جانور بول نہیں سکتے، کیا وہ محسوس بھی نہیں کرتے؟

گرمی کی ایک دوپہر ہے۔ شہر کی مصروف سڑک پر ایک گدھا بھاری سامان کھینچتے ہوئے بار بار رک رہا ہے۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک زخمی کتا سڑک کے کنارے پڑا ہے، جبکہ ایک بلی کا بچہ کسی دکان کے سائے میں پناہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ لوگ آتے ہیں، گزرتے ہیں، چند لمحوں کے لیے ان پر نظر ڈالتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ جانور بول نہیں سکتے، اپنی تکلیف الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے یا کسی سے انصاف کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ لیکن کیا خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں درد محسوس نہیں ہوتا؟ کیا وہ خوف، بھوک، پیاس، محبت یا جدائی جیسے جذبات سے محروم ہیں؟ یا ہم نے صرف ان کی خاموشی کو ان کی بے حسی سمجھ لیا ہے؟

اگرچہ جانور ہماری زبان نہیں بولتے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے جذبات نہیں ہوتے۔ ایک ڈرا ہوا کتا اپنی دم دبا لیتا ہے، زخمی بلی ایک کونے میں جا کر چھپ جاتی ہے، بھوکا پرندہ مسلسل آوازیں نکالتا ہے اور پیاسا جانور پانی کی تلاش میں بے چین ہو جاتا ہے۔ ویٹرنری ڈاکٹر جانوروں کی انہی جسمانی حرکات، آوازوں اور رویوں کو دیکھ کر ان کی بیماری یا تکلیف کا اندازہ لگاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، جانور بولتے ضرور ہیں، مگر ان کی زبان الفاظ نہیں بلکہ رویے ہوتے ہیں۔

صرف درد ہی نہیں، بے شمار سائنسی مشاہدات یہ بھی بتاتے ہیں کہ جانور خوشی، غم، خوف، محبت اور وابستگی جیسے جذبات بھی رکھتے ہیں۔ ہاتھی اپنے ساتھی کی موت پر خاموشی سے اس کے پاس کھڑے رہتے ہیں، ڈولفن زخمی ساتھی کو پانی کی سطح تک سہارا دیتی ہیں، کتے اپنے مالک کو مہینوں بعد بھی پہچان لیتے ہیں اور پرندوں کی کئی اقسام زندگی بھر ایک ہی ساتھی کے ساتھ رہتی ہیں۔ یہ رویے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جذبات صرف انسان کی میراث نہیں بلکہ قدرت نے دوسری مخلوقات کو بھی احساس کی نعمت سے نوازا ہے۔

اس کے باوجود معاشرے میں اکثر جانوروں کو صرف "جانور” کہہ کر ان کی تکلیف کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان خود کو زمین کی سب سے برتر مخلوق سمجھتا ہے اور اکثر بھول جاتا ہے کہ طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ جب کسی بے زبان جانور پر پتھر پھینکا جاتا ہے، اسے بلا وجہ ڈرایا جاتا ہے یا محض تفریح کے لیے ستایا جاتا ہے تو یہ صرف جانور کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ انسان کے اپنے رویے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا نے جانوروں کو دنیا کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سی ویڈیوز لوگوں کو جانوروں سے محبت کرنے، انہیں گود لینے اور ان کی مدد کرنے کی ترغیب دیتی ہیں، لیکن دوسری طرف بعض ویڈیوز صرف لائکس اور ویوز حاصل کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جہاں جانوروں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے، غیر فطری حرکات کروائی جاتی ہیں یا انہیں غیر ضروری خطرات میں ڈالا جاتا ہے۔ جو منظر ہمیں چند سیکنڈ کے لیے دلچسپ لگتا ہے، وہ شاید اس جانور کے لیے کئی گھنٹوں کی اذیت ہو۔

جانوروں کے حقوق صرف پالتو جانوروں تک محدود نہیں۔ سڑکوں پر رہنے والے آوارہ کتے اور بلیاں، کھیتوں میں کام کرنے والے بیل، سامان ڈھونے والے گدھے، گھوڑے اور اونٹ، دودھ اور گوشت کے لیے پالے جانے والے جانور، سبھی ایک جیسی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ گرمیوں میں جلتی سڑکوں پر ننگے پاؤں چلنا، پانی کی شدید کمی، سایہ نہ ملنا اور مسلسل محنت کرنا ان کے لیے روزمرہ کی حقیقت ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور تھکن جانوروں کی جان بھی لے سکتی ہے، مگر یہ تکلیف اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

پاکستان میں مذہبی، ثقافتی اور سماجی تقریبات کے دوران بھی جانوروں کی فلاح کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ چاہے بات عیدالاضحیٰ کی ہو، شادیوں میں گھوڑوں کے استعمال کی یا میلوں میں جانوروں کی نمائش کی، ہر صورت میں مناسب خوراک، پانی، آرام اور غیر ضروری تشدد سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح محنت کرنے والے جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ ان کی صحت اور زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کل مہنگی نسل کے پالتو جانور پالنا بعض لوگوں کے لیے ایک فیشن بن چکا ہے، مگر جانوروں سے محبت کا معیار ان کی قیمت نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال ہے۔ کسی بھی جانور کو گھر لانے سے پہلے اس کی خوراک، علاج، ورزش، صفائی، مناسب جگہ اور جذباتی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ایک جانور کو چھوٹے سے پنجرے یا محدود کمرے میں اس کی فطری ضروریات کے برعکس رکھا جائے تو یہ بھی اس کی فلاح کے خلاف ہو سکتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا بھی ماننا ہے کہ جانوروں پر بلا وجہ تشدد یا ظلم بعض اوقات ہمدردی کی کمی، غصے کے مسائل یا دیگر منفی رویوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ کئی مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جانوروں کے ساتھ مسلسل بدسلوکی کرنے والے افراد میں دوسرے انسانوں کے ساتھ پرتشدد رویوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے، اگرچہ ہر معاملہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ رحم صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی ضروری ہے۔

اسلام بھی جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی واضح تعلیم دیتا ہے۔ متعدد احادیث میں جانوروں پر رحم، انہیں بھوکا یا پیاسا نہ رکھنے اور بلا وجہ تکلیف نہ دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے ساتھ شفقت اختیار کرنا ایک مسلمان کے اخلاق کا حصہ ہے۔

پاکستان میں جانوروں کے تحفظ سے متعلق مختلف قوانین موجود ہیں اور کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے زخمی اور بے سہارا جانوروں کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن مؤثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں عام شہری بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی زخمی جانور کو دیکھیں تو متعلقہ ریسکیو ادارے یا ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں، گرمیوں میں اپنے گھر یا دکان کے باہر پانی کا برتن رکھیں، جانوروں پر ہونے والے تشدد کی اطلاع دیں اور اگر ممکن ہو تو جانور خریدنے کے بجائے کسی بے گھر جانور کو گود لینے پر غور کریں۔

جنگلی یا غیر ملکی جانور پالنے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ بہت سے جنگلی جانور گھریلو ماحول کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ انہیں قید میں رکھنا ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں یہ انسانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح نوجوان سوشل میڈیا کو صرف ویڈیوز بنانے کے بجائے جانوروں کی گمشدگی کی اطلاع دینے، ریسکیو مہمات کو فروغ دینے، عطیات جمع کرنے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

شاید اگر جانور ہماری زبان بول سکتے تو وہ ہم سے صرف اتنا کہتے کہ ہمیں غیر معمولی سہولتیں نہیں چاہئیں، صرف اتنی مہربانی چاہیے کہ ہمیں بلا وجہ تکلیف نہ دی جائے، ہمیں پانی، خوراک اور تحفظ مل جائے اور ہمیں بھی جاندار مخلوق سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی پانی سے بھرا ایک برتن، زخمی جانور کے لیے ایک فون کال یا بھوکے جانور کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا کسی جاندار کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ جانور احساس رکھتے ہیں یا نہیں، کیونکہ سائنس، مشاہدات اور مذہبی تعلیمات اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ وہ درد، خوف، محبت اور تعلق محسوس کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان احساسات کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ایک معاشرے کی تہذیب کا اندازہ صرف اس کی عمارتوں، سڑکوں یا ترقی سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سے کمزور اور بے زبان جانداروں کے ساتھ کتنا رحم اور انصاف کرتا ہے۔ شاید جانوروں کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ بول نہیں سکتے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی خاموشی ہمارے ضمیر کو اکثر خاموش کر دیتی ہے۔ اور شاید اسی لیے بے زبان مخلوق کے ساتھ ہمارا رویہ، درحقیقت، ہماری انسانیت کا اصل امتحان ہے۔

جنت الفردوس
جنت الفردوس لاہور سے تعلق رکھنے والی میڈیا کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو جانوروں کے حقوق، میڈیا، نوجوانوں کے مسائل کے حوالے سے لکھتی ہیں۔