پینٹاگون کی نئی پالیسی: امریکی فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کے لازمی ٹیسٹ کا آغاز

پینٹاگون نے امریکی فوجیوں میں ہارمونز کی کمی جانچنے کے لیے ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے۔ اس پالیسی پر طبی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پینٹاگون کی نئی پالیسی: امریکی فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کے لازمی ٹیسٹ کا آغاز

واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) پینٹاگون نے امریکی فوجیوں میں ‘مردانگی کے ہارمون’ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی جانچ کے لیے لازمی نظام نافذ کر دیا ہے۔ یہ نظام 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے فعال ڈیوٹی اور ریزرو فورسز اہلکاروں پر لاگو ہوگا۔

ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کے ذریعے جسم میں ہارمون کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ یہ ہارمون مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ خون کا نمونہ صبح کے وقت لیا جائے گا تاکہ ہارمون کی مقدار کی درست پیمائش ہو سکے۔

پینٹاگون کے مطابق یہ پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اس کا مقصد فوجیوں میں ہارمونز سے متعلق مسائل کی بروقت نشاندہی اور علاج ہے تاکہ مجموعی کارکردگی بہتر ہو سکے۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ ماہ اس ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم طبی ماہرین نے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ سائنسی شواہد کی کمی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کے طبی استعمال پر مزید بحث کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ستمبر کے وسط میں اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں