پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ، سندھ میں 114 فیصد کا نمایاں فرق۔ یہ خلیجی جنگ کی وجہ سے روئی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) ملک میں 15 جولائی 2026 تک کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 77 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 114 فیصد جبکہ پنجاب میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ 15 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 5 لاکھ 27 ہزار 900 روئی کی گانٹھیں پہنچ چکی ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 لاکھ 30 ہزار 149 گانٹھ زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 2 لاکھ 1 ہزار 500 گانٹھ جبکہ سندھ میں 3 لاکھ 26 ہزار 400 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں۔ ٹیکسٹائل ملوں نے 4 لاکھ 44 ہزار 379 گانٹھوں کی خریداری کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں آنے والی کپاس کا بڑا حصہ سندھ سے لایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات میں تاخیر کی توقع ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم، کپاس کی پیداوار میں اضافے کی اطلاعات نے مقامی کاٹن مارکیٹس میں قیمتوں میں کمی کا باعث بنایا۔













