فون ہے یا جراثیم کا گھر؟

تحریر: سدرہ عابد
صبح اٹھتے ہی ہم سب سے پہلے کیا اٹھاتے ہیں؟

فون۔
اور شاید یہی وہ چیز ہے جسے ہم سب سے کم صاف کرتے ہیں۔
لیکن کیا یہ واقعی اتنا گندا ہو سکتا ہے؟
جواب… حیران کن ہے۔
ایک چونکا دینے والا سچ
سائنسدانوں کے مطابق، موبائل فون پر جراثیم کی مقدار واقعی خطرناک حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایک مشہور تحقیق (University of Arizona) کے مطابق موبائل فون پر ٹوائلٹ سیٹ کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ بیکٹیریا ہو سکتے ہیں

ایک جدید تحقیق میں صرف 20 فونز پر2,200 سے زائد مائیکروبیل نشانات (بیکٹیریا، وائرس، فنگس) پائے گئےیعنی ہم جو چیز روزانہ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں…
وہ ایک “portable germ hub” بن سکتی ہے۔

فون ہے یا جراثیم کا گھر؟

مسئلہ صرف تعداد کا نہیں تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ:
56 مختلف مطالعات میں سے زیادہ تر موبائل فونز پر بیکٹیریا موجود تھے

ان میں سے کچھ خطرناک اقسام جیسے:

Staphylococcus aureus

E. coli
بھی پائے گئے

اور ایک تحقیق کے مطابق:
90٪ سے زیادہ فونز پر خطرناک یا resistant بیکٹیریا موجود تھے

ہم خود یہ مسئلہ کیوں بڑھاتے ہیں؟

اصل بات یہ ہے کہ فون گندا نہیں ہوتا… ہم اسے گندا کرتے ہیں۔

ایک تحقیق میں 67٪ لوگوں نے اعتراف کیا کہ وہ فون کو ٹوائلٹ میں بھی استعمال کرتے ہیں
ہم اسے:
کھانے کے دوران
پبلک جگہوں پر
بستر میں
اور ہر جگہ استعمال کرتے ہیں مگر صاف نہیں کرتے۔

خطرہ کتنا سنجیدہ ہے؟

یہ جراثیم:
ہاتھوں سے کھانے میں جا سکتے ہیں
جلدی انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں
اور بعض کیسز میں معدے یا سانس کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں
یہ فوری بیماری تو نہیں دیتے لیکن مسلسل exposure ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔
آسان حل، جسے ہم نظرانداز کرتے ہیں

فون ہے یا جراثیم کا گھر؟

آج کے دور میں موبائل فون صرف بڑوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بچے بھی اس کے بے حد عادی ہو چکے ہیں۔ کھیل کود اور باہر کی سرگرمیوں کے بجائے بچے گھنٹوں اسکرین کے سامنے گزار دیتے ہیں۔ لیکن اکثر والدین اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ یہ وہی فون ہے جو دن بھر مختلف ہاتھوں سے گزرتا ہے—اور ان ہاتھوں کے ساتھ جراثیم بھی اس پر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ بچے چونکہ صفائی کی عادتوں میں ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ انہی آلودہ اسکرینز کو بار بار چھوتے ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق:
روزانہ ہلکی صفائی (wiping)
ہفتے میں کم از کم ایک بار disinfect کرنا اور ٹوائلٹ میں فون کا استعمال کم کرنا آپ کے رسک کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے
ہم اپنے ہاتھ دن میں کئی بار دھوتے ہیں لیکن اسی ہاتھ سے بار بار ایک ایسی چیز کو چھوتے ہیں
جو شاید ان ہاتھوں سے بھی زیادہ گندی ہے۔
موبائل فون جو کہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے وہی یہ خاموشی سے ہمیں جراثیم سے بھی جوڑ رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ فون کتنا smart ہے…
سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کتنے smart ہیں۔

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔