ادھوری آزادی: پاکستان کو ابھی ایک اور آزادی درکار ہے

14 اگست کی صبح جب گلیوں میں سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گھروں کی چھتوں پر ملی نغمے بجتے ہیں اور بچے سبز و سفید لباس پہن کر خوشی مناتے ہیں تو ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آزادی ایک مکمل کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس کا اختتام 14 اگست 1947 کو ہو گیا تھا۔

مگر اگر آزادی صرف سرحد حاصل کرنے کا نام نہیں، اگر آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک عام شہری خوف کے بغیر سوال کر سکے، قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو، ادارے افراد کے بجائے آئین کے تابع ہوں اور انسان اپنی عزت، حق اور ضمیر کے ساتھ زندگی گزار سکے، تو پھر شاید ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری آزادی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

ہم نے ایک ملک حاصل کیا تھا؛ اب ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں آزاد شہری رہ سکیں۔

قومیں صرف جغرافیہ حاصل کرکے آزاد نہیں ہوتیں۔ جغرافیائی آزادی پہلا قدم ہے، منزل نہیں۔

ایک ایسا ملک جہاں آئین موجود ہو مگر اس کی روح بار بار کمزور پڑ جائے، جہاں قانون کی کتاب سب کے لیے ایک ہو مگر اس کا اطلاق طاقت اور حیثیت کے مطابق بدلتا رہے، جہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا رہے، جہاں غریب انصاف کے لیے برسوں انتظار کرے اور بااثر شخص اپنے تعلقات سے راستہ نکال لے—وہاں آزادی کا تصور ابھی تشنہ رہتا ہے۔

آزادی کا اصل امتحان قومی ترانے کی آواز میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں ہوتا ہے جب ایک عام آدمی طاقتور کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے:

یہ میرے حق کے خلاف ہے

اور ریاست اس کی آواز سننے کے لیے تیار ہو۔

ہمیں صرف آزاد ملک نہیں، آزاد شہری بھی چاہییں

پاکستان بناتے وقت ہمارے سامنے ایک ایسی ریاست کا تصور تھا جہاں شہری اپنی زندگی، عزت اور مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرسکے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی ہمارے ہاں شہری اور ریاست کے تعلق میں ایک بنیادی سوال موجود ہے: کیا شہری ریاست کے لیے ہے یا ریاست شہری کے لیے؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں، تہذیبی بھی ہے۔

ہم بچوں کو آزادی کے معنی بتاتے ہوئے انہیں قومی تاریخ کے واقعات تو یاد کرواتے ہیں، مگر انہیں یہ کم سکھاتے ہیں کہ اختلاف رائے بھی ایک حق ہے؛ سوال کرنا بدتمیزی نہیں

قانون کی پابندی صرف کمزور کی ذمہ داری نہیں؛ اور کسی عہدے پر بیٹھا شخص تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔

ہمیں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو صرف امتحان پاس کرنے والے افراد پیدا نہ کرے بلکہ اصول پر کھڑے ہونے والے شہری پیدا کرے۔

کیونکہ جس معاشرے میں بچے صرف یہ سیکھیں کہ طاقتور شخص کو ناراض نہیں کرنا، وہاں جمہوریت کا ڈھانچہ تو بن سکتا ہے، جمہوری مزاج نہیں۔

اصل مسئلہ شاید ہماری تربیت ہے

ہم اکثر اداروں کی کمزوری کا شکوہ کرتے ہیں۔ کبھی پارلیمان کو، کبھی عدلیہ کو، کبھی بیوروکریسی کو، کبھی سیاسی جماعتوں کو اور کبھی عوام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
لیکن ایک اہم سوال ہم کم پوچھتے ہیں:

ہم ان اداروں میں جانے والے انسانوں کی تربیت کیسے کرتے ہیں؟

ایک جج کو صرف قانون پڑھا دینا کافی نہیں۔ اسے یہ اخلاقی قوت بھی درکار ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہ سکے۔

ایک بیوروکریٹ کو صرف قواعد و ضوابط معلوم ہونا کافی نہیں۔ اسے یہ سمجھ بھی ہونی چاہیے کہ اس کا اصل فرض کسی شخصیت کو خوش کرنا نہیں بلکہ عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔

ایک استاد کو صرف نصاب مکمل کرنا کافی نہیں۔ اسے ایسے ذہن تیار کرنے ہیں جو دلیل سن سکیں، اختلاف برداشت کر سکیں اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھتے ہوں۔

اور ایک شہری کو صرف ووٹ ڈالنے کا طریقہ معلوم ہونا کافی نہیں۔ اسے اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا بھی شعور ہونا چاہیے۔

ریاستیں قانون سے چلتی ہیں، مگر قانون کی روح انسانوں کے کردار سے زندہ رہتی ہے۔

طاقت کے سامنے “نہیں” کہنا کیوں مشکل ہے؟

ہماری اجتماعی زندگی میں طاقت کا ایک عجیب رعب ہے۔ عہدہ، دولت، تعلقات، سیاسی وابستگی، خاندانی اثر و رسوخ—یہ سب اکثر انسان کے گرد ایسی دیوار بنا دیتے ہیں جس کے سامنے عام شہری خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

آزاد انسان وہ نہیں جو صرف اپنی مرضی کر سکے۔ آزاد انسان وہ ہے جو غلط دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر سکے۔
ایک سرکاری افسر کا “نہیں” کہنا، جب اس سے غیر قانونی کام کا مطالبہ ہو، آزادی ہے۔

ایک استاد کا اپنے طالب علم کو صرف رٹا لگوانے کے بجائے سوال کرنے دینا آزادی ہے۔

ایک صحافی کا طاقتور شخص سے سوال پوچھنا آزادی ہے۔

ایک جج کا دباؤ کے باوجود قانون کے مطابق فیصلہ کرنا آزادی ہے۔

اور ایک عام شہری کا اپنے حق کے لیے پرامن اور قانونی آواز اٹھانا بھی آزادی ہے۔

یہی وہ آزادی ہے جو پرچموں، نعروں اور تقریبات سے آگے جاتی ہے۔

ہماری دوسری آزادی کلاس روم سے شروع ہوگی

اگر ہمیں پاکستان کی اگلی نسل کو حقیقی معنوں میں آزاد دیکھنا ہے تو تبدیلی کا آغاز شاید پارلیمان سے بھی پہلے کلاس روم سے کرنا ہوگا۔

ایسا کلاس روم جہاں استاد بچے کو صرف یہ نہ بتائے کہ “صحیح جواب کیا ہے”، بلکہ یہ بھی سکھائے کہ “صحیح سوال کیسے پوچھا جاتا ہے”۔

انصاف کے بغیر آزادی ادھوری ہے

آزادی کا سب سے مضبوط ستون انصاف ہے۔

اگر ایک مزدور اپنے حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے اور برسوں انتظار کرے، اگر ایک کمزور شہری کو تھانے میں اپنی بات منوانے کے لیے سفارش درکار ہو، اگر قانون کی طاقت کا احساس صرف عام آدمی کو ہو اور طاقتور قانون کو اپنے لیے قابلِ انتظام رکاوٹ سمجھنے لگے، تو آزادی کا جشن اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔

قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ قانون کی کتاب موجود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں کوئی شخص قانون سے بڑا نہیں۔

ہمیں دشمن سے زیادہ اپنے رویوں سے لڑنا ہے

ہم اکثر پاکستان کے مسائل کا سبب بیرونی طاقتوں، عالمی سازشوں، معاشی دباؤ یا سیاسی مخالفین کو قرار دیتے ہیں۔ ان عوامل کی اپنی جگہ اہمیت ہے، مگر کوئی ملک صرف بیرونی خطرات سے کمزور نہیں ہوتا۔

قومیں اس وقت بھی کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اندر قانون کی عزت کم، میرٹ کی قدر محدود، اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت کم اور ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ جائے۔

ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم خود اس پاکستان کی تعمیر میں کردار ادا کر رہے ہیں جس کا خواب ہم دوسروں سے پورا ہونے کی توقع رکھتے ہیں؟

جب ہم سفارش کو میرٹ پر ترجیح دیتے ہیں، معمولی فائدے کے لیے اصول توڑتے ہیں، ٹریفک قانون کو غیر اہم سمجھتے ہیں، سرکاری وسائل کو اپنا حق سمجھتے ہیں یا اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی کو صرف اس لیے نظر انداز کردیتے ہیں کہ وہ “اپنا” ہے، تو ہم آزادی کے تصور کو خود کمزور کرتے ہیں۔

ریاست کا کردار اہم ہے، مگر معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

آزادی کی اگلی منزل

1947 میں ہمارے بزرگوں نے ایک ملک حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دیں۔ آج ہماری ذمہ داری شاید اس سے مختلف ہے۔

ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں طاقت قانون کے سامنے جھکے، شہری خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ ریاست سے تعلق رکھے، تعلیم ذہن آزاد کرے، انصاف خریدنا نہ پڑے اور اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔

یہ کام کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک شخصیت کے ذریعے نہیں ہوگا۔
یہ ایک طویل اجتماعی سفر ہے۔

اور اس سفر کا آغاز اس اعتراف سے ہوگا کہ آزادی ایک مکمل شدہ منصوبہ نہیں بلکہ مسلسل تعمیر کا عمل ہے۔

آج 14 اگست کو ہم پھر پرچم لہرا رہے ہیں۔ ضرور لہرائیں۔ قومی ترانہ بھی گائیں۔ اپنے بچوں کو پاکستان کی تاریخ بھی سنائیں۔

لیکن اس کے ساتھ انہیں ایک اور سبق بھی دیں:

پاکستان صرف وہ سرزمین نہیں جو ہمیں 1947 میں ملی تھی؛ پاکستان وہ معاشرہ بھی ہے جو ہم آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔

اگر ہماری اگلی نسل خوف کے بجائے دلیل، سفارش کے بجائے میرٹ، طاقت کے بجائے قانون اور خاموشی کے بجائے اصول کو ترجیح دینا سیکھ گئی تو شاید ہماری دوسری آزادی شروع ہو جائے گی۔

اور اس آزادی کا اعلان کسی تاریخی عمارت سے نہیں ہوگا۔

وہ ایک کلاس روم میں ہوگا، جہاں ایک بچہ پہلی بار کسی طاقتور بات پر سوال اٹھائے گا—اور استاد اسے خاموش کرنے کے بجائے کہے گا:

“سوال کرو۔ یہی تمہاری آزادی ہے۔”

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔