کیاڈونلڈ ٹرمپ نفسیاتی اور طبی بیماریوں کے زیراثر بے ربط گفتگو اور جنگی فیصلے کرتے ہیں؟

تحریر: محمد اکمل خان

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ بحث اب صرف سیاسی انداز، سخت لہجے یا انتخابی ڈرامے کی نہیں رہی۔ اب کچھ معروف امریکی مبصرین اور ماہرین نفسیات یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی گفتگو، ردعمل اور فیصلہ سازی میں ایسا بگاڑ دکھ رہا ہے جسے صرف جارحانہ سیاست کہہ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ٹرمپ تلخ مزاج ہیں یا نرم مزاج۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر امریکی صدر کی بات اور سوچ میں عدم توازن آ جائے، اور وہی صدر ایران جیسی جنگ کے حوالے سے اہم جنگی فیصلے بھی کر رہا ہو، تو اس کی ایک غلطی کی قیمت پورا خطہ چکا نے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

کیا ٹرمپ کے بارے میں بحث اب صرف سیاسی مخالفت نہیں رہی؟

معروف امریکی سکالر جیفری ساکس، جو عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر طویل عرصے سے لکھتے اور بولتے رہے ہیں، نے 25 مارچ 2026 کو گلین ڈائیسن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی حالت کے بارے میں ایک ایسا نظریہ بھی موجود ہے جسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ جیفری ساکس کے بقول ٹرمپ بعض اوقات”خودساختہ خیالی دنیا “میں جیتے دکھائی دیتے ہیں، ان کے جملے ہمیشہ مربوط نہیں ہوتے، اور کئی ماہرین نفسیات سمجھتے ہیں کہ ان میں دماغی بگاڑ کے آثار ایک پرانے نفسیاتی مسئلے کے ساتھ مل رہے ہیں۔ جیفری ساکس کی بات کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف ٹرمپ کی انا، غصہ یا سیاسی چال کا نہیں، بلکہ یہ رجحانات ممکنہ طور پر طبی اعتبار سے ذہنی تنزلی اور بری حالت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ طبی تشخیص نہیں، مگر اسے محض سیاسی نعرہ بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ سوال اب باقاعدہ عوامی بحث میں داخل ہو چکا ہے۔
جان گارٹنر، جو ماہر نفسیات ہیں اور جانز ہاپکنز سے تدریسی وابستگی رکھ چکے ہیں، نے 6 جنوری 2026 کی پوڈ کاسٹ میں یہی بحث اور زیادہ وضاحت سے بیان کی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ میں پہلے سے موجود شدید خود پرستی یا نرگسیت اب بڑھتی ہوئی بدگمانی، بے قابو ردعمل اور فکری کمزوری کے ساتھ زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ یعنی طبی یا نفسیاتی مسئلہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا بھی بھگت سکتی ہے۔

جیفری ساکس اور جان گارٹنر آخر کس بنیاد پر خطرے کی بات کر رہے ہیں؟

جیفری ساکس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بارے میں کئی ماہرین کا خیال ہے کہ وہ فرونٹو ٹیمپورل ڈیمینشیا (Frontotemporal Dementia) یعنی دماغ کے اگلے اور کنپٹی والے حصوں سے جڑی دماغ کے خلیات میں خرابی کے آثار دکھا رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں یہ صرف بھولنے کی بیماری نہیں۔ اس میں آدمی کے برتاؤ، بولنے کے انداز، فیصلے اور دوسروں سے معاملہ کرنے کا طریقہ بدل سکتا ہے۔ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ اور میو کلینک کے مطابق اس بیماری میں بے قابو پن، سماجی حدود توڑ دینا، اچانک فیصلے، الفاظ ادھورے بولنا، یا جملے کی ساخت بگاڑ دینا شامل ہو سکتا ہے۔ یعنی آدمی صرف بات بھولتا نہیں، وہ بات کو اپنی ذہنی کیفیت کے مطابق ناصر ف بدلنے لگتا ہے بلکہ اس خیالی بات کو پورا سچ سمجھ کر فیصلے بھی کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اسی کے ساتھ ٹرمپ کی شخصیت اور ذہنی حالت کے بارے میں ایک اور اصطلاح بھی بار بار سامنے آ رہی ہے جسے شدید خود پرستی یعنی نرگسیت (Malignant Narcissism) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عام قاری کے لیے اسے یوں سمجھنا بہتر ہے کہ آدمی خود کو بہت بڑا سمجھے، تنقید برداشت نہ کرے، دوسروں کو کمتر جانے، اور مخالف کو اختلاف رکھنے والا نہیں بلکہ دشمن سمجھے۔ اگر یہ کیفیت بڑھتی ہوئی بدگمانی اور دماغی کمزوری کے ساتھ مل جائے تو فیصلے دلیل سے نہیں، انا، غصے اور فوری ردعمل سے ہونے لگتے ہیں۔ گارٹنر کی پوری دلیل یہی ہے کہ ٹرمپ کی ذہنی حالت کے معاملے میں یہ مجموعہ زیادہ تشویش پیدا کرتا ہے۔

فرونٹو ٹیمپورل ڈیمینشیا اور نرگیست کیا ہے؟

یہاں سمجھنے کی اصل بات یہ ہے کہ ہر بھول، ہر لغزش اور ہر سخت جملہ بیماری نہیں ہوتا۔ لیکن جب ایک شخص بار بار بے ربط بولے، ایک بات سے دوسری پر غیر واضح چھلانگ لگائے، معمولی بات کو بہت بڑا بنا دے، اور کبھی دھمکی، کبھی تعریف، کبھی شک، اور کبھی خود ستائی کے درمیان جھولتا رہے، تو ماہرین اس پورے رویے کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ فرونٹو ٹیمپورل ڈیمینشیا میں یادداشت سے پہلے رویہ بگڑ سکتا ہے۔ اسی لیے اس بیماری کی بحث میں” وہ بھول گئے“سے زیادہ اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ” وہ بدل کیوں رہے ہیں؟“
اسی طرح شدید خود پرستی کو محض خود اعتمادی نہ سمجھا جائے۔ ایک سیاست دان کا خود اعتماد ہونا الگ بات ہے۔ لیکن اگر وہ ہر بحران کو اپنی ذات کے گرد گھما دے، ہر اختلاف کو سازش سمجھے، اور اپنے مخالف ہی نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں پر بھی شک کرنے لگے، تو یہ صرف سیاسی انداز نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ جان گارٹنر ٹرمپ کے رویے میں بڑھتی ہوئی بدگمانی کو بہت اہم نفسیاتی عارضے کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ٹرمپ کی گفتگو، ردعمل اور طرز بیان میں ایسا کیا ہے جو ان شبہات کو تقویت دیتا ہے؟

یہ سوال اس وقت زیادہ اہم ہو گیا ہےجب ایران جنگ کے دوران خود ٹرمپ کے بیانات میں واضح اتار چڑھاؤ واضح دکھائی دے رہا ہے۔ 24 مارچ 2026 کی خبر رساں ادارے رائٹرز(Reuters) کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں”صحیح لوگوں “سے مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ اور حکومت کی طرف سے اس کی تردید یا مختلف بات سامنے آتی رہی۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی تھا کہ ٹرمپ نے ایک مبہم ”تحفے“کا ذکر کیا جسے بعد میں تیل اور گیس کے معاملے سے جوڑا گیا۔ جنگی بحران کے بیچ ایسی مبہم زبان خود سوال پیدا کرتی ہے کہ آیا یہ سوچا سمجھا پیغام تھا یا بے ربط بیانیہ۔
26 مارچ 2026 کو ایک طرف ٹرمپ نے کہا کہ ایران ڈیل کے لیے بے تاب ہے، دوسری طرف انہوں نے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اور اسرائیل ”ایران کو تباہ کر دیں گے “۔ ایک اور رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق اسی روز انہوں نے آبنائے ہرمز سے ٹینکروں کے گزرنے کو ایران کا”تحفہ“ قرار دیا۔ یعنی ایک ہی بحران میں کبھی مذاکرات، کبھی تحفہ، کبھی دھمکی، اور کبھی اپنی بے نیازی کا دعویٰ سامنے آ رہا ہے۔ اگر یہ حکمت عملی تھی تو بھی غیر معمولی حد تک الجھی ہوئی تھی اور اگر یہ ذہنی یا نفسیاتی عدم توازن کی جھلک تھی تو پھر تشویش اور بڑھ جاتی ہے۔

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے متضاد بیانات خطرہ کیوں بڑھاتے ہیں؟

ایران کے ساتھ جنگ عام لڑائی نہیں۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی معیشت جڑی ہے، آبنائے ہرمز وہ راستہ ہےجس سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خلیجی ریاستیں، اسرائیل، امریکی اڈے، عالمی منڈیاں اور بڑے اہم ملک سب اس خطے میں موجود ہیں ۔رائٹرز (Reuters)نے 24 مارچ 2026 کو رپورٹ کیا کہ خلیجی خطے میں پہلے ہی غلط اندازے اور اچانک تصادم کے خوف موجود تھے۔ ایسے ماحول میں اگر صدر کے پیغام میں وضاحت نہ رہے، تو اتحادی الگ مطلب نکالتے ہیں، دشمن الگ، اور معاشی منڈیاں الگ۔
جنگ میں سب سے بڑا خطرہ صرف حملہ نہیں ہوتا، غلط تخمینے بھی ہوتا ہے۔ اگر صدر ایک دن کہے کہ ڈیل قریب ہے، دوسرے دن کہے کہ مجھے پروا نہیں، تیسرے دن دھمکی دے، اور چوتھے دن کسی مبہم”تحفے“ کو اپنی سفارتی کامیابی بنا کر پیش کرے، تو مسئلہ صرف بیان بازی نہیں رہتا۔ اس سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اصل پالیسی کیا ہے، جنگ کا ہدف کیا ہے، اور فیصلہ کس ذہنی کیفیت میں ہو رہا ہے۔ ایران جنگ جیسے بڑے بحران میں یہی کنفیوژن سب سے خطرناک چیز بنتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی تردید کے باوجود اصل سوال کیاہے؟

وائٹ ہاؤس اس پوری بحث کی بارہاتردید کرچکا ہے۔ اپریل 2025 میں صدر کے معالج کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ طبی اعتبار سے ” بہترین“جسمانی اور ذہنی صحت رکھتے ہیں۔رائٹرز( Reuters) نے بھی رپورٹ کیا کہ سرکاری معائنے میں انہیں منصب کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔ ۔ اسی طرح امریکن سائیکائٹرک ایسوسی ایشن کا گولڈ واٹر رول (Goldwater Rule) بھی کہتا ہے کہ کسی عوامی شخصیت کے بارے میں براہ راست معائنے کے بغیر حتمی نفسیاتی رائے دینا درست نہیں۔

لیکن اصل سوال وہیں موجود ہے جس سے یہ ساری بحث شروع ہوئی تھی ۔ اگر سرکاری رپورٹ ایک طرف ہے اور عوامی طرز گفتگو دوسری طرف، تو دنیا ، معاشی منڈیاں اور کارباری ادارے کس چیز کو زیادہ اہمیت دیں گے ؟ دیانت دار جواب یہی ہے کہ ٹرمپ کے بارے میں طبی، ذہنی اور نفسیاتی بگاڑ کے شبہات بہت سنجیدگی کے حامل ہیں ۔

ایران جنگ کے دوران ان کے اپنے متضاد، کبھی مبہم، کبھی دھمکی آمیز اور کبھی بے جوڑ بیانات نے ان شبہات کو کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس لیے اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ کی ذہنی اور طبی حالت کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ سازی واقعی انا، بدگمانی یا بے ربط غورو فکر کے زیر اثر ہو، تو ایران جنگ ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل میں تبدیل ہو کر پوری عالمی معیشت کو برباد کر سکتی ہے۔

 

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔