منگلیک سر کی سفری روداد — ایک پہاڑ، ایک سفر اور اکیس برس کی کہانی
کچھ سفر منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں ہوتے۔
کچھ سفر انسان کو اپنے آپ تک واپس لانے کے لیے ہوتے ہیں۔
اور کچھ پہاڑ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سر کرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ اصل چڑھائی شاید اس پہاڑ کی نہیں تھی جو سامنے کھڑا تھا، بلکہ اس پہاڑ کی تھی جو برسوں سے ہمارے اندر موجود تھا۔
میرے لیے منگلیک سر کی 6050 میٹر بلند چوٹی تک پہنچنے کا سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
یہ صرف ایک summit نہیں تھی۔
یہ اکیس برس پہلے کے ایک ایسے انسان سے ملاقات تھی جسے دمہ تھا، جس کے لیے شاید بلند پہاڑوں کا خواب بھی ایک بعید خیال تھا، اور پھر اس انسان سے ملاقات تھی جو 21 سال بعد اسی دنیا کی ایک بلند ترین خاموش جگہ پر کھڑا تھا—جہاں آکسیجن کم تھی، سانس مشکل تھی، مگر دل میں شکر بہت زیادہ تھا۔
دمے سے 6050 میٹر تک۔
شاید میری پوری کہانی کو اس ایک جملے سے زیادہ مختصر اور خوبصورت انداز میں بیان کرنا مشکل ہے۔
شمشال: جہاں سفر راستے سے زیادہ کیفیت بن جاتا ہے
منگلیک سر تک پہنچنے کا سفر کسی نقشے پر دو مقامات کے درمیان کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں۔یہ سفر پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع شمشال کی اس دور افتادہ وادی سے شروع ہوتا ہے جہاں پہنچ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی روزمرہ دنیا سے باہر نکل رہا ہے۔
شہر کی آوازیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
آبادیاں کم ہوتی جاتی ہیں۔
راستے دشوار ہوتے جاتے ہیں۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے جب پہاڑ صرف منظر نہیں رہتے، راستہ بن جاتے ہیں۔
یہاں خاموشی محض آواز کی عدم موجودگی نہیں بلکہ سفر کا ایک مستقل ساتھی ہے۔ فیصلے گھڑی دیکھ کر نہیں بلکہ موسم، روشنی، جسمانی طاقت اور پہاڑ کی کیفیت دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔
میرے لیے شمشال واپسی ایک ادھوری کہانی کی طرف لوٹنا بھی تھا۔
گزشتہ برس میں شمشال پاس تک پہنچنے کی کوشش کر چکا تھا، مگر حالات نے اجازت نہیں دی اور واپس لوٹنا پڑا۔
پہاڑوں میں واپسی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی۔
بعض اوقات واپس مڑنا ہی وہ فیصلہ ہوتا ہے جو آپ کو اگلی کوشش کے لیے زندہ اور محفوظ رکھتا ہے۔
اس وقت شاید یہ بات سمجھنا آسان نہیں تھا۔ ایک خواب کے قریب پہنچ کر واپس آنا تکلیف دیتا ہے۔ مگر ایک سال بعد اسی خطے میں دوبارہ کھڑا تھا تو محسوس ہوا کہ شاید گزشتہ سال میری کہانی کا وہ باب ابھی مکمل ہونا ہی نہیں تھا۔
اس بار پہاڑ نے شاید مجھے ایک اور موقع دیا تھا۔
بلندی کے ساتھ بدلتا ہوا انسان
سفر آگے بڑھا تو بلندی بڑھتی گئی۔
گھرِ سر کیمپ تقریباً 3670 میٹر پر تھا۔
پھر پریین سر کیمپ، 3850 میٹر۔
اس کے بعد شمشال پاس، تقریباً 4700 میٹر۔
اور پھر وہ بلند و بالا دنیا جہاں چند سو میٹر کا فرق بھی جسم کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔
ہم تقریباً 4800 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ سے آگے بڑھے۔ یہاں آ کر محسوس ہوا کہ اب پہاڑ صرف جسمانی طاقت کا امتحان نہیں لے رہا، ذہنی مضبوطی بھی برابر کی ضرورت بن چکی ہے۔
اونچائی پر جسم اپنی رفتار خود طے کرتا ہے۔
قدم چھوٹے ہو جاتے ہیں۔
رفتار کم ہو جاتی ہے۔
سانس گہری ہو جاتی ہے۔
اور چند قدم کی چڑھائی بھی اس قدر توانائی مانگتی ہے کہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ معمول کی دنیا میں ہم سانس جیسی نعمت کو کتنی آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
شاید یہی پہاڑ کی پہلی بڑی تعلیم ہے:
جو چیز عام زندگی میں معمولی لگتی ہے، بلندی پر وہی سب سے قیمتی بن جاتی ہے۔
موسم کا امتحان
پھر موسم نے بھی اپنا رنگ بدلنا شروع کیا۔
بادل، برف، تیز ہوائیں اور بعض اوقات ایسی دھند کہ سامنے چند قدم کا راستہ بھی دکھائی نہ دیتا۔
چوٹی کی طرف آخری پیش قدمی میں حد نگاہ تقریباً ختم ہو گئی تھی۔
کبھی چند قدم آگے برف دکھائی دیتی اور کبھی پورا پہاڑ سفید دھند میں گم ہو جاتا۔
چھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر آکسیجن پہلے ہی کم تھی، موسم مزید سخت ہوتا جا رہا تھا اور ہر قدم کے ساتھ سانس یاد دلا رہی تھی کہ یہاں میدانی راستوں کی طرح چلنا ممکن نہیں۔
ایسے حالات میں پہاڑ آپ سے صرف حوصلہ نہیں مانگتا، فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی مانگتا ہے۔
آگے بڑھنا ہے یا رکنا ہے؟
جسم ساتھ دے رہا ہے یا نہیں؟
موسم واپسی کی اجازت دے گا یا نہیں؟
پہاڑ پر حوصلے اور ضد کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہوتی ہے۔
حوصلہ آپ کو منزل تک لے جا سکتا ہے، مگر ضد آپ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسی لیے اس پورے سفر میں میرے ذہن میں ایک بات مسلسل موجود رہی:
چوٹی تک پہنچنا ہے، لیکن بحفاظت واپس بھی آنا ہے۔
ایک جملہ جو پورے سفر میں میرے ساتھ رہا
میری اہلیہ نے سفر سے پہلے اور سفر کے دوران بار بار ایک ہی بات کہی:
"آپ نے یہ کرنا ضرور ہے، لیکن واپس بھی محفوظ آنا ہے۔”
بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ تھا۔
مگر مشکل لمحوں میں یہی الفاظ ایک عجیب حوصلہ دیتے رہے۔
پہاڑ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اکیلا کبھی نہیں چڑھتا۔
وہ بظاہر اپنے قدموں سے اوپر جا رہا ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ اس کے والدین کی دعائیں، شریکِ حیات کا اعتماد، دوستوں کی نیک خواہشات اور ان تمام لوگوں کی محبت ہوتی ہے جو اس کے خواب کو اپنا خواب سمجھ کر اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
چوٹی پر پہنچ کر مجھے یہ سب اور زیادہ شدت سے محسوس ہوا۔
اصل پہاڑ کہیں اور تھا
جوں جوں میں اوپر جا رہا تھا، ایک عجیب احساس مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔
میں منگلیک سر ضرور چڑھ رہا تھا، لیکن شاید اصل پہاڑ میرے اندر تھا۔
اکیس برس پہلے مجھے دمہ تھا۔
وہ عمر جب سانس جیسی بنیادی چیز بھی کبھی کبھی ایک مسئلہ بن جاتی تھی۔
اس وقت اگر کوئی کہتا کہ ایک دن تم چھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر، اضافی آکسیجن کے بغیر، ایک چوٹی پر کھڑے ہو گے تو شاید یہ بات ناقابلِ یقین لگتی۔
مگر زندگی شاید اسی کا نام ہے۔
ہم آج کے انسان کو دیکھ کر کل کے انسان کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
وقت گزرتا ہے۔
انسان بدلتا ہے۔
مشکلات آتی ہیں۔
کچھ خواب ٹوٹتے ہیں۔
کچھ خواب دیر سے پورے ہوتے ہیں۔
اور کچھ راستے ہمیں اس انسان میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کا ہمیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
میرے لیے پہاڑ صرف adventure نہیں رہے۔
انہوں نے مجھے بدلنا شروع کیا۔
انہوں نے مجھے صبر سکھایا۔
انتظار سکھایا۔
ناکامی کو قبول کرنا سکھایا۔
اپنی حدود کو پہچاننا سکھایا۔
اور پھر ان حدود کو ایک ایک کر کے آزمانا بھی سکھایا۔
پہاڑ نے یہ بھی سکھایا کہ ہر بلندی پر پہنچنا ضروری نہیں ہوتا۔
کبھی واپس لوٹ آنا بھی کامیابی ہے۔
کبھی کسی summit کو چھوڑ دینا بھی سمجھ داری ہے۔
اور کبھی سب کچھ داؤ پر لگا کر صرف اس لیے آگے بڑھنا کہ آپ کسی کو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں، شاید حوصلہ نہیں بلکہ انا ہوتی ہے۔
یہ فرق میں نے کتابوں سے نہیں، پہاڑوں سے سیکھا۔
04 اگست — وہ دن جب حد بدل گئی
چوٹی کی آخری کوشش میرے لیے ایک ایسی جدوجہد تھی جسے شاید الفاظ مکمل طور پر بیان نہ کر سکیں۔
ہر قدم کے درمیان سانس تھی۔
ہر سانس کے درمیان ایک سوال۔
اور ہر سوال کے بعد صرف ایک جواب:
ایک قدم اور۔
قدم۔
سانس۔
پھر قدم۔
پھر سانس۔
بلندی بڑھتی گئی۔
چھ ہزار میٹر کا ہندسہ پیچھے رہ گیا۔
زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے 6000 میٹر کی حد عبور کی۔
اور وہ بھی اضافی آکسیجن کے بغیر۔
یہ میرے لیے صرف پچاس میٹر مزید چڑھنے کا معاملہ نہیں تھا۔
یہ ایک نفسیاتی دیوار عبور کرنے جیسا تھا۔
ایک ایسی حد جسے کبھی صرف ایک عدد سمجھتا تھا، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کچھ اعداد انسان کے اندر بھی بنے ہوتے ہیں۔
6000 میٹر۔
اور پھر اس سے آگے۔
6050 میٹر
پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب آگے جانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
میں منگلیک سر کی چوٹی پر کھڑا تھا۔
6050 میٹر۔
بغیر supplementary oxygen کے۔
موسم خراب تھا۔
بادل ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔
منظر واضح نہیں تھا۔
مگر اس لمحے مجھے کسی خوبصورت منظر کی ضرورت بھی نہیں تھی۔
میرے لیے سب سے بڑا منظر شاید وہ فاصلہ تھا جو اکیس برس میں طے ہوا تھا۔
دمے سے 6050 میٹر تک۔
ایک نامکمل کوشش سے مکمل summit تک۔
خوف سے یقین تک۔
شک سے شکر تک۔
اور اس لمحے زبان پر سب سے پہلے صرف ایک لفظ آیا:
الحمدللہ۔
مجھے ہمیشہ "پہاڑ فتح کرنے” کی اصطلاح کچھ بڑی محسوس ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پہاڑ وہیں رہتا ہے۔
ہم چند لمحوں کے لیے اس کی چوٹی تک پہنچتے ہیں، ایک تصویر بناتے ہیں، چند جذبات اپنے اندر سمیٹتے ہیں اور پھر واپس اتر آتے ہیں۔
اس دن بھی شاید ہم نے پہاڑ کو فتح نہیں کیا تھا۔
پہاڑ نے ہمیں گزرنے دیا تھا۔

چوٹی پر کھڑے ہو کر
چوٹی پر کھڑے ہو کر والدین کی دعائیں یاد آئیں۔
وہ دعائیں جن کا کوئی وزن سامان میں شامل نہیں ہوتا، مگر مشکل وقت میں شاید سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔
پھر اہلیہ کا خیال آیا۔
وہ مسلسل یہی کہتی رہی تھیں:
"کرنا ہے، مگر محفوظ واپس آنا ہے۔”
اس لمحے اس جملے کا دوسرا حصہ زیادہ اہم ہو چکا تھا۔
کیونکہ اب واپس اترنا تھا۔
واپسی بھی سفر کا حصہ ہے
کوہ پیمائی کی تصاویر میں عموماً چوٹی نظر آتی ہے۔
ایک مسکراتا ہوا چہرہ۔
ہاتھ میں جھنڈا۔
پیچھے برف پوش پہاڑ۔
مگر تصویر یہ نہیں بتاتی کہ چوٹی کے بعد بھی سفر باقی ہوتا ہے۔
جسم تھک چکا ہوتا ہے۔
توانائی کم ہو چکی ہوتی ہے۔
توجہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
اور موسم، جس نے اوپر جاتے ہوئے امتحان لیا تھا، واپسی پر بھی رعایت نہیں کرتا۔
اس لیے میرے لیے summit کی خوشی اس وقت مکمل ہوئی جب واپسی کا سفر محفوظ طریقے سے شروع ہوا۔
جوں جوں ہم نیچے اترتے گئے، ہوا نسبتاً بھاری محسوس ہونے لگی۔
سانس آسان ہونے لگی۔
پہاڑ پیچھے رہنے لگا۔
لیکن اس سفر سے حاصل ہونے والی بہت سی چیزیں میرے ساتھ نیچے آ رہی تھیں۔
اور شاید وہی اس سفر کی اصل دولت تھیں۔
پہاڑوں نے مجھے کیا دیا؟
کبھی کبھی لوگ پوچھتے ہیں:
"آپ پہاڑوں پر کیوں جاتے ہیں؟”
اس سوال کا جواب میرے پاس ہر سال مختلف ہوتا گیا ہے۔
کبھی adventure۔
کبھی challenge۔
کبھی nature۔
کبھی summit۔
مگر اب شاید جواب کچھ اور ہے۔
میں پہاڑوں پر اس لیے بھی جاتا ہوں کہ وہاں مجھے زندگی صاف دکھائی دیتی ہے۔
شہروں میں ہم بہت کچھ غیر ضروری اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے ہیں۔
پہاڑ پر سامان کم کرنا پڑتا ہے۔
ضروریات کم ہو جاتی ہیں۔
اور انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں اسے کتنی کم چیزوں کی ضرورت ہے۔
پہاڑ نے مجھے یہ سکھایا کہ رفتار ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتی۔
کبھی آہستہ چلنا ہی واحد راستہ ہوتا ہے۔
یہ سکھایا کہ دوسروں سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی سانس، اپنے قدم اور اپنی حدود کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔
یہ سکھایا کہ راستہ مشکل ہو تو منزل کو نہیں، اگلے قدم کو دیکھو۔
اور سب سے بڑھ کر یہ سکھایا کہ ناکامی راستے کا اختتام نہیں، کبھی کبھی راستے کا ضروری حصہ ہوتی ہے۔
گزشتہ سال شمشال پاس سے واپسی شاید اسی سفر کا حصہ تھی۔
اگر میں اس وقت اسے صرف شکست سمجھ لیتا تو شاید آج 6050 میٹر پر کھڑا نہ ہوتا۔
اکیس سال پہلے کا میں، اور آج کا میں
جب میں 6050 میٹر پر کھڑا تھا تو میرے ذہن میں بار بار ایک ہی خیال آ رہا تھا:
اکیس سال پہلے کا میں کہاں تھا، اور آج کا میں کہاں کھڑا ہے؟
درمیان میں صرف وقت نہیں گزرا۔
ایک پوری زندگی گزری۔
مشکلات آئیں۔
خواب بدلے۔
کچھ پورے ہوئے۔
کچھ ادھورے رہ گئے۔
اور پہاڑ اس سارے سفر میں میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
شاید آج میں جو کچھ ہوں، اس میں پہاڑوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔
انہوں نے میرے اندر کی بے چینی کو سمت دی۔
میرے خوف کو چیلنج میں بدلا۔
ناکامی کو تجربہ بنایا۔
تنہائی کو رفاقت میں بدلا۔
اور مشکل کو ایک ایسے راستے میں تبدیل کیا جس پر چلتے ہوئے انسان خود کو دریافت کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میرے لیے منگلیک سر صرف ایک summit نہیں۔
یہ میری زندگی کی ایک بڑی علامت ہے۔
ایک یاد دہانی کہ انسان اپنے ماضی کا قیدی نہیں ہوتا۔
اکیس سال پہلے کی بیماری آج کی حد متعین نہیں کرتی۔
گزشتہ سال کی ناکامی آج کے سفر کا فیصلہ نہیں کرتی۔
اور آج کی چوٹی کل کی آخری منزل نہیں ہوتی۔
ابھی بہت کچھ کہنا باقی ہے
مِنگلیک سر سے واپسی کے بعد میرے پاس صرف ایک summit story نہیں تھی۔
میرے پاس بہت سی چھوٹی چھوٹی کہانیاں تھیں۔
راستے میں ملنے والے لوگ۔
کیمپ کی راتیں۔
خاموش پہاڑ۔
موسم کے بدلتے رنگ۔
تھکن کے وہ لمحے جب انسان خود سے بات کرتا ہے۔
ساتھیوں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات۔
وہ خوف جنہیں کسی نے دیکھا نہیں۔
وہ دعائیں جنہیں کسی نے سنا نہیں۔
اور وہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں جو کسی GPS یا altimeter پر درج نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہیں۔
شاید میں ان سب کو ایک ہی تحریر میں بیان نہیں کر سکتا۔
اور شاید ضروری بھی نہیں۔
کچھ تجربات فوراً لفظوں میں نہیں ڈھلتے۔
انہیں تھوڑا وقت چاہیے ہوتا ہے۔
کچھ باتیں شاید اگلے سفر کے ساتھ سامنے آئیں گی۔
کچھ کسی اور پہاڑ کی چوٹی پر یاد آئیں گی۔
اور کچھ شاید کسی خاموش شام میں اچانک محسوس ہوں گی۔
لیکن جب بھی کوئی ایسی بات دل میں پوری طرح اترے گی، میں اسے ضرور شیئر کروں گا۔
کیونکہ پہاڑ صرف راستے نہیں دیتے۔
وہ کہانیاں بھی دیتے ہیں۔
آخری بات
04 اگست 2026 میرے لیے صرف ایک تاریخ نہیں۔
یہ ایک خواب کی تکمیل کی تاریخ ہے۔
ایک ایسے انسان کے سفر کی ایک اہم منزل، جس نے اکیس برس پہلے شاید کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ایک دن 6050 میٹر کی بلندی پر کھڑا ہو گا۔
لیکن اگر اس پورے سفر سے مجھے ایک ہی بات چننی ہو تو وہ 6050 میٹر نہیں ہو گی۔
وہ چوٹی نہیں ہو گی۔
وہ تصویر نہیں ہو گی۔
وہ achievement بھی نہیں ہو گی۔
بلکہ وہ انسان ہو گا جو اس سفر کے دوران میرے اندر پیدا ہوا۔
کیونکہ آخرکار شاید زندگی کی سب سے بڑی چوٹیاں وہ نہیں ہوتیں جن پر ہم کھڑے ہوتے ہیں۔
اصل چوٹیاں وہ ہوتی ہیں جنہیں ہم اپنے اندر سر کرتے ہیں۔
اور شاید یہی پہاڑوں کا سب سے بڑا تحفہ ہے:
آپ پہاڑ سے نیچے اتر آتے ہیں، مگر پہاڑ آپ کے اندر رہ جاتا ہے۔
مِنگلیک سر — 6050 میٹر۔
ایک خواب پورا ہوا۔
ایک چوٹی سر ہوئی۔
مگر اصل سفر شاید اب بھی جاری ہے۔








