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام شامل تھے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے کنسورشیم میں پیراگون سٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کا نام بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کمپنی ماضی میں نیب مقدمات، سیاسی الزامات اور حکومتی جماعت سے جڑی اہم شخصیات کے تنازعات میں بھی آتی رہی۔ اگرچہ ان مقدمات میں کرپشن کا الزام حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، مگر ان کیسز کے انجام پر سیاسی دباؤ اور احتسابی عمل کی ساکھ سے متعلق سوالات ضرور اٹھتے رہے ہیں۔
یہ صرف نیلامی یا لیز کا معاملہ نہیں تھا۔ معاہدے میں کل رقم کا 15 فیصد فوری ادا ہونا تھا، جبکہ باقی رقم 15 سال میں قسطوں کے ذریعے دی جانی تھی۔ بقایا رقم کے لیے ناقابلِ تنسیخ بینک گارنٹی اور پرفارمنس گارنٹی بھی ضروری تھی۔ یہ شرائط اس لیے رکھی گئی تھیں کہ سرکاری زمین ایک نجی گروپ کو دی جا رہی تھی، اس لیے ریاست کو اپنی رقم، منصوبے کی تکمیل اور زمین کے اصل استعمال کو محفوظ رکھنا تھا۔
بعد کی کہانی نے دکھایا کہ یہی حفاظتی شرائط کمزور پڑتی گئیں۔ زمین فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے دی گئی تھی، مگر وقت کے ساتھ منصوبے کی شناخت لگژری رہائشی فلیٹس بن گئی۔ سروسڈ اپارٹمنٹس ہوٹل کے انتظام کے تحت چلنے والی سہولت ہو سکتے تھے، مگر انہیں الگ رہائشی ملکیت بنا کر بیچنا ایک مختلف معاملہ تھا۔ یہی فرق بعد میں اس کیس کا مرکزی قانونی سوال بنا کہ کیا ہوٹل کے لیے دی گئی سرکاری زمین کو رہائشی فلیٹس کی مارکیٹ میں بدلا جا سکتا تھا؟
یوں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں فروخت کا مسئلہ آخری خرابی نہیں تھا۔ پہلے شاہراہِ دستور کے اس حصے میں ایسے منصوبے کی گنجائش پیدا کی گئی، پھر ہوٹل کے نام پر لیز ہوئی، پھر سروسڈ اپارٹمنٹس کا تصور سامنے آیا، پھر رہائشی فلیٹس بک اور فروخت ہوئے، اور آخر میں خریداروں کو سامنے رکھ کر معاملے کو انسانی بحران کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ یہی ترتیب اس کیس کو ایک عام تعمیراتی تنازع سے نکال کر ریاستی فیصلوں، ریگولیٹری نرمی اور بااثر مفادات کے سوال میں بدل دیتی ہے۔
کیا کمیٹی کی سربراہی خود اعتماد کا سوال بن گئی؟
وزیراعظم کی کمیٹی پر سوال صرف اس لیے نہیں اٹھتا کہ اس نے عدالتی فیصلے کے بعد کارروائی روک دی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے پاس ہے، جو حکومت کی قانونی ٹیم کے اہم ترین چہرے ہیں۔
یہاں 2 عدالتی مراحل الگ الگ سمجھنا ضروری ہیں۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے بارے میں 2017 کا تفصیلی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا تھا، جس میں زمین کے استعمال، ہوٹل پلاٹ، سروسڈ اپارٹمنٹس اور رہائشی فلیٹس کی فروخت کے قانونی سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ اسی فیصلے نے اس منصوبے کی قانونی بنیاد پر سخت سوالات اٹھائے۔
حالیہ مرحلے میں معاملہ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے آیا، جہاں جسٹس سرفراز ڈوگر نے بی این پی لمیٹڈ کی اپیل پر فیصلہ دیا اور سی ڈی اے کی لیز منسوخی کو برقرار رکھا۔ اس تازہ فیصلے کے بعد انتظامیہ عمارت خالی کرانے پہنچی، مگر وزیراعظم کے فوری حکم نامے سے کارروائی روک دی گئی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی گئی۔
یہ پس منظر اس لیے حساس ہے کہ 2017 کا بنیادی تفصیلی فیصلہ لکھنے والے جسٹس اطہر من اللہ بعد میں سپریم کورٹ کے جج بنے اور نومبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہو گئے۔ اسی حکومت کے دور میں عدلیہ کے اختیار اور آزادی پر ایک بڑا تنازع پیدا ہوا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں سخت مؤقف اختیار کیا۔ اب اسی قانونی سلسلے کے تازہ مرحلے میں، جب ہائیکورٹ نے دوبارہ سی ڈی اے کا فیصلہ برقرار رکھا، حکومت نے عمل درآمد روک کر معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
اس لیے سوال یہ نہیں کہ اعظم نذیر تارڑ ذاتی طور پر اس کیس میں فریق ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب 2017 کا تفصیلی عدالتی فیصلہ اس منصوبے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھا چکا تھا، اور حالیہ فیصلے میں بھی سی ڈی اے کی لیز منسوخی برقرار رکھی گئی ہے، تو حکومت کے سب سے اہم وزیر قانون کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی معاملے کو صرف عمل درآمد کے طریقے تک محدود رکھے گی، یا عدالتی فیصلے کو تبدیل کرنے کا راستہ بھی نکال سکتی ہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو صرف ایک عمارت کا تنازع نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال بن جاتا ہے کہ کیا غیر قانونی فلیٹس کو بااثر خریداروں کے مفاد میں انسانی بحران اور سیاسی ریلیف کے فریم میں بدلا جا رہا ہے؟





