نیپال اور تبت میں گلیشیئر لیک پھٹنے سے 1500 افراد لاپتہ، سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں گلیشیئر لیک پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی، تقریباً 1500 لاپتہ، ہلاکتوں کا خدشہ۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
نیپال اور تبت میں گلیشیئر لیک پھٹنے سے 1500 افراد لاپتہ، سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ

کھٹمنڈو: (رائیٹ ناؤ نیوز) نیپال اور تبت کی سرحد پر ایک گلیشیئر لیک پھٹنے کے باعث تباہی پھیل گئی ہے۔ اس واقعے میں تقریباً 1500 افراد لاپتہ ہیں، جن میں سے 800 غیر ملکی ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 165 سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

تباہی بدھ کی صبح پیش آئی جب برف، چٹانوں اور کیچڑ کا زبردست ریلہ نیچے آیا۔ اس نے راستے میں آنے والے کئی قصبوں کو متاثر کیا۔ پن بجلی کے منصوبے، پل، سڑکیں اور سیکیورٹی چوکیاں بھی سیلاب کی زد میں آ گئیں۔

حکام اور ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پہاڑ کے کس مقام سے برفانی تودہ گرا۔ لنگٹانگ لیرونگ پہاڑ سے یہ تباہی شروع ہوئی، جو تقریباً 7 ہزار 234 میٹر بلند ہے اور دارالحکومت کھٹمنڈو سے 45 کلومیٹر شمال میں ہے۔

واضح رہے کہ ہمالیہ میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اس خطرے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جس سے گلیشیئر پگھل کر جھیلوں کی تشکیل کرتے ہیں۔

ہمالیہ میں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے کے واقعات نے کئی بار تباہی مچائی ہے۔ بھارت کی ریاست سکم میں 2023 میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ واقعات ان علاقوں میں معاشی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں