پمز اسپتال میں آتشزدگی، انتظامیہ کی غفلت کے شواہد اور حکومتی اقدامات

پمز اسپتال کی آتشزدگی میں چودہ نومولود بچوں کی ہلاکت پر انتظامیہ کی غفلت عیاں، حکومت نے مالی معاوضے کا اعلان کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پمز اسپتال میں آتشزدگی، انتظامیہ کی غفلت کے شواہد اور حکومتی اقدامات

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں آتشزدگی کے بعد انتظامیہ کی سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعے میں چودہ نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

کیپیٹل فائر سروسز نے پمز انتظامیہ کو 2018 سے فائر سیفٹی کے ناقص نظام پر مسلسل نوٹسز دیے تھے۔ اسپتال کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور سیل کرنے کی وارننگز بھی دی گئی تھیں۔

10 نومبر 2025 کو جاری حتمی نوٹس میں حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کو دانستہ غفلت قرار دیا گیا تھا۔ اس کی کاپیاں وزارت قومی صحت و دیگر متعلقہ اداروں کو بھیجی گئی تھیں۔

وفاقی حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر کو چار ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ ڈاکٹر محمد سلمان کو عارضی اضافی چارج دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں