پاکستان میں بجلی صارفین اب خاموشی سےصرف بل ادا کرنے والے خاموش شہری نہیں رہے بلکہ وہ اپنی چھت پر شمسی پینل (Solar Panels) لگا رہا ہے، دن کو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اور اسے بیٹری میں محفوظ کر کے شام اور رات کو استعمال کر رہے ہییں۔ فیکٹریاں، دکانیں، زرعی ٹیوب ویلز، بینک، اسکول اور بڑے گھرانے آہستہ آہستہ قومی گرڈ (National Grid) پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی حکومتی منصوبے سے نہیں آئی، بلکہ بجلی کے بھاری بلوں، مہنگی گرڈ بجلی اور سستی ہوتی شمسی ٹیکنالوجی نے اسے خود جنم دیا ہے۔
رینیوایبلز فرسٹ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 11.5 گیگا واٹ ایسے شمسی پینل استعمال ہو رہے ہیں جو نہ تو نیٹ میٹرنگ (Net Metering) میں شامل ہیں اور نہ ہی براہِ راست قومی گرڈ کا حصہ ہیں۔ یہ زیادہ تر کمرشل، صنعتی، زرعی اوردور دراز کے علاقوں میں بسنے والے گھریلو صارفین استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کا ایک بڑا حصہ اب سرکاری نظام سے باہر چلا گیا ہے.
بیٹری اسٹوریج اس تبدیلی کا اگلا بڑا مرحلہ ہے۔ بیٹری اسٹوریج سے مراد وہ نظام ہے جس میں دن کے وقت شمسی بجلی کو بیٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے اور شام یا رات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے 2024 میں تقریباً 1.25 گیگا واٹ آور لیتھیم بیٹری اسٹوریج درآمد کیا۔ 2025 کے پہلے دو ماہ میں مزید 400 میگا واٹ آور بیٹری اسٹوریج درآمد ہوا۔ مجموعی طور پر یہ تقریباً 1.65 گیگا واٹ آور بنتا ہے، جو 165,000 گھروں میں لگی 10 کلو واٹ آور گھریلو بیٹریوں کے برابر ہے۔
یہ صرف صارف کے لیے سہولت نہیں، قومی گرڈ کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ اگر صارف دن میں شمسی بجلی بنائے، اسے بیٹری میں محفوظ کرے اور شام کو گرڈ سے کم بجلی لے تو ڈسکوز کی فروخت کم ہو گی۔ مگر بجلی گھروں کو دی جانے والی کپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔ سو جو لوگ بیٹری اور شمسی نظام لگا سکتے ہیں وہ گرڈ سے دور ہو جائیں گے، جبکہ غریب، کرایہ دار اور کم آمدنی والے صارفین مہنگے بجلی کے نظام کو بھگتتے رہیں گے۔
یہاں حکومت کی پالیسی پر سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ (Net Billing) میں بدل کر شاید ڈسکوز کا ریونیو بچانا چاہتی ہے، مگر اس سے صارفین بیٹری اسٹوریج کی طرف مزید تیزی سے جا سکتے ہیں۔ اگر صارف کو دن کی بجلی سستے داموں گرڈ کو دینی پڑے اور شام کو مہنگی بجلی خریدنی پڑے تو وہ بیٹری خریدنے کو ترجیح دے گا۔ یوں حکومت کی پالیسی گرڈ کو بچانے کے بجائے گرڈ سے علیحدگی، یعنی گرڈ ڈیفیکشن (Grid Defection)، میں اضافہ کر سکتی ہے۔
مسئلہ صرف گرڈ کا نہیں، عوامی تحفظ کا بھی ہے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (Battery Energy Storage System/BESS) صرف بیٹری کا ڈبہ نہیں ہوتا۔ اس میں بیٹری سیلز (Battery Cells)، بیٹری مینجمنٹ سسٹم (Battery Management System/BMS)، انورٹر (Inverter)، ٹھنڈک کا نظام (Cooling System)، ہوا کی نکاسی یعنی وینٹی لیشن (Ventilation)، آگ سے بچاؤ کا نظام (Fire Protection) اور محفوظ وائرنگ شامل ہوتی ہے۔ اگر کم معیار کے بیٹری پیک گھروں، اسکولوں، بینکوں اور فیکٹریوں میں لگ رہے ہیں تو یہ صرف بجلی کا نہیں بلکہ جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
حکومت کو جواب دینا ہو گا کہ درآمدی بیٹری سیلز کا معیار کون چیک کر رہا ہے؟ بیٹری مینجمنٹ سسٹم کی جانچ کس ادارے کے پاس ہے؟ گھروں اور کاروباری مقامات پر بیٹری کی تنصیب کے لیے وینٹی لیشن اور آگ سے بچاؤ کے اصول کہاں ہیں؟ انسٹالرز کی تربیت اور سرٹیفکیشن (Installer Certification) کون کر رہا ہے؟ خراب یا پرانی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ (Recycling) کا نظام کہاں ہے؟ اگر یہ سب کچھ واضح نہیں تو پاکستان ایک ایسے شعبے میں داخل ہو رہا ہے جہاں فائدہ بھی بڑا ہے اور خطرہ بھی بڑا۔
اسی پس منظر میں سرکاری الیکٹرک بسوں کا سوال بھی اہم ہے۔ حکومتیں الیکٹرک بسیں تو لا رہی ہیں، مگر ان کے چارجنگ اسٹیشنز کو شمسی توانائی پر کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ بس ڈپو، ٹرمینلز اور سرکاری عمارتوں کی چھتیں دن میں شمسی بجلی بنا سکتی ہیں۔ یہی بجلی بیٹری میں محفوظ کر کے شام یا رات کو بسوں کی چارجنگ کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اگر عام شہری اپنے گھر پر شمسی پینل اور بیٹری لگا سکتا ہے تو حکومت اپنے الیکٹرک بس ڈپو پر ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتی؟
الیکٹرک بس اگر مہنگی گرڈ بجلی سے چارج ہو گی تو گرڈ پر نیا بوجھ پڑے گا۔ اگر وہی بس شمسی بجلی اور بیٹری اسٹوریج سے چارج ہو تو شہر کی آلودگی بھی کم ہو گی، گرڈ پر دباؤ بھی گھٹے گا اور سرکاری ٹرانسپورٹ کا خرچ بھی کم ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر نئے الیکٹرک بس منصوبے کے ساتھ شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کا منصوبہ لازمی ہونا چاہیے۔
پاکستان کو فوری طور پر بیٹری اسٹوریج کے لیے قومی پالیسی بنانی ہو گی۔ اس پالیسی میں درآمدی معیار، حفاظتی ضابطے، تنصیب کے اصول، انسٹالرز کی سرٹیفکیشن، ری سائیکلنگ، شعبہ وار ڈیٹا، گرڈ منصوبہ بندی اور سرکاری الیکٹرک بس چارجنگ کو شامل کیا جائے۔ نیپرا، این ٹی ڈی سی اور ڈسکوز کو بھی بیٹری اسٹوریج کو خطرہ نہیں بلکہ نئی حقیقت سمجھ کر اپنی منصوبہ بندی بدلنی ہو گی۔
بیٹری اسٹوریج کا انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شہری آگے نکل گیا ہے اور حکومت ابھی پالیسی ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ریاست نے اس تبدیلی کو محفوظ، منصفانہ اور منظم نہ کیا تو کل یہی بیٹریاں گرڈ، ڈسکوز، کپیسٹی پیمنٹس کے چنگل سے بچانے کے لئے نجات دہندہ اور موجود بجلی کے نظام کے خطرہ بن جائیں گی۔





