تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے بعد سوگ کی تقریبات ختم، مشہد میں بڑے جلوس نکالے گئے۔
تہران: (رائیٹ ناؤ نیوز) آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ایران اور عراق کے پانچ شہروں میں جاری چھ روزہ عوامی سوگ کی تقریبات ختم ہو گئیں۔ ان تقریبات میں مذہبی اور سیاسی علامتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
مشہد میں سوگ کے آخری روز بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ جلوس امام رضا کے روضے کی جانب بڑھا، جو شہر مشہد کی خاص علامت ہے۔ یہ آیت اللہ خامنہ ای کی جائے پیدائش بھی ہے۔
شرکاء نے ایرانی پرچم، تصاویر اور انتقام کے مطالبات والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ حامیوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے لئے دعا کی اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
بہت سے ایرانی شہری جو خامنہ ای کے اقتدار کے ناقد تھے، ان تقریبات سے دور رہے۔ ان کے لئے یہ موقع احتجاج کا نہ تھا، بلکہ خاموشی اختیار کرنے کا تھا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو ان کے جانشین ہیں، عوامی تقریبات میں نظر نہیں آئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔














