خواجہ آصف صاحب! کیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی جاتی امرا سے بھی ممکن ہے؟

خواجہ آصف صاحب! کیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی جاتی امرا سے بھی ممکن ہو گی؟

خواجہ آصف کا شمار مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا ہے، اس لیے ان کا کوئی سیاسی بیان محض ذاتی رائے سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب انہوں نے سوشل میڈیا پر نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ایسا سوال اٹھایا ہے جس نے ایک نئی سیاسی اور انتظامی بحث چھیڑ دی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہو تو پیپلز پارٹی حمایت کرتی ہے، لیکن چار کے بجائے متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی بات ہو تو ’’سندھو دیش‘‘ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی کا جو اصول طے ہوا تھا، اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ ملک میں موجود 36 ڈویژنوں کو یا کسی دوسرے مناسب جغرافیائی و انتظامی بندوبست کو بنیاد بنا کر اختیارات مزید نیچے منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ احسن اقبال بھی ملک میں 12 سے 15 صوبوں کی بات کر رہے ہیں۔

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حوالے سے اس دلیل میں وزن ہے، مگر ایک سوال اس کے رستے میں آن کھڑا ہوتا ہے کہ

مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنے طویل اقتدار کے دوران اختیارات جاتی امرا سے ضلع، تحصیل اور شہر تک کیوں منتقل نہیں کیے؟

پاکستان کی مظلوم عوام  کو اس مقصد کے لیے نئے صوبوں کا انتظار نہیں تھا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو منتخب مقامی حکومتیں قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات ان کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ مقصد واضح تھا۔ اسلام آباد سے اختیار لاہور پہنچے تو لاہور میں رک نہ جائے بلکہ ضلع، تحصیل، شہر اور یونین کونسل تک جائے۔

مگر خواجہ صاحب کی یاد دہانی کے لئے انتقال اختیارات کا یہ سفر پنجاب میں بڑی حد تک تخت لاہور  ر تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔

اٹھارہویں ترمیم 2010 میں جب منظور ہوئی تو آج کے وزیر اعظم شہباز شریف ان دنوں وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔لطیفہ یوں ہے کہ ان کی یہ حکومت 2013 تک قائم رہی، مگرپتا نہیں کیوں  تین سال میں بلدیاتی انتخابات ممکن نا ہو سکے۔ مسلم لیگ ن 2013 میں دوبارہ بھاری اکثریت سے پنجاب میں اقتدار میں آئی تو انتخابات فوری کرانے کے بجائے مزید تاخیر ی حربے استعمال  کئے گئے۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے کی کوشش کی۔ لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت کے بعد قانون تبدیل ہوا اور جماعتی انتخابات کا راستہ کھلا۔ بالآخر 2015 میں انتخابات کا انعقادممکن ہوا۔مگرعوام کو شاید اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کرا دینا اور اختیارات منتقل کرنا دو الگ باتیں ہیں۔

منتخب میئر کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہ ہو، ضلع کا انتظام صوبائی حکومت کے مقرر کردہ افسر کے ہاتھ میں ہو اور مالی وسائل کے لیے لاہور کی طرف دیکھنا پڑے تو بلدیاتی انتخابات،اختیارات کا مقامی سطح تک انتقال صرف خانہ پوری ہی کہلائے گی۔

اسی لیے خواجہ صاحب اصل سوال یہ ہے کہ ایک منتخب میئر اپنے شہر یا ضلع کی پولیس کیوں نہیں چلا سکتا؟ منتخب ضلعی حکومت اپنے اسپتالوں اور بنیادی صحت کے نظام کی ذمہ داری کیوں نہیں لے سکتی؟ ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی، تجاوزات، تعمیرات اور مقامی قوانین پر عمل درآمد کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ کی طرف کیوں دیکھا جائے؟

اور ڈپٹی کمشنر بہادر کے ذریعے ضلع چلانے کی نوآبادیاتی روایت آخر کب ختم ہوگی؟

عوام اپنے نمائندے منتخب کریں، مگر ضلع ایک ایسا افسر چلائے جسے صوبائی حکومت مقرر کرتی ہے تو اختیارات میں عوام کا دخل کتنا رہ گیا؟

پنجاب کا موجودہ انتظامی ماڈل اس سوال کو مزید اہم بناتا ہے۔ صوبائی حکومت پرائس کنٹرول کمیٹیاں بناتی ہے، اضلاع میں مختلف انتظامی کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں اور اب پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت الگ انفورسمنٹ نظام بھی قائم کردیا گیا ہے۔

اگر اختیار تحصیل تک پہنچانا ہے تو تحصیل کو اختیار دیجیے، تحصیل میں تخت لاہور کی ایک اور فورس مت اتاریے۔

ستھرا پنجاب کاشوروغوغا اس تضاد کو سب سے عام فہم انداز میں واضح کردیتا ہے۔ گاؤں کی گلی سے کچرا اٹھانا، محلے کی نالی صاف کرنا اور شہر کی سڑک صاف رکھنا مقامی حکومت کے بنیادی کام ہیں۔ پنجاب میں انہی کاموں کے لیے صوبائی سطح پر ’’ستھرا پنجاب‘‘ کا نظام کیوں قائم کیا گیا ہے۔؟

پنجاب کے ایک دورافتادہ گاؤں میں گلی محلے کوصاف کرنے کے لیے وزیراعلیٰ کی تصویر کیوں ضروری ہے؟

اگر کچرا اٹھانے والی گاڑی سے لے کر صفائی کے منصوبے تک کی سیاسی شناخت وزیراعلیٰ سے جڑی ہوگی تو مقامی حکومت کیا کرے گی؟ گلی صاف نہ ہو تو شہری اپنے کونسلر اور میئر سے جواب مانگے یا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے؟

خواجہ آصف صاحب آپ کی دلیل کا بنیادی تضاد شاید ایک جملے میں بیان ہوسکتا ہے:

جو جماعت آج اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات کررہی ہے، اس پر سب سے بڑا اعتراض یہی رہا ہے کہ اس نے اختیارات کو لاہور تو کیا، جاتی امرا سے بھی باہر نکلنے نہیں دیا۔

پنجاب میں وزیراعلیٰ سے ضلعی انتظامیہ تک طاقت کا محور جاتی امرا رہا اور بڑے بڑے کلغیوں والے افسران جاتی امرا کی خاک چھانتے دکھائی دئیے۔  ڈپٹی کمشنر صوبائی حکومت کا نمائندہ رہا، پولیس صوبائی کمان میں رہی اور منتخب بلدیاتی ادارے بنیادی اختیارات اور وسائل کے لیے صوبائی حکومت کی طرف دیکھتے رہے۔

اس لیے خواجہ صاحب! نئے صوبے ضرور بنائیے اگر انتظامی ضرورت اس کا تقاضا کرتی ہے۔ بارہ بنائیے، پندرہ بنائیے، موجودہ ڈویژنوں کو زیادہ بااختیار انتظامی اکائیوں میں تبدیل کرنے پر بحث کیجیے یا کوئی اور قابلِ عمل نقشہ سامنے لائیے۔

لاہور کی جگہ ملتان میں ایک اور وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری، آئی جی اور سیکریٹریٹ کھڑا کردینا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہیں کہلائے گا۔ اختیار کا پتہ بدلنے اور اختیار تقسیم کرنے میں فرق ہے۔

اصل مدعا یہ ہے کہ ہمیں بحث صوبوں کی تعداد سے آگے لے جانا ہوگی۔ چار صوبے ہوں، بارہ ہوں یا چھتیس انتظامی اکائیاں، اگر پولیس اوپر سے چلے، ہسپتال صوبائی سیکریٹری چلائے، ضلع ڈپٹی کمشنر کے تابع رہے، صفائی وزیراعلیٰ کے نام سے ہو اور منتخب مقامی حکومت بے اختیار رہے تو نقشہ ضرور بدلے گا، نظام نہیں۔

اور اس پوری بحث کا سب سے دلچسپ منظر اب خود مسلم لیگ ن کے اندر دکھائی دے رہا ہے۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں کے معاملے پر بیان بازی سے گریز کی ہدایت کی، مگر خواجہ آصف، احسن اقبال اور جاوید لطیف جیسے اہم رہنما مسلسل اس بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

شاید مسلم لیگ ن کے اندر اختیارات کی منتقلی کا عمل وہاں سے شروع ہوگیا ہے جہاں پارٹی قیادت نے سوچا بھی نہیں تھا۔

یوں لگتا ہے مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے اختیار کا بھی وہی حال ہوگیا ہے جو پنجاب میں میئر کے اختیار کا رہا: منصب اپنی جگہ، فیصلے کہیں اور۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔