کیا رشتہ ایپس نے شریکِ حیات کی تلاش کو آسان کیا ہے یا اس فیصلہ کو مزید مشکل بنا دیا ہے؟

تحریر: سدرہ انعم

میں سدرہ انعم ہوں، 27 سال کی، غیر شادی شدہ لڑکی، اور میری امی کے نزدیک اس وقت گھر کا سب سے اہم مسئلہ میری شادی کا جلد ہو جانا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کا حل چاہے دیر سے ملے، مگر میرے ممکنہ سسرال والوں کی تلاش جلد پوری ہو جانی چاہیے۔ یعنی ان کے بس میں ہو تو شاید مجھے کل ہی دھکے دے کر ڈولی میں بٹھائیں اور پیا سنگ روانہ کر دیں۔ جب بھی گھر میں رشتے کی بات نکلتی ہے، ان کے لہجے میں وہی روایتی ماں بول رہی ہوتی ہے جو سمجھتی ہے کہ بیٹی کی شادی کا فرض جتنی جلدی ادا ہو جائے، اتنا بہتر ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا بزرگوں کی گفتگو میں لگتا ہے۔ 2016 سے اب تک نہ جانے کتنے لوگ رشتہ دیکھنے آ چکے ہیں۔ ان کے سامنے مجھے بھی باقی بہت سی لڑکیوں کی طرح وہی روایتی چائے کی ٹرے کے ساتھ پیش ہونا پڑا۔ کہیں چند منٹ کی گفتگو میں پوری شخصیت کا حساب لگانے کی کوشش کی گئی، اور کہیں سوال ایسے ہوئے جیسے شادی نہیں، جاب انٹرویو ہو رہا ہو۔ “کھانا پکانا آتا ہے؟” “یہ فیلڈ کیوں چنی؟” “عمر کیا ہے؟” “اتنی سادہ کیوں ہیں؟” ایک خاندان کو تو خاص فکر یہ تھی کہ ان کے بیٹے کی ہائٹ کم ہے، اس لیے میری کتنی ہے۔

اتنی ٹرے پریڈ، اتنے سوال، اور اتنی خاموش جانچ پڑتال کے بعد ایک سوال میرے ذہن میں بار بار آیا: کیا نئی نسل نے اسی سب سے بچنے کے لیے رشتہ ایپس اور سوشل میڈیا کا رخ نہیں کیا تھا؟ اور اگر کیا تھا، تو کیا وہاں واقعی کچھ آسان ہوا، یا صرف ڈرائنگ روم کی نمائش موبائل کی سکرین پر منتقل ہو گئی؟

کیا نئی نسل نے رشتہ آنٹی سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے؟

سچ یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف میرے ہی نہیں بلکہ بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اسی مرحلے سے اسی طرح گزرتے دکھائی دیتے ہیں جہاں رشتہ کے معاملے میں ان کی مرضی، ان کی پسند ناپسند کا عمل دخل بہت کم ہو تاہے۔
پہلے کسی آنٹی، خالہ یا عزیز کے ذریعے رشتہ آتا، پھر تصویریں جاتیں، پھر خاندان والوں کی چند باتوں ، ملاقاتوں میں یا تو رشتہ طے پا جاتا یا پھر اگلے گھر کی تلاش شروع ہو جاتی ۔ اس پورے عمل میں جن دو لوگوں نے زندگی ساتھ گزارنی ہوتی تھی، وہی اکثر سب سے آخر میں شامل ہوتے تھے۔ نئی نسل نے سوچا کہ کم از کم ابتدا تو اپنے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ پہلے بات ہو، پھر سامنے والے کوسمجھا جائے، پھر فیصلہ کیا جائے۔
یوں سوشل میڈیا، رشتہ گروپس، اور پھر میچ میکر ایپس سامنے آ گئیں۔ بظاہر یہ ایک آسان راستہ لگتا ہے، جہاں رشتہ کروانے والی آنٹی، پھپھو یا چاچی کی جگہ ایپ نے لے لی، ڈرائنگ روم کی جگہ چیٹ نے، اور رسمی تعارف کی جگہ براہ راست گفتگو نے۔ مگر کیا اس سے واقعی کچھ آسان ہوا؟ یا پھر مسئلہ صرف طریقہ بدلنے سے حل نہیں ہوا، کیونکہ اصل الجھن اس سماجی ڈھانچے میں بھی ہے جسے ہم آج تک چیلنج کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں؟

کیا ڈرائنگ روم کی نمائش ختم ہوئی، یا صرف سکرین پر پہنچ گئی؟

پہلے لڑکی کو گھر کے ایک کمرے میں دیکھا جاتا تھا۔ اب وہی جائزہ پروفائل، تصویر، ویڈیو، بایو اور سٹیٹس کے ذریعے ہوتا ہے۔ پہلے ایک خاندان بیٹھ کر رائے بناتا تھا، اب کبھی ایک شخص، کبھی اس کے دوست، کبھی اس کا خاندان، اور کبھی الگورتھم تک یہ طے کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کون کس کے سامنے آئے گا۔
فرق ضرور آیا ہے، مگر پوری آزادی نہیں آئی۔ پہلے چائے کی ٹرے سجا کر نمائش ہوتی تھی، اب پروفائل سجا کر۔ پہلے رنگ، قد، لہجہ اور گھریلو پن دیکھا جاتا تھا، اب تصویر، فلٹر، بایو، فالوورز اور آن لائن موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ نمائش ختم نہیں ہوئی، صرف اس کا سٹیج بدل گیا ہے۔
یہ بات ہنساتی بھی ہے اور تھوڑا دکھ بھی دیتی ہے۔ پہلے گھر والے کہتے تھے “ذرا اچھے سے بیٹھو، لوگ دیکھنے آ رہے ہیں”، اب زمانہ شاید یہ کہتا ہے “ذرا اچھی تصویر لگاؤ، لوگ دیکھ رہے ہیں۔

کیا رشتہ ایپس نے آج کی لڑکی کے لیے شریکِ حیات ڈھونڈنا آسان کیا ہے، یا صرف پرانی مشکل کو نئی شکل دے دی ہے؟

کیا رشتہ ایپس نے لڑکیوں کے لیے شریکِ حیات کی تلاش آسان بنائی ہے؟

ہاں، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اب بہت سی لڑکیاں ابتدا ہی سے یہ جاننا چاہتی ہیں کہ سامنے والا کون ہے، کیا کرتا ہے، بات کیسے کرتا ہے، اس کا مزاج کیسا ہے، اور وہ واقعی سنجیدہ ہے بھی یا نہیں۔ ماضی میں اکثر لڑکی صرف اتنا ہی جانتی تھی کہ “اچھا گھر ہے” یا “اپنے لوگ ہیں”۔ اب کم از کم اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ لڑکی بھی سوال پوچھ سکتی ہے، اپنی رائے” ٹرے پریڈ” کے انعقاد سے پہلے دے سکتی ہے ۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں۔ اب لڑکی صرف دیکھی جانے والی چیز نہیں رہنا چاہتی، وہ دیکھنا بھی چاہتی ہے۔ وہ صرف پسند کیے جانے کا انتظار نہیں کرتی، وہ خود بھی پسند اور ناپسند رکھتی ہے۔ وہ یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ سامنے والا اس کی تعلیم سے گھبرائے گا تو نہیں، اس کی رائے برداشت کر پائے گا یا نہیں، اور شادی کو تعلق سمجھے گا یا بوجھ۔
مگرٹیکنالوجی کے استعمال نے سہولت کے ساتھ نئے مسائل بھی پیدا کر دئیے ہیں۔ پہلے فیصلہ اکثر دوسروں کے ہاتھ میں ہوتا تھا، اب اپنی مرضی کا تھوڑا عمل دخل ہوا ہے ، مگر اس کے ساتھ شک، احتیاط، جانچ پڑتال اور بار بار نئی شروعات کا بوجھ بھی آ گیا ہے۔

سکرین پر بات کرنے والا شخص واقعی وہی ہوتا ہے جو وہ کہہ رہا ہوتا ہے؟

یہ ڈیجیٹل دنیا کی سب سے بڑی الجھنوں میں سے ایک ہے۔ آپ کسی سے بات کر رہے ہیں، مگر یہ شک ہر وقت ہوتا ہے کہ سامنے والا واقعی وہی ہے جو اپنے بارے میں بتا رہا ہے۔ عمر، نوکری، ارادہ، خاندان، حتیٰ کہ ازدواجی حیثیت تک، سب کچھ سوال بن سکتا ہے۔ آن لائن دنیا نے تعارف آسان کیا، اعتماد نہیں۔
اسی لیے بہت سی لڑکیوں کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اور ایپس نے راستہ تو کھولا، مگر تلاش آسان نہیں کی۔یہ جانچنا کہ سامنے والا سنجیدہ ہے یا صرف وقت گزار رہا ہے؟ واقعی رشتہ چاہتا ہے یا صرف توجہ؟ سچ بول رہا ہے یا ایک کردار ادا کر رہا ہے؟ اور اگر بات آگے بڑھ بھی جائے، تو حقیقی زندگی میں آ کر وہی شخص نکلے گا یا کوئی اور؟
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ آن لائن قربت جلدی بنتی ہے، اور اتنی ہی جلدی ختم بھی ہو جاتی ہے۔ دو ہفتے بات ہوئی، پھر اچانک خاموشی۔ جاننے کا عملے ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوتا، کہ اس خاتمہ بھی ہو جاتا ہے۔

کیا آج بھی لڑکی سوالوں کے کٹہرے میں ہی کھڑی ہے؟

میرے تجربے میں تو جواب ہاں میں ہے۔ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ سوالوں کا انداز بدل گیا ہے، ان کی روح نہیں۔ روایتی رشتہ سسٹم میں بھی لڑکی سے سوال ہوتے تھے، اور نئے طریقے میں بھی ہوتے ہیں۔ پہلے یہ سوال ڈرائنگ روم میں چائے کی چسکی لیتے پوچھے جاتے تھے، اب اکثر چیٹ، کال یا موبائل سکرین کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔
کھانا پکانا آتا ہے؟ یہ فیلڈ کیوں چنی؟ جاب کیوں نہیں کر رہیں؟ جاب کیوں کر رہی ہیں؟ عمر کیا ہے؟ اتنی سادہ کیوں ہیں؟ یعنی آپ سے ایک ہی وقت میں یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ آپ جدید ہوں، مگر زیادہ نہیں؛ خود مختار ہوں، مگر حد سے باہر نہیں؛ اور تعلیم یافتہ بھی ہوں، مگر اتنی نہیں کہ سامنے والے کو اپنی ڈگریاں کم تر لگنے لگیں ۔ سیدھی بات یہ ہے کہ لڑکی کو آج بھی ایک مکمل انسان کے بجائے اکثر ایک پیکیج کی طرح جانچا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر سوال اپنے ظاہر سے بڑا ہوتا ہے۔ “کھانا پکانا آتا ہے؟” کے پیچھے صرف کھانا نہیں، گھریلو پن ناپا جا رہا ہوتا ہے۔ “یہ فیلڈ کیوں چنی؟” کے پیچھے صرف تعلیم نہیں، آپ کی سوچ اور آزادی کا اندازہ لگایا جا رہا ہوتا ہے۔ اور “اتنی سادہ کیوں ہیں؟” جیسے سوال کے پیچھے کبھی کبھی یہ بھی چھپا ہوتا ہے کہ آپ ان کے ذہن میں بنی ہوئی بہو کی تصویر سے کتنی مطابقت رکھتی ہیں۔ یعنی سوال بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے پوری ایک سوچ کھڑی ہوتی ہے۔

گھر والے ایک چیز کیوں دیکھتے ہیں، اور لڑکی دوسری؟

یہ بھی اس پوری کہانی کا اہم حصہ ہے۔ میں اگر اپنے لیے سوچوں تو میری ترجیحات سیدھی ہیں: پڑھا لکھا ہو، بات سمجھتا ہو، عزت دینے والا ہو، اچھاکماتا ہو، سنجیدہ ہو، اور زندگی ساتھ گزارنے کے قابل ہو۔ مگر گھر والوں کی ترجیحات میں برادری، خاندان، ذات، سماجی میل جول، اور “اپنے لوگوں” کا دائرہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
گھر والے اسے تحفظ سمجھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جانا پہچانا پس منظر کم خطرناک ہے۔ لڑکی اپنی جگہ انسان کو دیکھنا چاہتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر مزاج نہیں ملتا، احترام نہیں ہے، سوچ نہیں ملتی، تو باقی چیزیں بعد میں بھی مسئلہ بنیں گی۔
اصل ٹکراؤ یہی ہے۔ ایک فہرست گھر والوں کی ہے، ایک لڑکی کی۔ ایک کہتی ہے برادری، دوسری کہتی ہے سمجھداری۔ ایک کہتی ہے خاندان، دوسری کہتی ہے کردار۔

کیا نئی نسل شریکِ سفر کے انتخاب میں واقعی حد سے زیادہ مطالبات کرتی ہے؟

یہ تاثر عام ہے کہ نئی جنریشن اور گھر والوں کی ڈیمانڈز بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے اچھے رشتے ملنا آسان نہیں رہا۔مگر نئی نسل کا مسئلہ صرف شادی کا جلد ہونا نہیں بلکہ وہ غلط شادی سے بچنا چاہتی ہے۔
آج کی لڑکی اگر یہ چاہتی ہے کہ سامنے والا جھوٹا نہ ہو، عزت دینے والا ہو، سنجیدہ ہو، بات چیت کر سکتا ہو، اور اسے برابر سمجھے، تو یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں۔ ہاں، سوشل میڈیا نے بعض اوقات توقعات کو غیر حقیقی بھی بنایا ہے۔ ہر کسی کو ایسا شخص چاہیے جو اچھا کماتا بھی ہو، خوش اخلاق بھی ہو، خاندان بھی نبھائے، اور تصویروں میں بھی اچھا لگے۔ مگر اصل زندگی میں انسان مکمل پیکیج نہیں ہوتے۔

کیا ایپس نے تلاش آسان کی ہے، یا صرف آپشن بڑھا کر تھکا دیا ہے؟

ایپس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہوں نے تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ آپ صرف اپنے محلے، خاندان، یا برادری تک محدود نہیں رہے۔ آپ ایسے لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں جن سے عام طور پر کبھی تعارف ہی نہ ہوتا۔ مگر یہی چیز ایک مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ جب آپ کے سامنے ہر وقت نئے آپشن ہوں، تو کسی ایک کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک پروفائل پسند آیا، پھر دوسرا زیادہ بہتر لگ گیا۔ ایک بات چیت چل رہی تھی، پھر ایک اور شروع ہو گئی۔ کسی میں سنجیدگی نظر آئی، پھر اچانک خاموشی۔ یہ مسلسل انتخاب ذہنی تھکن پیدا کرتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے شاید اگلا شخص بہتر ہو، پھر اس سے اگلا، پھر اس سے بھی اگلا۔ اور اس سارے عمل میں آپ کبھی کبھی خود بھی ایک پروفائل بن کر رہ جاتی ہیں، انسان نہیں۔

کیا ایپس نے تلاش آسان کی، یا انتخاب کو الجھا دیا؟

اس سوال کا جواب میرے لئے آسانی سے دینا شاید ممکن نہیں ۔ رشتہ ایپس نے کچھ دروازے ضرور کھولے ہیں۔ انہوں نے بہت سی لڑکیوں کو روایتی رشتہ سسٹم کے مقابلے میں ابتدا ہی سے کچھ زیادہ اختیار دیا ہے۔ تعارف کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے، اور بات چیت کے کچھ نئے راستے بھی بنے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اصل مسئلہ صرف رشتہ کروانے والی آنٹی، ٹرے پریڈ، یا ڈرائنگ روم کی رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا۔
اصل الجھن اس سے کہیں بڑی ہے۔ اس میں اعتماد کا بحران بھی شامل ہے، سماجی دباؤ بھی، خاندان کی اپنی ترجیحات بھی، ذات برادری کا وزن بھی، اور وہ نظر بھی جو عورت کو ایک مکمل انسان کے بجائے اکثر ایک پراڈکت کے طور پر دیکھتی ہے۔ اسی لیے زیادہ درست بات شاید یہ ہے کہ رشتہ ایپس نے شریکِ حیات ڈھونڈنے کا طریقہ ضرور بدلا ہے، مگر اس تلاش کی بنیادی مشکل ختم نہیں کی۔پہلے لڑکی ڈرائنگ روم میں دیکھی جاتی تھی، اب سکرین پر دیکھی جاتی ہے۔ پہلے سوال سامنے بیٹھ کر ہوتے تھے، اب چیٹ میں ہوتے ہیں۔ پہلے درمیان میں آنٹی، پھپھو یا چاچی ہوتی تھیں، اب الگورتھم ہے۔ مگر اگر احترام، سچائی، سنجیدگی، اور فیصلہ کرنے کی اصل آزادی نہ ہو، تو صرف پلیٹ فارم بدلنے سے پوری کہانی نہیں بدلتی۔

آخر میں آج کی لڑکی شاید صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے ایک چیک لسٹ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اسے ایک انسان سمجھا جائے۔ ایسا انسان جس کی اپنی رائے ہو، اپنے ڈر ہوں، اپنی امیدیں ہوں، اور اپنی حدیں بھی۔ نئی نسل نے پرانے رشتہ سسٹم سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا تو لیا، مگر آخرکار اسے اب بھی ایک ہی چیز درکار ہے: ایک سچا انسان، صرف ایک اچھی پروفائل نہیں۔

سدرہ انعم
سدرہ انعم کراچی سے تعلق رکھنے والی ماس کمیونیکیشن کی طالبہ اور ایک باخبر لکھاری ہیں۔ وہ نوجوانوں کے مسائل کو سماجی اور معاشرتی پہلوؤں سے سمجھنے اور ان پر لکھنے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں۔