کیا آم کھانے سے واقعی چہرے پر دانےنکلتے ہیں؟

کیا آم کھانے سے واقعی چہرے پر دانےنکلتے ہیں؟

گرمیوں کی دوپہر ہو، فریج سے نکلا ٹھنڈا، رس سے بھرا، خوشبودار آم سامنے رکھا ہو تو شاید ہی کوئی خود کو روک سکے۔ مگر جیسے ہی پہلا ٹکڑا منہ میں جاتا ہے، بہت سے لوگوں، خاص طور پر لڑکیوں، کے ذہن میں ایک اور خیال بھی آتا ہے: ’’کہیں کل صبح آئینے میں میرے چہرے پر ایک نیا دانہ تو نہیں ہوگا؟‘‘

شادی قریب ہو، عید آنے والی ہو، یونیورسٹی کا فنکشن ہو یا کسی خاص شخص سے ملاقات، ایسے موقع پر اگر ایک بھی کیل مہاسہ نکل آئے تو سب سے پہلے عدالت لگتی ہے، اور ملزموں کی فہرست میں آم، چاکلیٹ اور تلی ہوئی چیزیں سب سے آگے کھڑی ہوتی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے، کیا واقعی آم اتنا ’’خطرناک‘‘ ہے؟ یا بیچارہ آم برسوں سے ایک ایسے الزام کوبھگت رہا ہوتا ہے جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں؟

کیا واقعی ایک آم کھانے سے اگلے دن دانہ نکل آتا ہے؟

مختصر جواب ہے، نہیں۔ یہ تصور سائنسی طور پر درست نہیں کہ آج آپ نے آم کھایا اور کل صبح صرف اسی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسہ نکل آیا۔

اصل کہانی جلد کے اندر شروع ہوتی ہے۔ ہماری جلد میں موجود تیل بنانے والے غدود، یعنی سیبیشیئس گلینڈز (Sebaceous Glands)، مسلسل قدرتی تیل، یعنی سیبم (Sebum)، بناتے رہتے ہیں۔ جب یہ تیل ضرورت سے زیادہ بننے لگے، مردہ جلد کے خلیوں کے ساتھ مل کر مسام بند کر دے اور وہاں جلد پر موجود بیکٹیریا، خاص طور پر کٹی بیکٹیریم ایکنیز (Cutibacterium acnes)، بڑھ جائیں تو سوزش پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کیل مہاسہ بنتا ہے۔

یعنی دانہ صرف ایک پھل کی وجہ سے نہیں بنتا، بلکہ کئی عوامل کے ملنے سے بنتا ہے۔

اگر قصور آم کا نہیں تو پھر الزام ہمیشہ اسی پر کیوں؟

اس کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ آم میٹھا پھل ہے، اور اس میں قدرتی شکر، یعنی فرکٹوز (Fructose)، موجود ہوتی ہے۔ ایک یا دو آم کھانا عام طور پر مسئلہ نہیں بنتا۔ اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک کے بعد دوسرا آم، پھر مینگو شیک، پھر اوپر سے آئس کریم، پھر اضافی چینی، اور آخر میں یہ جملہ: ’’گرمیوں میں تو آم جتنا مرضی کھا لو!‘‘بس اس وقت بیچارہ آم عام پھل نہیں رہتا، بلکہ شوگر بم بن جاتا ہے۔

زیادہ میٹھی غذا بعض لوگوں میں خون میں شوگر اور انسولین (Insulin) کی سطح تیزی سے بڑھا سکتی ہے۔ کچھ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسولین میں اضافہ ایسے ہارمونز (Hormones) کو متحرک کر سکتا ہے جو جلد میں تیل کی پیداوار بڑھاتے ہیں۔ اگر کسی کو پہلے ہی ایکنی (Acne) کا مسئلہ ہو تو یہ کیفیت دانوں کو مزید نمایاں کر سکتی ہے، لیکن یہ ہر انسان میں نہیں ہوتا۔

آم سے زیادہ خطرناک چیز شاید آپ کا مینگو شیک ہو!

ذرا غور کریں۔ ایک درمیانے سائز کے آم میں قدرتی غذائیت موجود ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی آم آدھا لیٹر دودھ، چار چمچ چینی، ونیلا آئس کریم، اوپر سے کریم کے ساتھ بلینڈر میں جاتا ہے تو پھر یہ ایک صحت بخش پھل نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی میٹھی ڈرنک بن جاتا ہے جس میں کیلوریز (Calories) اور شکر کی مقدار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ماہرین جلد کے مطابق بعض افراد میں زیادہ دودھ، خاص طور پر اسکم ملک (Skim Milk)، اور زیادہ شوگر والی غذائیں ایکنی کو بڑھانے سے تعلق رکھ سکتی ہیں، اگرچہ یہ تعلق ہر شخص میں ثابت نہیں ہوا۔ لہٰذا الزام صرف آم کو دینا شاید انصاف نہیں۔

’’آم گرم ہوتا ہے‘‘، اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟

یہ شاید پاکستان اور برصغیر کا سب سے مشہور جملہ ہے: ’’زیادہ آم کھاؤ گے تو گرمی کرے گا۔‘‘ طبی سائنس میں خوراک کو ’’گرم‘‘ یا ’’ٹھنڈا‘‘ کہنا کوئی باقاعدہ طبی درجہ بندی نہیں۔ لیکن اس خیال کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت ضرور ہے۔

آم کا موسم وہی ہوتا ہے جب درجہ حرارت 40 ڈگری کے قریب ہوتا ہے، پسینہ زیادہ آتا ہے، چہرہ مسلسل چکنا رہتا ہے، دھول اور آلودگی زیادہ ہوتی ہے، لوگ پانی کم پیتے ہیں، سن اسکرین (Sunscreen) اور میک اپ (Makeup) کئی گھنٹے چہرے پر رہتے ہیں۔

اب اگر ایسے ماحول میں دانے نکل آئیں تو قصور موسم کا بھی ہو سکتا ہے، جلد کی دیکھ بھال کا بھی، مگر سزا صرف آم کو ملتی ہے۔ بیچارہ آم شاید سوچتا ہوگا: ’’میں تو صرف درخت پر لگا تھا، مجھے اس گرما گرم بحث میں کیوں گھسیٹ لیا؟‘‘

کیا ہر شخص کا جسم آم کھانے پر ایک جیسا ردعمل دیتا ہے؟

بالکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو دوست ایک ساتھ تین تین آم کھائیں، ایک کا چہرہ بالکل صاف رہے، اور دوسرے کو چند دن بعد دانے نکل آئیں۔

کیوں؟ کیونکہ ہر انسان کی جینیاتی ساخت (Genetics)، ہارمونز، جلد کی قسم، خوراک، نیند، ذہنی دباؤ، ورزش اور پانی پینے کی عادت مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی ایک غذا کو ہر شخص کے لیے ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تو پھر لڑکیوں کے چہروں پر دانے کیوں نکلتے ہیں؟

بہت سی لڑکیوں میں ہارمونز کی سطح ہر ماہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ماہواری سے پہلے اینڈروجن ہارمونز (Androgen Hormones) میں معمولی تبدیلی جلد کو زیادہ تیل بنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اسی دوران اگر نیند کم ہو، امتحانات کا دباؤ ہو، زیادہ میٹھی چیزیں کھائی جائیں، پسینہ آئے، میک اپ اچھی طرح صاف نہ کیا جائے تو دانے زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بعض اوقات آم صرف اتفاقاً اسی وقت کھایا گیا ہوتا ہے جب دانہ پہلے ہی بننے والا ہوتا ہے۔

کیا وٹامنز بھی دانوں میں کردار ادا کرتے ہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ آم صرف مٹھاس ہی نہیں، غذائیت بھی رکھتا ہے۔ اس میں وٹامن اے (Vitamin A) موجود ہوتا ہے، جو جلد کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وٹامن سی (Vitamin C) کولیجن (Collagen) بنانے میں مدد دیتا ہے اور جلد کی مرمت میں معاون ہوتا ہے۔ فائبر (Fiber) نظامِ ہاضمہ بہتر رکھنے میں مددگار ہے، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس (Antioxidants) جسم کو فری ریڈیکلز (Free Radicals) کے نقصان سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یعنی مناسب مقدار میں آم صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔

اگر دانے نکل رہے ہوں تو کیا آم بند کر دینا چاہیے؟

ضروری نہیں۔ ماہرین جلد عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ پہلے اپنی جلد کو سمجھیں۔ اگر آپ محسوس کریں کہ زیادہ آم، زیادہ میٹھے مشروبات یا مینگو شیک کے بعد مسلسل ایکنی بڑھ رہی ہے تو چند ہفتے مقدار کم کر کے دیکھیں۔ اگر فرق پڑے تو یہی آپ کے جسم کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

لیکن بغیر کسی ثبوت کے ہمیشہ کے لیے آم چھوڑ دینا شاید ضرورت سے زیادہ احتیاط ہوگی۔

جلد کو صاف رکھنے کے لیے چند آسان اصول

اگر واقعی آپ گرمیوں میں دانوں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف آم کم کرنے سے زیادہ ضروری یہ چیزیں ہیں: دن میں دو بار نرم فیس واش (Face Wash) استعمال کریں۔ پسینہ آنے کے بعد چہرہ صاف کریں۔ بار بار ہاتھ چہرے پر مت لگائیں۔ میک اپ کے ساتھ کبھی نہ سوئیں۔ سن اسکرین ضرور استعمال کریں۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ سات سے آٹھ گھنٹے نیند لیں۔ متوازن غذا کھائیں اور صرف ایک چیز کو مجرم نہ بنائیں۔

ایک دلچسپ تجربہ خود بھی کریں

اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ آم آپ کی جلد پر اثر ڈال رہا ہے یا نہیں تو ایک ہفتے کا چھوٹا سا تجربہ کریں۔ روزانہ نوٹ کریں: کتنے آم کھائے؟ مینگو شیک پیا یا نہیں؟ پانی کتنا پیا؟ نیند کتنی ہوئی؟ چہرے پر نیا دانہ نکلا یا نہیں؟

ایک ہفتے بعد شاید آپ کو اندازہ ہو جائے کہ اصل مجرم آم تھا، یا پھر رات دو بجے تک موبائل استعمال کرنا!

اگر آم چہرے پر دانوں کا مجرم نہیں تو پھر حقیقت کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آم کھانے سے ہر انسان کے چہرے پر دانے نہیں نکلتے۔ اب تک ہونے والی سائنسی تحقیق یہ نہیں کہتی کہ آم خود براہِ راست کیل مہاسوں کی وجہ بنتا ہے۔ البتہ زیادہ مقدار میں شکر والی غذا، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ اضافی چینی، کریم یا آئس کریم بھی شامل ہو، بعض افراد میں ایکنی کو بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

دوسری طرف ہارمونز، جینیات، ذہنی دباؤ، ناکافی نیند، پسینہ، جلد کی صفائی، غلط کاسمیٹکس (Cosmetics) اور مجموعی طرزِ زندگی بھی اتنے ہی اہم عوامل ہیں۔ اس لیے آم سے ڈرنے کے بجائے اسے اعتدال سے کھائیں، پانی زیادہ پئیں، جلد کا خیال رکھیں اور ہر نئے دانے کا مقدمہ صرف آم کے خلاف درج نہ کریں۔

آم خود براہِ راست کیل مہاسوں کی وجہ نہیں بنتا، البتہ زیادہ شکر والی غذا، ہارمونز، جینیاتی عوامل، ذہنی دباؤ، ناکافی نیند، جلد کی صفائی اور مجموعی طرزِ زندگی جیسے عوامل بعض افراد میں ایکنی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر نئے دانے کا ذمہ دار صرف آم کو قرار دینا درست نہیں۔

شاید اسی لیے ماہرین بھی کسی ایک غذا کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرانے کے بجائے متوازن خوراک، مناسب جلد کی دیکھ بھال اور صحت مند طرزِ زندگی پر زور دیتے ہیں۔

لہٰذا اگلی بار جب گرمیوں میں آپ کے سامنے خوشبودار، رس سے بھرا ایک آم رکھا ہو اور ذہن میں وہی پرانا سوال ابھرے کہ ’’کیا اسے کھانے سے دانے نکل جائیں گے؟‘‘ تو جواب شاید پہلے سے زیادہ واضح ہوگا۔

آم سے زیادہ اہم آپ کی مجموعی عادات ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آم پھلوں کا بادشاہ تو ہے، مگر چہرے پرنمودار ہونے والے ہر دانے کا مجرم نہیں۔

جنت الفردوس
جنت الفردوس لاہور سے تعلق رکھنے والی میڈیا کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں، جو جانوروں کے حقوق، میڈیا، نوجوانوں کے مسائل کے حوالے سے لکھتی ہیں۔