مشرق وسطی میں امریکی عسکری موجودگی محدود ہونے پر کیا پاکستان دفاعی خلا پُر کر سکتا ہے؟

تحریر: محمد اکمل خان

اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ مگر اس کے بعد ایک بنیادی سوال اور زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا ہے کہ اگر دونوں ملک واقعی جنگ ختم کر کے خطے میں پائیدار امن چاہتے تھے، تو پھر یہ مذاکرات سیز فائر سے آگے بڑھ کر کسی بڑے سمجھوتے تک کیوں نہ پہنچ سکے؟ یہی سوال اب آنے والے دنوں میں خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی بندوبست کی نئی ابھرتی ہوئی تصویر کو سمجھنے کا مرکزی نکتہ بنتا جا رہا ہے۔

حالیہ مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنی ریڈ لائنز ایران کو پوری طرح واضح کر دیں، مگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ تہران نہ صرف ایٹمی ہتھیار نہ بنائے بلکہ ایسی صلاحیت بھی اپنے پاس نہ رکھے جس سے وہ جلد اس منزل تک پہنچ سکے۔ دوسری طرف ایران کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف جوہری بحث نہیں، بلکہ اعتماد، جنگ کے بعدخطے کے انتظام، آبنائے ہرمز، منجمد اثاثوں اور لبنان تک پھیلے ہوئے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کے تعطل کو صرف ایک ناکام سفارتی دور سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ دراصل اس نے خلیج کے پرانے دفاعی اتنظام کی کمزوریاں مزید نمایاں کر دی ہیں۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک کیوں نہ پہنچ سکے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس بحران کے بعد خطے کے بڑے فریقوں نے کیا سیکھا، انہیں اب کیا عملی اقدامات کرنا ہوں گے ، اور اس خلا کو کون سے نئے کردار پُر کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار صرف ثالث یا پیغام رساں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ عملی اہمیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اگر امریکہ خلیج میں ہر جگہ پہلے جیسا براہِ راست عسکری کردار برقرار نہیں رکھنا چاہتا، اگر سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ امریکی دفاعی انتظامات  ہر بحران میں مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں، اور اگر ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے سائے میں خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، تو پھر اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا کوئی ایسا درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے جس میں امریکہ کچھ پیچھے ہٹے، خلیجی ریاستیں زیادہ غیر محفوظ نہ ہوں، ایران کو بھی براہِ راست امریکی دباؤ میں کچھ کمی محسوس ہو، اور پاکستان ایک ثالث کی بجائے ضامن کے طور پر سامنے آئے؟

پاکستانی سینئر صحافی عامر متین کے مطابق اسلام آباد مذاکرات نے کم از کم ایک بات تو واضح کر دی ہے کہ پاکستان کی اہمیت اب پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ ان کے بقول پاکستان اب صرف رابطہ کرانے والا ملک نہیں رہا، بلکہ حالات اسے ایک ایسے ممکنہ کردار کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں وہ خطے میں زیادہ عملی ذمہ داری بھی سنبھال سکتا ہے۔ اس تناظر میں سوال سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان خلیج میں ایسا سکیورٹی کردار ادا کر سکتا ہے جسے سعودی عرب اور زیادہ تر خلیجی ریاستیں بھی قبول کریں، ایران بھی مکمل طور پر رد نہ کرے، اور چین بھی اس کی حمایت میں کھڑا ہو؟

کیا امریکہ واقعی مشرق وسطی سے جان چھڑوانا چاہ رہا ہے؟

اس سوال کا سیدھا جواب “ہاں” یا “نہیں” میں دینا ابھی قبل از وقت ہے۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحث کو ایک خاص سمت ضرور دیتے ہیں۔ وہ بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے زیادہ نقصان ایشیا اور یورپ کو ہوگا، اس لیے چین، جاپان، فرانس، برطانیہ اور دوسرے متاثرہ ملک بھی آگے آئیں۔ ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن خلیج کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا، مگر اس خطے کا دفاعی انتظام اب اس کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، امریکہ شاید خلیج چھوڑ نہیں رہا، لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ آئندہ یہ دفاعی ذمہ داری صرف اسی تک محدود نہ رہے۔

اگر امریکہ ہر جگہ پہلے جیسا براہِ راست کردار نہیں رکھنا چاہتا، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ واشنگٹن اب پورے خطے میں مکمل سکیورٹی غلبہ برقرار رکھنے کی لاگت، مدت اور سیاسی قیمت کو نئے انداز سے دیکھ رہا ہے۔ حالیہ جنگ نے اسے یہ احساس بھی دلایا ہے کہ غیر متناسب خطرات، طویل کشیدگی، توانائی کے راستوں پر دباؤ، اور بار بار ابھرتے ہوئے علاقائی محاذ ایسے مسائل ہیں جنہیں صرف براہِ راست فوجی موجودگی سے ہمیشہ کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

اسی تناظر میں جے ڈی وینس کے بیان سے بھی یہی تاثر ملتا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں ان کی پوری توجہ اس بات پر رہی کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور نہ ایسی صلاحیت اپنے پاس رکھے جس کے ذریعے وہ تیزی سے جوہری طاقت بن سکے۔ اس سے لگتا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر پورے خطے کی دفاعی ذمہ داری کی بجائے اپنی چند بنیادی شرطوں اور اپنے بڑے خدشات پر زور دے رہا ہے۔ اگر واقعی بات یہاں تک پہنچ چکی ہے، تو پھر اصل سوال یہی بنتا ہے کہ اس کم ہوتے امریکی کردار کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو کون اور کس شکل میں پُر کرے گا؟

خلیجی ریاستوں نے حالیہ ایران امریکہ جنگ سے آخر کیا سیکھا؟

اس جنگ نے خلیجی ریاستوں پر یہ بات واضح کر دی کہ صرف زیادہ  اور جدید ہتھیار، بڑے دفاعی بجٹ اور طاقتور اتحادی کسی ملک کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتے۔ جدید فضائی دفاعی نظام، امریکی ہتھیار، ریڈار، بحری نگرانی اور فوجی تعاون سب کچھ موجود تھا، مگر حالیہ جنگ نے واضح کر دیا کہ یہ پورا بندوبست خطرہ روکنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ جب توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے، ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور امریکی مراکز ایرانی میزائل اور ڈرونز کے  حملوں کی زد میں آئے، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ امریکی موجودگی اہم ضرور ہے، مگر اسے ہر صورت میں آخری سکیورٹی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض حالات میں یہی موجودگی خود کشیدگی اور خطرے کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔

یہی نہیں، خلیجی ریاستوں نے شاید یہ بھی سیکھا ہے کہ کسی بیرونی دفاعی انتظام یا ضامن  پر مکمل انحصار خود ایک کمزوری بن سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس ضامن کی ترجیحات ہر لمحہ ان کے اپنے فوری سکیورٹی خدشات سے پوری طرح ہم آہنگ نہ ہوں۔ دفاعی خرچ اپنی جگہ اہم ہے، مگر وہ ہمیشہ دفاعی یقین دہانی میں نہیں بدلتا۔ اسی لیے اب ان کے لیے سوال صرف اسلحے کا نہیں رہا، بلکہ اس پورے ماڈل کا ہے جس کے تحت تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔

اسی تناظر میں سعودی عرب کے رویے کو سمجھنا اہم ہے۔ ریاض نے اس بحران میں اشتعال انگیز یا جنگی زبان اختیار نہیں کی۔ اس کے برعکس اس نے کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو سہارا دینے اور حالات کو قابو میں رکھنے پر زور دیا۔ سعودی طرزِ عمل سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی پہلی ترجیح ایران کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ نہیں، بلکہ خود کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ سے بچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض اب سلامتی کے سوال کو صرف طاقت کے پرانے توازن سے نہیں دیکھ رہا۔ اسے یہ احساس ہو چکا ہے کہ اگر امریکہ آئندہ پہلے جیسا کردار ادا نہیں کرتا، تو پھر خلیج کو ایسے اضافی یا متبادل بندوبست کی ضرورت پڑے گی جو خطرہ بھی کم کرے اور دفاعی خلا بھی پیدا نہ ہونے دے۔

عامر متین کے الفاظ میں، سعودی عرب نے حالیہ جنگ کے دوران امریکہ کی دفاعی اہلیت کو” ٹیسٹ“کر لیا ہے۔ ریاض اب صرف پرانے وعدوں پر اکتفا کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگر امریکی یقین دہانیوں کے باوجود جنگ کی آنچ سعودی عرب تک پہنچنے لگے، تو پھر ریاض کے لیے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ کسی اضافی یا متبادل سکیورٹی انتظام پر غور کرے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان جیسے ملک کا نام سنجیدگی سے سامنے آتا ہے۔

امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں نے بحث کا رخ کیوں بدل دیا؟

امریکی اڈوں پر ہونے والے حملوں نے پوری بحث کا رخ اس لیے بدل دیا کہ کسی بھی سکیورٹی نظام کی اصل جانچ کاغذی معاہدوں یا رسمی یقین دہانیوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب جنگ واقعی دروازے پر آن کھڑی ہو۔ حالیہ جنگ نے یہی امتحان لے لیا۔ امریکی اڈوں، امریکی اہلکاروں اور خلیجی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے یہ تاثر زائل کر دیا کہ پرانا سکیورٹی بندوبست ہرجنگی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔

امریکہ کے لیے اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ خطے میں ہر جگہ براہِ راست عسکری بالادستی برقرار رکھنا نہ تو پہلے جیسا آسان رہا ہے اور نہ شاید پہلے جیسا سودمند۔ دوسری طرف ایران نے بھی یہی دیکھا کہ اگرچہ وہ روایتی عسکری قوت میں برتر طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر وہ غیر متناسب دباؤ، توانائی کے راستوں میں رکاوٹ ڈال کر ، حساس تنصیبات پر حملوں اور قیمت بڑھانے والی حکمت عملی کے ذریعے نتائج پر اثر انداز ضرور ہو سکتا ہے۔ یعنی جنگ نے صرف کمزوریاں ظاہر نہیں کیں، بلکہ ہر فریق کو اپنے اپنے مؤثر ہتھیار اور حدود بھی بتا  دئیے ہیں۔

عامر متین کے مطابق حالیہ جنگ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ خطے میں امریکی اڈے اب پہلے جیسے محفوظ نہیں رہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی کہ بعض حالات میں یہی امریکی فوجی موجودگی خود تنازع کی ایک وجہ بن گئی۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ امریکی اڈے کتنے محفوظ ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ان کی موجودگی خطے کو زیادہ محفوظ بنا رہی ہے یا مزید کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ایسے بندوبست کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ایک طرف خلیجی ریاستوں کو دفاعی یقین دہانی دے اور دوسری طرف ایران کے لیے اس قدر اشتعال انگیز نہ ہو کہ پورا خطہ دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔

حالیہ جنگ کے بعد فریقین کی ترجیحات کیا ہیں؟

اگر حالیہ جنگ کے اس پورے تجربے کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو خطے کے ہر بڑے فریق کی ضرورت بھی اب پہلے سے زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ خلیجی ریاستوں کو ایسا سکیورٹی بندوبست چاہیے جو تحفظ بھی دے مگر انہیں کسی بڑے جغرافیائی تصادم کی پہلی صف میں بھی کھڑا نہ کر دے۔ انہیں انفراسٹرکچر، توانائی کے مراکز اور تجارتی راستوں کے لیے قابلِ بھروسا تحفظ درکار ہے، مگر ایسے طریقے سے جو سیاسی طور پر کم اشتعال انگیز ہو۔

امریکہ کی ضرورت بھی اب نسبتاً واضح ہو چکی ہے۔ واشنگٹن غالباً ایسا ماڈل چاہتا ہے جس میں اس کا اثر و رسوخ برقرار رہے، اس کے بنیادی مفادات جیسے جوہری عدم پھیلاؤ اور بحری استحکام محفوظ رہیں، لیکن پورا زمینی اور براہِ راست سکیورٹی بوجھ صرف اسی کے کندھوں پر نہ رہے۔

ایران کی ضرورت اس کے برعکس مگر قابلِ فہم ہے۔ تہران ایسا ماحول چاہتا ہے جس میں اس پر براہِ راست فوجی دباؤ اور سیاسی گھیراؤ  کچھ کم ہو، اور ساتھ ہی اسے خطے کے طاقت کے توازن میں ایک حقیقت کے طور پر نظر انداز بھی نہ کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، ایران مکمل تصادم کے بغیر اپنی اہمیت کی کسی نہ کسی سطح پر منوانا چاہتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بحث صرف اس بات تک محدود نہیں رہتی کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ کس نوع کے بندوبست سے کس فریق کی کم از کم بنیادی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

خطے کے دفاعی بندوبست کے حوالے سے پاکستان کا نام نمایاں کیوں ہے؟

یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر بات ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ پاکستان اچانک خطے کی سب سے بڑی عسکری طاقت بن گیا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان ایک ایسا ملک دکھائی دیتا ہے جسے ایک وقت میں کئی طرف سنا اور کسی حد تک قبول کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں۔ ایران کے ساتھ اس کی سرحد بھی ملتی ہے اور برادرانہ تعلقات بھی ہیں۔ چین کے ساتھ اس کی گہری شراکت اسے ایک اضافی سیاسی وزن دیتی ہے۔ اور امریکہ کے لیے بھی پاکستان کوئی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ملک نہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ خطے کے اس بدلتے ہوئے سکیورٹی خلا کو کوئی ایک ملک اکیلے پُر نہیں کر سکتا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اگر کوئی نیا بندوبست بنتا ہے تو وہ دو سطحوں پر کام کرے گا۔ ایک ایسا فریق درکار ہوگا جو پل، بفر یا سہولت کار کا کردار ادا کرے، یعنی ایسا ملک جسے امریکہ بھی مکمل طور پر رد نہ کرے، ایران بھی اسے کھلے خطرے کے طور پر نہ دیکھے، اور خلیجی ریاستیں بھی اس پر کچھ نہ کچھ اعتماد کر سکیں۔ مگر صرف سفارتی قبولیت کافی نہیں ہوگی، اسے عملی دفاعی تعاون کی صلاحیت بھی رکھنا ہوگی۔

اگر ان اسٹینڈرڈز  کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو پاکستان کا نام غیر معمولی طور پر ابھرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان خطے پر حاوی ہونے کی پوزیشن میں ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ بیک وقت امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت  رکھتا ہے۔ خلیجی ریاستوں  خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون  پہلے سے موجود ہے، ایران اسے کسی بڑے خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا، اور امریکہ کے لیے بھی پاکستان مکمل طور پر ناقابلِ قبول فریق نہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کے پاس عملی عسکری صلاحیت بھی موجود ہے، خاص طور پر فضائی اور سکیورٹی تعاون کے میدان میں۔ اسی لیے وہ ایک ایسا پل اور عملی سطح کا کردار بن سکتا ہے جو تناؤ کم کرے مگر خود نظام پر غالب نہ آئے۔

عامر متین کے مطابق پاکستان کی اہمیت اس لیے بڑھ رہی ہے کہ وہ ایک ایسا درمیانی راستہ پیش کرتا ہے جو امریکہ کے لیے بھی کسی حد تک قابلِ قبول ہے اور شاید ایران کو بھی اس پر اعتراض کم ہو۔ ان کے خیال میں سعودی عرب کے لیے بھی پاکستان کا دفاعی کردار غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے۔ یہ کردار کتنا وسیع ہوگا، اس کی تصویر آنے والے دنوں میں زیادہ واضح ہوگی، لیکن اتنی بات نمایاں ہے کہ خلیجی دفاعی بندوبست میں پاکستان کے لیے ایک نیا دروازہ کھل چکا ہے۔

مشرق وسطی میں امریکی عسکری موجودگی محدود ہونے پر کیا پاکستان دفاعی خلا پُر کر سکتا ہے؟

پاکستان کے ممکنہ کردار کو عملی شکل دینے میں چین کہاں کھڑا ہو سکتا ہے؟

پاکستان کا ممکنہ کردار صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ سعودی عرب اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایران اسے کس حد تک قبول کرتا ہے، چین اس  دفاعی بندوبست کے پیچھے کس حد تک سیاسی وزن ڈالتا ہے، اور باقی خطہ اس کو کیسے لیتا ہے۔

عامر متین کا خیال ہے کہ ایران کے لیے اصل مسئلہ پاکستان نہیں، بلکہ خطے میں موجود امریکی اڈے، اسرائیلی حملے، اور خلیجی سرزمین کا اپنے خلاف استعمال ہے۔ اگر پاکستان کا کردار امریکی موجودگی کی نئی شکل بننے کے بجائے امریکہ کے انخلا یا اس کے عسکری کردار کی کمی کا راستہ بنتا ہے، تو تہران کے لیے اسے مکمل طور پر رد کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر ایران کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ بندوبست اس کے خلاف کسی نئے محاذ کی بنیاد نہیں بنے گا، تو اس کے لیے اسے برداشت کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

چین اس پورے معاملے میں براہِ راست فوجی طاقت کے طور پر سامنے نہیں آ رہا، مگر عملی صورت میں اس کا اصل کردار سیاسی پشت پناہی، سفارتی وزن اور اقتصادی سہارا دینے کا ہو سکتا ہے۔ چین کو خلیج میں استحکام چاہیے، اسے توانائی کی مسلسل فراہمی چاہیے، اور یقیناً وہ ایسا بندوبست پسند کرے گا جس میں پورا خطہ تصادم کی طرف نہ جائے۔ پاکستان اس کے لیے ایک فطری شراکت دار ہے، کیونکہ وہ خلیج، ایران اور چین تینوں کے درمیان ایک قابلِ عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔

اسرائیل، بھارت اور یو اے ای اس نئے بندوبست کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں؟

لیکن اس پوری تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر واقعی پاکستان، سعودی عرب، ایران اور کسی حد تک چین کے ساتھ مل کر ایک نیا علاقائی نظام بنتا ہے، تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کون اس انتظام کے حق میں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہوگا کہ کون اسے اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیل کا کردار سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل ایسے کسی علاقائی دفاعی انتظام کو اپنے حق میں نہیں دیکھے گا جس میں ایران پر دباؤ کم ہو، سعودی عرب کسی نئے علاقائی توازن  کے ذریعے اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کرے ، اور پاکستان ایک ایسے سکیورٹی ضامن کے طور پر ابھرے جو نہ صرف مسلم دنیا میں قابلِ قبول ہو بلکہ چین کی سیاسی پشت پناہی بھی رکھتا ہو۔ بھارت کا معاملہ بھی اس سے الگ نہیں۔ اگر پاکستان کی علاقائی اہمیت خلیج کے دفاع میں بڑھتی ہے، تو یہ نئی دہلی کے لیے خوش آئند پیش رفت نہیں ہوگی۔ ایسے میں وہ کوشش کرے گا کہ اس امکان کو محدود کیا جائے، چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا بیانیے کی سطح پر۔

اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کا رویہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یو اے ای کی پوزیشن سعودی عرب جیسی سیدھی نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے امریکہ، اسرائیل اور بھارت تینوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اس لیے اگر خطے میں کوئی نیا بندوبست بنتا ہے تو ابوظہبی فوری طور پر اس میں شامل ہونے کے بجائے پہلے یہ دیکھے گا کہ اس کے اپنے معاشی مفادات پر کیا اثر پڑتا ہے، اس سے کون سے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، اور خطے میں طاقت کا توازن کس طرف جا رہا ہے۔

کیا خطے میں عرب و عجم کی صدیوں پرانی کشیدگی ختم ہونے کو ہے؟

اسلام آباد مذاکرات نے یقیناً یہ ثابت نہیں کیا کہ پاکستان اب خلیج کا نیا محافظ بننے جا رہا ہے۔ لیکن ان مذاکرات نے ایک بڑی حقیقت ضرور واضح کر دی ہے کہ  خطے کا پرانا سکیورٹی بندوبست پہلے جیسا نہیں رہے گے، اور اس کی جگہ کسی نئے انتظام کی بحث اب صرف قیاس آرائی نہیں، بلکہ عملی سطح پر سنجیدگی سے ہونے لگی ہے۔

اگر یہ ابھرتا ہوا ماڈل واقعی عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کی ساخت کچھ یوں ہو سکتی ہے: چین وسیع تر تزویراتی پشت پناہی، سیاسی وزن اور استحکام کا ڈھانچہ فراہم کرے ۔ پاکستان  اس حوالے سےاعتماد سازی، عملی رابطے بڑھائے اور محدود دفاعی تعاون کی سطح سنبھالے جب کہ  خلیجی ریاستیں اس سے نسبتاً زیادہ تحفظ اور کم یک طرفہ انحصار حاصل کریں اور امریکہ بغیر مکمل پیچھے ہٹے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے؛ اور ایران پر براہِ راست فوجی دباؤ میں نسبتاً کمی آئے، جس سے اس کے لیے ایسے بندوبست کو مکمل رد کرنا زیادہ مشکل ہو جائے۔

دوسرے لفظوں میں، ابھرتا ہوا منظرنامہ کسی ایک نئی طاقت کے ذریعے امریکی غلبے کی جگہ لینے کا نہیں، بلکہ کرداروں کی نئی تقسیم کا ہو سکتا ہے۔ جہاں کبھی امریکہ بیک وقت ثالث بھی تھا اور ضامن بھی، وہاں مستقبل میں یہ دونوں کردار الگ ہو سکتے ہیں: پاکستان اعتماد اور عملدرآمد کے خلا کو پُر کرے، جبکہ چین وسیع تر تزویراتی یقین دہانی فراہم کرے۔

کیا ایران واقعی ایسے کسی نئے بندوبست پر اعتماد کرے گا؟ کیا سعودی عرب پاکستان کو محدود تعاون سے آگے بڑھا کر زیادہ بڑا دفاعی کردار دے گا؟ کیا چین صرف سیاسی حمایت تک رہے گا یا عملی وزن بھی ڈالے گا؟ یو اے ای اس نئی ترتیب کا حصہ بنے گا یا محتاط فاصلہ رکھے گا؟ اسرائیل اور بھارت کیا ایسے کسی عمل کو خاموشی سے آگے بڑھنے دیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا امریکہ واقعی اتنا پیچھے ہٹنا چاہتا ہے کہ کوئی نیا علاقائی بندوبست اس کی جگہ بننا شروع ہو جائے؟ ابھی ان سوالوں کے واضح جواب موجود نہیں۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ اسلام آباد میں صرف ایک مذاکراتی دور ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک بڑی بحث زیادہ واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ سب محض وقتی سفارتی ہلچل تھی، یا واقعی خلیج کے دفاعی اور سیاسی نقشے میں ایک نئی ترتیب جنم لے رہی ہے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔