کیا کال سینٹر کی نوکری نئی نسل کے لیے محفوظ کیریئر ہے؟

رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے درجنوں دفاتر میں روشن اسکرینوں کے سامنے بیٹھے نوجوان امریکی اور برطانوی صارفین سے بات کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی آرڈر ٹریک کروا رہا ہے، کہیں کسی بینکنگ سروس کے بارے میں رہنمائی دی جا رہی ہے، تو کہیں ایک ناراض گاہک کو مطمئن کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا دفتری منظر ہے، مگر اس منظر کے پیچھے پاکستان کی نوجوان نسل، بدلتی ہوئی معیشت اور روزگار کے نئے رجحانات کی ایک بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔

یہ وہ نوجوان ہیں جن میں سے بہت سے اپنی پہلی تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ اپنی یونیورسٹی فیس ادا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کچھ گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طویل عرصے کی بے روزگاری سے بچنے کے لیے جلد از جلد کسی پیشہ ورانہ ماحول کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے بی پی او (Business Process Outsourcing) انڈسٹری صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ خود مختاری، اعتماد اور معاشی استحکام کی طرف پہلا قدم محسوس ہوتی ہے۔

مگر ہر پہلی تنخواہ کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی جڑا ہوتا ہے۔ کیا یہ واقعی ایک محفوظ اور مضبوط کیریئر کی شروعات ہے، یا صرف فوری آمدن کا ایسا راستہ جو وقت کے ساتھ اپنے نئے چیلنج سامنے لاتا ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان میں بی پی او انڈسٹری جتنی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کے بارے میں اتنی ہی تیزی سے غلط فہمیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔

کیا نئی نسل کا کال سینٹر میں نوکری ایک محفوظ کیرئیر ہے؟

ایک عالمی رجحان جس نے دنیا کے روزگار کا نقشہ بدل دیا

بی پی او جسے عام طور پر پاکستان میں کال سنٹر پکارا جاتا ہے کوئی مقامی تصور نہیں۔ اس کی جڑیں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اس وقت مضبوط ہونا شروع ہوئیں جب بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بعض کاروباری خدمات بیرونی اداروں کے سپرد کرنا شروع کیں۔
ابتدا میں اس عمل کا مقصد صرف لاگت میں کمی تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ایک مکمل عالمی صنعت میں تبدیل ہو گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی ہزاروں کمپنیوں نے کسٹمر سروس، اکاؤنٹنگ، آئی ٹی سپورٹ، ڈیٹا پروسیسنگ، ہیومن ریسورس اور دیگر انتظامی کام ایسے ممالک کو منتقل کیے جہاں تربیت یافتہ افرادی قوت کم لاگت پر دستیاب تھی۔
اسی دوران بھارت اور فلپائن دنیا کے بڑے بی پی او مراکز بن کر ابھرے۔ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملا اور ان ممالک نے خدمات کی برآمدات کے ذریعے اربوں ڈالر کمائے۔
پاکستان نسبتاً بعد میں اس میدان میں داخل ہوا، مگر گزشتہ چند برسوں میں اس شعبے کی ترقی کی رفتار نمایاں رہی ہے۔ نوجوان آبادی، انگریزی زبان سے واقف افرادی قوت اور نسبتاً کم آپریشنل لاگت نے پاکستان کو بھی عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں ایک ممکنہ کھلاڑی بنا دیا ہے۔

پاکستان میں بی پی او انڈسٹری کیوں تیزی سے بڑھ رہی ہے؟

پاکستان میں اس شعبے کی ترقی محض اتفاق نہیں بلکہ کئی معاشی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف ملک میں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے، دوسری طرف روایتی شعبوں میں روزگار کے مواقع ہر سال بڑھنے والی افرادی قوت کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں بی پی او نوجوانوں کے لیے نسبتاً جلد روزگار حاصل کرنے کا ایک قابلِ عمل راستہ بن کر سامنے آیا ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) اور سرکاری پالیسی دستاویزات کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ کال سنٹرز اور آؤٹ سورسنگ اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ حکومت بھی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کو برآمدات بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

لیکن اعداد و شمار کی زبان سے ہٹ کر اگر نوجوان کی نظر سے دیکھا جائے تو اس شعبے کی کشش زیادہ سادہ ہے۔ اگر آپ کی انگریزی مناسب ہے، آپ کمپیوٹر استعمال کر سکتے ہیں، اور آپ کو فوری آمدن کی ضرورت ہے تو بی پی او کے دروازے آپ کے لیے نسبتاً جلد کھل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد نہیں بلکہ دورانِ تعلیم ہی پہلی پیشہ ورانہ منزل بن جاتا ہے۔

بی پی او صرف کال سنٹر نہیں

پاکستان میں عام طور پر بی پی او کا نام آتے ہی لوگوں کے ذہن میں ہیڈسیٹ پہنے کسی کال ایجنٹ کی تصویر آتی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ بی پی او کے دائرے میں کسٹمر سپورٹ، ای میل ہینڈلنگ، لائیو چیٹ سروسز، ڈیٹا پروسیسنگ، فنانس اینڈ اکاؤنٹنگ، میڈیکل ٹرانسکرپشن، ہیومن ریسورس سروسز، ٹیکنیکل سپورٹ، بیک آفس آپریشنز اور دیگر متعدد خدمات شامل ہوتی ہیں۔
یعنی ایک نوجوان جو آج کسٹمر سپورٹ میں کام کر رہا ہے، وہ مستقبل میں آپریشن مینجمنٹ، کلائنٹ ریلیشنز، کوالٹی ایشورنس، ٹریننگ یا پروجیکٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں بھی ترقی کر سکتا ہے۔ اسی لیے اس صنعت کو صرف "فون اٹھانے والی نوکری” سمجھنا ایک سادگی پر مبنی جواب ہوگا۔

نوجوان اس شعبے کی طرف اتنی تیزی سے کیوں آ رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب صرف تنخواہ نہیں۔ پاکستان میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود روزگار کے مواقع نوجوانوں کو ایسے شعبوں کی طرف دھکیل رہے ہیں جہاں نسبتاً جلد ملازمت حاصل ہو سکے۔
بی پی او انڈسٹری انہیں صرف آمدن نہیں دیتی بلکہ ایک پیشہ ورانہ ماحول سے بھی متعارف کرواتی ہے۔ یہاں نوجوان وقت کی پابندی سیکھتے ہیں، ٹیم کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں، مختلف مزاج کے لوگوں سے گفتگو کرنا سیکھتے ہیں اور دباؤ کے ماحول میں اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کی مشق کرتے ہیں۔بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ تجربہ بعد میں دوسرے شعبوں میں کامیابی کا سبب بنتا ہے۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔

جب موقع دباؤ میں بدلنے لگتا ہے

بی پی او انڈسٹری کی سب سے نمایاں حقیقت نائٹ شفٹ ہے۔ چونکہ بیشتر کلائنٹس امریکہ، کینیڈا یا یورپ میں موجود ہوتے ہیں، اس لیے پاکستانی ملازمین کو اکثر ان ممالک کے کاروباری اوقات کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔

ابتدا میں نوجوانوں کو یہ صرف مختلف اوقاتِ کار محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
نیند کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، کھانے کے اوقات بدل جاتے ہیں، جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، اور بعض افراد ذہنی تھکن یا سماجی تنہائی محسوس کرنے لگتے ہیں۔

طبی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے تحت کام کرتا ہے۔ جب طویل عرصے تک جاگنے اور سونے کے معمولات اس نظام کے برعکس چلتے ہیں تو بعض افراد میں جسمانی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ اثرات ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتے اور ان کا انحصار مجموعی طرزِ زندگی، آرام، خوراک اور صحت کی دیگر عادات پر بھی ہوتا ہے۔

اسی لیے نائٹ شفٹ کو صرف "زیادہ تنخواہ” کے تناظر میں نہیں بلکہ "مختلف طرزِ زندگی” کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔

تنخواہ کے پیچھے چھپی سماجی قیمت

بعض نوجوان چند ماہ بعد محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے معمولات سے کٹنے لگے ہیں۔ جب گھر کے افراد جاگ رہے ہوتے ہیں تو وہ سو رہے ہوتے ہیں، اور جب وہ کام پر ہوتے ہیں تو ان کے دوست یا اہلِ خانہ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوتے ہیں۔
یہ صورتحال ہر فرد پر یکساں اثر نہیں ڈالتی، مگر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ غیر روایتی اوقاتِ کار سماجی روابط اور خاندانی زندگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کام اور زندگی کے درمیان توازن کو بی پی او انڈسٹری میں کامیابی کے لیے ایک بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔

خواتین کے لیے سوال صرف ملازمت کا نہیں

پاکستانی معاشرتی تناظر میں نوجوان خواتین کے لیے بی پی او میں ملازمت کے فیصلے کے ساتھ کچھ اضافی سوالات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
اگر شفٹ رات کی ہے تو کیا محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کی جا رہی ہے؟
کیا ادارے میں ہراسگی سے متعلق واضح پالیسی موجود ہے؟
کیا ہنگامی صورتحال میں رابطے اور تحفظ کا مناسب نظام موجود ہے؟
کیا کام کا ماحول واقعی پیشہ ورانہ ہے؟
یہ سوالات محض سماجی تحفظات نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ماحول کے معیار کا حصہ ہیں۔ ایک ذمہ دار ادارہ صرف تنخواہ نہیں دیتا بلکہ ایسا ماحول بھی فراہم کرتا ہے جہاں تمام ملازمین خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کریں۔

کیا ہر کال سنٹر واقعی جائز ہوتا ہے؟

یہ شاید اس پورے موضوع کا سب سے حساس پہلو ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں بعض ایسے مراکز کے خلاف کارروائیاں رپورٹ ہوئیں جو بظاہر کال سنٹر یا آن لائن سروس آپریشنز کے طور پر کام کر رہے تھے، مگر بعد ازاں ان پر فراڈ، ڈیٹا کے غلط استعمال یا مشکوک سرگرمیوں کے الزامات سامنے آئے۔
چند غیر قانونی اداروں کی موجودگی کو پوری بی پی او انڈسٹری پر لاگو کرنا حقیقت کے منافی ہوگا۔ پاکستان میں ہزاروں افراد جائز اور رجسٹرڈ اداروں میں پیشہ ورانہ انداز سے کام کر رہے ہیں۔مسئلہ صنعت نہیں، نگرانی اور آگاہی کا ہے۔
اسی لیے نوجوانوں کو ملازمت قبول کرنے سے پہلے کمپنی کی قانونی حیثیت، ساکھ، کلائنٹس، معاہدے اور کام کی نوعیت کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔اگر کسی ادارے میں کام کی تفصیلات مبہم ہوں، غیر معمولی وعدے کیے جا رہے ہوں یا حساس مالی معلومات کے حصول پر زور دیا جا رہا ہو تو احتیاط ضروری ہے۔

کیا بی پی او واقعی کیریئر بن سکتا ہے؟

بہت سے افراد اسی صنعت میں ترقی کرتے ہوئے ٹیم لیڈر، ٹرینر، کوالٹی اینالسٹ، آپریشن منیجر اور سینئر مینجمنٹ کے عہدوں تک پہنچتے ہیں۔
کئی لوگ یہاں سے حاصل شدہ تجربے کو سیلز، مارکیٹنگ، کسٹمر ایکسپیرینس، بزنس ڈویلپمنٹ اور آئی ٹی کے دیگر شعبوں میں منتقل کرتے ہیں۔لیکن ایسے افراد بھی موجود ہیں جو کئی سال تک ایک ہی نوعیت کے کام میں محدود رہ جاتے ہیں اور بعد میں پیشہ ورانہ جمود محسوس کرتے ہیں۔فرق عموماً ادارے سے زیادہ فرد کی حکمتِ عملی میں ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت: مستقبل کا سب سے بڑا سوال

چند سال پہلے تک کسٹمر سروس کا مطلب انسان اور انسان کے درمیان گفتگو تھا۔آج صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ چیٹ بوٹس، AI اسسٹنٹس اور خودکار سپورٹ سسٹمز پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ سوالات کے جواب دینے کے قابل ہو چکے ہیں۔ اس تبدیلی نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی بی پی او ملازمتوں کو ختم کر دے گی؟
ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب موجود نہیں۔تاہم زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت بعض بنیادی نوعیت کے کاموں کو کم ضرور کر سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی نئے کردار بھی پیدا کرے گی جن کے لیے زیادہ مہارت درکار ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں صرف اچھی انگریزی کافی نہیں ہوگی۔ تحریری ابلاغ، CRM سسٹمز، ڈیٹا ہینڈلنگ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تجزیاتی سوچ اور ڈیجیٹل مہارتیں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوں گی۔

اصل مقابلہ نوکری کا نہیں، شعور کا ہے

بی پی او انڈسٹری کو بعض لوگ نوجوانوں کے لیے سنہری موقع قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے صحت اور کیریئر کے لیے نقصان دہ راستہ سمجھتے ہیں۔حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان موجود ہے۔
یہ صنعت ہزاروں نوجوانوں کو روزگار، تجربہ، اعتماد اور عالمی کاروباری دنیا سے رابطہ فراہم کر رہی ہے۔ اسی وقت یہ بھی سچ ہے کہ نائٹ شفٹ، ذہنی دباؤ، غیر متوازن طرزِ زندگی اور بعض غیر معیاری اداروں کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بی پی او اچھی چیز ہے یا بری۔ اصل سوال یہ ہے کہ نوجوان اس میں داخل ہوتے وقت کتنی آگاہی رکھتے ہیں، ان کے پاس مستقبل کا کتنا واضح منصوبہ ہے، اور وہ اس تجربے کو اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے کس حد تک استعمال کر پاتے ہیں۔
کیونکہ آخرکار بی پی او ایک موقع بھی ہو سکتا ہے، ایک عبوری مرحلہ بھی، اور بعض صورتوں میں ایک مشکل تجربہ بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اس دروازے میں داخل ہوتے وقت کیا دیکھ رہے ہیں: صرف پہلی تنخواہ، یا اس سے آگے کا پورا راستہ۔اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جو نئی نسل کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے اس دور میں کامیابی صرف ملازمت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ درست موقع کو پہچاننے، اس سے سیکھنے، اور پھر اس سے آگے بڑھنے میں ہے۔ کیونکہ روزگار زندگی بدل سکتا ہے، لیکن باشعور انتخاب مستقبل بناتا ہے۔

سندس قریشی کا تعلق حیدرآباد/کراچی، سندھ سے ہے۔ وہ میڈیا اور کمیونیکیشن کی گریجویٹ ہیں اور آج کل سافٹ ویئر کوالٹی اشورنس کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ انہیں ٹیکنالوجی، سماجی مسائل، ثقافت اور فیشن جیسے موضوعات پر لکھنا پسند ہے۔