اگر ایران کی 10 نکاتی تجاویز واقعی "قابلِ عمل بنیاد” تھیں، تو امریکہ پہلے ہی روز کیوں مکر گیا؟

تحریر: محمد اکمل خان

کون جانتا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم کی رات گئے سوشل میڈیا کے ذریعے کی گئی ایک سفارتی اپیل، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ایک بڑی جنگ کے لیے سیز فائر کی بنیاد بنتی دکھائی دے گی؟ سفارتی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ جنگ کے بادل اتنے گہرے ہوں، امریکی صدر کی دھمکی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہوں، اور ایسے میں ایک عوامی پوسٹ اچانک جنگ روکنے کی امید جگا دے۔ اسی لیے جب شہباز شریف نے ایران اور امریکہ دونوں سے 15 دن تک مہلک حملے روکنے، آبنائے ہرمز کھولنے اور سفارت کاری کو موقع دینے کی اپیل کی، اور اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز کو مذاکرات کی” قابلِ عمل بنیاد (Workable Basis)  “قرار دیتے ہوئے 2 ہفتے کے وقفے پر آمادگی ظاہر کی، تو یوں لگا جیسے شاید بارود کے بیچ سے امن کا راستہ نکل آیا ہے۔ مگر سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ اگر واقعی ایک بنیاد بن گئی تھی، تو پھر وہ چند گھنٹوں میں متنازع کیوں ہو گئی، اور اگر یہ بنیاد اتنی ہی قابلِ عمل(Workable Basis) تھی، تو امریکہ پہلے ہی امتحان میں اس سے مکر کیوں گیا؟

سفارتی لغت میں”Workable Basis “سے کیا مراد ہے؟

اس بحران کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے سفارتی زبان میں اس اصطلاح  کو سمجھنا ہوگا۔ ” قابلِ عمل بنیاد“ (Workable basis) سفارت کاری کی دنیا میں کوئی حتمی، دستخط شدہ یا اٹل معاہدہ نہیں ہوتا، مگر یہ کسی بھی حتمی معاہدے کا نقطۂ آغاز ضرور بنتا ہے۔ یہی وہ ابتدائی ڈھانچا (Framework) ہوتا ہے جو فریقین اور دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ کن بنیادی نکات پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے اور آگے کی بات چیت، لین دین اور مذاکرات کہاں سے شروع ہوں گے۔

اگر کوئی فریق، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسی بنیادی ڈھانچے سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی مکرنے لگے تو پھر اس بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے پر سوال اٹھنا بالکل فطری ہے۔

سفارت کار ایسے لچکدار الفاظ عموماً اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ متحارب فریق ایک ہی متن کو وقتی طور پر اپنے اپنے مفاد کے لیے قبول کر لیں اور بات چیت آگے بڑھ سکے۔ مگر یہی سفارتی لچک بعد میں ایک سنگین مسئلہ بننے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے،  کیونکہ ہر فریق اسی ابہام کو اپنے حق میں پڑھنے اور نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کیس میں بھی امریکہ نے” قابلِ عمل بنیاد“کا لفظ استعمال کر کے وقت حاصل کیا، لیکن حقیقت میں اس  بنیاد کو تسلیم کرنے سے ہی  انکار کر دیا۔

لبنان کو جنگ بندی کا حصہ بنانے سے انکار کی ٹائم لائن

جنگ بندی کے اعلان کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب سے بیانات کی جو ترتیب سامنے آئی، وہ سفارتی تاریخ میں وعدہ شکنی کی ایک کلاسک مثال ہے۔ یہ بیانات محض اتفاقیہ نہیں تھے، بلکہ ایک سوچی سمجھی ٹائم لائن کا حصہ تھے۔ سب سے پہلے شہباز شریف کے سیز فائر اعلان کے تقریباً 3 گھنٹے بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک دو ٹوک بیان داغ دیا کہ ” لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں“۔یہ پہلا جھٹکا تھا جس نے 10 نکاتی  قابل عمل بنیاد کی پہلی اینٹ ہلا دی۔ اس مؤقف کو امریکی تائید اس وقت ملی جب تقریباً 15 گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ سامنے آئیں اور انہوں نے بھی ہو بہو اسرائیلی مؤقف دہرادیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ نیتن یاہو اکیلے نہیں بول رہے، بلکہ واشنگٹن مکمل طور پر ان کے پیچھے کھڑا ہے۔

اس پسپائی پر امریکی صدر کی مہر اس وقت ثبت ہوئی جب تقریباً 17 گھنٹے بعد خود ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو اسے ”قابلِ عمل بنیاد“ کہہ چکے تھے، اعلان کیا کہ لبنان اس ڈیل میں شامل نہیں، جو اس بات کا حتمی اعلان تھا کہ معاہدے کا پہلا نکتہ امریکہ کو قابل عمل دکھائی نہیں دیتا۔ آخر میں، اس پوری سفارتی قلابازی  کو  سیاسی رنگ دینے کے لئے تقریباً 20 گھنٹے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے محض ایک ”حقیقی غلط فہمی“ (Legitimate misunderstanding) قرار دے دیا۔ یوں لبنان کو پہلے اس جنگ بندی کا حصہ مانا گیا، پھر اس سے انکار کر دیا گیا۔ بیانات کی یہ ترتیب یہی بتاتی ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے ابتدائی ” قابلِ عمل بنیاد“والے مؤقف سے خود پیچھے ہٹتی چلی گئی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایران  نے واضح کر دیا کہ مسئلہ صرف لبنان کا نہیں، بلکہ وعدے اور اعتماد کی پوری بنیاد بدلنے کا ہے۔

اسرائیل کا انکار، سیز فائر پر حملہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

اسرائیل نے لبنان کو جنگ بندی سے الگ کرنے کا اعلان محض زبانی نہیں رکھا، بلکہ 8 اپریل کو اسے ہولناک بمباری سے ثابت بھی کر دیا۔ امن کی امیدوں کے برعکس، جنگ بندی پر اتفاق کے چند ہی گھنٹوں بعد 50 اسرائیلی جنگی طیاروں نے صرف 10 منٹ کے اندر لبنان کے 100 سے زائد شہری مقامات پر 160 سے زیادہ حملے کیے، جن میں 250 سے زائد افراد شہید اور 1,100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اس قتلِ عام کو ”ہولناک“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سفاکیت سیز فائر کے پورے عمل کو تباہ کر سکتی ہے۔

اس وحشیانہ کارروائی کے پیچھے نیتن یاہو کی واضح سیاسی منطق کارفرما تھی۔ وہ اپنے انتہا پسند سیاسی حلقوں کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے نام پر اپنے ہاتھ نہیں باندھے اور وہ خود طے کرے گا کہ کون سا محاذ کھلا رکھنا ہے۔ یہ حملے دراصل دنیا کے لیے ایک عملی اعلان تھے کہ اسرائیل کسی امریکی یا ایرانی فریم ورک کا پابند نہیں۔ اسی لیے ایران اور عالمی مبصرین کے نزدیک یہ محض لبنان پر حملہ نہیں تھا، بلکہ امن اور اعتماد کی اس بنیادی شرط کا بے دردی سے قتل تھا جسے چند گھنٹے قبل ہی مذاکرات کی بنیاد تسلیم کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وعدہ شکنی اور ایرانی مؤقف کی سختی

اسرائیل کی ہولناک بمباری کے بعد ایران کا ردعمل انتہائی سخت اور منطقی تھا۔ تہران نے واضح کیا کہ سفارتی چالاکی سے لبنان کو معاہدے سے نکال کر دراصل پوری جنگ بندی کی بنیاد کو ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ واشنگٹن کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت نہیں چل سکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان کے قتلِ عام کے بعد اب گیند پوری طرح امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا نہیں۔ اسی کی تائید کرتے ہوئے ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس امریکی رویے کو ابتدا ہی میں صریح ”وعدہ شکنی“ (Reneging) قرار دیا، جبکہ محمد باقر قالیباف نے یہ نشاندہی کی کہ 10 نکاتی تجویز کی تین شقیں تو مذاکرات کی میز سے پہلے ہی توڑ دی گئیں۔

اس سفارتی قلابازی پر ایران کا اصل اعتراض صرف لبنان کی علیحدگی پر نہیں، بلکہ اس سے پیدا ہونے والے اعتماد کے بحران پر ہے۔ تہران کا بجا سوال یہ ہے کہ اگر پہلے ہی دن ایک بنیادی نکتے کی تشریح یکطرفہ طور پر بدل کر معاہدے کا دائرہ سکیڑ دیا جائے، تو باقی نو شرائط اور امریکی نیت پر کیسے بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اب محض مذاکرات کے آغاز پر بات نہیں کر رہا، بلکہ اس اصولی نکتے کو اٹھا رہا ہے کہ کیا امریکہ واقعی اپنے مانے گئے فریم ورک پر قائم رہنا چاہتا ہے، یا یہ جنگ بندی کی آڑ میں محض وقت حاصل کرنے کے لئے  سفارت کاری کر رہا ہے۔

اصل سوال، امریکہ ایران کی 10 شرائط میں سے کتنی مان سکتا ہے؟

اگر لبنان والے پہلے نکتے کے حشر کو ایک ٹیسٹ کیس یا نمونہ مانا جائے تو مستقبل کی تصویر کافی تاریک اور خونی دکھائی دیتی  ہے۔ امریکی حکام کے حالیہ بیانات کو اگر بغور دیکھا جائے تو امریکہ اپنی موجودہ زبان، بیانیے اور فوجی حکمتِ عملی میں ایران کی 10 شرائط میں سے ایک بھی شرط مکمل طور پر، اس کی روح کے مطابق، مانتا ہوا نہیں دکھائی دیتا۔ امریکی انتظامیہ  زیادہ سے زیادہ 2 یا 3 نکات کے کچھ حصوں پر محدود بات ہو کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے، مگر جہاں ایرانی تجاویز  امریکی طاقت اور تکبر کو چیلنج کرتی ہوں ، وہاں واشنگٹن کا   اپنی بات سے مکر جانا کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ، پیٹ ہیگستھ، اسٹیو وٹکوف اور مارکو روبیو کے حالیہ بیانات اور امریکی انتظامیہ کے اقدامات  کی روشنی میں ان 10 نکات کا  بغور جائزہ لیا جائے تو  ایک بات طے ہے کہ امریکہ مذاکرات کو پائیدار امن کے حل کے لئے نہیں کر رہا ۔

1۔ عدم جارحیت کی امریکی ضمانت

ایران کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ امریکہ اصولی اور واضح طور پر نہ صرف خود بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کی جانب سے عدم جارحیت کا وعدہ کرے۔ لیکن اگر ہم امریکی اور اسرائیلی بیانات کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق دیکھیں تو یہ مطالبہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے آغاز سے اب تک مسلسل ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور ایرانی تہذیب مٹا دینے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں، جبکہ پینٹاگون بھی فوجی کارروائی کا آپشن ہمیشہ کھلا رکھنے پر بضد ہے۔ اس جارحانہ امریکی و اسرائیلی بیانیے کی سب سے بڑی اور تازہ ترین عملی دلیل لبنان پر کل ہونے والے ہولناک حملے ہیں۔ جب جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے سیکڑوں شہریوں پر بارود برسا کر ایک پورا محاذ کھول دیا گیا ہو، تو ایران کے لیے مستقبل کی مستقل عدم جارحیت کی کسی امریکی ضمانت پر اعتبار کرنا کیسے ممکن ہے؟ الفاظ سے لے کر لبنان پر گرنے والے بموں تک، ہر چیز یہ ثابت کر رہی ہے کہ سفارت کاری کے تحت وقتی عدم جارحیت تو ممکن ہے، لیکن ایک سپر پاور اور اس کے اتحادی کی جانب سے دائمی اور اصولی عدم جارحیت کی ضمانت ان کے موجودہ طرزِ عمل کے بالکل الٹ ہے۔

2۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی عسکری رابطہ اور کنٹرول

یہ مطالبہ بظاہر تکنیکی ہے، مگر اصل میں یہ طاقت اور عالمی بالادستی کے سوال سے جڑا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی آمدورفت ایرانی مسلح افواج کے ساتھ رابطے اور منظوری کے تحت ہو۔ لیکن امریکہ مسلسل ‘فوری، مکمل اور محفوظ بحالی’ (immediate, complete and safe opening) کی زبان استعمال کرتا رہا ہے۔ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ہرمز کے تحفظ میں دوسرے ممالک کو حصہ لینا چاہیے، نہ کہ ایران اسے اپنی جاگیر سمجھے۔ واشنگٹن اور اس کے اتحادی ہرمز کو عالمی تجارت کی آزاد آبی گزرگاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس لیے جنگ بندی کے دوران عارضی طور پر  تو شاید قبول کر لیا جائے، مگر توانائی کی اس اہم ترین عالمی گزرگاہ پر ایران کے مستقل اسٹریٹجک غلبے (strategic dominance) اور عسکری نگرانی کو امریکہ ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔

3۔ یورینیم افزودگی کا حق اور امریکی سرخ لکیر

ایران کو یورینیم افزودگی سے روکنا امریکہ کا دیرینہ اور بنیادی ہدف ہے، حتیٰ کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حالیہ حملوں کا سب سے بڑا جواز بھی اسی کو بنایا گیا ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک ایران کے جوہری پروگرام کو تسلیم کرنا دراصل ایک ایسی سرخ لکیر (Red line) عبور کرنے کے مترادف ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ بارہا دو ٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں کہ ”یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہوگی“ (No enrichment of uranium)۔ صدر کے اسی بیانیے کو عملی شکل دیتے ہوئے، ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی اپنے 15 نکاتی خاکے میں اولین شرط یہی رکھی ہے کہ تہران نہ صرف فوری طور پر افزودگی بند کرے، بلکہ اپنے موجودہ ذخیرے سے بھی دستبردار ہو۔ ان کڑی شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس حساس ترین نکتے پر امریکی مؤقف میں کسی قسم کی لچک کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ ایران کا وہ واحد مطالبہ ہے جو امریکی علاقائی اور عالمی مفادات سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔

4۔ تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کا فوری اور مکمل خاتمہ

ایران کا چوتھا مطالبہ تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے فوری اور یکمشت خاتمے پر زور دیتا ہے، لیکن اس کے جواب میں امریکی نیت سمجھنے کے لیے واشنگٹن کی سفارتی لغت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کو "ٹیرف اور پابندیوں میں ریلیف” (Tariff and sanctions relief) کی پیشکش ضرور کی ہے، مگر بین الاقوامی طاقت کی سیاست میں محض ‘ریلیف’ دینے اور پابندیوں کے ‘مکمل خاتمے’ کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک معاشی پابندیاں (Sanctions) محض ایک سزا نہیں، بلکہ ان کی خارجہ پالیسی کا سب سے مہلک اور آزمودہ ہتھیار ہیں۔ واشنگٹن کبھی بھی اپنے دباؤ کا یہ سب سے بڑا لیور (Lever) ایک ہی جھٹکے میں اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ سفارتی بساط پر پابندیوں کو ہمیشہ مرحلہ وار، کڑی شرائط کے ساتھ اور اس وارننگ کے تحت نرم کیا جاتا ہے کہ اگر ایران نے ذرا سی بھی خلاف ورزی کی تو یہ معاشی پھندا دوبارہ کسا جا سکتا ہے۔ یہ ریلیف دراصل تہران کے رویے کو کنٹرول کرنے کا ایک ریموٹ کنٹرول  بھی ہو سکتاہے۔

اس حقیقت کے پیشِ نظر، یہ تو ممکن ہے کہ مذاکرات کو زندہ رکھنے کے لیے امریکہ ایران کو وقتی طور پر کچھ معاشی آکسیجن فراہم کر دے یا محدود نرمی کی صورت میں معاشی سانس بحال کرنے کی جگہ دے دے، لیکن تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کو یک دم ختم کر دینا امریکی مؤقف سے یکسر متصادم ہے۔

5۔ آئی اے ای اے (IAEA) قراردادوں کا خاتمہ

ایران کا پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) میں اس کے خلاف منظور کی گئی تمام قراردادیں ختم کی جائیں۔ سفارتی منطق کی رو سے، واشنگٹن کے لیے اسے پہلے قدم کے طور پر ماننا بظاہر ناممکن ہے۔ آئی اے ای اے دراصل وہ عالمی نگران ادارہ (Watchdog) ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

اسٹیو وٹکوف کے پیش کردہ 15 نکاتی مطالبات  کے مطابق، امریکہ اب بھی تہران پر افزودگی مکمل طور پر روکنے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تلف کرنے کی کڑی شرط عائد کر رہا ہے، تو وہ بات چیت کے پہلے ہی مرحلے میں اس بین الاقوامی دباؤ کو کیوں ختم کرے گا؟ واشنگٹن کی سیدھی سی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پہلے ایران کے جوہری پروگرام پر عملی اور قابلِ تصدیق پابندی موجود ہو ، پھر کہیں جا کرعالمی پابندیوں میں نرمی یا قراردادوں کی منسوخی پر غور کیا جائے۔

6۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی منسوخی

چھٹا مطالبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی تمام قراردادوں کو ختم کرنے کا ہے، جو کہ ایران کے لیے سب سے بڑا سفارتی چیلنج ہے، کیونکہ اس کی راہ میں صرف واشنگٹن نہیں بلکہ پورا مغربی بلاک کھڑا ہے۔ یہ قراردادیں وہ حتمی بین الاقوامی قانونی شکنجہ ہیں جس نے ایران کی عسکری، جوہری اور تجارتی رسائی کو عالمی سطح پر محدود کر رکھا ہے۔ یہاں اس سفارتی حقیقت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس معاملے پر اب یورپی ممالک (بالخصوص برطانیہ، فرانس اور جرمنی جنہیں ای تھری کہا جاتا ہے) کا مؤقف بھی امریکہ کی طرح انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیم کی بلند سطح پر افزودگی، جدید بیلسٹک میزائل پروگرام کی توسیع، اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ کا ایران مخالف بیانیہ حالیہ برسوں میں مزید تلخ اور جارحانہ ہوا ہے۔

لہٰذا، سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کا خاتمہ محض ایک امریکی صدارتی حکم نامے سے ممکن نہیں۔ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی کسی بھی صورت اس حتمی عالمی اور قانونی دباؤ کو اس وقت تک نہیں ہٹائیں گے جب تک تہران ان کی بنیادی شرائط تسلیم نہیں کر لیتا۔ دوسرے لفظوں میں، مذاکرات کی ابتدا میں ہی اپنے ہاتھ سے وہ سب سے بڑا عالمی قانونی ہتھیار پھینک دینا جس نے ایران کو جکڑ رکھا ہے، مغربی طاقتوں کے لیے یکسر ناقابلِ عمل ہے۔

7۔ خطے سے تمام امریکی افواج کی واپسی

ساتواں مطالبہ امریکی فوج کی مشرق وسطی میں موجودگی سے متعلق ہے، اور یہ ایرانی تجویز امریکی علاقائی بالادستی کی حکمت عملی سے براہ راست متصادم ہے۔ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکی مقاصد زمینی افواج بھیجے بغیر حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے اپنے فوجی اڈے ختم کر دے گا۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جنگ بندی کے بعد امریکی موجودگی، نگرانی اور الرٹ رہنے کا عندیہ دیاہے۔ واشنگٹن چین اور روس کو روکنے اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے خطے میں موجود ہے، اس لیے مشرق وسطیٰ سے مکمل فوجی انخلا کا ایرانی مطالبہ واشنگٹن کے لیے تقریباً ناممکن اور ناقابلِ غور ہے۔

8۔ جنگی نقصانات کا معاوضہ اور ہرمز فیس سے ادائیگی

یہ آٹھواں مطالبہ امریکہ کے لیے سب سے زیادہ ہضم نہ ہونے والے اور سیاسی طور پر مشکل نکات میں سے ایک ہے۔ ایک طرف اس شرط میں امریکہ جیسے ملک سے جنگی نقصانات کا مکمل ازالہ  مانگا جا رہا ہے، اور دوسری طرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عالمی جہازوں پر رقم (ٹول ٹیکس) وصول کر کے ادائیگی کا راستہ تجویز کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن نہ تو خود کو اس انداز میں قصوروار فریق کے طور پر پیش کر کے معاوضہ دے گا، اور نہ ہی وہ ہرمز پر ایرانی مالی کنٹرول یا نگرانی کو آسانی سے تسلیم کرے گا۔مارکو  روبیو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہرمز کا تحفظ عالمی ذمہ داری ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ اپنے عرب اتحادیوں کے مفادات کو پس پشت ڈال کر آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے حوالے کر دے گا۔

9۔ منجمد اثاثوں کی بحالی

ایرانی تجاویز کے نویں نکتے میں دیگر نکات کی نسبت نسبتاً زیادہ عملی گنجائش موجود ہے۔ چونکہ ٹرمپ پابندی اور ٹیرف ریلیف کی بات کر چکے ہیں، اس لیے کچھ اثاثے، کچھ رقوم، یا کچھ مالی سہولتیں ایک بڑے مذاکراتی پیکج کا حصہ بن سکتی ہیں۔ مگر”تمام اثاثے اور املاک “فوری اور مکمل طور پر بحال کر دینا اب بھی امریکی سوچ سے مطابقت نہیں  رکھتا ، کیونکہ امریکہ ایسے بھاری مالی وسائل کو مذاکراتی دباؤ کے کے لئے اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہے گا۔

10۔ سیز فائر کے تمام ایرانی مطالبات کو سلامتی کونسل کی قرارداد  کا حصہ بنانا

دسواں اور آخری مطالبہ دراصل پوری ایرانی شرائط کی فہرست کو بین الاقوامی قانونی ڈھال پہنانے کی کوشش ہے۔ لیکن جب ٹرمپ خود کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے لیے صرف ایک محدود اور ‘معنی خیز’ (Meaningful points) کا مجموعہ قابل قبول ہے جو بند دروازوں کے پیچھے طے ہوگا، تو امریکہ جان بوجھ کر ایسی پابند اور سخت بین الاقوامی قرارداد کیوں قبول کرے گا جو مستقبل میں اس کے اپنے فوجی، جوہری اور علاقائی آپشنز کو محدود کر دے؟

کیا امریکہ  ایران مذاکرات ہوں گے اور جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جائے گی؟

اگر ایک سوشل میڈیا اپیل واقعی جنگ روکنے کی بنیاد بنی تھی، تو اس سیز فائر  کا پہلا تقاضا یہ تھا کہ جنگ کے دائرے کو سمیٹا جاتا، نہ کہ لبنان کو الگ کر کے اسرائیل کو  وہاں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ اس لئے واضح طور دکھائی دیتا ہے کہ ان مذاکرات سے امن آنا تو دور کی بات، شاید سیز فائر بھی قائم نہ رہ سکے، کیونکہ واشنگٹن نے جس فریم ورک کو”قابلِ عمل بنیاد“ قرار دیا تھا، اسی بنیاد  پر سب سے بڑا حملہ اس کے اتحادی اسرائیل نے کر دیا۔

اگر امریکہ واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو لبنان پر فوری حملے روکنے پر مجبور کرنا ہوگا اور ایرانی مطالبات کو صرف آبنائے ہرمز کھلوانے کے امریکی مفاد کے زوایے سے نہیں بلکہ ایک وسیع جنگ بندی کے ڈھانچے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ورنہ ابتدا میں جو منظر ایک سفارتی کامیابی دکھائی دے رہا تھا، تاریخ میں وہ ایک اور عارضی وقفے، ایک اور وعدہ شکنی، اور ایک ایسے فریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں جنگ تو نہ رکی، صرف چند گھنٹوں کے لیے اس کی شکل بدل گئی۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔