امریکا ایران مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کی بحالی کے مسائل میں بھی پیشرفت نہ ہونے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناؤنیوز) امریکا اور ایران کے مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر بھی کوئی واضح پیشرفت نہیں ہوئی، جس سے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2.57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 85.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 2.52 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اب یہ 80.15 ڈالر فی بیرل پر ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکا ایران مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی بحری تجارت کی بحالی کے مسائل ہیں۔ سرمایہ کار ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس معاملے کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے اہم تجارتی راستے گزرتے ہیں۔ ان راستوں کی بندش سے عالمی معیشت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعمیری مذاکرات کی بات کی ہے۔ ایران کے مطابق بات چیت جاری ہے اور عالمی منڈی اس کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔















