نو متنخب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا کڑا امتحان، اتحادی اپوزیشن کے ساتھ حکومت کیسے چلے گی؟

نو متنخب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا کڑا امتحان، اتحادی اپوزیشن کے ساتھ حکومت کیسے چلے گی؟

امجد حسین ایڈوکیٹ کے ساتھ میری پہلی ملاقات 2013 میں ہوئی تو ان دنوں گلگت بلتستان کا منظر نامہ بھی موجودہ آزاد کشمیر جیسا تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے گھڑی باغ میں پنڈال سجایا تھا۔ یاسین سے لیکر دیامر، استور اور بلتستان سبھی میں مظاہرے تھے۔ مہدی شاہ حکومت کمزور پوزیشن پر تھی۔ مرکز میں 2013 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن دو تہائی اکثریت کی حکومت تھی اور ابھی پہلا سال مکمل ہوا تھا۔ صوبائی وزراء اپنی اخلاقی جرات بھی کھو چکے تھے کہ عوام کا سامنا کریں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بڑے مظاہرے اور احتجاج کے خلاف دفعہ 144 نافذ کردیا تھا اسی بنیاد پر غم و غصہ بڑھ رہا تھا۔ ایک حکومتی رکن کی تقریر کے دوران مخالف نعرے لگ گئے تھے۔ امجد حسین ایڈوکیٹ اس وقت گلگت بلتستان کونسل کے ممبر تھے۔ انہوں نے حکومتی وفد کے ہمراہ پنڈال کا دورہ کیا۔ ہنگامہ خیزی کے باوجود چہرے پر اطمینان اور مسکراہٹ سجائے پہنچ گئے اور میڈیا کا سامنا بھی کیا۔ ان سے پوچھا کہ حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردیا ہے اور اس کے باوجود دھرنا بھی جاری ہے حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ جمہوری حکومت کا حسن ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ دفعہ 144 ایک قانونی چیز ہے اور انتظامیہ کا اختیار ہے لیکن عوام یہاں کھڑی ہے تو ہم اسے عوام کا حق سمجھتے ہیں۔

اس دھرنے سے فراغت مکمل طور پر ہوئی بھی نہیں تھی کہ گلگت بلتستان کے انتخابات ہوئے۔ مہدی شاہ حکومت کی کارکردگی نے پیپلز پارٹی کو تاریخ کے کمزور پوزیشن پر کھڑا کردیا اور 24 حلقوں میں سے صرف ایک نشست پیپلز پارٹی کے نصیب میں آگئی اور شگر سے عمران ندیم اپنی باری لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کو بعض حلقوں سے امیدوار بھی نہیں ملے تھے اور بغیر صوبائی قیادت کے میدان میں اتری تھی۔ دودھ پینے والے مجنون غائب اور خون دینے والے چند مجنوں موجود تھے۔ ان چند مجنونوں کی امید کا محور امجد حسین ایڈوکیٹ تھے جو حلقہ نمبر 1 سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے۔ اگرچہ انتخابات میں انہیں فتح نصیب نہیں ہوئی مگر حلقہ نمبر 1 گلگت کی جدید تاریخ کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے اپنے انتخابی مہم کو تمام تعصبات مخالفتوں اور تفرقوں سے بالا رکھا اور ہر گھر پر دستک دیدی جس کی بنیاد پر مذہبی اعتبار سے بدنام زمانہ حلقے میں پہلی بار مخالف مسلک اور فرقے کے امیدوار کو ووٹ پڑا۔ اسی بنیاد پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں صوبائی صدر بنایا۔ یادداشت بخیر ان کا نوٹیفیکیشن لیکر گلگت آنے والی شخصیت شہلا رضا تھی۔

مسلم لیگ ن 2 تہائی اکثریت سے مضبوط ترین حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی لیکن امجد حسین ایڈوکیٹ نے حزب اختلاف کی بھاگ دوڑ سنبھال لی اور اسمبلی سے باہر ہوتے ہوئے حکومت کی حقیقی معنوں میں اپوزیشن کی۔ ایسی اپوزیشن کی کہ حافظ حفیظ الرحمان کو بہت بار ان کا نام لیکر تنقید کرنے کی نوبت آگئی۔ امجد حسین ایڈوکیٹ نے 2017 میں حق حاکمیت و حق ملکیت کی تحریک کا آغاز کیا اور دنیور میں شاہراہِ قراقرم پر پہلا جلسہ کرکے اپنا منشور پیش کردیا۔ جس کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ بڑھتا رہا۔ سیاسی میدان کے ساتھ ساتھ سیاسی کیسز کی وکالت نے بھی امجد ایڈوکیٹ کے پروفائل کو مضبوط کردیا۔

2020 کے انتخابات میں امجد حسین ایڈووکیٹ نے بیک وقت دو حلقوں سے میدان مار کر ایک اور منفرد سیاسی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ ان انتخابات میں امجد ایڈووکیٹ بطور صوبائی صدر کے طور پر میدان میں تھے۔ امجد ایڈووکیٹ کو ذاتی حیثیت میں تو کامیابی ملی مگر حلقہ 2 گلگت نے انہیں باہر نکلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔

اب کی بار ان کا سامنا خالد خورشید کے ساتھ ہوا۔ آزاد امیدواروں سمیت دو تہائی اکثریت کا مقابلہ کرنے کےلئے امجد ایڈوکیٹ کے پاس محض 4 سیٹیں تھیں۔ سیاسی میدان میں خالد خورشیدد کی گرفت مضبوط تھی اس لئے خالد خورشید کے خلاف ٹیکنیکل محاز کھول دیا اور ان کی ڈگری کی بنیاد پر عدالت میں کیس داخل کردیا۔ سیاسی اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے 9 مئی کا واقعہ ہوا۔ امجد ایڈوکیٹ پہلے بندے تھے جنہوں نے گلگت بلتستان حکومت یعنی تحریک انصاف سے 9 مئی پر معافی کا مطالبہ کردیا۔ یوں سلسلہ چلتے ہوئے 4 جولائی کو خالد خورشید کی نااہلی پر معاملہ ختم ہوا۔ بظاہر لگ رہا تھا کہ اگلی حکومت امجد ایڈوکیٹ کی سربراہی میں بنے گی تاہم امجد ایڈوکیٹ مشکل سے فیس سیونگ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور حاجی گلبر کے انتخاب میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ اس دوران امجد ایڈوکیٹ کو ایک اصلاحاتی کمیٹی کا چیئرمین بنایا تاہم وہ کمیٹی نمائشی ثابت ہوئی۔

حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو بہت حوالوں سے فائدہ تھا۔ امیدوار اچھے تھے، بھٹو زندہ تھا، دیگر سیاسی جماعتیں زیادہ مضبوط نہیں تھیں۔ امجد ایڈوکیٹ کے علاوہ مرکزی قیادت نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کو اکثریت مل گئی جبکہ مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور وزیرامور کشمیر و جی بی امیر مقام خود مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم چلا رہے تھے۔

اس 10 سالہ دورانیہ میں امجد ایڈوکیٹ میں یہ خوبی نظر آگئی کہ ہمیشہ عوامی مسائل پر بات چیت کی اور بہت سارے امور پر کھل کر تنقید کی۔ عبوری صوبہ اور لینڈ ریفارمز دو ایسے معاملات تھے جن پر امجد ایڈوکیٹ عوامی رائے کے برعکس کھڑۓ رہے لیکن ڈٹے رہے۔ گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز بل کو پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پاس کرایا اور عوامی سطح پر اس کی بھرپور ترویج کرتے رہے حالانکہ خوف کے سائے میں رہنے والی عوام کے زہنوں میں مزید اندھیرا چھایا ہوا تھا۔

اب پیپلزپارٹی کو ایک اتحادی جماعت سمیت حکومت ملی ہوئی ہے مگر چیلنجز سے بھرپور۔ مسائل سے بھرپور، وسائل کم سے کم، روایتی نوکریوں کےلئے مواقع محدود، سیاسی ڈائیلاگ کےلئے ماحول ناسازگار۔ ایسے میں امجد حسین ایڈوکیٹ پر بڑی بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام شعبوں، تمام مسالک، تمام اضلاع اور تمام کمیونٹیز کو ساتھ لیکر آگے بڑھے اور یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرے۔

امجد حسین ایڈوکیٹ کو پیپلزپارٹی کے روایتی نوکریوں کے فروغ میں کم دیکھا گیا لیکن اس کے بجائے دریا کے پانی سے بجلی پیدا کرکے روزگار کا نیا دروازہ کھولنے اور چائینہ پاکستان سرحدی تجارت میں نوجوانوں کی شمولیت، بجلی کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ، معدنیات جیسے شعبے کا علاقے کےلئے غیرمنافع بخش رہنا، تعلیم اور صحت کے مسائل، ہسپتالوں کی غیر فعالیت، زراعت کے شعبے پر عدم توجہی، انفراسٹرکچر کے مسائل اور سب سے بڑھ کر میرٹ کو فروغ دینے کے چیلنجز درپیش ہیں۔ جس ہنگامہ خیزی اور ناموافق حالات میں پیپلزپارٹی کو تقریباً سادہ اکثریت ملی ہے اس میں کچھ بعید نہیں ہے کہ سیاسی رویوں کی بنیاد پر ان تمام مسائل پر قابو پالیں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اتحادی جماعت ہی حزب اختلاف میں ہے۔ اس سے سنہرا موقع پھر کس کو ملے گا؟

فہیم اختر گلگت سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔ وہ ماحولیات، تنازعات، صحت اور گلگت بلتستان کے مسائل اور موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ایسٹ ویسٹ سنٹر(ہوائی امریکہ)، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، جی این ایم آئی، میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی جیسے اداروں کے فیلو رہے ہیں۔