جب گواہ بول رہے تھے، دنیا کہاں تھی؟

تحریر: محمد اکمل خان

لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر میں غزہ پر ایک غیر سرکاری عوامی ٹربیونل کی سماعت ہو رہی تھی۔ وہاں صرف قانونی بحث نہیں ہو رہی تھی۔ وہاں 29 ایسے گواہ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے ملبے سے لاشیں نکالیں، زخمی بچوں کو اٹھایا، تباہ ہوتے ہسپتال دیکھے، اور ان بستیوں سے گزرے جہاں کبھی زندگی آباد تھی۔ اس رپورٹ نے صرف تباہی کے اعداد نہیں گنوائے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس جنگ کو سیاسی، عسکری اور معاشی سہارا کس نے دیا۔ اصل سوال یہی ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہوتا رہا، دنیا نے اسے جانتے ہوئے بھی نظر انداز کیسے کیا؟

Gaza Tribunal launches to expose Britain's role in genocide : Peoples Dispatch

غزہ اب صرف ہلاکتوں اور تباہی کے اعداد کی کہانی نہیں رہا۔ یہ ایک ایسی انسانی دنیا کی کہانی بن چکا ہے جسے سوچے سمجھے طریقے سے توڑا گیا۔ ایک باپ ملبے پر بیٹھا ہے، ہاتھ میں اپنے بچے کا جوتا ہے، مگر اس کے چہرے پر ایسا دکھ ہے جس میں چیخ بھی باقی نہیں رہی۔ ایک ماں جلی ہوئی دیوار کے سائے میں بیٹھی ہے اور اب تک یقین نہیں کر پا رہی کہ یہی اس کا گھر تھا۔

These numbers show how 2 years of war have devastated Palestinian lives in Gaza : NPR

ہسپتال اگر پناہ گاہ نہ رہیں تو انسان کہاں جائے؟

جنگ میں ہسپتال آخری جائے پناہ ہوتے ہیں۔ غزہ میں یہی آخری پناہ گاہ بھی بار بار نشانہ بنی۔ عالمی ادارۂ صحت کی جنوری 2026 کی دستاویز کے مطابق غزہ کے 36 میں سے 34 ہسپتال تباہ ہو چکے تھے۔ 31 اگست 2025 تک صرف 18 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے تھے، جبکہ 163 میں سے صرف 39 فیصد بنیادی صحت مراکز فعال تھے۔ تازہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ صحت کا نظام اس حد تک ٹوٹ چکا ہے کہ پناہ کی کوئی علامت بھی باقی نہیں رہی۔

یہ صرف عمارتوں کے گرنے کی بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کبھی آپریشن تھیٹر تھا، وہاں اب نہ سامان ہے، نہ ڈاکٹر، نہ دوا۔ ایمبولینس موجود ہے مگر اس میں ایندھن نہیں۔ مارچ 2026 میں عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا کہ گاز، سوئیاں، جراحی کا سامان اور ایندھن خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ اسی وقت 18 ہزار سے زیادہ مریض ایسے تھے جنہیں فوری طبی انخلا کی ضرورت تھی، مگر وہ غزہ میں ہی پھنسے رہے۔ ایک زخمی بچے کے لیے یہ صرف ایک عدد نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علاج قریب ہونے کے باوجود راستہ بند ہے۔

جب بھوک کو ہتھیار بنا لیا جائے، تو کیا محاصرہ صرف شہر کا ہوتا ہے؟

بم کبھی ایک لمحے میں جان لے لیتا ہے، مگر بھوک انسان کو آہستہ آہستہ موت کی طرف دھکیلتی ہے۔ غزہ میں یہ دوسرا چہرہ بھی پوری شدت سے سامنے آیا۔ 19 مارچ 2026 تک اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر اوچا کے مطابق کرم شالوم عملاً واحد فعال داخلی راستہ تھا، جبکہ دوسرے اہم راستے بند یا سخت محدود تھے۔ جب ایک پورے علاقے کی خوراک، دوائیں اور ایندھن ایک ہی راستے تک محدود ہو جائیں تو بحران صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہتا، وہ پالیسی بن جاتا ہے۔

غذائی بحران کے اعداد بھی ہولناک ہیں۔ مربوط غذائی مرحلہ بندی کے تجزیے کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 6 سے 59 ماہ عمر کے تقریباً 71 ہزار بچوں میں شدید غذائی قلت متوقع تھی۔ ان میں 14 ہزار 100 کیس ایسے ہو سکتے تھے جو انتہائی سنگین نوعیت کے ہوں۔ اوچا کے جون 2025 کے جائزے نے بھی یہی تصویر پیش کی۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خوراک کم تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں بچے اس مرحلے میں داخل ہو رہے تھے جہاں جسم زندہ رہنے کے لیے خود کو ہی کھانا شروع کر دیتا ہے۔

امدادی رپورٹس میں اسی بحران کی ایک اور جھلک ملی۔ 2025 کے دوران 94 ہزار 455 شدید غذائی قلت کے کیس سامنے آئے، جن میں تقریباً 19 ہزار بچے انتہائی سنگین غذائی قلت کا شکار تھے۔ ایک ماں کے خالی برتن اور ایک بچے کے سوکھے بازو کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ صرف غربت کا نہیں بلکہ روکی گئی خوراک تک رسائی کا بھی ہے۔ غزہ میں بھوک حادثہ نہیں رہی، وہ محاصرے کی زبان بن گئی۔

جب گھر ٹوٹتا ہے تو کیا صرف چھت گرتی ہے؟

اگر ہسپتال امید کی آخری جگہ تھے تو گھر انسانی وقار کی پہلی جگہ تھے، اور غزہ میں یہی جگہ سب سے زیادہ تباہ ہوئی۔ فلسطینی شماریاتی ادارے نے اکتوبر 2025 میں رپورٹ کیا کہ ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد عمارتیں متاثر ہوئیں۔ ان میں سے ایک لاکھ سے زیادہ مکمل طور پر منہدم ہو گئیں، جبکہ متاثرہ رہائشی یونٹس کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کے گھروں کا بہت بڑا حصہ، بعض اندازوں کے مطابق 92 فیصد تک، تباہ یا متاثر ہو چکا تھا۔

گھر کے تباہ ہونے کا مطلب صرف بے گھر ہونا نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ایک خاندان کی پوری زندگی کا مٹ جانا بھی ہوتا ہے۔ دیواروں پر لگی بچوں کی تصویریں، الماری میں رکھی شادی کی چادریں، امتحان کی کاپیاں، دواؤں کی پرچیاں، جائے نماز، برتن، چارپائی، دروازے پر لکھا نام، سب ملبے میں دفن ہو جاتے ہیں۔ جنگ جب گھر پر گرتی ہے تو صرف چھت نہیں چھینتی، جینے کا حوصلہ بھی توڑ دیتی ہے۔ غزہ میں یہی ہوا۔ وہاں پھیلا ہوا ملبہ صرف کنکریٹ کا نہیں، ایک آباد ماضی کا بھی ہے۔

ایک قوم کے کل پر حملہ کیسے ہوتا ہے؟

جنگ میں سب سے بھاری قیمت اکثر وہ طبقہ ادا کرتا ہے جو اپنے دفاع کے لیے لڑ بھی نہیں رہا ہوتا، یعنی بچے۔ یونیسیف نے مئی 2025 میں کہا کہ غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے یا تو مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ یہ عدد خود اتنا بڑا ہے کہ زبان اسے سنبھالتے ہوئے رک جاتی ہے۔ مگر اصل صدمہ یہ ہے کہ تباہی صرف جسموں تک محدود نہیں رہی۔

Israel is burning Gaza's children. And the world lets it happen | Israel-Palestine conflict | Al Jazeera

ستمبر 2025 میں جاری اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق 17 ہزار سے زائد طلبہ اور 700 سے زیادہ تعلیمی عملے کے افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ 26 ہزار سے زیادہ طلبہ اور 3 ہزار سے زائد اساتذہ زخمی ہوئے۔ تقریباً 7 لاکھ سے زائد اسکول جانے کی عمر کے بچے رسمی تعلیمی جگہوں سے محروم ہو گئے۔ نومبر 2025 میں یونیسیف نے کہا کہ 97 فیصد سے زیادہ اسکول تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں، اور 91.8 فیصد تعلیمی سہولتوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے بڑی مرمت یا مکمل تعمیر نو درکار ہو گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں جنگ صرف آج کو نہیں مار رہی، وہ آنے والے کل کو بھی زخمی کر رہی ہے۔ جب بچہ کتاب سے پہلے دھماکے کی آواز پہچاننے لگے، جب سبق خیمے میں ہو اور امتحان ملبے کے ڈھیر کے پاس، تو یہ صرف تعلیمی خلل نہیں رہتا۔ یہ ایک پوری نسل کی ذہنی، سماجی اور قومی ساخت پر حملہ بن جاتا ہے۔ ایسے زخم برسوں میں نہیں، دہائیوں میں بھرتے ہیں۔

سچ کو خاموش کرنے کی قیمت کتنی بڑی تھی؟

ہر جنگ میں ایک محاذ سچ کا بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ ظلم کے سامنے گواہی دیتے ہیں، وہ ہمیشہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 18 مارچ 2026 تک اس جنگ میں کم از کم 255 صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے تھے، جن میں 213 غزہ میں تھے۔ اسی ادارے کی فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں صحافیوں کے قتل کے 81 فیصد کیسز کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

یہ تصویر صرف ایک ادارے کی نہیں۔ اقوام متحدہ نے 2025 میں فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے حوالے سے بتایا کہ 245 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے، 500 سے زائد زخمی ہوئے، 39 گرفتار کیے گئے، اور ان کے کم از کم 800 سے زائد اہل خانہ بھی مارے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں صحافی صرف خبر نہیں دے رہا تھا۔ وہ اپنی جان، اپنے خاندان اور اپنے شہر کی تباہی کے درمیان کھڑا ہو کر گواہی دے رہا تھا۔ جب ایسے لوگوں کو خاموش کر دیا جائے تو صرف ایک آواز نہیں مرتی، سچ تک پہنچنے کا ایک راستہ بند ہو جاتا ہے۔

More than 250 media outlets protest over Israel murdering Gaza journalists

کیا صرف حملہ آور ذمہ دار ہے، یا وہ بھی جو اسے سہارا دیتے ہیں؟

یہاں آ کر غزہ ٹربیونل کی رپورٹ اپنا سب سے اہم سوال اٹھاتی ہے۔ یہ کوئی سرکاری عدالت نہیں تھی بلکہ ایک غیر سرکاری عوامی فورم تھا۔ مگر اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ برطانوی حکومت نے غزہ کی تباہی میں صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ سیاسی، عسکری اور معاشی تعاون کے ذریعے اس جنگ کو ممکن بنانے میں حصہ بھی لیا۔ رپورٹ میں 29 گواہوں کی شہادتوں کی بنیاد پر یہی مرکزی نکتہ سامنے آیا کہ ظلم کو ہوتے دیکھنا اور اس کی مدد کرنا، دونوں کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے۔

یہیں اصل تضاد بھی ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا انسانی حقوق، جنگی قوانین، بچوں کے تحفظ اور صحافت کی آزادی کے بڑے دعوے کرتی ہے۔ مگر غزہ میں انہی اصولوں کو بارود سے اڑا دیا گیا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ بم کس نے گرایا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اسلحہ کس نے دیا، سفارتی ڈھال کس نے فراہم کی، زبان کس نے نرم رکھی، اور ثبوت سامنے آنے کے باوجود تعاون کس نے نہیں روکا۔ اسی مقام پر ریاستی خاموشی صرف اخلاقی کمزوری نہیں رہتی، سیاسی کردار بن جاتی ہے۔

اور آخر میں، جب گواہ بول رہے تھے تو دنیا کہاں تھی؟

غزہ کی کہانی آخرکار انہی گواہوں تک واپس جاتی ہے۔ وہ ڈاکٹر جو خالی ہوتے وارڈ میں بھی ڈٹے رہے۔ وہ مائیں جو ملبے میں اپنے بچوں کے نام پکارتی رہیں۔ وہ صحافی جنہوں نے اپنے ہی شہر کی موت ریکارڈ کی۔ وہ استاد جنہوں نے خیموں میں بھی سبق کا سلسلہ نہیں ٹوٹنے دیا۔ اور وہ 29 گواہ جنہوں نے لندن میں کھڑے ہو کر اعداد کو انسانی چہروں میں بدل دیا۔

جب ہسپتال تباہ ہو رہے تھے، جب 18 ہزار مریض علاج کے انتظار میں پھنسے تھے، جب 71 ہزار بچوں پر غذائی قلت کا خطرہ منڈلا رہا تھا، جب تقریباً 2 لاکھ عمارتیں متاثر ہو چکی تھیں، جب 97 فیصد اسکول تباہ یا مخدوش ہو چکے تھے، اور جب 255 صحافی مارے جا چکے تھے، تو سوال صرف اسرائیلی کارروائی کا نہیں رہ جاتا۔ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ اس سب کے دوران دنیا کی طاقتور ریاستیں کیا کر رہی تھیں۔

غزہ کے گواہ آج بھی بول رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے کیا دیکھا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے جانتے ہوئے کیا کیا؟

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔