پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ لسانی ہے، انتظامی ہے یا انتقامی؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ لسانی ہے، انتظامی ہے یا انتقامی ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال اتنا سادہ نہیں کہ ایک لفظ میں فیصلہ کردیا جائے کہ معاملہ لسانی ہے، انتظامی ہے یا انتقامی۔کیونکہ نقشے پر ایک ہی لکیر کہیں زبان اور شناخت کا حق بن جاتی ہے، کہیں انتظامی ضرورت اور کہیں کسی سیاسی جماعت کو اپنی طاقت توڑنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

اگر نئے صوبوں کی تقسیم کی زبان بنیاد ہے تو سرائیکی وسیب، ہزارہ، شہری دیہی ، سندھ اور بلوچستان میں الگ الگ شناختیں سامنے آتی ہیں۔ اگر مسئلہ صرف انتظامی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے موجودہ اضلاع اور بلدیاتی حکومتوں کو اختیار کیوں نہیں دیا جاتا؟ اور اگر تقسیم سے کسی بڑی سیاسی جماعت کا مضبوط صوبائی قلعہ، ووٹ بینک اور اقتدار بھی ٹوٹتا ہے تو پھر وہ اسے انتظامی اصلاح کے بجائے انتقامی تقسیم کیوں نہ سمجھے؟

لیکن اگر مسئلہ واقعی صرف انتظامی ہے تو پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ موجودہ اضلاع، شہروں اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار کیے بغیر نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟

نئے صوبوں کے قیام کی بحث ابھی کیوں اٹھی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایسی نئی لسانی یا علاقائی تحریک اچانک نہیں اٹھی جس نے ملک بھر کے سیاسی حلقوں کو نئے صوبے بنانے پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہو۔ موجودہ بحث نے زور اس وقت پکڑا جب 30 جولائی کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کو “تباہ” قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے معاملے پر فیصلہ کرنے کو کہا۔ اس سے پہلے عبدالعلیم خان نئے انتظامی صوبوں کی وکالت کررہے تھے، جبکہ میاں عامر محمود بھی چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی اس بحث کو اپنی اہم سیاسی مہم بنا لیا اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال تمام 32 ڈویژنوں کو بااختیار انتظامی اکائیوں میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اختیار اور وسائل صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہنے کے بجائے نچلی سطح تک پہنچنے چاہئیں۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن اس پوری بحث کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ نئے صوبوں کی بات تو چھیڑ دی گئی، لیکن کیا اس کے لیے ضروری سیاسی اتفاقِ رائے اور تیاری بھی موجود ہے؟ وہ صوبائی حقوق محدود کرنے اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی مخالفت کرچکے ہیں، جبکہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم سے ملنے والے صوبائی اختیارات واپس لینے کی کسی ممکنہ کوشش کے خلاف بھی خبردار کررہے ہیں۔

مسلم لیگ نون کی صورتِ حال مزید دلچسپ ہے۔ خواجہ آصف اور احسن اقبال جیسے اہم رہنما نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے حق میں بول رہے ہیں، لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ابھی کوئی واضح اور متفقہ پالیسی سامنے نہیں رکھی۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو حتمی پالیسی طے ہونے تک اس معاملے پر بیان بازی سے گریز کی ہدایت کی۔ شہباز شریف کے سامنے نئے صوبوں کا معاملہ ضرور رکھا گیا، لیکن ان کا براہِ راست عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مریم نواز بھی اب تک اس بحث پر واضح پوزیشن لینے سے گریزاں ہیں۔ اس کے باوجود احسن اقبال نے نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ دو متبادل بھی پیش کردیے کہ یا تو مزید پندرہ صوبے بنائے جائیں یا تقریباً 160 اضلاع کو بااختیار مقامی حکومتوں میں تبدیل کردیا جائے۔

کیا پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ پہلے بھی ہو چکا ہے؟

نئے صوبوں کے قیام کی یہ بحث نئی نہیں۔ 2012 میں جنوبی پنجاب کا معاملہ پارلیمان تک پہنچا۔ پنجاب اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے نئے صوبے اور بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کے لیے الگ الگ قراردادیں منظور کیں۔ وفاقی سطح پر نئے صوبوں کے لیے پارلیمانی کمیشن بھی بنا اور آئینی، مالی اور انتظامی معاملات زیر بحث آئے۔اس حوالے سے محمد علی درانی کا مؤقف ہے کہ بہاولپور کوئی نیا صوبہ نہیں بلکہ اس کی سابق صوبائی حیثیت بحال ہونی چاہیے، جبکہ بہاولپور اور ہزارہ کو پہلے ماڈل صوبے بنا کر ان کی کارکردگی کی بنیاد پر مزید صوبوں کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان نے کبھی نئے صوبوں پر غور نہیں کیا؛ مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی اتفاق رائے کبھی اتنا مضبوط نہیں ہوا کہ نقشہ تبدیل ہوسکے۔

کیا چھوٹا انتظامی یونٹ خود بہتر حکومت کی ضمانت ہے؟

نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہی دی جارہی ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں عوام کے قریب اور زیادہ مؤثر حکومت فراہم کرسکتی ہیں۔ لیکن پاکستان کے اپنے تجربات بتاتے ہیں کہ صرف آبادی یا انتظامی حدود کم کردینے سے نظام لازماً بہتر نہیں ہوجاتا۔

92 نیوز کے پروگرام مقابل میں معروف سیاسی تجزیہ نگار ماجد نظامی نے نئے صوبوں کے قیام کے اس مفروضے کو آزاد کشمیر اور سابق فاٹا کی مثال سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ

“مثال کے طور پر جب آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹ آپ کے مسائل کا حل ہیں تو آزاد کشمیر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں صرف 10 اضلاع ہیں۔ ہر ضلع میں 10 لاکھ سے کم آبادی ہے۔ کئی اضلاع تو ایسے ہیں جہاں 2 لاکھ، 3 لاکھ آبادی ہے، تو وہاں جو دودھ اور شہد کی نہریں بہی ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں۔ وہاں پچھلے 10 سے 15 سال میں کتنے وزرائے اعظم تبدیل ہوئے ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح جب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک وفاقی علاقہ ہونا چاہیے جو تمام مسائل حل کرے اور معاملات مؤثر طریقے سے چلائے، تو ہمارے سامنے فاٹا اور اس کی قبائلی ایجنسیوں کی مثال موجود ہے، جہاں نہ ترقی تھی اور ایف سی آر کا ایک ظالمانہ قانون نافذ تھا۔”

یعنی چھوٹا رقبہ یا کم آبادی اچھی حکومت کی ضمانت نہیں؛ اصل سوال انتظامی اکائی کے حجم سے زیادہ اداروں کی صلاحیت، جواب دہی اور کارکردگی کا ہے۔

 

نئے صوبوں کے قیام کی بجائے بلدیاتی اداروں کوبا اختیار کیوں نہیں بنایا جاتا؟

آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو منتخب مقامی حکومت قائم کرکے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ پھر بھی پاکستان میں اختیارات کی منتقلی صوبے سے ضلع، تحصیل اور شہر تک پہنچتے پہنچتے رک جاتی ہے۔

اسی پروگرام مقابل میں سینئر صحافی عامر متین نے مسلم لیگ نون سے یہی سوال کیا:

”مگر پنجاب اسمبلی میں اگر ان کی نیت یہ ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں یا بااختیار ضلعی نظام  کوبہتر بنایا جائے  تو آج تک یا اب بھی انہیں  کون روکتا ہے“

یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے۔ اگر مقصد واقعی حکومت عوام کے دروازے تک پہنچانا ہے تو بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے قانون سازی کی سیاسی طاقت اس کے پاس ہے۔

اسد رحیم نے بھی اسی مسئلے کو سیاسی جماعتوں کی اختیارات چھوڑنے سے ہچکچاہٹ سے جوڑتے ہو کہا کہ

”علاقائی حکومتیں بہت آرام سے بن سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کے وقت انہوں نے علاقائی حکومتوں کا کوئی بااختیار قانون نہیں بنایا، وہی قصہ ہے مسلم لیگ نواز کا اور سب سے بدترین صورتحال تو ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی دیکھنے کو ملتی ہے۔“

لیکن ہر صوبائی مطالبہ صرف انتظامی بھی نہیں

جنوبی پنجاب میں سرائیکی زبان، شناخت اور علاقائی محرومی کی ایک طویل سیاسی تاریخ موجود ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں تقریباً پانچواں حصہ آبادی سرائیکی کو اپنی مادری زبان بتاتی ہے۔ اس لیے یہاں انتظامی محرومی کے ساتھ لسانی شناخت بھی موجود ہے۔

اسی خطے میں بہاولپور کا مقدمہ مختلف ہے۔ محمد علی درانی اور بہاولپور صوبے کے حامی اسے نیا لسانی صوبہ بنانے کے بجائے بہاولپور کی سابق صوبائی حیثیت کی بحالی کا سوال قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2012 میں بھی جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے مطالبات الگ الگ قراردادوں کی صورت میں سامنے آئے۔

ہزارہ میں علاقائی اور ہندکو شناخت اہم ہے۔ سندھ میں کراچی یا شہری سندھ کی الگ انتظامی حیثیت کی بحث فوراً سندھی اور مہاجر سیاست سے جڑ جاتی ہے، جبکہ بلوچستان میں نئی حد بندی بلوچ، پشتون اور دوسری قومیتی شناختوں کے ساتھ وسائل اور نمائندگی کے سوالات پیدا کرسکتی ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ  ”انتقامی  “کیوں سمجھا جاتاہے؟

صوبہ تقسیم ہونے سے صرف چیف سیکرٹری، آئی جی یا سیکرٹریٹ نہیں بدلتا، سیاسی طاقت بھی تقسیم ہوتی ہے۔ پنجاب کی نئی تقسیم وہاں کی بڑی سیاسی  جماعتوں کی  سیاسی طاقت کو محدود   کر سکتی ہے۔ سندھ کی تقسیم پیپلز پارٹی کے سب سے مضبوط سیاسی مرکز کو متاثر کرسکتی ہے۔ خیبر پختونخوا یا بلوچستان کی نئی حد بندیاں بھی موجودہ سیاسی اور قومیتی طاقت کا توازن تبدیل کرسکتی ہیں۔

اسی لیے بعض سیاسی حلقوں میں خدشہ موجود ہے کہ انتظامی اصلاح کے نام پر صوبائی سیاسی طاقت کے مراکز توڑ کر بعض جماعتوں یا قیادت کو اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں کمزور بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہی اس بحث کا انتقامی پہلو  جس پر دبے دبے لفظوں میں سیاسی قائدین اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ایک  ایسا سیاسی خدشہ ہے، جسے ثبوت کے بغیر حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن  اسے یکسر نظر انداز کر کے  خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تو کیا نئے صوبوں کا قیام ہی مسئلے کا حل ہے؟

نئے صوبے بنانے سے پہلے کم از کم ایک راستہ آزمایا جاسکتا ہے  اور وہ  مضبوط، منتخب اور بااختیار بلدیاتی حکومتیں  کا قیام ہے۔ ضلع، تحصیل اور شہر کو مالی اور انتظامی اختیار دیا جائے، پولیس، صحت، تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور شہری خدمات میں اصلاحات کی جائیں اور پھر ان کی کارکردگی کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے۔

اگر حقیقی اختیارات کی منتقلی اور انتظامی اصلاحات کے باوجود کسی علاقے میں مستقل محرومی، تاریخی یا لسانی شناخت کا مسئلہ اور نئے صوبے کے لیے واضح عوامی حمایت برقرار رہتی ہے تو اس کا مقدمہ کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔

ماجد نظامی نے اسے ایک جملے میں سمیٹا:

”اگر اب بھی آپ چھوٹے   انتظامی یونٹس  بنانا چاہتے ہیں لیکن آپ کی حکومتی چال ڈھال وہ وہی رہے گی تو پھر اس سارے عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا“۔

مگر اصل سوال  صرف یہ نہیں ۔ کہیں یہ تو نہیں کہ نئے صوبوں کے قیام کا شدومد سے مطالبہ ، چھوٹے انتظامی یونٹس کی اچانک شروع ہونے والی بحث کسی اور بڑے فیصلے سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ ہو؟ صوبوں کے این ایف سی حصے اور اٹھارہویں ترمیم سے ملنے والے اختیارات کو محدود کرنے، اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کا انتظامی اختیار بڑھانے، یا کسی سیاسی جماعت اور زیرِ عتاب قیادت کی صوبائی طاقت کم کرنے کی کوئی نئی چال تو نہیں؟

اس کا جواب ابھی موجود نہیں۔ مگر شاید نئے صوبوں کی پوری بحث کو سمجھنے کے لیے” کتنے صوبے؟“ سے زیادہ اہم سوال یہی ہےکہ یہ ”بحث ابھی کیوں شروع ہوئی ہے اور پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ لسانی ہے، انتظامی ہے یا انتقامی ہے؟

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔