انٹرنیٹ پر لاکھوں لوگ اس کے قہقہے پر ہنسے، اس کے چہرے سے میمز بنیں اور چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو نے اسے بھارت سے نکل کر دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین تک پہنچا دیا۔ مگر اس بے ساختہ ہنسی کے پیچھے ایک ایسے بچے کی زندگی تھی جسے غربت نے کم عمری میں اسکول چھوڑ کر ٹرک پر کلینر کا کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
یہ نوجوان ارون کمار ہے، جس کا تعلق بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے ضلع جے شنکر بھوپال پلی کے علاقے مادارم سےرپورٹ ہوا ہے۔ آج وہی ارون 18 سال کی عمر میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کر چکا ہے۔ یوں انٹرنیٹ پر اس کی کہانی ایک مرتبہ پھر توجہ حاصل کر رہی ہے، لیکن اس بار وجہ ان کا مشہور قہقہہ نہیں بلکہ تعلیم کی طرف واپسی ہے۔
ارون کمار کا چہرہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے نیا نہیں۔ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے بے ساختہ ہنستے ہوئے ان کی مختصر ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس قدر پھیلی کہ ان کا قہقہہ میمز اور مزاحیہ ریلز کا جانا پہچانا حصہ بن گیا۔
ویڈیو میں نہ کوئی اسکرپٹ تھا اور نہ اداکاری۔ ارون کی بے ساختہ ہنسی لوگوں کو اتنی پسند آئی کہ ان کا چہرہ انٹرنیٹ کی میم کلچر کا حصہ بن گیا۔
مگر جس لڑکے کے قہقہے پر انٹرنیٹ ہنس رہا تھا، اس کی اپنی زندگی اتنی ہنستی مسکراتی نہیں تھی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارون کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم ابتدائی جماعتوں کے بعد ہی چھوٹ گئی اور تقریباً دس سال کی عمر میں انہیں کام کی تلاش میں نکلنا پڑا۔ بعد میں ان کی ملاقات نہرو نامی ایک ٹرک ڈرائیور سے ہوئی، جنہوں نے انہیں ٹرک پر کلینر کا کام دے دیا۔
ارون کی زندگی ٹرک کے ساتھ طویل سفر، صفائی اور روزمرہ کے چھوٹے موٹے کاموں میں گزرنے لگی۔ پھر ایک معمول کے چائے کے وقفے نے ان کی شناخت بدل دی۔
نہرو نے بات چیت کے دوران ارون کو بے ساختہ قہقہہ لگاتے دیکھا تو اس لمحے کو موبائل فون میں ریکارڈ کر لیا۔ ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ارون کا قہقہہ سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔
یہ چند سیکنڈ ارون کی شناخت بدلنے کے لیے کافی ثابت ہوئے۔
لوگ ان کے قہقہے کو اپنی ریلز اور میمز میں استعمال کرنے لگے۔ لاکھوں سوشل میڈیا صارفین نے ان کا چہرہ دیکھا، لیکن بیشتر لوگ شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ہنستے ہوئے نوجوان کی زندگی کن حالات سے گزر رہی ہے۔
اس شہرت میں ایک تلخ تضاد بھی تھا۔
ارون کے بارے میں انٹرنیٹ پر تعریفیں اور تبصرے لکھے جا رہے تھے، لیکن کم عمری میں تعلیم چھوٹ جانے کے باعث وہ ان میں سے بہت کچھ خود پڑھنے کے قابل نہیں تھے۔
ٹرک ڈرائیور نہرو جو خود بھی مالی مشکلات کے باعث اپنی کالج کی تعلیم مکمل نہیں کر سکا تھا۔ ارون کی صورتحال نے اسے اپنی ادھوری تعلیم یاد دلادی اور اس نے فیصلہ کیا کہ جس مجبوری نے اس کی اپنی پڑھائی چھڑوائی، اس مجبوری سے ارون کی تعلیم کاخاتمہ کی وجہ نہیں بننے دے گا
اس نے ارون کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانے کی ذمہ داری اٹھائی۔ارون کے لیے کتابیں خریدیں، امتحانی فیس ادا کی اور دسویں جماعت کا امتحان بیرونی امیدوار کے طور پر دینے کے انتظامات میں مدد کی۔
یوں وہی ٹرک، جس پر ارون روزگار کے لیے کلینر کا کام کرتے تھے، رفتہ رفتہ اس کا عارضی کلاس روم بھی بن گیا۔
طویل سفروں کے دوران ملنے والے وقفے اور کام سے بچ جانے والا وقت پڑھائی کے لیے استعمال ہونے لگا۔ رپورٹس کے مطابق نہرو نے انہیں حروفِ تہجی سے لے کر بنیادی ریاضی تک پڑھانے میں مدد دی۔
یہ واپسی آسان نہیں تھی۔ ارون کو ایک طرف روزگار اور روزمرہ زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا تھیں اور دوسری طرف کئی برس پہلے چھوٹ جانے والی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جوڑنا تھا۔
بالآخر 2026 میں 18 سالہ ارون کمار نے دسویں جماعت کا امتحان کامیابی سے پاس کر لیا۔
بھارتی میڈیا میں ارون کی کامیابی کی خبر سامنے آئی تو وہ ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے لوگ ان کے قہقہے کو شیئر کر رہے تھے، اب اس قہقہے کے پیچھے موجود نوجوان کی جدوجہد اور تعلیمی کامیابی کی کہانی شیئر کی جا رہی تھی۔
ارون اب سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں اور ان کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ ان کی وائرل شناخت نے انہیں ایک عام ٹرک کلینر سے معروف سوشل میڈیا چہرہ ضرور بنایا، مگر ان کی کہانی کا زیادہ اہم حصہ شاید وہ ہے جو کیمرے کے سامنے نہیں بلکہ ٹرک کے کیبن میں لکھا گیا۔
اس کہانی میں نہرو کا کردار بھی ارون کی کامیابی جتنا اہم ہے۔ ایک مختصر ویڈیو بنا کر انہوں نے ارون کو انٹرنیٹ سے متعارف کرایا، لیکن کتابیں خرید کر، امتحانی اخراجات اٹھا کر اور سفر کے دوران پڑھا کر انہوں نے اس شہرت کو ایک مختلف سمت دینے میں مدد کی۔
چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو نے ارون کمار کو مشہور ضرور کیا تھا، لیکن شہرت اور زندگی بدلنے میں فرق ہوتا ہے۔
پہلی مرتبہ ارون کا قہقہہ وائرل ہوا تھا، اس مرتبہ اس قہقہے کے پیچھے موجود لڑکے کی کامیابی وائرل ہو رہی ہے۔





