امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ، خلیج میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، خطے میں پھیلتے حملوں اور مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد بالآخر امن فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق شدید مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی، پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے اہم معاملات آئندہ مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔
یہ ٹائم لائن بتاتی ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کس طرح خطے کی سب سے خطرناک سفارتی، فوجی اور معاشی کشیدگی میں تبدیل ہوئی اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے فریقین معاہدے تک کیسے پہنچے۔
ایران اور امریکہ پاکستان کی ثالثی میں اس مفاہمتی یاداشت تک کیسے پہنچے اور اس دوران کیا اہم واقعات رونما ہوئے ان کی ٹائم لائن درج ذیل ہے۔
28 فروری
امریکا اور اسرائیل نے فضائی اور سمندری راستوں سے ایران پر حملہ کیا۔ تہران میں کئی دھماکے ہوئے، جن میں سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے قریب ہونے والے دھماکے بھی شامل تھے۔ جنوبی ایران کے ایک ایلیمنٹری اسکول پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں 170 سے زائد افرادشہیدہوئے، جن میں اکثریت طالبات کی تھی۔
جوابی کارروائی میں ایران نے کم از کم سات خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں فوجی انفراسٹرکچر پر حملے کیے گئے، متحدہ عرب امارات اور کویت کے ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا، قطر کے رہائشی علاقوں پر ڈرون حملے کئے گیا، اردن پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ بحرین میں ایک اپارٹمنٹ عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یکم مارچ
ایران نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے خاندان کے کئی افراد اور دیگر اعلیٰ حکام ایک روز قبل اسرائیلی امریکی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
اسی دوران قطر میں 11 دھماکوں میں 16 افراد زخمی ہوئے، جبکہ عمان کی دقم کمرشل پورٹ پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا۔
3 مارچ
اسرائیلی فضائی حملے میں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کمپلیکس اور یونیسکو کے عالمی ورثہ مقام گلستان پیلس کو نقصان پہنچا۔ ایران میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی۔
5 مارچ
ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس دنا کو ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا، جوبھارت سے ایک بحری فوجی مشقوں میں شرکت کے بعد واپس آ رہی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریباً 80 سیلرز شہید ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حملے کو سمندر میں سنگین ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہامریکا کو”اس مثال پر سخت پچھتاوا ہو گا جو اس نے قائم کی ہے۔ “
9 مارچ
ایران کی مجلس خبرگان نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا۔
اس تقرری نے ثابت کیا کہ ایران میں جنگی اور ایمرجنسی حالات کےباوجود اقتدار کی منتقلی نے” اداروں کے تسلسل اور اختیار کے استحکام “کا اشارہ دیا ۔
ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملوں کا اعلان کیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق میزائل انٹرسیپشن کے ملبے تین علاقوں میں گرے۔
11 مارچ
اس مرحلے پر جنگ کا بحری محاذ، خاص طور پر آبنائے ہرمز، مرکزی فلیش پوائنٹ بن کر ابھرا۔ تیل کی ترسیل اور سمندری راستوں پر کنٹرول کی کشمکش نے جنگ کی فوجی سمت اور امریکا کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی دونوں کو متاثر کرنا شروع کیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز یا اس کے قریب تجارتی جہازوں کے خلاف کم از کم تین الگ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ایران نے سمندری ٹریفک متاثر کرنے کی اپنی دھمکی کو براہ راست فوجی دباؤ کے ذریعے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
12 مارچ
اقوام متحدہ نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے ایران میں 32 لاکھ تک افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ تہران کے مطابق امریکا اور اسرائیل اسپتالوں، آئل ڈپوز اور توانائی کے انفراسٹرکچر سمیت شہری تنصیبات پر کارپٹ بمباری کر رہے تھے۔
اسی دوران ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملے جاری رکھے۔ سعودی عرب میں کئی ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ عمان کی صلالہ بندرگاہ پر فیول ٹینکس اور بحرین پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
13 مارچ
مغربی عراق میں فضائی ایندھن بھرنے کے آپریشن کے دوران امریکی ایئر ری فیولر طیارہ مار گرایا گیا۔
یہ کسی بھی فضائیہ کے ری فیولر طیارے کے مار گرائے جانے کا پہلا واقعہ تھا۔ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ حملے میں طیارے پر سوار چاروں اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ایک اور ٹینکر طیارے کو بھی نقصان پہنچنے اور اسے رخ بدلنے پر مجبور ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
14 مارچ
امریکی فورسز نے ایران کے اہم آئل ایکسپورٹ مرکز جزیرہ خارگ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے خلیج سے عراق اور لبنان تک متعدد محاذوں پر دباؤ بڑھا دیا۔
امریکی طیاروں نے 13 مارچ کی رات جزیرہ خارک پر حملے کیے۔ واشنگٹن کے مطابق حملوں کا ہدف پاسداران انقلاب کی بحریہ سے منسلک فوجی تنصیبات تھیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب کے ارد گرد دو مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس سے قبل ایران سے میزائل داغے جانے کی وارننگ کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔
17 مارچ
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔
کئی ہفتوں تک ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹی وی پر آ کر اعلان کیا کہ علی لاریجانی مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو تلاش کر کے ”نشانہ بنانے“کی دھمکی بھی دہرائی ۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے بسیج پیراملٹری فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی بھی امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی۔
20 مارچ
ایران بھر میں نوروز کی تقریبات بھی جنگی ماحول میں منائی گئیں۔ جنگ، بلیک آؤٹس اور معاشی دباؤ نے عوامی ماحول پر اثر ڈالا۔ تقریبات محدود رہیں، بازار کھلے مگر سرگرمی کم رہی، جبکہ بیرون ملک ایرانی کمیونٹیز میں بھی روایتی جوش و خروش نظر نہیں آیا۔
22 مارچ
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر تہران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہ کھولی تو ایران کے پاور پلانٹس کو “تباہ” کر دیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صرف ایک روز قبل وہ” جنگ ختم کرنے“کی بات کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ” اگر ایران نے اس لمحے سے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر کسی دھمکی کے آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہ کھولی امریکا ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا،اور اس کا آغاز سب سے بڑے پلانٹ سےکیا جائے گا! “
23 مارچ
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر کسی بھی فوجی حملے کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے پہلے سامنے آیا جس سے جنگ میں مزید شدت کا خطرہ تھا۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو روز میں امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں” دشمنی کے مکمل اور حتمی خاتمےکے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز “ بات چیت ہوئی ہے۔
24 مارچ
پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر ایک مربوط سفارتی کوشش کا مرکزی کردار بن گیا۔ تینوں ممالک امریکی منصوبے کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرانے میں اہم نظر آئے، جس کے تحت ایرانی توانائی اور بجلی کے انفراسٹرکچر پر حملے متوقع تھے۔
اس وقت تک ایران میں امریکی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں متاثر یا تباہ ہو چکی تھیں۔
26 مارچ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ” امریکا ایران بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے سے ہو رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ امریکا کا 15 نکاتی فریم ورک ایران کو دے دیا گیا ہے اور تہران اس پر غور کر رہا ہے، جبکہ ”برادر ممالک ترکیہ اور مصر“بھی اس کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔
27 مارچ
ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی” مہلت“6 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا، جس سے سفارتی گنجائش کا تاثر پیدا ہوا۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے فوجی، معاشی اور سیاسی دباؤ کے درمیان وقت حاصل کرنے کی کوشش تھا، جبکہ کشیدگی بڑھانے کے آپشنز برقرار رکھے گئے۔
29 مارچ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں نے مشرق وسطیٰ تنازع کے دوران مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات مشرق وسطیٰ بحران پر چار ملکی اجلاس کے بعد ٹی وی خطاب میں کہی۔ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی شریک تھے۔
اجلاس کے بعد اسحاق ڈار نے ایکس پر لکھا کہ انہیں وزرائے خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہوئی۔
یکم اپریل
پاکستان اور چین نے فوری جنگ بندی اور امریکا ایران مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد اور بیجنگ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پانچ نکاتی اقدام پیش کیا۔
یہ اتفاق رائے بیجنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان مذاکرات میں ہوا۔ یہ ملاقات ایران جنگ سے متعلق ایک ہفتہ قبل ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے فالو اپ کے طور پر ہوئی۔
2 اپریل
وائٹ ہاؤس سے 19 منٹ کے خطاب میں ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے کے اپنے دعوے دہرائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں” جنگ“مکمل کرنے کے بہت قریب ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اگلے دو سے تین ہفتوں تک ایران پر ”انتہائی شدید بمباری“ کرے گا۔
4 اپریل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ ایران مستقبل میں امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کا مؤقف کسی بھی مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہے۔
عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا ہے کہ” امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔ ہم پاکستان کی کوششوں کے بے حد شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔“
انہوں نے مزید کہاکہ ” ہمارے لیے اہم بات اس غیر قانونی جنگ کے حتمی اور پائیدار خاتمے کی شرائط ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔“
5 اپریل
ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی اور معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے شمالی علاقوں، بشمول بندرگاہی شہر حیفا، میں الارم بجا دیے گئے۔
7 اپریل
ٹرمپ نے ایران کو ایک رات میں مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دی، جب تہران نے”جنگ بندی“کی تجویز مسترد کرتے ہوئے مذاکرات میں واپسی کے لیے اپنی شرائط پیش کیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی جنگی مطالبات قبول نہ کیے تو وہاں”ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔“
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا:”اب جب کہ مکمل اور حتمی رجیم چینج ہو چکا ہے، جہاں مختلف، زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ذہن غالب ہیں، شاید کچھ انقلابی طور پر شاندار ہو جائے، کون جانے؟ ہمیں آج رات پتا چلے گا، دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک۔“
اسی دوران اطلاعات کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے 10 پیراگراف پر مشتمل جواب واشنگٹن تک پہنچایا، کیونکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا۔
8 اپریل
پاکستان نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا، اپنے اتحادیوں سمیت، فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی تاکہ تنازعات کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کی قیادت کا “گہرا شکریہ” ادا کیا۔
9 اپریل
پاکستان نے تصدیق کی کہ وہ اسلام آباد میں امریکا ایران براہ راست موجودگی والے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ وفود 10 اپریل کو پہنچیں گے، مذاکرات کا آغاز 10 اپریل کو ہو گا اور رسمی بات چیت 11 اپریل سے شروع ہو گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں وفود کے دورے کی تصدیق کی اور کہا کہ مذاکرات کا مقصد تنازعات کے حل کے لیے”حتمی معاہدہ“ہے۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اپنی گفتگو کو “خوشگوار اور بامعنی” قرار دیا اور اسلام آباد کی ثالثی قبول کرنے پر ایران کو سراہا۔
10 اپریل
امریکا ایران امن مذاکرات سے قبل اسلام آباد کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں فوج کی نگرانی میں کثیر سطحی سیکیورٹی پلان کے تحت 10 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
آنے والے وفود کے لیے”بلیو بک“نظام کے تحت سخت سیکیورٹی پروٹوکول نافذ کیے گئے، جبکہ ریڈ زون کے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے۔ صرف مارگلہ روڈ کو مجاز استعمال کے لیے کھلا رکھا گیا۔
11 تا 12 اپریل
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کا وفد ایرانی قیادت سے تاریخی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچا۔
اسی صبح ایرانی وفد بھی وفاقی دارالحکومت پہنچ گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آنے والے وفد کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
اسلام آباد میں مذاکرات تقریباً 21 سے 24 گھنٹے جاری رہے، مگر معاہدہ نہ ہو سکا۔ متعدد ادوار کی بات چیت اور جوہری پالیسی، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال کے باوجود اتفاق نہ ہو پایا۔ دونوں جانب سے تصدیق کی گئی کہ بعض نکات پر کچھ مفاہمت ہوئی، تاہم بنیادی مطالبات پر بڑے اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث حتمی سمجھوتہ ممکن نہ ہو سکا۔
مذاکرات کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر قائم رہیں اور سفارتی عمل جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مکالمے میں سہولت کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے دونوں وفود کا مذاکرات میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت جاری رہنے کی امید ظاہر کی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو”بامعنی“قرار دیا، تاہم کہا کہ بات چیت اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ ایران نے امریکی بنیادی شرائط، خاص طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے کی مستقل یقین دہانی، قبول نہیں کی۔ انہوں نے واشنگٹن کے مؤقف کو “حتمی اور بہترین پیشکش” قرار دیا اور مذاکرات کی میزبانی و سہولت کاری پر پاکستان کو سراہا۔
ایرانی حکام نے کہا کہ مذاکرات میں تفصیلی ماہر سطح کی نشستیں ہوئیں اور بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، تاہم کئی مرکزی نکات پر بڑے خلا برقرار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک ہی نشست میں معاہدہ متوقع نہیں تھا اور تصدیق کی کہ مذاکرات کے اختتام پر وفد اسلام آباد سے روانہ ہو گیا۔
13 اپریل
امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں امریکا ایران امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیر سے تمام ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنی طویل سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کر کے تمام جہاز رانی کے لیے کھولنا ہے، مگر ایران کو اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایران نے امریکی دھمکی مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ایرانی حکام نے اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔
14 اپریل
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہوا جس کے دوران پاکستان، علاقائی دارالحکومتوں اور بڑی طاقتوں نے کوششیں تیز کر دیں کہ نازک سفارتی عمل دوبارہ محاذ آرائی میں نہ بدل جائے۔
15 اپریل
امریکا نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی اسرائیلی جوابی حملے میں شریک نہیں ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے کشیدگی بڑھانے سے خبردار کیا۔ اس سے قبل ایران نے دمشق میں مشتبہ اسرائیلی حملے کے جواب میں اسرائیل پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا تھا۔
16 اپریل
امریکا اور ایران نے جلد دوبارہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ حکام نے تصدیق کی کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے کھلے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کے لیے لبنان میں امن ضروری ہے، جبکہ لبنان اس وقت جاری دو ہفتے کی جنگ بندی کے فریم ورک کا حصہ ہے۔
17 اپریل
اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران جنگ ختم کرنے کے لیے تین صفحات پر مشتمل مسودے پر بات چیت کر رہے تھے۔ اس میں تجویز شامل تھی کہ واشنگٹن تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرے گا، جس کے بدلے ایران افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے گا۔
20 اپریل
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا کے نمائندے امریکا ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد بھیجے جا رہے ہیں۔ مذاکرات سے قبل ایڈوانس ٹیمیں اور سامان پاکستان پہنچنا شروع ہو چکا تھا۔ سفارتی سرگرمی کی تیاری کے دوران اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔
دوسری جانب سمندر میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کرنے والے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی بحریہ نے بحیرہ عمان میں اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
21 اپریل
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران امریکا جنگ بندی اس وقت تک بڑھائی جا رہی ہے جب تک تہران” متفقہ تجویز“جمع نہیں کراتا اور مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوجی فورسز اسٹینڈ بائی پر رہیں گی اور پاکستان کی قیادت کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور جنگ بندی میں توسیع پر امریکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق اسلام آباد میں مذاکرات کے آئندہ دور کے دوران جامع امن معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مذاکرات میں اس کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہی۔
24 اپریل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر پاکستان کی قیادت سے اعلیٰ سطحی مشاورت کے لیے اسلام آباد پہنچے۔ دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق بات چیت کا محور ثالثی کی کوششیں اور خطے میں استحکام تھا۔
اسی دوران امریکا نے کہا کہ سفیر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کے لیے سفر کر سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے واضح کیا کہ وہ امریکا سے براہ راست ملاقات نہیں کرے گا، اگرچہ پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری رہیں۔
25 اپریل
تہران نے جنگ ختم کرنے سے متعلق امریکی تجویز مسترد کر دی۔ ایران نے کہا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ کسی بھی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔ اس نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط دہرائیں، جن میں لڑائی کا خاتمہ، ہرجانہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق ضمانتیں شامل تھیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران سے مذاکرات اب بھی جاری اور”نتیجہ خیز“ہیں، جبکہ ٹرمپ نے برقرار رکھا کہ ایران کی جانب سے مبینہ تجویز کے عوامی طور پر مسترد ہونے کے باوجود مذاکرات جاری ہیں۔
27 اپریل
ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے امن مذاکرات فون پر سفارت کاری کے ذریعے جاری رہیں گے۔ انہوں نے پاکستان کی سہولت کاری کو سراہا، تاہم تصدیق کی کہ فی الحال واشنگٹن اپنے مذاکرات کار اسلام آباد نہیں بھیجے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی معاہدے کی شرائط پہلے ہی جانتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی مشاورت جاری رکھی۔ انہوں نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقات کی اور پھر ماسکو روانہ ہوئے۔ انہوں نے سعودی، ترک اور مصری حکام سمیت کئی علاقائی ہم منصبوں سے جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر رابطے بھی کیے۔
کشیدگی برقرار رہی، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش جاری رکھی اور امریکا نے سمندری رکاوٹوں کی اطلاعات دیں۔ اسی دوران عالمی فریق کشیدگی کم کرنے اور اہم سمندری راستوں میں استحکام بحال کرنے پر زور دیتے رہے۔
30 اپریل
ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی تجویز مسترد کر دی اور کہا کہ جب تک تہران جوہری معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔
ایران نے جواب میں مسلسل شپنگ پابندیوں پر”غیر معمولی فوجی کارروائی“کا انتباہ دیا۔ تہران کے حکام نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ معاشی اور سمندری دباؤ کے ذریعے ایران کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔
یکم مئی
روم میں شیڈول امریکا ایران مذاکرات کا چوتھا دور ملتوی کر دیا گیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ نئی تاریخ واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہو گی۔ انہوں نے امریکا پر مذاکرات کے دوران”متضاد رویے“اور پابندیاں جاری رکھنے کا الزام لگایا۔
عمان نے تاخیر کی تصدیق کرتے ہوئے اسے لاجسٹک وجوہات کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ آئندہ دور میں امریکی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہی۔
2 مئی
ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کے ذریعے پہنچائی گئی ایران کی تازہ تجویز سے اب بھی”مطمئن نہیں“۔ انہوں نے کہا کہ تہران ایسی شرائط مانگ رہا ہے جن سے وہ اتفاق نہیں کر سکتے، اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے موجود ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ابھی تک کوئی قابل قبول معاہدہ نہیں ہوا۔
4 مئی
ٹرمپ نے”پروجیکٹ فریڈم“شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت امریکا آبنائے ہرمز میں پھنسے غیر جانبدار تجارتی جہازوں کو باہر نکالنے میں رہنمائی کرے گا۔ انہوں نے اسے انسانی بنیادوں پر کیا جانے والا اقدام قرار دیا، جس کا مقصد شہری جہاز رانی کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور ایران کے ساتھ وسیع سفارتی پیش رفت میں مدد دینا تھا۔
اسی روز ایرانی علاقے سے آنے والے ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ایک بڑے آئل انڈسٹری زون میں آگ بھڑک اٹھی، حکام کے مطابق اماراتی فوج نے اپنی سمندری حدود کے اوپر تین ایرانی میزائل بھی مار گرائے، جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں جا گرا۔
5 مئی
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ایران سے”لڑائی نہیں چاہتا“اور جنگ بندی برقرار ہے، مگر خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کا”تباہ کن“جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز ” پروجیکٹ فریڈم“کے تحت سمندری ٹریفک کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں، جس کا مقصد آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانا ہے۔
6 مئی
ٹرمپ نے ایران اور علاقائی ریاستوں کے درمیان جھڑپوں کو”محدود جھڑپ“قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اگرچہ علاقائی کشیدگی جاری ہے۔
تہران نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی، جن کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔
8 مئی
ایران کی مرکزی فوجی کمان نے امریکا پر الزام لگایا کہ اس نے ایک آئل ٹینکر اور ایک اور جہاز پر حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ جواب میں تہران کی فورسز نے “فوری اور جوابی طور پر امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا۔”
9 مئی
اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان تھا، جبکہ ثالث تعطل کا شکار مذاکراتی عمل بحال کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں فریق ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کر رہے تھے، جس کا مقصد جنگ ختم کرنے کے لیے ایک ماہ کے مذاکراتی فریم ورک کا خاکہ بنانا تھا۔
10 مئی
ایران نے خلیج میں نئی بحری جھڑپوں کے دوران امریکی سفارت کاری کی ساکھ پر سوال اٹھایا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن پر جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا، جبکہ تہران ثالثوں کے ذریعے پہنچائی گئی تازہ امریکی تجاویز کے جواب کا منتظر تھا۔
آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی برقرار رہی، جہاں بڑے پیمانے کی لڑائی میں نازک وقفے کے باوجود وقفے وقفے سے سمندری واقعات جاری رہے۔
11 مئی
امریکا اور ایران عمان میں جوہری مذاکرات کا نیا دور کرنے والے تھے۔ واشنگٹن نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے “کوئی افزودگی نہیں” اور ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارتی معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ ایران نے بڑھتے ہوئے اختلافات اور امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باوجود بات چیت جاری رکھی۔
14 مئی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ تہران امریکا سے جنگ نہیں چاہتا، اگرچہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے نئے جوہری معاہدے پر کسی بھی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے ایسی بات چیت کو “زہر” قرار دیا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں اور خلیج میں پابندیوں و سمندری سلامتی کے تنازعات کے بعد بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا۔
15 مئی
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ” پاکستان کے لیے رعایت“کے طور پر قبول کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی دیگر ممالک کی درخواست پر ہوئی، ورنہ واشنگٹن اسے ترجیح نہ دیتا۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت کو معاہدے میں سہولت کاری پر سراہا اور کہا کہ اسلام آباد جاری سفارتی عمل کا حصہ رہے گا۔
18 مئی
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کے انتظام کے لیے نئی “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” قائم کرنے کا اعلان کیا۔ تہران نے جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر رکھا تھا۔
20 مئی
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوئی تو”سخت جواب“دیا جائے گا۔
انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود وہ فوجی اہداف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی نئی دھمکیوں کے دوران سامنے آیا، جن میں کہا گیا تھا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
21 مئی
پاکستان نے ثالثی کی کوششیں تیز کر دیں اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو ایک ہفتے میں دوسری بار تہران بھیجا۔ انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی تاکہ بڑھتی علاقائی کشیدگی کے دوران امریکا ایران مذاکرات میں تعطل ختم کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات “حتمی مراحل” میں ہیں، مگر خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ آئندہ جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر بھی پھیل سکتی ہے، تاہم اس نے کہا کہ تمام سفارتی راستے کھلے ہیں۔
22 مئی
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے۔ انہوں نے سینئر ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور ایسے تجاویز پر بات چیت کی جن کا مقصد تنازع ختم کرنا اور تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرنا تھا۔
ان کا دورہ پاکستان کی مسلسل سفارتی سرگرمیوں کے بعد ہوا، جن میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شریک رہے۔
امریکی حکام، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل تھے، نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کاری میں پاکستان کے مرکزی کردار کا اعتراف کیا۔ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق اختلافات حل کرنے کے دباؤ میں تھے۔
24 مئی
چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے تہران کا دو روزہ دورہ مکمل کیا۔ ان کی بھرپور ثالثی کوششوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ان سے امریکا ایران ممکنہ مفاہمت کی طرف پیش رفت ہوئی، جس کا مقصد تنازع ختم کرنا اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا تھا۔
پاکستانی اور ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کا محور ایک فریم ورک معاہدہ تھا جس میں جنگ بندی کا تسلسل، محدود پابندیوں میں نرمی اور سمندری سلامتی کے انتظامات شامل تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات “قریب آ رہے ہیں” مگر ابھی بھی غیر یقینی برقرار ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی تیاری “حتمی مرحلے” میں داخل ہو گئی ہے، تاہم پابندیوں، جوہری حدود اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
25 مئی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے پر حتمی فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کریں گے۔ انہوں نے دہرایا کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق ایران اپنی ” قومی عزت“پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانیاں فراہم کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات” منظم اور تعمیری“انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر خبردار کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں اور سمندری دباؤ معاہدے پر دستخط تک برقرار رہیں گے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ” وقت ان کے حق میں ہے۔“
26 مئی
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی فورسز نے جنوبی ایران میں ” دفاعی حملے“کیے، جن میں میزائل سائٹس اور ایسی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر اہم آبی گزرگاہوں کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرے گا تاکہ اسے تلف کیا جا سکے، یا پھر اسے ایران میں بین الاقوامی گواہ کی موجودگی میں تباہ کیا جائے۔
29 مئی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی طرف” اچھی پیش رفت “کر چکے ہیں، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی۔
وینس نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور محتاط امید موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی منظوری ابھی باقی ہے اور نتیجہ اب بھی “طے ہونا باقی” ہے۔
30 مئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سیچویشن روم میں دو گھنٹے کا اجلاس کیا تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا جائزہ لیا جا سکے۔ امریکی ذرائع کے دعووں کے مطابق معاہدہ حتمی شکل کے قریب تھا۔ تاہم تہران نے امریکی بیانیہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن پر مطالبات بدلنے اور” ضرورت سے زیادہ شرائط “عائد کرنے کا الزام لگایا۔
یکم جون
امریکا نے ہفتے کے آخر میں ایرانی فوجی مقامات پر حملے کیے، جن میں ایئر ڈیفنس اور ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن نے تہران پر بین الاقوامی پانیوں میں دشمنانہ اقدامات کا الزام لگایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس کی فورسز نے خطرات ختم کرنے کے لیے” فوری جوابی کارروائی “کی اور خبردار کیا کہ جاری جنگ بندی کے دوران علاقائی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔
2 جون
ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ رابطے معطل کر دیے۔ تہران نے واشنگٹن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھا دی گئی تھیں۔ ایران نے کہا کہ لبنان میں خلاف ورزیاں” تمام محاذوں “پر خلاف ورزی کے مترادف ہیں، اور اس نے امریکا اور اسرائیل دونوں کو علاقائی کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
ٹرمپ نے رابطوں کی معطلی کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اب بھی” تیز رفتاری “سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے حزب اللہ کو حملے روکنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے دباؤ ڈلوایا۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان سے ثالثی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی، اگرچہ لبنان تنازع کے پھیلاؤ اور نئی فوجی جھڑپوں کے باعث نازک سفارتی عمل مزید دباؤ میں آتا دکھائی دے رہا تھا۔
6 جون
امریکی فورسز نے ایران کے ساحلی علاقوں میں ریڈار سائٹس پر حملہ کیا، خاص طور پر گورک شہر اور جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کی جانب بھیجے گئے ایران کے چار ون وے اٹیک ڈرونز مار گرائے جانے کے بعد کی گئی، جنہیں امریکی فوج نے سمندری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ قرار دیا تھا۔
10 جون
ایران نے اعلان کیا کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات کا چھٹا دور 14 جون کو مسقط میں منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دونوں فریق یورینیم افزودگی اور پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر بدستور تعطل کا شکار تھے۔ تہران نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے تازہ مسودے کے جواب میں جوابی تجویز پیش کرے گا، جسے ایران نے بامعنی معاشی رعایتوں سے خالی قرار دیا تھا۔
13 جون
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا ایران امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور پاکستان حتمی تکنیکی اور الیکٹرانک دستخطی انتظامات میں مدد دے رہا ہے۔ ان کے مطابق “حتمی اور متفقہ” متن پہلے ہی طے پا چکا ہے اور صرف ضابطے کی کارروائیاں باقی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ابھرتے ہوئے معاہدے کو”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“قرار دیا۔ ان کے مطابق علاقائی فریقوں اور امریکا سمیت تمام فریق فریم ورک کی وسیع منظوری دے چکے ہیں۔ تاہم دونوں جانب سے باضابطہ دستخط تک قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل کی گئی، جبکہ پاکستان آخری مرحلے میں ثالثی کا کردار جاری رکھے ہوئے تھا۔
14 جون
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکا ایران امن فریم ورک کی”الیکٹرانک دستخط کرنے کی“تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے معاہدے کو”پہلے سے کہیں زیادہ قریب“قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ خطے میں پائیدار امن قائم کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی ہو سکتا ہے اور صرف ضابطے کی کارروائیاں باقی ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے اصرار کیا کہ معاہدے پر فوری دستخط شیڈول ہیں اور اسے آبنائے ہرمز سے متعلق وسیع انتظامات سے جوڑا، جن میں واشنگٹن کی شمولیت سے ڈی مائننگ آپریشنز شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سفارت کاری ترجیح ہے، مگر اگر معاہدہ رک گیا تو متبادل اقدامات موجود ہیں۔
15 جون
امریکی اور ایرانی حکام نے کہا کہ وہ تنازع ختم کرنے، ایران پر امریکی ناکہ بندی سمیت اہم پابندیاں اٹھانے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر معاہدے کا اعلان کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ دونوں فریقوں کے درمیان سخت مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق امن معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ شامل ہے۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔





