سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رائج ننواتے بظاہر ایک باوقار، مقدس اور مذہبی رنگ لیے ہوئے سماجی روایت ہے۔ اس رسم میں لڑکے والے قرآنِ پاک لے کر لڑکی کے گھر جاتے ہیں اور رشتے کی درخواست کرتے ہیں۔ چونکہ اس عمل کو عزت، احترام اور تقدیس کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، اس لیے اکثر خاندان ایسے موقع پر انکار کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ روایت جو احترام کے لبادے میں لپٹی ہو، واقعی احترام کے اصولوں پر قائم بھی ہوتی ہے؟ یا پھر بعض صورتوں میں یہی رسم ایک ایسے خاموش دباؤ میں بدل جاتی ہے جس کے سامنے خاندان، خاص طور پر عورتیں، اپنی مرضی اور حقِ انتخاب سے محروم ہو جاتی ہیں؟
ننواتے کی روایت ماضی میں شادی سے نہیں بلکہ صلح، درگزر اور جھگڑوں کے خاتمے سے جڑی تھی۔ ماضی میں جب دو خاندانوں یا قبائل کے درمیان تنازع کھڑا ہوتا تو ایک عورت قرآنِ پاک لے کر مخالف فریق کے پاس جاتی اور امن و معافی کی درخواست کرتی۔ وقت کے ساتھ اس روایت کا مفہوم بدلتا گیا اور بعض علاقوں میں اسے شادی کے رشتے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ یہیں سے مسئلہ شروع ہوا۔ جو رسم کبھی دشمنی ختم کرنے کا ذریعہ تھی، وہ بعض گھروں میں ایسا دباؤ بن گئی کہ ” نہ“ کہنا صرف انکار نہیں رہا، بلکہ سماجی ردعمل، طعنوں اور تعلقات کی خرابی کا خطرہ بھی ساتھ لے آیا۔

بشام سے تعلق رکھنے والی مروہ کی کہانی اسی دباؤ کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ ان کے بقول جب ان کے گھر رشتہ آیا تو والدین اس کے حق میں نہیں تھے۔ وہ پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں اور گھر والے انہیں دور بیاہنا نہیں چاہتے تھے۔ اوپر سے رشتہ ایسے علاقے سے آیا تھا جہاں زبان، رسم و رواج اور خاندانی ماحول بھی مختلف تھا۔ مروہ کے مطابق ان کے خاندان میں عموماً خاندان اور قبیلے سے باہر شادیاں نہیں ہوتیں، اسی لیے رشتہ مسترد کر دیا گیا۔ لیکن انکار کے بعد لڑکے والوں نے ننواتے بھیج دیا۔ اس ایک روایت کی پاسداری نے گھر کے ماحول، سوچ اور اختیار سب بدل دیے، اور جو فیصلہ پہلے انکار تھا، وہ بعد میں مجبوری بن گیا۔

عالم گنج کی سمعیہ کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ان کے گھر جب رشتہ آیا تو والدین نے اسے اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ لڑکا پڑھا لکھا نہیں تھا۔ رشتہ رد کر دیا گیا، مگر اس کے بعد ننواتے آ گیا۔ سمعیہ بتاتی ہیں کہ ان کے والدین نے دوبارہ بھی انکار کیا، لیکن پھر آس پاس کے لوگوں نے طعنے دینا شروع کر دیے۔ کہا گیا کہ قرآن کی خاطر انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک خاندانی فیصلہ، خالصتاً خاندانی نہیں رہا، بلکہ پورا معاشرہ اس میں مداخلت کرنے لگا۔ اس دباوٴ کے زیر اثر سمعیہ کے والدین کو جھکنا پڑا اور رشتہ قبول کرنا پڑا۔
مگر اصل کہانی شادی کے بعد شروع ہوئی۔ سمعیہ کہتی ہیں کہ سسرال کے لوگ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے، مسئلہ ان کے شوہر تھے۔ سمعیہ کے مطابق وہ نہ مستقل کام کرتے تھے، نہ گھر کی ذمہ داری اٹھاتے تھے، اور نہ ہی اسے ملازمت کی اجازت دیتے تھے۔ گھر والے اور ان کے والد بار بار روزگار دلانے کی کوشش کرتے، مگر وہ ایک دو دن بعد کام چھوڑ دیتے۔ سمعیہ کے بقول شادی کے بعد ان کی زندگی مسلسل مشکلات میں گھری رہی، یہاں تک کہ تین سال بعد ان کے والد نے ان کا خلع کروایا۔ اس ایک مثال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب فیصلہ مرضی کے بجائے دباؤ میں ہو تو اس کے اثرات صرف نکاح تک محدود نہیں رہتے، پوری زندگی پر پھیل جاتے ہیں۔

ننواتے کے حق میں سب سے زیادہ جو دلیل دی جاتی ہے، وہ قرآنِ پاک کے احترام سے جڑی ہوتی ہے۔ کئی خاندان کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص قرآن لے کر ان کے دروازے پر آ جائے تو انکار کرنا آسان نہیں رہتا۔ مسئلہ صرف مذہبی عقیدت کا نہیں، اس کے ساتھ جڑا ہوا سماجی خوف بھی ہے۔ اگر کسی خاندان نے انکار کر دیا تو فوراً اس کے فیصلے کو دین اور بے دینی کے پیمانے پر پرکھا جانے لگتا ہے۔ بعض مقامی افراد کے مطابق ایسے خاندانوں کو ”بے دین“تک کہا جاتا ہے، گویا انہوں نے قرآن کا لحاظ نہیں کیا۔ بعض اوقات ان سے سماجی تعلقات محدود کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وہ خاموش مگر گہرا دباؤ ہے جو بہت سے گھروں میں فیصلہ بدلوا دیتا ہے۔
تاہم مذہبی اعتبار سے اس دلیل کی بنیاد کمزور ہے۔ مذہبی اسکالر نادیہ کے مطابق اسلام میں نکاح کی بنیادی شرط عورت کی رضامندی ہے، اور کسی بھی خاتون کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول ننواتے کا دین سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اسلام جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآنِ پاک کو ذریعہ بنا کر اپنی خواہش کسی خاندان پر مسلط کرنے کی کوشش کرے تو یہ محض سماجی زیادتی نہیں بلکہ ایک سنگین دینی غلطی بھی ہے۔ ان کے مطابق ایسے لوگ دین کی روح نہیں سمجھتے بلکہ اس کی غلط تعبیر کر کے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نادیہ کے مطابق اللہ کسی ایسے انکار پر ناراض نہیں ہوتا جو کسی غلط یا جبری عمل کے خلاف ہو۔ اصل ناانصافی یہ ہے کہ ایک لڑکی اور اس کے والدین پر ایسا فیصلہ تھوپ دیا جائے جس میں ان کی مرضی شامل نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنی اولاد کے لیے بہتر سوچتے ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے مناسب اور محفوظ رشتہ تلاش کریں۔ اگر کسی رسم کے ذریعے ان پر فیصلہ مسلط کیا جائے تو یہ نہ صرف سماجی جبر ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ قرآنِ پاک کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا دراصل مذہبی تقدس کو دباؤ کے آلے میں بدل دینا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ننواتے کی بحث سماجی اور مذہبی دائرے سے نکل کر قانونی دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت 2013 میں انسدادِ غگ قانون منظور کر چکی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ کسی عورت یا اس کے خاندان پر شادی کے لیے زبردستی، اعلانیہ دعوے، سماجی دباؤ یا دھمکی کے ذریعے فیصلہ مسلط نہ کیا جا سکے۔
غگ کی تعریف میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اگر کوئی شخص عورت یا اس کے خاندان کی آزاد رضامندی کے بغیر یہ اعلان کرے یا یہ تاثر دے کہ فلاں عورت اسی کے لیے مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس کے لیے رشتہ نہ بھیجے، تو یہ جرم ہے۔ قانون نے اس عمل کے لیے سزا بھی مقرر کی۔ اگرچہ ننواتے اور غگ ایک طرح سے مختلف رواج ہیں ، لیکن دونوں کے اندر ایک مشترک حقیقت موجود ہے کہ عورت اور اس کے خاندان کی آزاد مرضی پر دباؤ ڈال کر شادی کے فیصلے کو محدود کر دیا جائے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 498-B جبری شادی کو پہلے ہی جرم قرار دیتی ہے۔ یعنی قانونی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ننواتے کے نتیجے میں لڑکی یا اس کے خاندان کی مرضی دباؤ کے تحت بدل دی جائے تو موجودہ قانون بھی حرکت میں آ سکتا ہے۔ لیکن قانون کی عمومی زبان اور زمینی حقیقت کے درمیان جو خلا ہوتا ہے، وہی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتا ہے۔
غگ کے قانون میں بھی یہی تسلیم کیا گیا تھا کہ بعض رسمیں اپنی مقامی نوعیت، سماجی دباؤ اور مخصوص طریقہ کار کی وجہ سے الگ پہچان رکھتی ہیں، اسی لیے ان کے خلاف الگ قانون سازی کی گئی۔ ننواتے کے بارے میں بھی یہی دلیل سامنے آتی ہے۔ اگر قرآن لے کر رشتہ مانگنے کی رسم کسی خاندان کے لیے انکار کو عملی طور پر ناممکن بنا دے، انہیں بدنامی، طعنوں یا مذہبی الزام کے خوف میں مبتلا کر دے، یا لڑکی کی مرضی کو پس منظر میں دھکیل دے، تو پھر یہ صرف روایت نہیں رہتی، جبر کی ایک مقامی شکل بن جاتی ہے۔
اسی لیے زیادہ مضبوط مؤقف یہی بنتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت یا تو ننواتے اور اس جیسے رواجوں کے خلاف الگ قانون بنائے، یا غگ اور جبری شادی کے موجودہ قانونی دائرے کو وسیع کر کے ان رسموں کو واضح طور پر شامل کرے۔
اس طرح کے قانون سے کم از کم تین واضح فائدے ہوں گے۔ پہلا، یہ پیغام جائے گا کہ کوئی بھی رسم یا رواج عورت کے بنیادی حقِ رضامندی سے بڑی نہیں۔ دوسرا، متاثرہ خاندانوں کو یہ قانونی اور اخلاقی سہارا ملے گا کہ انکار بے دینی نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔ اور تیسرا، پولیس، عدالت اور انتظامیہ کے لیے کارروائی آسان ہو جائے گی۔ البتہ صرف قانون بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ آگاہی مہم، علما کا واضح مؤقف، مقامی جرگوں کی اصلاح اور خواتین کے لیے شکایت کا محفوظ نظام بھی ضروری ہوگا، ورنہ بہترین قانون بھی فائلوں اور کاغذوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔
اس رسم کے سماجی اور تاریخی پس منظر پر بات کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی سماجی کارکن اور خویندو جرگہ تنظیم کی سربراہ تبسم عدنان کہتی ہیں کہ پرانے وقتوں میں ننواتے ایک مثبت رسم تھی۔ اس کے ذریعے دو فریقوں کے درمیان صلح ہو جاتی تھی، تنازعات ختم ہوتے تھے اور جھگڑے نمٹ جاتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ اس رسم کی شکل بگڑ گئی۔ اب بعض لوگ اسے اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے دین کے نام پر استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو بلیک میل کرتے ہیں۔
تبسم عدنان کے بقول سوات میں ہزاروں خواتین اس رسم کے دباؤ یا اس کے نتائج کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے خود بہت سی خواتین کو سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مسلسل آگاہی دی ہے کہ اس رسم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اس کے باوجود لوگ معاشرے کے خوف اور اللہ کی ناراضگی کے غلط تصور کے باعث اسے قبول کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق ننواتے اکثر ایسے لڑکوں کے لیے کیا جاتا ہے جو بے روزگار ہوں، نشہ کرتے ہوں یا معاشرے میں مثبت کردار نہ رکھتے ہوں، اور جنہیں لوگ اپنی بیٹی یا بہن دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ ایسے حالات میں مذہب کو سہارا بنا کر رشتہ حاصل کرنے کی کوشش دراصل عورت کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا کوئی بھی روایت، چاہے وہ کتنی ہی پرانی، قابلِ احترام یا سماجی طور پر مضبوط کیوں نہ ہو، کسی عورت کی مرضی، اس کے مستقبل اور اس کے حقِ انتخاب سے بڑی ہو سکتی ہے؟ ننواتے کے معاملے میں مسئلہ صرف ایک رسم کا نہیں، ایک سوچ کا ہے۔ وہ سوچ جو عورت کی زندگی کے فیصلے کو اس کی اپنی مرضی کے بجائے معاشرے کے ردعمل، طعنوں اور مذہبی غلط فہمی کے سپرد کر دیتی ہے۔
جب فیصلہ محبت، اعتماد اور رضامندی کے بجائے خوف کے سائے میں ہو، تو اس کے نتائج ایک عورت کی پوری زندگی پر نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ احترام اگر واقعی احترام ہے تو وہ کسی کی مرضی چھین کر نہیں، اس کی مرضی کا تحفظ کر کے ظاہر ہونا چاہیے۔




