مارچ کی وہ ہوا جس میں سردی ابھی باقی ہو مگر مٹی کی خوشبو بدلنے لگے، عام طور پر موسم کی خبر دیتی ہے۔ یاسین میں یہی ہوا بدلتا موسم ہر شے پر اثر انداز نظر آیا۔ یہ تبدیلی ایک اور بات بھی بتاتی ہے کہ زمین جاگ رہی ہے، اور اس کے ساتھ ایک پورا معاشرہ بھی۔ غذر کی سڑک سے وادیِ یاسین میں داخل ہوتے ہوئے جب دور سے شہنائی کی آواز سنائی دیتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آج جشنِ تخم ریزی ہے، تو پہلا سوال یہی بنتا ہے۔
کیا یہ صرف ایک مقامی میلہ ہے یا اس سے کہیں زیادہ بڑی چیز؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ایسے تہواروں کو اکثر صرف رنگ، موسیقی اور روایت کے خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یاسین کا جشن بتاتا ہے کہ بعض رسمیں صرف دیکھی نہیں جاتیں، پڑھی بھی جاتی ہیں۔ ان کے اندر ایک پورا نظام چھپا ہوتا ہے: پانی کا نظام، کھیتی کا نظام، سماجی ربط کا نظام، اور سب سے بڑھ کر یادداشت کا نظام۔ یاسین میں تخم ریزی کا جشن دراصل اسی اجتماعی شعور کی سالانہ تجدید ہے۔
900 سال کا دعویٰ صرف روایت ہے یا ایک زندہ و جاوید ورثہ؟
مقامی روایت کے مطابق اس جشن کی عمر قریب 900 سال ہے، اور یہی بات اسے معمولی ثقافتی تقریب نہیں رہنے دیتی۔ اگر کوئی رسم صرف پرانی ہو مگر بے معنی ہو جائے تو وہ عجائب گھر کی چیز بن جاتی ہے۔ مگر اگر وہ نسل در نسل زندہ بھی رہے، لوگوں کی عملی زندگی میں بھی شامل ہو، اور ہر سال اسی سماجی سنجیدگی کے ساتھ منائی جائے، تو پھر اسے صرف “قدیم روایت” کہنا کم پڑ جاتا ہے۔
راجہ جہانزیب کے مطابق خاندانِ خوشوقت اس رسم کے تسلسل کا محافظ رہا ہے۔ اس دعوے کی اصل اہمیت عدد میں نہیں بلکہ تسلسل میں ہے۔ نو سو سال کا مطلب صرف یہ نہیں کہ یہ رسم پرانی ہے، بلکہ یہ کہ اس وادی نے اپنے وجود کی ایک بنیادی ڈوری کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ سلطنتیں بدلتی رہیں، سرحدیں کھینچی گئیں، ریاستی ڈھانچے بدلے، مگر یاسین میں مارچ آتے ہی کوہل(واٹر چینل) صاف کرنے، بیج ڈالنے اور اجتماعی رسم ادا کرنے کا سلسلہ باقی رہا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں تاریخ صرف ماضی نہیں رہتی، سماجی طاقت بن جاتی ہے۔
جشن کی اصل ابتدا کوہل(واٹر چینل) کی صفائی سے کیوں ہوتی ہے؟
اس جشن کا سب سے اہم اور شاید سب سے بامعنی منظر وہ نہیں جب شہنائی بجتی ہے، بلکہ وہ ہے جب پورا گاؤں مل کر کوہل صاف کرتا ہے۔ کوہل، یعنی وہ آبپاشی کا نالہ جس سے کھیتوں کو پانی ملتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عملی کام ہے، مگر دراصل یہی اس رسم کا فکری مرکز ہے۔ پہلے پانی کا راستہ صاف کیا جاتا ہے، پھر بیج مٹی میں اتارا جاتا ہے۔ یعنی خوشی سے پہلے ذمہ داری، رسم سے پہلے محنت، اور امید سے پہلے انتظام۔

اسی ایک عمل میں پورا زرعی فلسفہ سمٹ آتا ہے۔ اگر پانی کا راستہ بند ہو تو بیج کی امید بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یاسین کا جشن ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ فصل صرف بیج سے نہیں اگتی، اجتماعی نظم سے اگتی ہے۔ آج جب پانی کے بحران، آبپاشی کے مسائل اور ماحولیاتی دباؤ پر عالمی سطح پر بات ہوتی ہے، تو یاسین جیسے علاقے یاد دلاتے ہیں کہ مقامی معاشرے صدیوں سے اپنے حالات کے مطابق آبی نظم بناتے اور بچاتے آئے ہیں۔ یہاں پانی صرف وسائل میں سے ایک وسیلہ نہیں، مشترک بقا کی شرط ہے۔
کیا یہ تہوار اصل میں پانی، کھیتی اور بقا کے رشتے کو زندہ رکھتا ہے؟
یاسین کے جشنِ تخم ریزی کو صرف ثقافتی میلہ کہنا اس کی اصل معنویت کم کرنا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک زرعی سال کے آغاز کی اجتماعی تقریب ہے، اور اس کی پوری ساخت اسی حقیقت کے گرد بنی ہوئی ہے۔ بیج، پانی، دعا، زمین اور محنت یہاں الگ الگ چیزیں نہیں، ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یاسین کے لوگ گویا ہر سال یہ اعلان کرتے ہیں کہ کھیتی نجی معاملہ ضرور ہو سکتی ہے، مگر اس کی بنیادیں اجتماعی ہیں۔
اسی لیے اس تہوار میں شرکت بھی محض نمائشی نہیں ہوتی۔ ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر اس نظام کا حصہ بنتا ہے۔ کوہل کی صفائی میں ہاتھ لگانا، دعا میں شریک ہونا، رسم میں شامل ہونا، کھانے بانٹنا، سب ایک ہی بات کی توسیع ہیں: بقا تنہا ممکن نہیں۔ یہ پیغام آج کے انفرادی دور میں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے، جہاں معاشرتی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں اور تہوار بھی اکثر تصویر اور نمائش تک سکڑتے جا رہے ہیں۔
خاندانِ خوشوقت کی موجودگی صرف علامت ہے یا مقامی تاریخ کا ستون؟
اس سال میلے کا باقاعدہ آغاز خاندانِ خوشوقت کے آخری راجہ غلام دستگیر کی رہائش گاہ سے ہوا۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس راجہ جلال الدین، جو راجہ غلام دستگیر کے بیٹے ہیں، کی سربراہی اور خلیفہ شاہ گل حسین کے دعائیہ کلمات نے اس آغاز کو محض رسمی تقریب نہیں رہنے دیا۔ یہاں ایک پرانا گھر، ایک قدیم خاندان، ایک اجتماعی دعا اور ایک بڑی عوامی موجودگی اکٹھی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جدید دور میں بھی ایسے خاندانی اور مقامی مراکز کیوں اہم رہتے ہیں؟

اس کا جواب طاقت کی رسمی سیاست میں نہیں بلکہ سماجی تسلسل میں ہے۔ بعض خاندان یا مقامی ادارے صرف اقتدار کی علامت نہیں ہوتے، وہ یادداشت کے ستون بھی ہوتے ہیں۔ یاسین میں خاندانِ خوشوقت کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یہاں کا معاشرہ صرف انتظامی حد بندیوں سے نہیں بنا، بلکہ ایک طویل تاریخی ربط سے تشکیل پایا ہے۔ لوگ اس رسم کے ذریعے صرف فصل کے موسم میں داخل نہیں ہوتے، وہ اپنی تاریخ سے دوبارہ جڑتے ہیں۔
شہنائی، گھوڑے اور رسہ کشی صرف تفریح ہیں یا سماجی شرکت کی زبان؟
رسم کے اگلے مناظر میں دیسی ثقافتی دھنیں شروع ہوتی ہیں، شہنائی بجتی ہے، گھوڑے میدان میں اترتے ہیں، رسہ کشی ہوتی ہے۔ سطحی نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب کسی بھی مقامی میلے کی مانوس تصویریں لگ سکتی ہیں۔ مگر ایکسپلینر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سوال یہ بنتا ہے کہ یہ سرگرمیاں اس جشن میں کیا کردار ادا کرتی ہیں؟

اصل میں یہ سب اجتماعی شرکت کے طریقے ہیں۔ یہ تہوار صرف دیکھا نہیں جاتا، جیا جاتا ہے۔ لوگ ناظر نہیں رہتے، شریک بنتے ہیں۔ یہی فرق کسی زندہ روایت اور نمائشی تقریب میں ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے تہوار میں جسمانی، سماجی اور جذباتی سطح پر شامل ہو، تو وہ رسم محض ثقافتی یادگار نہیں رہتی بلکہ فعال سماجی ربط پیدا کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب بہت سے تہوار اسکرینوں میں قید ہو چکے ہیں، یاسین میں جشن اب بھی میدان، گھر، کھیت اور گاؤں کے بیچ سانس لیتا ہے۔

400 سال پرانے گھر میں جلتی آگ ہمیں کیا بتاتی ہے؟
دوسرے روز علاقہ نمبردار کے 400 سال پرانے گھر میں ثقافتی پروگرام ہوا۔ یہ تفصیل محض عمارت کی عمر بتانے کے لیے اہم نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک گھر جو صدیوں کی تبدیلیاں دیکھ چکا ہو، آج بھی رسم کا مرکز کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض جگہیں صرف اینٹ اور لکڑی نہیں ہوتیں، وہ اجتماعی یادداشت کے برتن بن جاتی ہیں۔
اسی روز قریبی کھیت کے بیچ آگ جلائی گئی، آٹا پھینکا گیا، اور چنگاریاں آسمان کی طرف اٹھیں۔ مقامی تصور کے مطابق یہ رسم ان نادیدہ قوتوں کو دور کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے جو فصل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہاں دو آسان مگر ادھورے ردعمل ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسے فوراً توہم پرستی کہہ کر رد کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ اسے محض رومانوی قدامت کا حصہ بنا کر سراہا جائے۔ دونوں تعبیرات مکمل نہیں۔ زیادہ سنجیدہ سوال یہ ہے کہ ایک زرعی معاشرہ اپنے خوف، خطرے اور امید کو کس علامتی زبان میں بیان کرتا ہے؟

یہ رسم دراصل اسی سوال کا جواب ہے۔ سائنس سے پہلے بھی انسان کے پاس مشاہدہ تھا، اندیشہ تھا، فطرت کا تجربہ تھا، اور ان سب کو معنی دینے کے لیے رسم تھی۔ اس لیے ایسی روایت کو سمجھنے کے لیے طنز نہیں، عاجزی درکار ہے۔ جدید علم اپنی جگہ اہم ہے، مگر قدیم معاشروں کی علامتی زبان کو محض جہالت سمجھ لینا خود ایک علمی کمی ہے۔
"ما کوتی "صرف میٹھی ڈش ہے یا خوشی بانٹنے کی روایت؟
یاسین کے ہر گھر میں اس دن “ما کوتی” بنتی ہے۔ اخروٹ یا خوبانی کے تیل سے تیار کی جانے والی یہ مخصوص میٹھی ڈش پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو بھیجی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ تہذیبی روایت ہے، مگر یہاں بھی سوال یہی ہے کہ اس عمل کی اصل اہمیت کیا ہے؟

اصل اہمیت یہ ہے کہ خوشی کو گھر کی چار دیواری میں بند نہیں رہنے دیا جاتا۔ وہ برتن میں رکھ کر دوسرے کے دروازے تک جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تہوار صرف انفرادی مسرت نہیں بلکہ سماجی تبادلے کا موقع بھی ہے۔ کسی معاشرے کی اصل طاقت صرف اس کے بڑے نعروں میں نہیں ہوتی، وہ اس کے چھوٹے مگر مسلسل اعمال میں بھی ہوتی ہے۔ “ما کوتی” اسی طرح کا عمل ہے۔ یہ گویا یاسین کا یہ اعلان ہے کہ خوشی اپنی اصل شکل میں تبھی مکمل ہوتی ہے جب اسے بانٹا جائے۔
کیا بیرونی دنیا کا گلگت بلتستان کے متعلق بیانیہ ادھورا ہے؟
گلگت بلتستان کے بارے میں باہر سے آنے والا بیانیہ اکثر سیاست، سرحدوں، آئینی حقوق اور جغرافیائی اہمیت کے گرد گھومتا ہے۔ یہ سب موضوعات اہم ہیں اور انہیں کم نہیں کیا جا سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی پورا خطہ ہے؟ یاسین کا جشنِ تخم ریزی بتاتا ہے کہ نہیں۔ اس خطے کو صرف سیاسی مسئلے یا سرحدی پٹی کے طور پر پڑھنا اس کے اندر موجود تہذیبی گہرائی کو نظر انداز کرنا ہے۔
یاسین کی کوہل، اس کی اجتماعی محنت، اس کی 900 سالہ یادداشت، اس کی رسمیں، اس کے گھر، اس کی دعائیں اور اس کی بانٹنے والی خوراک یہ سب مل کر ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ وہ کہانی یہ ہے کہ اس سرزمین کی طاقت صرف پہاڑوں، گلیشیروں یا معدنیات میں نہیں، اس کے زندہ حافظے میں بھی ہے۔ جو معاشرہ اپنے بنیادی موسمی اور زرعی عمل کو صدیوں تک ثقافتی رسم میں بدل کر محفوظ رکھ سکے، اسے محض پسماندہ یا محتاج خطہ سمجھنا فکری ناانصافی ہے۔
پانی کے عالمی دن کے ساتھ اس رسم کی مماثلت اتفاق ہے یا لوک دانش؟
متن میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ اس رسم کے ایام کا انتخاب صدیوں پہلے کیا گیا اور آج یہ زمانہ پانی کی اہمیت کے عالمی شعور سے بھی جڑتا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں احتیاط لازم ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یاسین نے جدید دنیا کو پانی کی اہمیت سکھائی۔ مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے نے اپنے ماحول، زمین اور کھیتی کی ضرورتوں کے مطابق ایک ایسا مقامی فہم پیدا کیا جو پانی کو محض قدرتی شے نہیں بلکہ زندگی کے مرکز کے طور پر دیکھتا تھا۔
یہی اس رسم کی سب سے اہم وضاحت ہے۔ یاسین کے لوگوں نے اپنے موسمی تجربے، زرعی ضرورت اور اجتماعی مشاہدے کی بنیاد پر ایک ایسا وقت چنا جب پانی کا راستہ کھولنا، بیج ڈالنا اور نئے زرعی سال کا آغاز ایک ساتھ معنی رکھتے تھے۔ آج ہم اسے مقامی ماحولیاتی دانش کہہ سکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، یہ وہ علم ہے جو کتاب سے پہلے زندگی سے پیدا ہوا۔
واپسی پر مارچ کی ہوا میں جب مٹی کی خوشبو پھر محسوس ہوتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خوشبو صرف موسم کی نہیں، یاد کی بھی ہے۔ یاسین کا جشنِ تخم ریزی دراصل ہر سال ایک ہی بنیادی سوال کا جواب بنتا ہے: کیا ایک معاشرہ اپنی زمین، اپنے پانی، اپنی کھیتی اور اپنی یاد کے ساتھ اب بھی جڑا ہوا ہے؟
یاسین اس سوال کا جواب الفاظ میں نہیں دیتا۔ وہ کوہل صاف کر کے دیتا ہے۔ بیج مٹی میں اتار کر دیتا ہے۔ دعا کے ساتھ دیتا ہے۔ شہنائی کے ساتھ دیتا ہے۔ آگ کی رسم کے ساتھ دیتا ہے۔ “ما کوتی” بانٹ کر دیتا ہے۔ اور یہی اس جشن کی اصل معنویت ہے۔ یہ صرف ایک تہوار نہیں، بقا کا ایک اجتماعی اعلان ہے۔ ایک ایسی سالانہ تجدید، جو بتاتی ہے کہ یادداشت جب عمل میں بدل جائے تو وہ تاریخ نہیں رہتی، طاقت بن جاتی ہے۔
یاسین کا جواب آج بھی وہی ہے۔ ہاں، ہم ابھی یہاں ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ 900 سال سے یہ جواب صرف کہا نہیں جا رہا، جیا جا رہا ہے۔




