سپریم کورٹ نے وسیم عباس کی سزائے موت برقرار رکھی، عورت کے خلع کے حق پر تشدد کو آئین پر حملہ قرار دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سپریم کورٹ نے عورت کے خلع کے حق کو آئینی قرار دیتے ہوئے وسیم عباس کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ عورت پر تشدد آئین پر حملہ ہے، اور عدالت نے مجرم کی جیل پٹیشن خارج کر دی۔
فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانون سختی سے نمٹے گا۔ عدالت نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
عدالت کے مطابق خاندانی حدود میں ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ فرانزک شواہد جرم کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی نقص نہیں پایا گیا۔
یاد رہے کہ وسیم عباس نے 11 اکتوبر 2020 کو اپنی سابقہ بیوی شہناز بی بی کو قتل کر دیا تھا۔ خاتون نے خلع کی ڈگری حاصل کی تھی اور 48 گھنٹوں بعد ہی قتل کر دی گئی۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کی لاہور ہائی کورٹ نے بھی توثیق کی تھی۔












