نوبل انعام یافتہ بینکر اور بنگلہ دیش کی سابق عبوری حکومت کے سربراہ، محمد یونس نے کہا تھا کہ قرضہ ایک انسانی حق ہے۔ ان کو اس بات کا ادراک تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں انسان محض اس لیے غربت کی زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی معاشی حالت بدلنے کیلئے ضروری سرمائے تک رسائی نہیں ملتی ۔ لہٰذا، ان کے گرامین بینک نے ملک کے دُور دراز علاقوں میں ملکی معاشی دھارے سے باہر بسنے والے لاکھوں لوگوں، بالخصوص خواتین کو چھوٹے قرضے آسان اقساط پر فراہم کیے، تاکہ وہ اس رقم کو چھوٹے کاروباری منصوبوں میں لگائیں اور اپنا معیارِ زندگی بہتر کریں ۔ اس کے حیران کن نتائج نکلے۔ ان آسان قرضوں نے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو غربت کی دلدل سے نکالا، بلکہ بنگلہ دیش کی معاشی حالت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انسانیت کی اس موثر خدمت کیلئے محمد یونس کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان کا کام دنیا میں غربت کے خاتمے اورصنفی بنیادوں پر یکساں معاشی مواقع کی فراہمی کے حوالے سے اعلیٰ مثال ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق امسال پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو چکی ہے، جو کہ گزشتہ دہائی کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ البتہ عالمی بینک کے مطابق یہ شرح 37 فیصد سے بھی زائد ہے۔ وزارت کی رپورٹ کے مطابق سات کروڑ سے زائد پاکستانی شدید غربت کا شکار ہیں، یعنی وہ ماہانہ آٹھ ہزار چار سو چوراسی روپے سے بھی کم کماتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی تقریباً آدھی آبادی زندگی کی بنیادی ضروریات کی جنگ لڑ رہی ہے، البتہ یہ ایک بہت بیش قیمت موقع بھی ہے۔ ان کروڑوں لوگوں کو مالیاتی شعور اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے غربت کی دلدل سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر ڈالاجا سکتا ہے، اور اس سلسلے میں مائیکروفنانس شعبہ ایک اہم کردار کر سکتا ہے۔
پاکستان کے مائیکروفنانس شعبے نے چھوٹے اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے لاکھوں افراد اور خاندانوں کی زندگیاں بدلی ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق جون 2025 میں فعال مائیکروفنانس قرض دہندگان کی تعداد تقریباً ایک کروڑتھی، جو اس مارکیٹ کی صلاحیتوں سے کئی گنا کم ہے۔اسی طرح صرف21 فیصد بالغ افراد کو بینکاری سہولیات تک رسائی حاصل ہے، جبکہ خواتین اور دیہی آبادیوں میں یہ شرح 13 فیصد کی فکر انگیز سطح پر برقرار ہے۔ ان لوگوں کو مالی وسائل اور معاشی ترقی کے مواقع تک رسائی دے کر ان کا معیارِ زندگی بلند کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی بینکاری اقدار پر مبنی ایک اخلاقی مالیاتی نظام ہے ، جو دیانت ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہے اور موثر طریقے سے حقیقی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔ اسی لیے اسلامی بینکاری کو ایک زیادہ پائیدار اور مستحکم مالیاتی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری معاشرے کے تمام طبقات کو باآسانی مالی نظام میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
اسلامی بینکاری میں نقد رقم کی بجائے اثاثہ جات کی لین دین کی جاتی ہے، کیونکہ شرعی اصولوں کے مطابق روپیہ سے روپیہ پیدا نہیں کیا جا سکتا، البتہ اثاثہ جات، خدمات یا کاروباری سرگرمی سے منافع کمایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی بینک آپ کو نقد رقم کی بجائے ہمیشہ گھر، گاڑی وغیرہ کی شکل میں اثاثہ فراہم کرتا ہے۔ اسلامی بینکاری کے شراکت داری ماڈلز، مثلاً مضاربہ اور مشارکہ کے تحت بینک معاہدے کے مطابق منافع کے ساتھ ساتھ نقصان میں بھی حصہ دار ہوتا ہے۔اسی طرح اسلامی بینکاری معیشت سے پیوستہ ہوتی ہے، اثاثہ جات کی پیداوار اور تجارت سے کاروباری سرگرمی جنم لیتی ہے، جس سے بینک اور صارف کے علاوہ بہت سے افراد کا روزگار جڑا ہوتا ہے ۔ اسلامی بینکاری پیسے کو حقیقی کاروبار میں تبدیل کرتی ہے، جس سے اس کے ثمرات پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ علاوہ ازیں، رسک شیئرنگ ماڈل کی بدولت سارا بوجھ قرض دہندگان پر نہیں پڑتا ، اور نقد رقم کی بجائے اثاثہ جات سے منسلک ہونے کی وجہ سے کاروبار زیادہ مستحکم ہوتا ہے، قیاس آرائیوں یا مارکیٹ کی اونچ نیچ کے اثرات سے محفوظ ہوتا ہے۔
اسلامی شرعی و اخلاقی اصولوں پر مبنی بینکاری صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی مالیاتی نظام میں شمولیت کے یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اسلامی ملکوں کے علاوہ برطانیہ ، آسٹریلیا، سمیت 70 سےزائد ممالک میں اسلامی بینکاری سہولیات میسر ہیں، جہاں لاکھوں افراد سود سے پاک بینکاری سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ آئی ایس او اسٹینڈرڈز کی طرز پر ہی اسلامی بینکاری کے یکساں عالمی معیارات ترتیب پا چکے ہیں، جس سے دنیا بھر میں ان خدمات کے فروغ اور باہمی تعامل میں آسانی ہوگئی ہے۔
پاکستان کے مائیکرو فنانس شعبے نے چھوٹے اور آسان اقساط پر مشتمل قرضوں کے ذریعے پاکستان میں بھی معاشی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ترقی کے اس عمل کو فروغ دینے کے لیے اسلامی اصولوں پر مبنی بینکاری بہترین راستہ ہے۔ اسی جذبے کے تحت موبی لنک بینک نے معاشی نظام میں شمولیت کے مزید مواقع فراہم کرنے کیلئے ملک میں پہلی بار ڈیجیٹل اسلامی بینکاری کا آغاز کیا ہے، جو ملک میں سود سے پاک مائیکروفنانس کا نقطہ آغاز ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ سود سے پاک اور مستحکم قدر کے حامل اسلامی فنانس کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دے کر پاکستان بھر میں بینکاری سے محروم طبقات کی زندگی بدلی جا سکتی ہے۔مائیکروفنانس نظام کو سود سے پاک ، اخلاقی بینکاری کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی ، اور ملکی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔





