کیاتمام سولرصارفین کو نیپرا سے لائسنس لینا ہو گا؟

اجازت سولر لگانے پر چاہیے یا گرڈ کو بجلی بیچنے پر؟

کیا پاکستان میں سولر لگانے والا ہر شخص اب نیپرا کے لائسنس کا پابند ہو گا، یا یہ شرط صرف اُن صارفین کے لیے ہے جو اپنی اضافی بجلی گرڈ کو بیچنا چاہتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس نے آج کل گھریلو، کمرشل اور صنعتی سولر صارفین کو ایک نئی الجھن میں ڈال رکھا ہے۔

سادہ سے معاملے کو الجھانے میں تکنیکی اصطلاحات نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اصل بات صرف اتنی ہے کہ اگر آپ سولر سے بننے والی بجلی خود استعمال کر رہے ہیں اور اسے حکومت، ڈسکو یا کے الیکٹرک کو نہیں بیچ رہے، تو نیپرا سے اجازت یا لائسنس لینے کی ضرورت نہیں۔

اجازت سولر لگانے پر چاہیے یا گرڈ کو بجلی بیچنے پر؟

اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہر سولر صارف کو نیپرا سے اجازت یا کنکرنس نہیں چاہیے۔ اجازت اس وقت درکار ہوتی ہے جب سولر سسٹم گرڈ سے منسلک ہو، بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے نظام میں واپس جائے، اور صارف اس اضافی بجلی کا معاوضہ لینا چاہے۔ نیپرا کے پروزیومر ضوابط میں “ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن” کو ایسی سہولت کہا گیا ہے جو سولر، ہوا یا بایو گیس سے بجلی بنائے اور ڈسٹری بیوشن سسٹم سے منسلک ہو۔

اس کے برعکس آف گرڈ سولر، یعنی ایسا نظام جو بیٹریوں کے ذریعے گھر یا کاروبار کو بجلی دے مگر گرڈ میں بجلی فروخت نہ کرے، نیپرا کے نیٹ بلنگ یا نیٹ میٹرنگ نظام کا حصہ نہیں بنتا۔ ایسے صارف کے لیے اصل مسئلہ نیپرا لائسنس نہیں بلکہ محفوظ وائرنگ، معیاری انورٹر، بیٹری سیفٹی اور مقامی الیکٹریکل قواعد ہیں۔ حکومت آپ کو اپنی چھت پر سورج کی روشنی سے بجلی بنانے سے نہیں روک رہی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آپ ریاستی بجلی گرڈ کو اپنی اضافی بجلی بیچنا چاہتے ہیں۔

کیا پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین بھی نئے نیٹ بلنگ نظام میں چلے جائیں گے؟

سب سے بڑی غلط فہمی یہی پیدا ہوئی ہے کہ جیسے نیپرا کے نئے ضوابط کے بعد تمام سولر صارفین پر ایک ہی قانون لاگو ہو گیا ہے، جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ مارچ اور اپریل 2026 کی بحث بنیادی طور پر نئے صارفین اور نئے نیٹ بلنگ نظام سے متعلق ہے، نہ کہ ہر اُس صارف سے جس نے پہلے سے نیٹ میٹرنگ کی منظوری لے رکھی ہے۔ پرانے نظام میں صارف کے اضافی یونٹ اس کے استعمال شدہ یونٹس سے ایڈجسٹ ہوتے تھے، یعنی وہ بجلی گرڈ کو دیتا بھی تھا اور ضرورت کے وقت واپس لیتا بھی تھا۔ نئے نظام میں یہ طریقہ بدل گیا ہے۔ اب صارف گرڈ سے بجلی ریٹیل ٹیرف پر خریدتا ہے، جبکہ اپنی اضافی سولر بجلی نسبتاً کم طے شدہ خریداری قیمت پر بیچتا ہے۔

اسی تبدیلی نے صارفین میں یہ خوف پیدا کیا کہ شاید پرانے نیٹ میٹرنگ معاہدے بھی ختم ہو جائیں گے۔ مگر نیپرا کی وضاحت کے مطابق پہلے سے منظور شدہ لائسنس، کنکرنس اور معاہدے اپنی مدت تک متاثر نہیں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن صارفین نے پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت منظوری، میٹر اور ڈسکو کے ساتھ معاہدہ حاصل کر رکھا ہے، انہیں فوری طور پر نئے نیٹ بلنگ نظام میں منتقل نہیں کیا جا رہا۔ وہ اپنے موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہونے تک پرانے طریقہ کار کے تحت بلنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم یہ تحفظ مکمل طور پر غیر مشروط نہیں۔ اگر کوئی پرانا صارف اپنے سولر نظام کا سائز بڑھاتا ہے، نئی پیداواری صلاحیت شامل کرتا ہے، یا سسٹم میں ایسی بڑی تبدیلی کرتا ہے جس سے بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار بدل جائے، تو پھر معاملہ نئے ضوابط کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اصل احتیاط یہ ہے کہ وہ سسٹم میں کوئی بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کہیں اس سے ان کا پرانا فائدہ ختم تو نہیں ہو جائے گا۔

اصل الجھن نیپرا یا پاور ڈویژن کی وضاحتوں سے ختم نہیں ہوئی، بلکہ کچھ حد تک بڑھ گئی۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں طرف سے ایک سادہ اور فیصلہ کن لائن سامنے نہیں آئی کہ پرانے نیٹ میٹرنگ معاہدے رکھنے والے سولر صارفین کو اپنے معاہدے کی مدت تک نیا لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

پاور ڈویژن نے معاملہ اپنے سر سے اتار کر یہ تاثر دیا کہ یہ نیپرا کا ریگولیٹری معاملہ ہے، فیصلہ بھی وہی کرے گا اور وضاحت بھی وہی دے گا۔ دوسری طرف نیپرا نے معاملہ صاف کرنے کے بجائے یہ عمومی بات کہہ دی کہ تمام نیٹ بلنگ صارفین کو لائسنس لینا ہو گا۔ یہی جملہ عام صارف کے لیے الجھن کا سبب بنا، کیونکہ نیٹ بلنگ نظام تو قواعد تبدیل ہونے کے بعد آیا ہے، جبکہ اس سے پہلے صارفین نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت منظوری اور معاہدے حاصل کر چکے تھے۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ نیٹ بلنگ صارفین کو لائسنس لینا ہو گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین کو بھی نئے نیٹ بلنگ صارفین کے برابر سمجھا جا رہا ہے؟ جب تک نیپرا صاف الفاظ میں یہ نہیں کہتا کہ پرانے معاہدے اپنی مدت تک محفوظ ہیں اور ان صارفین کو نیا لائسنس لینے کی ضرورت نہیں، تب تک ابہام باقی رہے گا۔ یہی وہ خلا ہے جس نے ایک سادہ ریگولیٹری تبدیلی کو لاکھوں سولر صارفین کے لیے غیر یقینی صورتحال بنا دیا ہے۔

کیا ہر سولر صارف کو نیپرا سے لائسنس لینا ہو گا؟

نئے سولر صارف کے لیے سولر لائسنس کا طریقہ کار  سخت کیوں کیا گیا؟

نئے صارفین کے لیے اصل تبدیلی یہ ہے کہ اب معاملہ صرف بجلی تقسیم کار کمپنی منظوری تک محدود نہیں رہا۔ نیپرا نے نئے گرڈ سے منسلک پروزیومر کے لیے، سسٹم کے سائز سے قطع نظر، اپنی کنکرنس کو مرکزی شرط بنا دیا ہے۔ پہلے چھوٹے صارفین، خاص طور پر 25 کلو واٹ تک کے نظام، زیادہ تر ڈسکو کی سطح پر آگے بڑھ جاتے تھے۔ اب یہ راستہ زیادہ باضابطہ، زیادہ مرکزی اور نسبتاً سخت ہو گیا ہے۔

اسی مقام پر نیپرا صارف سے درخواست، تکنیکی تفصیل، معاہدہ، حلف نامہ، انورٹر کی معلومات، سسٹم کی صلاحیت اور کنکرنس فیس جیسے تقاضے پورے کرواتا ہے۔ کنکرنس فیس 1000 روپے فی کلو واٹ رکھی گئی ہے، جو چھوٹے صارف کے لیے بھی لاگت بڑھا دیتی ہے۔

اس تبدیلی کے پیچھے ریگولیٹر کی منطق یہ ہے کہ سولر اب صرف انفرادی بچت کا ذریعہ نہیں رہا۔ جب بڑی تعداد میں صارفین دن میں گرڈ کو بجلی دیتے اور شام کو واپس بجلی لیتے ہیں تو اس سے ڈسکوز کی آمدن، گرڈ کی گنجائش، وولٹیج کے توازن اور باقی صارفین پر لاگت جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مگر یہاں ایک دوسرا خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر منظوری کا عمل بہت پیچیدہ، مہنگا یا غیر یقینی ہو گیا تو نئے صارفین گرڈ سے جڑنے کے بجائے بیٹریوں اور آف گرڈ نظام کی طرف جائیں گے۔ اس صورت میں حکومت دن کے وقت سستی سولر بجلی خریدنے کا موقع کھو سکتی ہے، جبکہ شام کے اوقات میں مہنگے ایندھن سے بجلی بنانے کا دباؤ برقرار رہے گا۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اجازت کیوں سخت ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ یہ قواعد وضوابط کی سختی صارفین کو سرکاری گرڈ سے مزید دور کر دے گی؟

حکومت خریدنے سے انکار کرے تو صارف کیا کر سکتا ہے؟

اگر حکومت یا ریگولیٹر یہ فیصلہ کرے کہ اضافی سولر بجلی خریدنے کی شرائط تبدیل کی جائیں، خریداری کا ریٹ کم کیا جائے، یا گرڈ میں شامل ہونے کی شرائط سخت کی جائیں، تو عام صارف کے پاس حکومت کو سابقہ پالیسی جاری رکھنے پر مجبور کرنے کا راستہ آسان نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت کو بجلی بیچنا کوئی بنیادی حق نہیں، بلکہ ایک کمرشل معاہدہ ہے جس میں خریدار ڈسکو یا ریاستی نظام ہے۔

یہاں سولر صارفین کا مضبوط ترین حق پرانے معاہدوں تک محدود ہے۔ اگر کسی صارف کا ڈسکو کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، تو نیپرا کی 2 اپریل والی وضاحت کے بعد وہ معاہدہ مدت ختم ہونے تک محفوظ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن نئے صارف کے لیے قانون بدل چکا ہے۔ وہ اسی قیمت، اسی مدت اور اسی یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ نہیں کر سکتا جو 2015 کے نظام میں پرانے صارف کو مل رہی تھی۔

ریاست کو اصل خطرہ کس بات کا ہے؟

حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین سولر پر منتقل ہو کر گرڈ کے مقررہ اخراجات سے بچ جاتے ہیں، جبکہ یہ بوجھ باقی عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان میں سستے چینی سولر پینلز کی وجہ سے سولر کا پھیلاؤ بہت تیز ہوا، اور 2024 میں 17 گیگا واٹ سولر صلاحیت درآمد ہوئی۔

لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی اہم ہے۔ سولر صارفین کم قیمت، سخت قواعد اور غیر یقینی پالیسی کی وجہ سے اگر بیٹریاں لگا کر آف گرڈ یا ہائبرڈ نظام کی طرف گئے تو حکومت کے لیے سستی بجلی خریدنے کا ایک ذریعہ کم ہو جائے گا۔ اس صورت میں صارف اپنی اضافی بجلی حکومت کو بیچنے کے بجائے خود ذخیرہ کرے گا۔ پھر حکومت کو بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے یا تو مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنا پڑے گی یا خود بڑے پیمانے پر سولر پاور جنریشن کی طرف جانا ہو گا۔

اسی لئے تمام سولر صارفین کو نیپرا سے لائسنس یا کنکرنس لینے کی ضرورت نہیں۔ جس نے اپنی ضرورت کے لیے آف گرڈ سولر لگایا ہے، وہ نیٹ بلنگ یا نیٹ میٹرنگ کے قانونی دائرے میں نہیں آتا۔ جس نے پہلے سے نیٹ میٹرنگ معاہدہ کر رکھا ہے، اس پر معاہدے کی مدت تک نئے قواعد و ضوابط کا اطلاق نہیں ہوگا، مگر بڑی تبدیلی کرنے پر نیا نظام لاگو ہو سکتا ہے۔ جو نیا صارف گرڈ کو بجلی بیچنا چاہتا ہے، اسے نیپرا اور ڈسکو کے طے شدہ عمل سے گزرنا ہو گا۔

اصل مسئلہ لائسنس نہیں، پالیسی کا اعتماد ہے۔ حکومت اگر سولر کو صرف ریونیو نقصان سمجھے گی تو صارف بیٹری کی طرف جائے گا۔ صارف اگر گرڈ کو صرف مہنگا بیک اپ سمجھے گا تو قومی نظام کمزور ہو گا۔ پاکستان کو فیصلہ یہ کرنا ہے کہ سولر صارف کو حریف سمجھنا ہے یا توانائی نظام کا حصہ۔ یہی فیصلہ آنے والے برسوں میں بجلی کے بل، گرڈ کی آمدن اور مہنگے ایندھن پر انحصار تینوں کو طے کرے گا۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔