مشورہ مفت، تنقید لازم

ہمارے معاشرے میں دو چیزیں مفت اور کثرت سے مل جاتی ہیں، ایک مشورہ، دوسری تنقید۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مشورہ مانگنے پر ملتا ہے اور تنقید مانگے بغیر۔ وطن عزیز میں ہر شخص اپنے پیشے کا ایسا سقراط ہے جسے یقین ہے کہ اگر دنیا اس سے مشورہ لے لیتی تو آدھے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے، اور باقی کے آدھے مسائل اس کے پڑوسی نے پیدا کیے ہوتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنی مہارت کا ثبوت اپنے اچھے کام سے کم اور دوسرے کے برے کام سے زیادہ دیتے ہیں۔ گویا قابلیت کا سرٹیفکیٹ اب یونیورسٹی نہیں، دوسرے آدمی کی غلطی جاری کرتی ہے۔

مشورے کے معاملے میں تو ہم شاید دنیا کی سب سے فیاض قوم ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی سے بس اتنا کہہ کر دیکھیے کہ "دو دن سے سر میں درد ہے۔” اگلے چند منٹوں میں آپ کے اردگرد ایک عارضی میڈیکل بورڈ قائم ہو جائے گا۔ کوئی دوا تجویز کرے گا، کوئی دیسی نسخہ بتائے گا، اور کوئی پوری بیماری کی ایسی تشخیص کرے گا جیسے ایم بی بی ایس ڈگری کا سلیبس اسی کا ترتیب دیا ہوا ہے۔

اگر اتفاق سے کسی لڑکی کے چہرے پر دو دانے بھی نکل آئیں تو خاندان، محلے اور دفتر کے لوگ اچانک جلدی امراض کے ماہر بن جاتے ہیں۔ کوئی نیم کے پتے تجویز کرتا ہے، کوئی ملتانی مٹی، کوئی ایسی کریم بتاتا ہے جس نے خود اپنی جلد کے ساتھ برسوں سے جنگ چھیڑ رکھی ہو، اور کوئی پورے اعتماد سے اعلان کرتا ہے: "بس یہ ایک نسخہ آزما لو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو یہ پوچھنے کی زحمت نہیں ہوتی کہ مشورہ درکار بھی ہے یا نہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ جتنا چھوٹا ہو، مشورے اتنے ہی طویل ہوتے ہیں۔

یہ فیاضی صرف صحت تک محدود نہیں رہتی۔ کسی بچے نے یونیورسٹی کے لیے اپنی پسند کی ڈگری کا انتخاب کرنا ہو تو گویا پورا خاندان داخلہ کمیٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں: "اس فیلڈ میں سکوپ نہیں۔” دوسرے کے مطابق اصل مستقبل کسی اور شعبے میں ہے، جبکہ تیسرے کو پورا یقین ہوتا ہے کہ اگر بچہ اس کی بتائی ہوئی ڈگری نہ پڑھے تو زندگی بھر پچھتائے گا۔ حیرت صرف یہ ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں کبھی اس شعبے کا دروازہ بھی نہیں دیکھا، وہ اس کے مستقبل پر ایسے فیصلے صادر کر رہے ہوتے ہیں جیسے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہر نئی ڈگری کا نصاب انہی کے ڈرائنگ روم میں منظور کیا ہو۔

بہرحال، اگر کسی موقع پر مشورہ دینے کی گنجائش نہ نکلے تو ہمارے ہاں مایوسی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ اگلا مرحلہ تنقید کا ہوتا ہے۔پھر چاہے بات کسی بھی شعبے کی ہو ہمارے سقراط اپنی رائے سنانے کو بنیادی فرض سمجھتےہیں۔

درزی کی دکان پر اگر کسی اور درزی کا سلا ہوا سوٹ لے جائیں تو اس کے چہرے پر وہی کیفیت آ جاتی ہے جو کسی آثارِ قدیمہ کے ماہر کے چہرے پر پانچ ہزار سال پرانی ہڈی دیکھ کر آتی ہے۔ وہ آستین کو اس احتیاط سے الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے جیسے پولیس واردات کے بعد انگلیوں کے نشانات تلاش کر رہی ہو۔ پھر ایک طویل سانس لے کر کہتا ہے: "یہ کام درزی نے کیا ہے یا جلدی میں کسی نے انتقام لیا ہے؟”
اگر سلائی میں کوئی خامی نہ ملے تو وہ خامی ایجاد کر لیتا ہے۔ آخر دکان بھی چلانی ہے اور عزت بھی۔

سڑک پر نکلیں تو ہر ڈرائیور کا ایمان یہی ہوتا ہے کہ اس ملک میں ڈرائیونگ صرف وہ جانتا ہے، باقی سب کسی نہ کسی پراسرار تعلق کی بنیاد پر لائسنس لے آئے ہیں۔ سامنے والا اوور ٹیک کرے تو بدتمیز، پیچھے والا ہارن دے تو جاہل، دائیں والا مڑے تو نااہل، بائیں والا مڑے تو خطرناک۔ البتہ اگر یہی تمام حرکتیں خود صاحبِ سواری کریں تو اسے "ٹریفک سینس” کہتے ہیں۔

صحافت میں داخل ہوں تو معاملہ اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔ یہاں خبر شائع ہونے سے پہلے اس پر تبصرے شائع ہو جاتے ہیں۔ ایک صحافی دوسرے کی خبر اس طرح پڑھتا ہے جیسے امتحان میں ممتحن کا پرچہ چیک کر رہا ہو۔ خبر درست بھی ہو تو فرمایا جاتا ہے: "زاویہ غلط ہے۔” زاویہ درست ہو تو کہا جاتا ہے: "سرخی کمزور ہے۔” سرخی اچھی ہو تو مسئلہ فونٹ میں نکل آتا ہے۔ گویا خبر میں اگر کچھ بچ جائے تو صرف خبر ہی بچتی ہے۔

اور مجھے یقین ہے کہ اگر کبھی اقوامِ متحدہ نے دنیا بھر کے ان خود ساختہ ماہرین کا عالمی اجلاس بلا لیا تو اجلاس کسی مسئلے کا حل نکالنے سے پہلے اسی بحث پر ختم ہو جائے گا کہ اجلاس منعقد ہی غلط طریقے سے کیا گیا ہے۔

مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہمارے ہر پیشے کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ محکمہ بھی منسلک ہے، جس کا کام صرف دوسروں کی غلطیاں دریافت کرنا ہے۔ استاد دوسرے استاد کے طرز تدریس پر تبصرہ کرتا ہے، باورچی دوسرے باورچی کے مصالحے پر، مستری دوسرے مستری کی دیوار پر، اور حجام دوسرے حجام کی قینچی پر۔ اگر کسی دن ان سب کو اپنے اپنے کام سے فرصت مل جائے تو شاید ملک کی آبادی صرف تنقیدی جائزے میں ہی مصروف ہو جائے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں خامیاں نظر آتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی خامیاں تو عینک پہن کر بھی نہیں دکھائی دیتیں، مگر دوسروں کی معمولی لغزشیں بھی خورد بین کے نیچے رکھی سلائیڈ کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔

شاید اسی لیے ہمارے معاشرے میں سب سے مشکل کام کسی شعبے کا ماہر بننا نہیں، بلکہ ماہر بن کر بھی یہ تسلیم کرنا ہے کہ سیکھنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ جس دن ہم نے دوسروں کے کام کا معائنہ کرنے سے زیادہ اپنے کام کا جائزہ لینا شروع کر دیا، اس دن شاید درزی صرف کپڑے سئیےگا، ڈرائیور صرف گاڑی چلائے گا، صحافی صرف خبر لکھے گا، لوگ مشورہ صرف مانگنے پر دیں گے… اور سقراط آخرکار یونان واپس لوٹ جائے گا۔

Laiba Shahid
لائبہ شاہد راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی میڈیا اور کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، سماجی مسائل اور میڈیا سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔